دیوار(١)
ترجمہ: خاقان ساجد
آخر کار انہوں نے مجھے ایک بڑے سے سفید کمرے میں دھکیل دیا۔ وہاں اتنی تیز روشنی تھی کہ میری آنکھیں چندھیانے لگیں۔ کمرے میں چار آدمی ایک میز کے پیچھے سر جھکائے بیٹھے کاغذات کی جانچ پڑتال کر رہے تھے۔ یہ فوجی نہیں تھے۔ دیوار کے ساتھ متعدد قیدی سر جھکائے کھڑے تھے۔ ان میں سے چند کو میں جانتا تھا۔ میرے سامنے بھورے بالوں والے دو غیر ملکی قیدی تھے۔ ان کی آپس میں خاصی مشابہت تھی۔ مجھے وہ حلیے سے فرانسیسی لگ رہے تھے۔ ان میں جو چھوٹا تھا وہ اپنی پتلون کو بار بار کھینچ کر اوپر کر رہا تھا۔
کارروائی مکمل ہونے میں تقریباً تین گھنٹے صرف ہوئے۔ میرا سارا وجود تھکن سے بے حال تھا۔ دماغ خالی خالی اور سوچنے سے عاری ہو چکا تھا۔ چوبیس گھنٹے تک شدید سردی میں کانپنے کے بعد اب اس کمرے کی حرارت مجھے بہت خوشگوار محسوس ہو رہی تھی۔
سپاہی قیدیوں کو باری باری میز کے سامنے لے جا رہے تھے، جہاں ان میں سے کم و بیش ایک جیسے سوال پوچھے جا رہے تھے:
’’تمہارا پورا نام کیا ہے؟‘‘
’’تم کہاں کہاں گئے اور کیا کرتے رہے؟‘‘
عام طور پر یہی دو سوال کیے جاتے۔ کبھی کبھی ان سوالات سے تجاوز کیا جاتا۔
’’کیا تم بھی اسلحے کی تباہی میں شریک تھے؟‘‘
’’تم نوتاریخ کی صبح کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟‘‘
انہیں جواب سننے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ جب وہ سوال کر لیتے تو اپنے سامنے کھڑے قیدی کو غور سے دیکھتے اور پھر سر جھکا کر کاغذوں پر کچھ لکھنے میں مصروف ہو جاتے۔
’’کیا تم انٹرنیشنل بریگیڈ کے لیے کام کرتے رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ٹام سے سوال کیا اور جواب سنے بغیر لکھنے میں مصروف ہو گئے۔
جوآن سے انہوں نے صرف اس کے نام کی صدیق چاہی اور پھر دیر تک کاغذات پر کچھ رقم کرتے رہے۔
’’میرا بھائی جوزے ان کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ میرا کسی جماعت سے تعلق نہیں۔ مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ جوآن بولتا رہا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’میں نے کہا ناں کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ دوسروں کے لیے دھرنے کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘ جو آن کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ ایک محافظ اسے کھینچتا ہوا لے گیا۔ اس کے بعد میری باری تھی۔
’’تمہارا نام پابلو ہے ؟‘‘
’’ہاں‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’ریمون کہاں ہے؟ ہماری اطلاع کے مطابق تم نے چھ سے انیس تک اسے اپنے گھر میں چھپائے رکھا ہے۔‘‘
’’آپ کو غلط اطلاع ملی ہے۔‘‘
وہ سر نیچے جھکا کر لکھنے لگا۔ محافظ نے مجھے دھکا دیا۔
بڑے کمرے میں ٹام اور جو آن دو محافظوں میں گھرے میرے منتظر تھے۔
’’یہ ابتدائی کارروائی تھی یا مقدمہ ختم ہو گیا؟‘‘ ٹام نے محافظوں سے استفسار کیا۔
’’یہ مقدمہ تھا۔‘‘ ایک نے جواب دیا۔
’’تو اب ......اب کیا ہو گا؟‘‘
’’فیصلہ تمہاری کوٹھڑی میں سنایا جائے گا۔‘‘
ہماری کوٹھڑی میں بہت زیادہ ٹھنڈ تھی۔ ہم ساری رات ٹھٹھرتے رہے۔ صبح کے وقت بھی درجہ حرارت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ جوآن تمام وقت خاموش دم بخود بیٹھا رہا۔ وہ کم سن اور ناتجربہ کار تھا۔ خوف نے اسے گنگ کر دیا تھا۔
ٹام البتہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہا تھا۔ کوٹھڑی میں ایک بنچ تھا اور چار کمبل۔ تفتیش گاہ سے آ کر ہم الگ الگ کمبلوں پر بیٹھ گئے تھے۔
’’لگتا ہے ہم ٹھکانے لگ گئے۔‘‘ ٹام نے سرد آہ کھینچی۔
’’مجھے بھی یہی لگتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’مگر چھوٹا بلاوجہ سہما ہوا ہے ۔ وہ اسے کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘
’’کسے ؟ جوآن کو؟ ہاں، یہ جوزے کا چھوٹا بھائی ہے۔ جوزے ان کے خلاف جان ہتھیلی پر رکھے نبردآزما ہے۔‘‘
میں نے جوآن کی طرف دیکھا۔ وہ بدستور سکتے کی کیفیت میں دیوار پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔
روزن زنداں سے روشنی کے ساتھ ساتھ یخ بستہ ہوا کے جھونکے بھی اندر آرہے تھے۔ جوآن سردی سے کپکپانے لگا۔
’’خدا کی پناہ! ‘‘ وہ دانت کچکچا کر بولا۔ ’’میں تو سزا پانے سے پہلے ہی ٹھنڈ سے اکڑ کر مر جاؤں گا۔‘‘
ٹام نے خود کو گرم کرنے کے لیے ورزش شروع کر دی۔ وہ مضبوط جسم کا مالک تھا مگر عمر ڈھلنے کے ساتھ اس کے بدن پر موٹاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔
