فروغ فرخ زاد

فروغ فرخ زاد

آتش خاموش

    ترجمہ: کشور ناہید

     

    رات اندھیری، طویل راستہ اور میں حیران

    وہ مرے راستے میں فانوس پکڑے کھڑا ہے

    فانوس کے شعلۂ بے شکیب کو

    میری نگاہ وحشت زدہ ہو کر دیکھتی ہے

    ہم پہ کیا گزرتی ہے ... کسی کو کیا معلوم

    بھیگے ہوئے سبزے کا بستر کہتا ہے

    میری گردن سے اپنے لب پیوستہ کردو

    ہزاروں جلتے ہوئے بوسے تمہارا استقبال کریں گے

    ہم پہ کیا گزرتی ہے، کسی کو کیا معلوم

    میں ’’وہ‘‘ بن جاؤں

    وہ جو دریا کے خروش جیسا ہے

    میں بگولے کی طرح وحشی ہوں

    وہ صحرا میں ٹھنڈی ہوا جیسا ہے

    میں اس کے بازوؤں میں ہوں اور تشنہ ہوں

    میرا شوق مجھے گھاس کی طرح روندتا رہے گا

    جب تک کہ میں ان لرزتے ہوئے شگوفوں کا عرق

    رات کے جام میں انڈیل کے پیاس بجھاؤں

    بھیگے ہوئے سبزے کے بستر پر

    بے دم، شعلوں میں لپٹی ہوئی پڑی ہوں

    ڈرتی ہوں کہیں یہ بے پروا نسیم

    آکر مجھ سے آ کے یونہی لپٹتی رہے

    تو میرے پیکر میں شوق کی روندی ہوئی گھاس پھر سر اٹھالے گی