ژاں پال سارتر

ژاں پال سارتر

دیوار(٢)

    ترجمہ: خاقان ساجد

    ایک گھنٹے کے بعد وہ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گئے۔ وہاں سگار کی بو اور سگریٹوں کا دھواں بھرا ہوا تھا۔ کمرہ اتنا گرم تھا کہ سانس لینے میں بھی دقت ہو رہی تھی۔ دو افسر بازوؤں والی کرسیوں میں براجمان اپنے سامنے کاغذات پھیلائے بیٹھے تھے۔

    ’’تمہار نام پابلو ہے؟‘‘ ایک نے سوال کیا۔

    ’’ہاں۔‘‘

    ’’ریمون کہاں ہے؟‘‘

    ’’مجھے علم نہیں۔‘‘

    ’’ادھر آؤ۔‘‘ سوال کرنے والے افسر نے اشارہ کیا۔

    وہ پستہ قد تھا۔ میں نزدیک گیا تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ عینک میں سے اس کی آنکھیں سخت نظر آتی تھیں۔ اس نے مجھے پوری طاقت سے جھنجھوڑا اور بازوؤں میں انگلیاں چبھو دیں۔ وہ مجھے تکلیف میں ڈال کر مرعوب کر رہا تھا۔ چند لمحوں تک ہم دونوں اسی حالت میں خاموش کھڑے رہے۔اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اپنا گندہ سانس مجھ پر چھوڑ دے۔ اچانک مجھے ہنسی آنے لگی۔ جو مرنے والا ہو اسے ڈرانا بہت مشکل ہے۔ اس کی ترکیب ناکام ہو رہی تھی۔ اس نے جھٹکے سے مجھے پرے دھکیلا اور اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

    ’’تم دونوں میں سے کسی ایک کو مرنا ہے۔‘‘ اس نے سختی سے کہا۔ ’’اگر تم نے ریمون کا ٹھکانہ بتا دیا تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔‘‘

    ’’یہ دونوں افسر بھی ایک دن مر جائیں گے۔‘‘ مجھے خیال آیا۔

    ’’میرے کچھ عرصے بعد سہی، مگر بہرحال یہ دونوں بھی جو اس وقت اتنی شان سے اکڑ کر بیٹھے ہیں ایک دن خاک ہو جائیں گے۔ لیکن یہ  بے خبر ہیں۔ یہ جو فہرستوں میں دوسروں کے نام تلاش کر رہے ہیں، انہیں ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ انہیں موت کےگھاٹ اتار سکیں...... ملکی امور پر ان کی اپنی رائے ہے۔ دوسرے معاملات پر بھی ذاتی پسند اور نا پسند ہے۔ مگر انہیں نہیں معلوم کہ ان کی یہ تمام سرگرمی اور جوش و خروش کس قدر بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔ انہیں اپنے پاگل پن کا ابھی قطعاً علم نہیں ہے۔‘‘

    موٹا پستہ قد افسر مجھے گھورتا رہا اور اپنے جوتے پر نحوت سے ہنٹر بجاتا رہا۔ وہ اپنی حرکت سے خود کو خطرناک اور خونخوار ثابت کرنا چاہتا تھا۔

    ’’تو ؟...... پھر؟......کچھ سوچا تم نے؟‘‘ اس کی آواز میں دھمکی تھی۔

    ’’مجھے نہیں معلوم ریمون کہاں ہے۔‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔ ’’اسی شہر میں کہیں ہو گا۔‘‘ دوسرے افسر نے تھکن ظاہر کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آہستہ سے اٹھا کر پیشانی پر رکھا۔ دراصل وہ مجھے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس سارے معاملے سے عاجز آچکا ہے۔ وہ محض اداکاری کر رہا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بعض لوگ کیونکر بچوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔

    ’’تمہارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے پندرہ منٹ ہیں۔‘‘ اس نے کہا اور پھر گھوم کر سپاہیوں سے مخاطب ہوا۔ ’’اسے چھوٹے کمرے میں لے جاؤ۔ پندرہ منٹ بعد واپس لے آنا۔ اگر یہ اپنی ضد پر قائم رہا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔‘‘

    میں جانتا تھا ان کا مقصد کیا ہے۔ وہ میرے اعصاب توڑ رہے تھے۔ میں نے پوری رات انتظار کیا تھا۔ پھر جب وہ ٹام اور جوآن کو گولیوں سے اڑا رہے تھے ۔ مجھے انہوں نے ایک گھنٹے تک کوٹھڑی میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ مجھے دوبارہ تنہا بند کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آدمی کے اعصاب بالآخر جواب دے جاتے ہیں۔ جب میں اندر سے ٹوٹ گیا تو بول پڑوں گا۔ انہیں سب کچھ بتا دوں گا۔

