مانک باندیو پادھیائے

مانک باندیو پادھیائے

عورتوں کا چھوٹا سا مسئلہ

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

    لڑکی کا نام درگا ہے۔ وہ کارخانے کے ایک کاریگر نوتون کی بیٹی ہے۔ نوتون کی ایک اور بیٹی بھی ہے وہ ابھی دودھ پیتی ہے اور کچے آنگن کی گیلی زمین پر گھٹنوں چلتی ہے۔ کبھی کبھی وہ گھٹنوں چلتی زیادہ گیلی جگہ پر چلی جاتی ہے اور رونے لگتی ہے۔ نوتون کو اپنے بچوں سے وہی پیار ہے جو کچی اور گندی بستیوں میں رہنے والوں کو اپنے بچوں سے ہوتا ہے۔ گندی بستیوں کے ماں باپ کے پیار کی طرح یہ پیار کبھی تو بہت کمزور ہوتا ہے اور کبھی بہت ہی گہرا۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ پیار بھی چڑھتا اترتا رہتا ہے۔ یہ پیار خالص عملی قسم کا اور سیدھا سادہ ہوتا ہے۔ ایک ہی وقت میں سخت بھی اور نرم بھی۔ ان لوگوں کا پیار اور اپنے بچوں کے لیے ان کی فکر ہر چیز پر حاوی نہیں ہوتی لیکن جیسے ہی کوئی گھمبیر مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ بچوں کو نظرانداز کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے تو یہ پیار حیرت انگیز تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔

    درگا کی بڑھتی عمر جب بستی اور اس کے آس پاس کے لوگوں کی نظروں میں آنے لگی تو اس کے ساتھ ہی اسے سب کی نظروں سے بچانے والا جذبہ بھی نوتون کے اندر جاگ اٹھا۔ وہ اپنی گھٹنوں چلنے والی بچی کو تو کیچڑ میں گرنے سے بچا سکتا تھا لیکن درگا کے لیے اس کے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ ننھی بچی کا کیچڑ میں گرنا ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی اس سے تھوڑی دیر کو تکلیف ہی تو پہنچ سکتی تھی۔ بلکہ اس سے تو بچی کا بدن زیادہ سخت اور طاقتور ہو جاتا اور آئندہ زندگی کے لیے اس کے کام آتا۔ ہاں اگر  گرنے سے ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا تو وہ ایسے بے فکر نہ رہتا اور اسے ضرور بچاتا۔

    نوتون کو اچانک اپنی بڑی بیٹی درگا کو دوسروں کی نظروں سے بچانے کی فکر پڑ گئی۔ سوکھے موسم کے بعد جس طرح کیلے کا پیڑ برسات کی پہلی پھوار کے ساتھ ہی اپنے جوبن پر آجاتا ہے اس طرح درگا پر جوانی آتے ہی اس کا سارا بدن تبدیل ہونا شروع ہو گیا ۔ اس کا سینہ، اس کی کمر، اس کی پیٹھ اور اس کے کولہے ایک دم کچھ سے کچھ ہونا شروع ہو گئے۔ جس کے ساتھ ہی اسے جیسے چاروں طرف سے خطرہ ہی خطرہ نظر آنے لگا۔ اچانک نوتون اسے سب سے بچانے کی فکر میں لگ گیا۔

    گندی بستی میں رہنے والی نوجوان لڑکی کے لیے نیکی اور بدی اور اپنی حفاظت اور تباہی کے درمیان بہت ہی تنگ سا راستہ ہوتا ہے اور ان بستیوں میں جوان ہونے والی لڑکیوں کے لیے جسمانی اور ذہنی خواب دیکھنے کی عمر بہت ہی کم ہوتی ہے۔ جوانی کی ابھرتی لہر رات کی رات کناروں سے اچھلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے غائب بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد صرف ایک ڈھانچہ ہی رہ جاتا ہے جو ہر دن لشٹم پشٹم زندگی گزارنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا گھر بابو لوگوں کے گھروں کی طرح نہیں ہوتا جہاں اچھا کھانے کو ملتا ہے، اچھا پہننے کو ملتا ہے، سونے اور آرام کرنے کا پورا موقع ملتا ہے، طاقت کی دوائیاں ملتی ہیں ، پاؤڈر اور سرخی ملتی ہے۔ تفریح کے لیے سینما اور تھیٹر ہوتے ہیں۔ خوشیاں ہوتی ہیں، ہنسی ٹھٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں جوانی تیس برس سے بھی اوپر تک باقی رہتی ہے۔ گندی بستیوں میں جہاں غربت اور بھوک کا راج ہوتا ہے خوبصورتی ایک قسم کا قدرتی عطیہ ہوتی ہے اور وہ بھی عارضی اور ایسی کہ خوبصورت لڑکیوں کو حاملہ بنانے کے لیے وہ خام  مال کا کام ہی کرتی ہے۔ اور اس کام کو انجام دینے کے ساتھ ہی وہ غائب بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد لڑکی کو عمر بھر اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جوانی کی مستیاں اس کے کاندھوں پر جو بوجھ ڈالتی ہیں وہ پھر ساری عمر اسے اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ بوجھ اٹھاتی ہے اور پیر گھسیٹتی چلی جاتی ہے۔