اسے ورزش کرتے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ کل کسی وقت اس کے فربہ جسم میں گولیاں اور سنگینیں یوں اتریں گی جیسے مکھن کی ٹکیہ میں چھری اترتی ہے۔
شدید سردی کے باعث مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میرے بازو میرے جسم سے جدا ہو گئے ہوں۔ مجھے اپنی جیکٹ یاد آئی جو انہوں نے مجھ سے چھین لی تھی۔ انہوں نے ہمارے سارے کپڑے اتروا کر اپنے سپاہیوں کو دے دیے تھے اور ہمیں وہ سوتی کرتے اور پاجامے پہنا دیے تھے جو ہسپتال کے مریضوں کو موسم گرما میں پہننے کو ملتے ہیں۔
تھوڑی دیر ورزش کے بعد ، ٹام سانس درست کرنے کے لیے بیٹھ گیا۔
’’جسم میں کچھ گرمی آئی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں‘‘ اس نے برا منہ بنا کر کہا۔ ’’مگر سانس پھول گیا۔‘‘
آٹھ بجے کے قریب ایک فوجی افسر تین سپاہیوں کے ساتھ ہماری کوٹھڑی میں آیا۔
’’ان تینوں کے نام کیا ہیں؟ ‘‘ افسر نے ہمارے محافظ سے پوچھا۔
’’ٹام، جوآن اور پابلو‘‘۔ اس نے جواب دیا۔
افسر نے عینک درست کی، اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی فہرست کو غور سے دیکھا۔
’’ٹام ...... ٹام...... یہ رہا! ٹام ، تمہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ کل صبح تمہیں گولی مار دی جائے گی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ دوبارہ فہرست پر جھک گیا۔
’’اور ......تم دونوں کو بھی ۔ جوآن اور پابلو۔ سزائے موت!‘‘ اس نے فہرست پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ ناممکن ہے!‘‘ جوآن چیخ اٹھا۔
افسر نےاسے تعجب سے دیکھا۔
’’تمہارا پورا نام کیا ہے؟‘‘
’’جوآن مربل‘‘
’’یہ ......یہاں تمہارا ہی نام ہے۔‘‘ افسر نے مطمئن انداز میں تصدیق کی۔ ’’ ......اور تمہیں موت کی سزا دی گئی ہے۔‘‘
’’لیکن میں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ جو آن کی آواز میں وحشت تھی۔
افسر نے لاپروائی سے کندھے اچکائے اور ہم دونوں کی طرف مڑتے ہوئے کہا: ’’کچھ دیرمیں تم لوگوں کے پاس ایک ڈاکٹر آئے گا اسے رات بھر تمہارے پاس رہنا ہے۔‘‘
ہمیں مطلع کرنے کے بعد وہ فوجی انداز میں گھوما اور نکل گیا۔
’’میں نے کیا کہا تھا۔‘‘ ٹام فوراً بولا۔ ’’ہم ٹھکانے لگ گئے ہیں۔‘‘
’’ہاں!‘‘ میں نے کہا۔ ’’مگر چھوٹے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔‘‘
میں نے یہ با ت کہہ تودی تھی مگر حقیقت یہ تھی کہ مجھے چھوٹے پر غصہ آرہا تھا۔ خوف کی زیادتی سے اس کا چہرہ بگڑ گیا تھا۔ نقوش عجیب انداز میں مسخ ہو گئے تھے۔ اس کی یہ کیفیت مجھے بے کل کر رہی تھی جس کے باعث مجھے اس پر تاؤ آنے لگا تھا۔ تین روز پہلے تک وہ محض ایک بچہ تھا مگر اب وہ کسی دوسرے سیارے کی بوڑھی مخلوق لگنے لگا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اب وہ رہا ہو بھی گیا تو دوبارہ کبھی بچہ نہیں لگے گا۔ وہ بلاشبہ ہمدردی کا مستحق تھا لیکن مجھے ہمدردی کرتے ہوئے متلاہٹ ہوتی ہے۔
سزا سننے کے بعد وہ خاموشی سے پیلا پڑتا جا رہا تھا۔ اس کے ہونٹ نیلے پڑ گئے تھے۔ رحم کے جذبے سے مغلوب ہو کر ٹام نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرنا چاہا مگر اس نے اپنے آپ کو نہایت شدت سے کونے میں سمیٹ لیا اور منہ بسورکر ٹام کو گھورا۔
’’اسے چھوڑ دو ٹام‘‘ میں نے آہستگی سے کہا۔ ’’یہ دھاڑیں مارنے والا ہے۔‘‘
ٹام چاہتا تھا کہ چھوٹے کو تسلی دے، اس سے ہمدردی کرے۔ اس کی خواہش ہو گی کہ اس عمل میں مصروف رہنے کے باعث خود اس کا دل بھی بہلا رہے گا۔ اور یوں وہ اپنے بارے میں سوچنے سے بچ جائے گا۔ مجھے ٹام کی یہ حرکت بری لگ رہی تھی۔ لیکن اس سے پیشتر میں نے بھی کبھی موت کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں اپنے وجود میں اترتی گولیوں کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا۔ مرنے سے پہلے چیخ مارنے کی مہلت ملتی ہو گی یا نہیں؟ تمام گولیاں جسم پھاڑ کر دوسری طرف نکل جاتی ہیں یا ...... ؟ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی۔ ان باتوں پر غور و فکر کرنے کے لیے تمام رات پڑی تھی۔
کچھ دیر بعد ٹام بھی خاموش ہو گیا۔ میں نے کنکھیوں سے اسے دیکھا۔ وہ بھی زرد ہو رہا تھا۔ میں نے سر اٹھایا اور چھت کے روزن سے ایک ستارہ چمکتے دیکھا۔ سرد اور شفاف رات کی ابتدا ہو چکی تھی۔
دروازہ کھلا اور دو محافظ داخل ہوئے ان کے ساتھ بھورے بالوں والا ایک باوردی آدمی تھا۔