    چھوٹے کمرے میں داخل ہوتے ہی میں کمزوری کے باعث نیچے بیٹھ گیا۔ میں نے ازسرنو چیزوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ میں جانتا تھا کہ ریمون کہاں ہے۔ شہر سے چار میل دور وہ اپنے چچازاد بھا ئی کے گھر چھپا ہوا تھا۔ دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے اس کا پتہ حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ جسمانی اذیت کی بات اور ہوتی ہے۔ ممکن ہے میں جسمانی اذیت کے سامنے بے بس ہو جاتا، لیکن لگتا تھا کہ وہ مجھے جسمانی اذیت پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں ...... میں اس صورت حال کا تجزیہ کرنا چاہتا تھا۔ میں مر جاؤں گا لیکن ریمون سے غداری نہیں کروں گا ...... لیکن کیوں؟ صبح ہونے سے ذرا پہلے اس کی دوستی میری لیے بے معنی ہو چکی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کانشا سے میری محبت اختتام کو پہنچی تھی۔ ریمون ٹھیک ہے میں اس کی عزت کرتا تھا مگر یہ ایسی وجہ نہیں تھی کہ میں اس کے لیے مرنے پر تیار ہو جاتا۔ اس کی زندگی میری زندگی سے زیادہ قیمتی کیسے ہو سکتی ہے؟ کسی کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ کسی بھی آدمی کو دیوار کے سامنے کھڑا کرکے اس پر گولیاں چلائی جا سکتی ہیں۔ جسے بھی گولیاں لگیں گی وہ منہ کے بل زمین پر آگرے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہلاک ہونے والا آدمی میں ہوں یا ریمون ہے۔ یا کوئی اور ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ سپین کی آزادی کے لیے ریمون کی زندگی میری زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن ملک کا کیا مطلب ہے؟ آزادی سے کیا ہوتا ہے؟ کسی بھی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود میں مر رہا ہوں، جب کسی بھی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو ریمون کا پتا بتا کر میں اس مضحکہ خیز صورتحال سے نکل کیوں نہیں جاتا؟ میری ضد اب تک کیوں قائم ہے؟

    بلاشبہ میں ریمون کا پتہ بتا کر  اپنی جان بچا سکتا تھا۔ مگر دل اس بات پر آمادہ نہیں تھا۔ ممکن ہے میرا فیصلہ مضحکہ خیز ہو۔ محض ایک ضد۔

    ’’میں اپنی انا سلامت لیے جا رہا ہوں۔ ‘‘ میں نے سوچا اور مجھے عجیب طرح کی طمانیت کا احساس ہوا۔

    کچھ دیر بعد وہ مجھے لینے آگئے اور دوبارہ افسروں کے سامنے پیش کرنے کے لیےچل پڑے۔ راہ داری سے گزرتے ہوئے اچانک ہمارے قدموں تلے سے ایک چوہا نکل کر دوسری طرف بھاگا۔ مجھے یہ منظر بہت دلچسپ لگا۔ میں ہنس پڑا۔

    ’’تم نے چوہا دیکھا؟‘‘ میں نے ایک سپاہی سے کہا۔

    اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔ جہاں تک میرا تعلق تھا تو میں ہنسنا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے ڈر تھا کہ ایک مرتبہ میں ہنس پڑا تو ہنستا چلا جاؤں گا۔ رک نہیں سکوں گا۔

    بڑی مونچھوں والے محافظ نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا تو میں نے کہا ’’احمق ، تمہیں اپنی مونچھیں کاٹ دینی چاہئیں۔‘‘

    اس نے نیم دلی سے مجھے لات رسید کی تو میں چپ ہو گیا۔

    موٹے افسر نے پوچھا۔ ’’تم نے اچھی طرح سے سوچ لیا؟‘‘

    میں نے افسروں کو غور سے دیکھا۔ وہ ایسے کیڑے لگ رہے تھے جو صرف مخصوص موسموں میں دکھائی دیتے ہیں۔

    ’’میں جانتا ہوں ریمون کہاں ہے۔‘‘ میں نے روانی سے کہا۔ ’’وہ مرکزی قبرستان کی کسی قبر میں چھپا ہوا ہو گا۔ یا گورکن کی جھونپڑی میں۔‘‘ میں نے یہ بات ازراہِ مذاق کی تھی ۔ محض انہیں الو بنانے کے لیے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ اچھل اچھل کر پیٹیاں کسیں، ٹوپیاں سیدھی کریں اور بے معنی احکامات جاری کریں۔ اور وہ واقعی اچھل پڑے تھے۔

