خموشی
ترجمہ: محمد یونس ملک
ہر شب خامشی کی دبیز تہوں میں
چاند کی مدھر کرنیں یوں سرسراتی ہیں
جیسے کچھ آوارہ منش کتے
شب کے پچھلے پہر
انسانی آوازوں کا پیچھا کرتے ہیں
ان شب خیزوں کی صدائے بازگشت
شب دیجور کا سینہ چیرتی ہے
ان کا شتر غمزہ اس شب تار میں
کانوں میں سوئیاں چبھوتا ہے
اور جب دنیا و مافیہا سے بے خبر
ہم گہری نیند سوتے ہیں
پھر خامشی کی صدائے بازگشت آتی ہے
جیسے کوئی برہنہ سر سسکیاں لے رہی ہو
مگر یہ کان ان تھپکیوں سے ناآشنا ہیں
خامشی ان دکھوں کو آغوش شفقت میں لیتی ہے
جیسے ایک روپہلی دھار
دھیرے دھیرے افق پہ ابھری ہو
اور جسے ہلال نے اپنے جلو میں لے رکھا ہو