رقص
-
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے عہد پارینہ کا میں انساں نہیں بندگی سے اس در و دیوار کی ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں! اس لیے اب تھام لے اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!