    مالک بابوؤں اور دوسرے شریف انسانوں کو بھی گندی اور گھناؤنی ہوس لوٹ کھسوٹ اور قانون اور اصول سے بے نیاز دنیا کی طرف لے جاتی ہے۔ لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے اور وہ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں یہی وجہ تھی کہ نوتون اپنی بیٹی کے جوان ہوتے ہی اس کے لیے پریشان رہنے لگا۔ وہ اسے ان بھوکے بھیڑیوں سے کسی طرح بچانا چاہتا تھا۔ درگا کی ماں کو ایک دن بخار  ہو گیا۔ اس نے اپنی جگہ درگا کو اس گھر میں کام کرنے بھیج دیا جہاں وہ خود کام کرتی تھی۔ نوتون کو پتہ چلا تو اس نے درگا کی ماں کو خوب ڈانٹا۔ پھر اس نے جلدی سے درگا کی سگائی کارخانے کے ایک مزدور بنود سے کر دی۔ درگا کی ماں کو بھی درگا کی بہت فکر تھی مگر اتنی نہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی چیز کی بہت زیادہ فکر نہیں کرتی تھی۔وہ یہ تو نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی کا سر پھر جائے اور وہ آوارہ ہو جائے مگر وہ اس میں کوئی حرج بھی نہیں سمجھتی تھی کہ بھولپن میں وہ کوئی ایسا ویسا کام کر بیٹھے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گندی بستی میں کسی لڑکی کی عصمت بچانے کے لیے اتنی پریشانی مول لینے کی کیا ضرورت ہے۔

    نوتون نے جب دیکھا کہ اس کے گھر میں ایک رنگین پھول کھل رہا ہے تو دنیا کی نظروں سے اسے بچانے کا بھوت اس پر ایسا سوار ہوا کہ وہ خودسدھر گیا۔ اب وہ بالکل ہی مختلف آدمی بن گیا۔ اس نے شراب پینا چھوڑ دی، لوگوں سے لڑنا جھگڑنا بند کر دیا۔ اب اس کی یہ کوشش ہوتی کہ کارخانے میں کام ختم ہوتے ہی وہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائے۔ اپنی بیٹی کو بچانے کی دھن میں وہ اس کے بہت قریب ہوتا چلا گیا۔ اس نے جوان ہوتی اپنی بیٹی کو دیکھا کہ اس کا تو سبھاؤ بہت ہی اچھا ہے۔

    گندی بستیوں میں کوئی چیز کسی سے چھپی نہیں رہتی۔ ماں باپ رات رات بھر جاگ کر اپنی بیٹیوں پر پہرہ دیتے رہیں پھر بھی وہ  گھورنے والی آنکھوں اور بھوکے بھیڑیوں سے انہیں نہیں بچا سکتے۔ ہاں اگر انہیں بالکل ہی قید کر کے رکھ لیں تو شاید ایسا ہو سکتا ہو۔ مگر عام طور سے وہ بھی ایک قسم کا خطرہ ہی بن جاتا ہے۔ وہ لڑکی جس کا اب تک کسی  نے خیال ہی نہ کیا ہو جب اچانک اپنی طرف اٹھتی نظریں دیکھتی ہے تو اس کا سر پھر جاتا ہے۔ اسے ایک دم اپنی قدر و قیمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اور وہ ہواؤں میں اڑنے لگتی ہے۔

    مگر درگا ایسی نہیں تھی۔ اس کے اندر کی نیکی نے اسے اس چکر میں پڑنے سے بچا لیا۔ اس نے اپنے آس پاس کی چھوٹی سی دنیا کی نظروں کو دیکھا۔ اس کے بدن میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے اس دنیا میں جو  تناؤ اور کھچاؤ پیدا ہو گیا تھا اسے بھی اس نے محسوس کیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس تناؤ کی وجہ وہ خود ہی ہے اور وہی اسے ختم بھی کر سکتی ہے۔ جوانی اور خوبصورتی کے انجانے احساس کے باوجود وہ یہ جانتی تھی کہ اسے اپنی زندگی خود چلانا چاہیے اور اس کے لیے جو جنگ ہو رہی ہے اس کا فیصلہ اسے خود کرنا چاہیے۔ اس کا پتا اس کے لیے جو کچھ کر رہا تھا وہ اس کے خیال میں اس کی بھلائی کے لیے ہی تھا۔ وہ اس کی مدد کر رہا تھا تاکہ وہ اپنے اوپر خود قابو رکھ سکے۔