’’میں ڈاکٹر ہوں‘‘ اس نے خوش اخلاقی سے کہا۔
’’جہاں تک ممکن ہوا ، میں اس اذیت ناک صورت حال میں آپ کی مدد کروں گا۔‘‘
’’تم کیا کرو گے؟‘‘ میں نے اکتاہٹ سے پوچھا۔
’’جو تم کہو گے۔ تمہاری زندگی کے آخری چند گھنٹے خوشگوار بنانے کے لیے میں کچھ بھی کر نے کو تیار ہوں۔ ‘‘ ڈاکٹر کے لہجے میں ہمدردی تھی۔
’’تم ہمارے ہی پاس کیوں آئے اور بہت سے آدمی ہیں۔ زندان بھرا پڑا ہے۔‘‘
’’میں اس لیے آیا ہوں کہ مجھے بھیجا گیا ہے۔ ‘ ‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔ پھر فوراً سنبھل کر بولا۔ ’’تم سگریٹ پیتے ہو؟ میرے پاس سگریٹ ہیں۔ سگار بھی ہیں۔‘‘
’’نہیں ۔ شکریہ۔‘‘ میں نے سگریٹ لینے سے انکار کر دیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس نے اضطراب سے پہلو بدلا۔
میں چند لمحے اسے گھورتا رہا او رپھر اس کی موجودگی سے لا تعلق ہو گیا۔ دونوں محافظ فرش پر پڑے کمبل پر بیٹھ گئے۔ دراز قد محافظ جس کا نام پیڈرو تھا اپنی انگلیاں چٹخا رہا تھا جبکہ دوسرا نیند کے غلبے سے نجات حاصل کرنے کے لیے بار بار اپنا سر جھٹک رہا تھا۔
میں نے پشت سیدھی کی اور اپنے دونوں ساتھیوں پر نظر دوڑائی۔ ٹام اپنا سر گھٹنوں پر رکھے بیٹھا تھا۔ جوآن کی حالت قابل رحم تھی۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے نبض ٹٹولنے کے لیے اس کی کلائی پکڑنا چاہی تو اس نے خاموشی سے اپنا بازو ڈاکٹر کی جانب بڑھا دیا۔ وہ بدستور کھلے منہ کے ساتھ نتھنے پھلا رہا تھا۔
ڈاکٹر کی اس حرکت نے مجھ پر جھنجھلاہٹ طاری کر دی۔ ’’کتے کے بچے!‘‘ میں نے خود کو بڑبڑاتے سنا۔’’ میرے نزدیک آنے کی کوشش کی تو جبڑا توڑ دوں گا!‘‘ وہ میرے پاس تو نہیں آیا مگر چھوٹے سے فارغ ہو کر بہت دیر تک مجھے دیکھتا رہا۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ مجھے اتنے غور سے کیوں دیکھ رہا ہے۔
’’بہت شدید سردی پڑ رہی ہے۔ کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے عجیب انداز میں مجھ سے سوال کیا۔
’’مجھے تو سردی نہیں محسوس ہو رہی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ لیکن وہ حسب سابق بغور میرا جائزہ لیتا رہا۔ اچانک مجھے عجیب سا احساس ہوا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھوا تو اسے پسینے میں تر پایا۔ میرا سارا بدن پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ میرے سر کے بال گیلے ہو کر اکڑ گئے تھے۔ کپڑے بھی جسم سے چپکے ہوئے تھے۔ سخت سردی میں اس قدر پسینہ؟ عجیب انکشاف تھا۔ گھنٹے سے میری یہ حالت تھی مگر میں اس سے بے خبر تھا۔ ڈاکٹر نے میرے چہرے سے پسینے کے قطرے ٹپکتے دیکھے تو سمجھ گیا کہ میں خوف کی شدت سے پگھل رہا ہوں۔ وہ خاموشی سے میری اس حالت کا تجزیہ کر رہا تھا۔ میرا دل چاہا اس کا منہ نوچ لوں۔ میں اس ارادے سے اٹھ کر کھڑا ہوا مگر مجھے اچانک اپنا غصہ بے جا لگا۔ اور میں نے خود پر لا تعلقی کی کیفیت طاری ہوتے محسوس کی۔ میں نے کندھے اچکائے اور بنچ پر بیٹھ کر پسینہ پونچھنے لگا۔ جلد ہی میرا رومال بھیگ گیا۔ مگر میرے بدن سے پسینہ بدستور نمودار ہوتا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے پسینہ خشک کرنے کی کوشش ترک کر دی اور خود کو ایڑی سے چوٹی تک بھیگتے محسوس کرنے لگا۔
’’تم ڈاکٹر ہو؟‘‘ جوآن نے اچانک سوال کیا۔
’’ہاں۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’کیا بہت دیر تک تکلیف ہوتی ہے؟‘‘
’’کب؟ اوہ! اس وقت؟ نہیں!‘‘ ڈاکٹر نے ہمدردی سے کہا۔ ’’سب کچھ آناً فاناً ہو جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں ......کچھ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ کبھی کبھی ......بعض اوقات دوسری بار بھی فائر کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’کبھی کبھی ، ہاں۔ پہلی بار چلائی جانے والی گولیاں بسا اوقات اہم اعضا کو چھوئے بغیر بدن سے پار ہو جاتی ہیں اس صور ت میں ہاں......‘‘
’’تو پھر وہ اپنی بندوقوں میں دوبارہ گولیاں بھرتے ہوں گے؟‘‘
’’بالکل۔‘‘
’’اس میں وقت لگتا ہو گا۔ ‘‘ چھوٹے کی آواز میں لرزش تھی۔ وہ تکلیف کے خوف میں مبتلا تھا۔ یہ اس کی عمر کا تقاضا تھا۔ مجھے ایسی کوئی تشویش نہیں تھی۔ پسینہ آنے کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
