کم یونگ ۔ہی

کم یونگ ۔ہی

اشجار

    ترجمہ: شوکت کاظمی

     

    آجاؤ گل بوٹے بنیں

    اپنی جڑوں کو گاڑ لیں

    مہر تپاں کو تھام لیں

    اور عرش سے باتیں کریں

     

    جب موسم برسات ہو

    ہم بارشوں میں بھیگ لیں

    اور برف باری کے سمے

    ہم برف تن پر اوڑھ لیں

     

    طوفان آب و باد ہو

    پودوں کو کوئی غم نہیں

    دل پر کوئی گھاؤ نہیں

     

    اشجار سوئے آسماں

    ہیں بازوؤں کو وا کیے

    تا ایستادہ رہ سکیں

    باد صبا ان کے لیے

    اک دوستی کا ہاتھ ہے

     

    جب طائران خوشنما

    آئیں تو ان کے واسطے

    ہر شاخِ گل ہے آشیاں

     

    اشجار کی کیا بات ہے

    اپنی بلندی کی طرف

    ہر حال میں بڑھتے ہوئے

    ہر حال میں اٹھتے ہوئے

     

    آجاؤ گل بوٹے بنیں