چانگ سو ۔ کو

چانگ سو ۔ کو

ایک تخیلاتی گیت

    ترجمہ: محمد یونس ملک

     

    میرے ادھورے خواب

    میری خواب گاہ میں

    میرے رت جگوں کے امیں

    زندہ داران شب کی طرح سبک پا

    زندگی کی تلخیوں سے نبرد آزما

    یہ ادھورے خواب

    میرے تصورات کی حسین پرچھائیاں

    ستاروں کی روشنی

    جن کی خواب گاہ کا طواف کرتی ہے

    از خود رفتگی کے عالم میں

    یہ خواب آلودہ آنکھیں

    جیسے کوئی خوابیدہ بدن

    کسی خوب رو کا متلاشی

    میرا جسم گل صد برگ کا وارفتہ

    میری آواز کی صدائے بازگشت

    آج بھی بھنوروں کی گم گشتہ جنت میں

    یوں دبے پاؤں آتی ہے

    جیسے سورج کی کرنوں نے ابھی آنکھ کھولی ہو

    یہ سبز وادیاں

    یہ شبنمی قطروں کی پھوار

    جن کا لمس

    مجھے مدہوش کیے دیتا ہے

    نجانے ہر اجنبی چہرہ

    مجھے کیوں متوطن دکھائی دیتا ہے

    کہیں یہ میرا حسن ظن تو نہیں

    اس کی یادوں کا زیر و بم

    آہن رہا ہے آج بھی میرے لیے

    یہ آتش بے دود

    جو اکسیر ہے

    زندگی کی تلخیوں کو فراموش کرنے کی

    میری حقیقتوں کا پرتو

    وقت کے بے رحم ہاتھوں سے دھندلا گیا ہے

    چاند پانی کا کیا سنجوگ ہے

    وقت کی بے رحم موجوں نے کبھی سوچا نہیں

    میرے تصورات کا حسین دھارا

    اپنے گرداب میں

    یہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح

    بہائے لیے جاتا ہے