میں نے ٹام کی طرف دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ بھی پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس منظر سے بچنے کے لیے میں نے سر اٹھایا تو چھت کے سوراخ سے آسمان نظر آیا۔ کہکشاں اسی ترتیب کے ساتھ موجود تھی۔ مگر آج ستارے مختلف دکھائی دیتے تھے۔ جب میں اپنے گھر سے آسمان دیکھا کرتاتھا تو میرے احساسات اور ہوتے تھے۔ صبح کے وقت آسمان کا گہرا نیلا رنگ دیکھ کر مجھے بحر اوقیانوس کے روشن اور خوبصورت ساحلوں کا خیال آتا تھا۔ دوپہر کے وقت مجھے دور افتادہ جزیرے کا وہ چھوٹا سا شراب خانہ یاد آتا، جہاں منہ کا ذائقہ درست رکھنے کے لیے شراب کے ساتھ زیتون کا اچار پیش کیا جاتا تھا۔ شام کے وقت جب سائے دراز ہوتے تو میں کھیل کے اس میدان کے بارے میں سوچتا جس کا نصف حصہ روشن اور آدھا چھاؤں میں رہتا تھا۔ اور جب مجھے خیال آتا کہ زمین بھی یونہی آدھی روشن اور آدھی تاریکی میں ڈوبی آسمان کی وسعتوں میں گھوم رہی ہے تو میرے سینے میں درد کی ایک لہر اٹھتی تھی۔ مگر اس تاریک کوٹھڑی کے روزن سے آسمان دیکھتے ہوئے مجھے ماضی کی کوئی چیز یاد نہیں آئی تھی۔ میں نے آسمان سے نظریں ہٹا کر ایک گہرا سانس لیا اور ٹام کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ دیر تک خاموشی طاری رہی۔
آخر ٹام نے مہر سکوت توڑ ڈالی۔ خیالات کی یلغار سے بچنے کے لیے وہ گفتگو کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ وہ میری جانب دیکھے بغیر دھیمی آواز میں بول رہا تھا۔ میرا رنگ زرد ہو گیا تھا اور میں پسینے میں شرابور تھا۔ ٹام کا حال بھی میرے جیسے تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے آئینہ بن گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر باتیں کر رہا تھا۔ البتہ کبھی کبھی وہ ڈاکٹر کے چہرے پر نگاہ ڈال لیتا۔ اسے ادراک تھا کہ اس وقت کوٹھڑی میں فقط ڈاکٹر ہی ایک زندہ شخص ہے۔
’’تمہاری سمجھ میں آرہا ہے ؟ میں تو کچھ نہیں سمجھ پا رہا۔‘‘ ٹام نے طویل گفتگو ختم کی ، تو پوچھا۔
’’تم کیا سمجھنا چاہ رہے ہو؟‘‘
’’ہمارے ساتھ کچھ ہونے والا ہے جو میری سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘
’’فکر مت کرو۔ سب سمجھ میں آجائے گا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
دفعتاً مجھے ٹام کے پاس سے عجیب سی بو آتی محسوس ہوئی ۔ عام حالات میں میری ناک اتنی حساس نہیں تھی۔ میں نے نتھنے پھلا کر حقیقت معلوم کرنا چاہی۔
’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ ٹام مسلسل بول رہا تھا۔ ’’میں ڈرپوک نہیں ہوں مگر کچھ پتہ تو چلے ۔ دیکھو میں جانتا ہوں وہ ہمیں احاطے میں لے جائیں گے ...... ٹھیک ہے؟ تمہارا کیا خیال ہے کتنے لوگ ہوں گے؟‘‘
’’کیا ؟ ہاں، لوگ!! معلوم نہیں۔ پانچ ......یا آٹھ۔اس سے زیادہ تو نہیں ہوں گے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے۔ فرض کیا وہ آٹھ ہوں گے کوئی چلا کر انہیں نشانہ باندھنے کا حکم صادر کرے گا۔ ٹھیک ہے؟ فوراً مجھ پر آٹھ بندوقیں تن جائیں گی۔ میں دیوار کے دوسری طرف نکل جانے کی کوشش کروں گا۔ پورا زور صرف کر دوں گا لیکن دیوار ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی۔ جیسے ڈراؤنے خوابوں میں ہوتا ہے ...... میں جانتا ہوں ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔ مگر سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘
’’مت سوچو۔‘‘ میں نے کہا ۔ ’’سب جانتے ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
’’بہت درد اور تکلیف ہوتی ہو گی۔ میں نے سنا ہے چہرہ بگاڑنے کے لیے خاص طور پر آنکھوں اور منہ کا نشانہ لیتے ہیں۔ کتے۔‘‘ ٹام کا لہجہ تلخ ہو گیا۔ ’’مجھے تو ابھی سے اپنے بدن میں سوراخ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ...... گھنٹہ بھر سے چہرے اور گردن میں درد ہو رہا ہے۔ اصل میں تو یہ درد کل محسوس ہو گا اور اس کے بعد ......اس کے بعد کیا ہو گا؟‘‘
میں جانتا تھا وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ مگر مجھے یہی بہتر لگا کہ انجان بنا رہوں۔ جہاں تک درد کا تعلق ہے تو میں خود اپنے بدن میں سوراخ ہوتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔
ٹام دوبارہ بولنے لگا۔ اس کی آنکھیں بدستور ڈاکٹر پر جمی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر ہر چیز سے لا تعلق تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ ڈاکٹر کی وہاں موجودگی کا کیا مقصد ہے۔ وہ ہماری باتیں سننے نہیں آیا تھا۔ وہ ہمارے جسموں کی نگہداشت پر مامور تھا۔ ہمارے جسم جو زندگی ہی میں مر رہے تھے۔
’’بالکل جس طرح بھیانک خوابوں میں ہوتا ہے۔‘‘ ٹام بولے چلا جا رہا تھا۔
