ہدیہ
ترجمہ: انور مسعود
میری باتوں میں سیہ راتوں کے لمبے تذکر
میری باتوں میں اندھیروں کی گھنی پرچھائیاں
میری باتیں انتہائے تیرگی!
میرے گھر آنا تو میرے مہرباں
میری خاطر۔ ساتھ اپنے لے کے آنا
اک دریچہ... اک چراغ
میرا دل بھی چاہتا ہے
میں بھی رونق والیاں خوش بخت گلیاں دیکھ لوں