    ’’خوب! ٹھیک ہے! اچھا! پندرہ آدمی تیار کرو۔ فوراً۔‘‘

    موٹے افسر نے روانگی سے قبل مجھے مخاطب کیا۔ ’’اگر تم نے سچ بولا ہے تو میرا ایک لفظ کہہ دینا کافی ہے اور اگر تم نے ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے تو اپنے انجام کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘

    وہ سب جلدی سے رخصت ہو گئے اور میں اطمینان سے چھت کی طرف دیکھنے لگا۔ محافظ بدستور میری نگرانی کر رہے تھے۔ میں نے تصور کیا کہ اس لمحے وہ قبروں کے پتھر الٹ رہے ہوں گے۔ گورکن کی چاردیواری میں کود رہے ہوں گے۔ اپنی ناکامی پر برے برے منہ بناتے، قبرستان کی جھاڑیوں میں اچھلتے کودتے وردی پوش۔ میں بڑی مشکل سے ہنسی ضبط کر رہا تھا۔

    تقریباً ایک گھنٹہ بعد موٹا افسر اکیلا واپس آیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ مجھے گولی سے اڑانے کا حکم صادر کرنے آیا ہے۔ باقی وہیں قبرستان میں منڈلا رہے ہوں گے۔ میں اپنی سزا سننے کے لیے پہلے سے تیار تھا۔ افسر نے میری طرف دیکھا اور محافظوں سے کہا: ’’اسے بیرونی احاطے میں لے جاؤ۔فوجی کارروائی ختم ہونے کے بعد اس کا فیصلہ شہری انتظامیہ کرے گی۔‘‘

    مجھے اپنی سماعت پر شبہ ہونے لگا۔ میں نے پوچھا۔

    ’’تو کیا وہ مجھے گولی نہیں مار رہے ؟‘‘

    ’’بہرحال ابھی تو نہیں ......‘‘ ایک محافظ نے کہا۔

    ’’بہرحال ابھی تو نہیں ......‘‘ ایک محافظ نے کہا۔

    ’’لیکن کیوں ......کیوں؟‘‘

    اس نے لا علمی کے اظہار کے لیے کندھے اچکائے اور خاموش ہو گیا۔ سپاہی مجھے باہر کی جانب گھسیٹنے لگے۔ بیرونی احاطے میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے، عورتیں اور بوڑھے قیدی جمع تھے۔ قیدیوں   کے درمیان چلتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا دماغ ماؤف ہو رہا ہے۔ دوپہر کے وقت ہمیں کھانا دیا گیا۔ کئی آدمیوں نے مجھ سے سوال کیے۔ لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ یقیناً میرے شناسا ہوں گے۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔

    شام کے وقت چند قیدی احاطے میں دھکیلے گئے۔ میں نے اپنے محلے کے نان بائی گریشیا کو پہچان لیا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی بولا۔ ’’خدایا! تم زندہ ہو؟‘‘

    میں نےکہا ’’انہوں نے مجھے موت کی سزا سنائی تھی مگر پھر رائے بدل لی۔ معلوم نہیں کیوں۔‘‘

    ’’مجھے دو بجے گرفتار کیا گیا۔‘‘ گریشیا نے بتایا۔

    ’’کیوں؟تمہارا تو سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘

    وہ تاسف سے بولا ’’جو بھی ان کی طرح نہیں سوچتا، وہ اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔‘‘

    چند لمحوں کی خاموشی کے بعد گریشیا بولا ’’انہوں نے ریمون کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔‘‘

    مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔

    ’’کب؟‘‘

    ’’آج صبح۔ ریمون نے عجیب احمقانہ حرکت کی۔ منگل کو وہ چچا کے لڑکے سے کسی بات پر خفا ہو کر گھر سے نکل گیا۔ اس سے کچھ چخ چخ ہو گئی تھی۔ اسے کئی لوگ پناہ دینے کو تیار تھے مگر وہ کسی کا احسان نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ کہنے لگا ’’پابلو ہوتا تو میں اس کے گھر رہتا۔ وہ میرا دوست ہے۔ مگر جب وہی گرفتار ہو گیا تو اب میں دوسروں کا احسان کیوں لوں۔ میں قبرستان میں چھپ جاؤں گا۔‘‘

    ’’قبرستان؟‘‘

    ’’ہاں۔ بھلا اس سے بڑی حماقت کیا ہو سکتی تھی؟ صبح وہ وہاں آگئے۔ یہ ہونا ہی تھا۔ گورکن کی جھونپڑی سے انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے ان پر گولی بھی چلائی مگر بالآخر انہوں نے اسے دھر ہی لیا۔‘‘

    ’’قبرستان میں؟‘‘

    تمام چیزیں میرے دماغ میں گھومنے لگیں۔ میں نے اپنے آپ کو زمین پر بیٹھا پایا۔ یکایک میں اتنی زور سے ہنسا کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