’’ٹھوس چیزیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔ دھوئیں کی طرح یا جیسے ہوا یا بادل۔ یا کوئی بھی چیز۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ گولیاں اور سوراخ اور درد۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، مگر کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ مجھے اپنی لاش دکھائی دے رہی ہے۔ یہ عام بات نہیں ہے۔ خود اپنی لاش، اپنی آنکھوں سے۔ اپنی لاش کون دیکھنا چاہتا ہے؟ میں کچھ نہیں دیکھنا چاہتا۔ کیا میں اپنی آنکھیں بند کرلوں؟ میں تو کچھ سننا بھی نہیں چاہتا۔ دنیا دوسروں کے لیے قائم رہے، مجھے کیا ہے۔میں نے دو راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ کسی شے کی حدہوتی ہے۔ آدمی بکھر جاتا ہے۔ پابلو یقین کرو میں کسی با ت کا منتظر ہوں۔ مگر یہ وہ چیز نہیں ہے وہ چیز تو ہمیں بے خبری میں آلے گی۔ پیچھے سے ......‘‘
’’بکواس بند کرو۔‘‘ میں نے چیخ کر کہا۔ ’’پادری کو بلاؤں؟ وہی تمہارا ہذیان سنے گا۔‘‘
ٹام مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا۔اب اگر ہمیں ساتھ مرنا پڑ رہا تھا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ میں اسے پسند کرنے لگوں۔ اس وقت ریمون میرے ساتھ ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ ریمون میرا دوست تھا۔ ٹام اور جو آن کے بیچ بیٹھا میں خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔
ٹام مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔ میں اس کا مسئلہ سمجھ سکتا تھا۔ وہ سوچنے سے بچنا چاہتا تھا۔ اس طرح مرنا فطری نہیں تھا اور غیر فطری موت کے اس قدر نزدیک ہو کر مجھے ہر شے غیر فطری لگ رہی تھی ۔ بجھے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر، بنچ، ڈاکٹر کی شکل۔ سب کچھ غیر فطری تھا۔ ہم دونوں کے احساسات ایک طرح کے تھے۔ مگر میں اس کا سا طرزعمل نہیں اپنانا چاہتا تھا۔اس کے باوجود مجھے علم تھا کہ ہم تمام رات ایک جیسی باتیں سوچتے رہیں گے۔ ہمارے ذہن میں ایک جیسی چیزیں آئیں گی۔ ہم دونوں زرد پڑتے رہیں گے۔ کانپیں گے اور پسینے میں تربتر ہوں گے۔ میں نے کنکھیوں سے ٹام کی جانب دیکھا۔ اس کے چہرے پر موت کا سایہ تھا۔ میری انا کو دھچکا لگا۔ ایک دوسرے کی معیت میں ہمیں چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ میں اس سے محوگفتگو رہا تھا۔ اس کی باتیں سنی تھیں اور مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ہم میں کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم جڑواں بھائیوں کی طرح ایک جیسے نظر آرہے تھے۔ اس لیے کہ ہمیں ایک ساتھ موت کو گلے لگانا تھا۔
ٹام نے میری طرف دیکھے بغیر میرا ہاتھ تھام لیا۔
’’پابلو، حیرانی ہوتی ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ہم مرتے ہیں تو ختم ہو جاتے ہیں۔ بالکل ختم۔ ہمیشہ کے لیے۔‘‘
میں نے کوئی جواب دیے بغیر اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
’’نیچے دیکھو ۔ گندے انسان!‘‘
ٹام گیلے فرش پر بیٹھا تھا۔ اس کی پتلون سے قطرے ٹپک رہے تھے۔
’’کیا! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے اپنے نیچے دیکھ کر خوف اور حیرانی سے پوچھا۔
’’تم اپنی پتلون گیلی کر رہے ہو۔‘‘ میں نے اسے بتایا۔
’’ناممکن ہے۔‘‘ وہ غرایا۔ ’’یہ نہیں ہو سکتا ...... مجھے تو کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا!‘‘
میں نے ڈاکٹر پر نظر ڈالی۔ وہ لا تعلقی سے گیلے فرش کو دیکھ رہا تھا۔ ’’اس کی روکنے کی حس کمزور پڑ گئی ہے۔‘‘ چند لمحوں بعد ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں رائے زنی کی۔
’’میں نہیں جانتا یہ کیا ہے۔‘‘ ٹام نے سختی سے کہا۔ ’’میں ڈرا ہوا نہیں ہوں۔ خدا کی قسم میں بالکل خائف نہیں ۔‘‘
ڈاکٹر کوئی جواب دیے بغیر سر جھکا کر اپنی نوٹ بک میں کچھ تحریر کرنے لگا۔ میں اور ٹام ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے۔ جوآن بھی ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔ ہم تینوں کی نظریں ڈاکٹر پر مرکوز تھیں کیونکہ وہ حیات تھا۔ فقط وہی زندہ آدمیوں کی طرح مصروف تھا ۔ اس کا تجسس زندگی کی دلیل تھا۔ اسے سردی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا جسم زندہ آدمیوں کی طرح موسم سے متاثر ہو رہا تھا۔ جبکہ ہمیں اپنے جسموں کو محسوس کرنے کے لیے خود کو چھونا پڑ رہا تھا۔ وقفے وقفے سے مجھے یہ خیال بھی آرہا تھا کہ شاید اب میں بھی گیلے فرش پر بیٹھا ہوں مگر شرمساری سے بچنے کے لیے میں نیچے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کیفیت میں ہم سوائے ڈاکٹر کو دیکھنے کے اور کیا کر سکتے تھے؟ ڈاکٹر اپنی ٹانگوں پر مضبوطی سے کھڑا تھا۔ اس کی جسمانی حرکات و سکنات اس کے قابو میں تھیں۔ وہ سوچ سکتا تھا کہ کل شام اور پرسوں صبح اس کی مصروفیات کیا ہوں گی۔ ڈاکٹر زندہ تھا اور ہم تین سائے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس کے وجود سے حرارت اور خون چوس کر ہم دوبارہ زندہ ہونا چاہتے تھے۔
دفعتاً میں اونچی آواز میں ہنسنے لگا۔ میرا قہقہہ سن کر ایک محافظ چوکنا ہو گا۔ دوسرا بدستور کھلی آنکھوں کے ساتھ سویا رہا۔ نیند میں ڈوبے ہوئے محافظ کی آنکھوں کا سفید حصہ نظر آرہا تھا اور منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔
میں بیک وقت تھکن اور اضطراب کا شکار تھا۔ میں سوچنا نہیں چاہتا تھا کہ صبح کیا ہو گا۔ موت کے خیال سے چھٹکارا پانے کے لیے میں بار بار سر جھٹک رہا تھا۔ مگرجونہی میری توجہ کسی اور چیز پر مرکوز ہوتی مجھے بندوق کی نالیاں دکھائی دیتیں جو دھیرے دھیرے میرے چہرے کی سمت اٹھنے لگتیں۔ کئی بار گولیاں میرے وجود کو چیرتی چلی گئیں۔ ایک بار تو مجھے بالکل یوں لگا جیسے میں واقعی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہوں۔ میں اونگھ گیا تھا۔ وہ مجھے دیوار کی سمت کھینچ رہے تھے۔میں پوری قوت سے مزاحمت کر رہا تھا۔ میں نڈھال ہو کر ان سے ترس کھانے اور رحم کرنے کی درخواست کر نے لگا۔ مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ گولیوں سے چھلنی ہوتے ہی میں نے چیخ مار کر آنکھیں کھول دیں۔ حواس بحال ہوتے ہی میں نے کنکھیوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔ مجھے ڈر تھا کہ شاید ڈاکٹر نے مجھے چیختے ہوئے سن لیا ہے۔ مگر ڈاکٹر ایک کونے میں بیٹھا لا تعلقی سے اپنی مونچھوں کو بل دے رہا تھا۔ اس نے کچھ نہیں سنا تھا۔ میں پچھلے اڑتالیس گھنٹے سے جاگ رہاتھا اور اب میری آنکھوں میں سوئیاں چبھ رہی تھیں۔ اگر میں چاہتا تو اسی لمحے گہری نیند سو سکتا تھا مگر میں اپنی زندگی کے آخری چند گھنٹے سو کر نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ وہ مجھے لینے آجائیں گے اور میں سر جھکا کر غنودگی کے عالم میں ان کے ساتھ چل پڑوں گا۔ میں ان سے شاید یہ بھی نہ پوچھ سکوں کہ وہ مجھے جانوروں کی طرح کیوں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں؟ میں موت سے پہلے سونا نہیں چاہتا تھا۔ میں سوچنا چاہتا تھا۔ علاوہ ازیں سوتے ہوئے مجھے ڈراؤنے خواب دیکھنے کا اندیشہ بھی لاحق تھا۔ میں نے اٹھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔موت کے خیال سے بچنے کے لیے میں ماضی کے خوشگوار لمحے یاد کرنے لگا۔ کتنے دلکش چہرے تھے۔ کیسی دلچسپ باتیں تھیں۔ چھٹیاں ، تہوار، میلے اور جھولے، چھوٹے ماموں اور ریمون ۔ 1926ء میں تین مہینے کی بے کاری۔ وہ فاقوں کے دن۔ احتجاجی جلوس میں شرکت۔ اور غرناطہ کی وہ رات جو میں نے ایک بنچ پر جاگ کر گزاری تھی۔ میں نے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا اور سخت طیش میں تھا۔ میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔
چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور آزادی کی زندگی اور خوبصورت عورتیں جن کے پیچھے میں بھاگتا تھا۔ مجھے ہنسی آنے لگی۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں ان کا تعاقب کیا تھا۔ میں سپین کو آزاد کرانا چاہتا تھا۔ میں مارگل کا شیدائی تھا۔ انقلابیوں کا ساتھی۔ میں نے اسی جدوجہد کو دین ایمان سمجھ لیا تھا۔ میں نے تحریک آزادی کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔ میں پر جوش نعرے لگاتا اور تقریریں کرتا۔ میں یہ خیال کرتا تھا کہ میں غیرفانی ہوں۔ اب جبکہ زندگی کا خاتمہ ہو رہا تھا ان ساری چیزوں کا کیا مطلب تھا؟ مجھے یہ سوچ کر تعجب ہوا کہ میں لڑکیوں کی صحبت میں کتنا مسرور تھا۔ اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ مجھے ایسے موت آئے گی تو میں تمام زندگی اپنے بستر سے اٹھنے کی زحمت بھی نہ کرتا، میری پوری زندگی میری نظروں کے سامنے آگئی۔ اب سب کچھ ختم ہو گیا تھا ...... مجھے کسی با ت کا زیادہ افسوس بھی نہیں تھا۔ ممکن ہے عام حالات میں مجھے کچھ چیزیں چھوڑنے کا دکھ ہوتا۔ اپنے پسندیدہ کھانوں کا ذائقہ یاد آتا یا اس پر سکون جھیل کا تصور مجھے افسردگی میں مبتلا کر دیتا جہاں میں گرما کی دوپہر میں پیراکی کرتا تھا۔ لیکن موت سب چیزوں کی دلکشی چھین کر لے گئی تھی۔
اچانک ڈاکٹر کے ذہن میں ایک خوشگوار تجویز آئی اور وہ ہم سے مخاطب ہو ا۔ دوستو! ’’اگر تم پسند کرو تو میں تمہارا آخری پیغام تمہارے پیاروں تک پہنچا دوں گا، بشرطیکہ فوجی حکام نے اجازت دی۔‘‘
’’میرا کوئی نہیں ہے۔‘‘ ٹام ناگواری سے بولا۔
میں چپ رہا۔ ٹام میری خاموشی پر حیران تھا۔
’’کانشا کے نام کوئی پیغام نہیں بھجواؤ گے؟‘‘ اس نے مجھ سے استفسار کیا۔
’’نہیں ......‘‘
آج میرے لیے کانشا کی اہمیت مختلف رنگ اختیار کر چکی تھی۔ کل تک اس سے محض پانچ منٹ گفتگو کرنے کے لیے میں اپنا ایک بازو قطع کروانے پر رضامند ہو جاتا۔ اس لیے میں نے کل شام سے کانشا کا تذکرہ کیا تھا مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اب کانشا کی میرے لیے کوئی حیثیت نہیں۔ بات کرنا تو درکنار اب میں کانشا کو دیکھنے کا بھی خواہش مند نہیں تھا۔ جب سے میرا جسم زرد پڑا تھا اور میں پسینے میں نہا گیا تھا ، مجھے اپنے بدن سے کراہت آنے لگی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے کانشا کے بدن کی یاد سے بھی متلاہٹ ہونے لگی تھی۔ مجھے علم تھا کہ میری موت کی خبر سن کر وہ بہت روئے گی ۔ زندگی میں اس کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔ کئی دنوں تک وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلے گی۔ مگر بہرحال وہ زندہ رہے گی ......جبکہ میں مر رہا تھا۔ مجھے اس کی خوبصورت آنکھیں یاد آئیں۔ جب وہ میری طرف پیار سے دیکھتی تھی تو یوں لگتا تھا جیسے کوئی نہایت لطیف چیز اس کے وجود سے نکل کر مجھ میں داخل ہو رہی ہے لیکن اب صورت حال بدل چکی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ ا گر اس لمحے وہ مجھے دیکھے گی تو مجھ پر اس کی نظروں کا قطعی کوئی اثر نہیں ہو گا ...... اس مرحلے پر میں تنہا تھا۔
ٹام بھی تنہا تھا اگرچہ اس کی تنہائی کا انداز مختلف تھا۔ وہ بنچ پر پاؤں پسارے بیٹھا تھا اور حیرانی سے اسے تکے جا رہا تھا۔ اچانک اس نے بازو بڑھا کر لکڑی کو چھوا۔اور پھر فوراً ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ اس کے چہرے پر خوف کا ایسا تاثرابھرا جیسے اس نے نادانستگی میں کوئی چیز توڑ دی ہو۔ اس پر دوبارہ لرزہ طاری ہو گیا۔ مجھے ٹام کی حالت پر حیرت نہیں ہوئی۔ مجھے خود یہ احساس ہو رہا تھا کہ چیزیں مضحکہ خیز انداز میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ دیواروں کا رنگ بھی پیلا پڑ رہا تھا۔ بنچ کی لکڑی ، لالٹین یا کوئلوں کی راکھ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ ہم مرنے والے ہیں۔ تمام چیزیں ایک فاصلے پر کھڑی سر جوڑے سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے بستر مرگ پر پڑے مریض کے تیماردار کمرے کے ایک کونے میں دائرہ بنائے کھڑے ہیں اور دبے لہجے میں اس کی موت کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔
میں اس حالت کو پہنچ چکا تھا کہ اب اگر بتایا جاتا کہ میری جان بخشی ہو گئی تب بھی میں سرد ہی رہتا۔ ایک مرتبہ اپنے فانی ہونے کا احساس ہو جائے تو موت میں چند گھنٹے یا چند برس کی تاخیر ایک ہی بات لگتی ہے۔ بس یہ فریب زائل ہونے کی دیر ہے۔ ایک لحاظ سے میں بالکل مطمئن ہو چکا تھا۔ اب کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لیکن خوفناک بات یہ تھی کہ میرا بدن میری مرضی کے بغیر کانپ رہا تھا اور میرے کپڑے پسینے میں یوں تربتر تھے جیسے میرا وجود اندر ہی اندر پگھل کر ختم ہو جائے گا۔ میں نے خود کو چھوا، ہاتھ سے محسوس کیا، یوں جیسے میں کسی اور کے بدن کو ہاتھ لگا رہا ہوں۔ بعض دفعہ یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بوجھ ہے جس کے نیچے میں دبا ہوا ہوں۔ یہ میرا جسم ہی تھا۔ اس میں ایک دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ چیزیں جسم سے باہر آ رہی تھیں۔ کچھ اپنی جگہ ٹھہری ہوئی تھیں۔ پورا وجود ایک انجانے بھاری پن میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ساتھ چمٹ جانے والا مکروہ جاندار۔ یک لخت مجھے محسوس ہوا جیسے مجھے کسی بڑے سے کپڑے کے اندر لپیٹ کر باندھ دیا گیا ہے۔
ایک دفعہ میں نے اپنا پاجامہ چھوا۔ وہ گیلا تھا۔ یہ پسینہ تھا یا پیشاب؟ میں نے احتیاطاً کوئلے کے ڈھیر پر جا کر پیشاب کیا۔
’’ساڑھے تین بج گئے۔‘‘ ڈاکٹر نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہم چونک گئے۔ ہم بھول گئے تھے کہ وقت گزر رہا ہے۔ رات ایک سیاہ عفریت کی طرح ہمیں اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ شام کب اختتام کو پہنچی؟ رات کب شروع ہوئی؟
جوآن نے رونا شروع کر دیا۔ وہ ہاتھ ملتے ہوئے گڑگڑانے لگا۔
’’میں مرنا نہیں چاہتا ...... میں کیوں مروں؟ میں نہیں مروں گا۔‘‘
اس نے اپنے بازو ہوا میں بلند کیے اور کوٹھڑی میں ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ وہ سسکیاں لیتا ہوا ایک کونے میں ڈھیر ہو گیا۔ ٹام نے اسے تاسف بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ اسے دلاسا نہیں دینا چاہتا تھا۔ بس سوگواری سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
جوآن ہم سے زیادہ شور مچا رہا تھا مگر وہ ہماری نسبت کم متاثر تھا۔ اس کی حالت اس بیمار کی سی تھی جو اپنی بیماری کی مدافعت تیز بخار سے کرتا ہے۔ اس کے برعکس کسی کا جسم اپنی حرارت ہی کھو بیٹھے تو وہ زیادہ خطرناک بات ہو گی۔ میں اور ٹام تو ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔
جوآن رو رہا تھا۔ اسے اپنی حالت پر رحم آرہا تھا۔ یہ بے بسی کی انتہا تھی۔ ایک لمحے کے لیے میرا جی چاہا کہ میں بھی اپنی حالت پر دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ مگر اس کے برعکس میں نے چھوٹے کو غور سے دیکھا اور محسوس کیا کہ میں غیر انسانی طور پر لاتعلق ہو چکا ہوں۔
’’میں باوقار انداز میں مروں گا۔‘‘ میں نے خود کو کہتے سنا۔
صبح کے آثار دکھنے کے لیے ٹام چھپ کے روزن کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ جب سے ہمیں ڈاکٹر نے وقت بتایا تھا لمحے پھیلتے محسوس ہو رہے تھے۔ ہم اپنی زندگی کو قطرہ قطرہ ختم ہوتے دیکھ رہے تھے۔
’’سن رہے ہو؟‘‘ ٹام کی وحشت زدہ آواز آئی۔
’’ہاں۔‘‘
’’ابھی رات باقی ہے لیکن انہوں نے احاطے میں چلنا شروع کر دیا ہے۔ معلوم نہیں کم بختوں کا کیا ارادہ ہے۔ بہرحال اندھیرے میں تو گولی نہیں ماریں گے۔‘‘
’’پو پھٹ رہی ہے۔‘‘ میں نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے ٹام سے کہا۔ مجھے آسمان پر اندھیرے کی گہرائی کم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
زندان میں مدھم روشنی پھیل گئی تھی۔ دو ر کہیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
میں نے ٹام سے کہا: ’’کام شروع ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے پچھلی گراؤنڈ میں......‘‘ ٹام نے ڈاکٹر سے سگریٹ طلب کی۔ مجھے سگریٹ، شراب کسی شے کی حاجت نہیں تھی۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ اس نے سگریٹ سلگا کر کہا۔ وہ مزید کچھ کہنا چاہتا تھا۔
مگر دروازے کی آہٹ سن کر خاموش ہو گیا۔ دروازہ کھلا اور ایک افسر چار سپاہیوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
’’ٹام؟‘‘ افسر نے پوچھا۔
ٹام خاموش رہا۔ مگر محافظ نے اس کی جانب اشارہ کر دیا۔
’’جو آن؟‘‘
’’وہ ......وہ جو فرش پر بیٹھا ہے۔‘‘ محافظ نے کہا۔
’’اٹھو۔‘‘ افسر جوآن سے مخاطب ہوا۔
جوآن نے خود کو مزید سمیٹ لیا۔ سپاہیوں نے اس کی بغلوں میں بازو ڈالے، اور گھسیٹ کر کھڑا کر دیا، لیکن جونہی سپاہی ہٹے وہ پھر ڈھیر ہو گیا۔ سپاہیوں نے تذبذب سے افسر کی جانب دیکھا۔
افسر نے کہا’’یہ پہلا آدمی نہیں جس کی یہ حالت ہوئی ہے۔ اسے اٹھا کر لے جانا پڑے گا۔ وہ اس کا بندوبست کر لیں گے۔‘‘ پھر ٹام کی سمت گھومتے ہوئے بولا۔ ’’ چلو۔ تم میرے ساتھ چلو۔‘‘
ٹام دو سپاہیوں کے حصار میں افسر کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ بقیہ دو سپاہیوں نے چھوٹے کو اٹھا لیا۔ وہ بے ہوش نہیں تھا۔ البتہ اس کی آنکھیں حلقوں سے باہر ابلی پڑ رہی تھیں اور رخساروں پر آنسوؤں کی لکیریں بن رہی تھیں۔ میں کھڑا ہوا تو افسر نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔
’’تمہارا نام پابلو ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تم یہیں ٹھہرو۔ ابھی تھوڑی دیر بعد وہ تمہیں بلوائیں گے۔‘‘
ڈاکٹر اور دونوں محافظ بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔ اب میں بالکل اکیلا تھا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہر آواز پر میں کانپ اٹھتا۔ میرا جی چاہا کہ میں اپنے بال کھینچوں اور زور زور سے چیخوں۔ لیکن میں نے اپنے ہاتھ جیبوں میں ڈال لیے اور ہونٹوں کو سختی سے دبا لیا۔ میں باوقار انداز میں مرنا چاہتا تھا۔
(جاری ہے)