    درگا سر جھکا کر اپنا کام کرتی، اپنے پتا کا خیال رکھتی۔ سکھ لال ٹھیکیدار کی للچائی نظروں اور اس کے ہاتھ میں چمکتے نوٹوں کی طرف وہ دیکھتی ہی نہیں تھی۔ عورتوں کی دلالہ نے اسے کئی بار بہکانے کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ فلاں آدمی تیرے لیے پاگل ہوا پھرتا ہے۔ اگر تو اس کے پاس چلی جائے تو وہ تجھے رانی بنا کر رکھے گا اور ساری عمر تو سکھ چین کی زندگی بسر کرے گی۔ مگر درگا نے حقارت سے اسے ٹھکرا دیا۔ اگر کوئی اسے خوش کرنے کی کوشش کرتا تو وہ جانتی بوجھتی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دھتکار دیتی۔

    یہ لوگ  بہت ہی مصیبت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ راشن کی دکان سے انہیں جو اناج ملتا ہے وہ مشکل سے ہی سب کا پیٹ بھرتا ہے۔ اس کی ساری اتنی پھٹ چکی ہے کہ اس سے بدن چھپانا بھی ممکن نہیں ہے۔ آج تک اس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی ہے۔ جس اندھیری کوٹھڑی میں وہ رہتے ہیں اس کی گرمی اور حبس سے اس کے بدن پر گرمی دانے پڑجاتے ہیں وہ دانے خراب ہوتے ہوتے مستقل پھنسی بن جاتے ہیں۔ باپ کارخانے میں کام کرتا ہے اور ماں دوسرے کے برتن مانجھتی ہے اور ان کے کپڑے دھوتی ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کسی بھکاری سے کم ہی کماتے ہیں۔ لیکن یہ مشکل حالات بھی درگا سے  اپنی زندگی کو سمجھنے کی طاقت نہیں چھینتے۔ اس کی جوانی کے عارضی نکھار نے اس کے اندر جو اپنی عزت پیدا کی ہے گھر کے حالات اسے اس سے محروم نہیں کرتے۔

    ایک دن نوتون مشین میں آکر زخمی ہو گیا او رکھاٹ پر پڑ گیا۔ کمپنی نے اسے یہ کہہ کر معاوضہ دینے سے انکار کر دیا کہ کام کرتے وقت اس نے شراب پی ہوئی تھی۔ کمپنی نے اس پر ترس کھا کر علاج کے لیے تھوڑے بہت روپے دے دیے لیکن اپنی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ مزدوروں کی طرف سے اس پر کچھ احتجاج کیا گیا لیکن مزدوروں کی یونین کے مقابلے میں ایک اور یونین کھڑی کر دی گئی۔ اس پر جو ہنگامے ہوئے انہوں نے نوتون کو بالکل بھی بھلا دیا۔

    نوتون کی حالت ایسی تھی کہ اس کے لیے یہ کہنا مشکل ہو گیا تھا کہ کبھی وہ ٹھیک بھی ہو جائے گا اور اگر ٹھیک ہو جائے گا تو اسے کوئی اورکام بھی مل جائے گا۔ اب اس گھر کی آمدنی کا ذریعہ صرف درگا کی ماں کی وہ کمائی تھی جو وہ بابوؤں کے گھر برتن بھانڈے مانجھ کر اور لوگوں کے کپڑے دھو کر لاتی تھی۔ پہلے ہی وہ دو گھروں میں کام کرتی تھی اب اس نے تیسرا گھر بھی لگا لیا۔ وہ اپنے ساتھ مدد کے لیے درگا کو بھی لے جاتی تھی مگر اب اسے بہت زیادہ تھکن ہونے لگی تھی کیونکہ اس کے پیٹ میں بچہ بھی پل رہا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ جلد ہی وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اسے وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ غصے اور پریشانی میں ایک دن وہ درگا پر برس پڑی۔ ’’تو بھی کوئی کام کر لیا کر۔ گھر پر بیٹھے کھا کھا کر موٹی ہو رہی ہے۔ کام چور دو تین برتن دھونے اور ایک بالٹی بھر کر لانے میں بھی تکلیف ہوتی ہے تجھے۔ ہمیشہ اس فکر میں رہتی کہ کسی طرح کام چھوڑ کر گھر بھاگے اور اپنے باپ کے لیے بھات بنائے۔‘‘

    درگا بہت تیز کام کرتی تھی اس لیے اسے بھی غصہ آگیا۔ ’’ماں تو ایسا کیوں کہتی ہے تیرا آدھا کام تو میں کرتی ہوں۔‘‘ اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔

    وہ روزانہ چاول اور آٹا خریدنے کے لیے ان گھروں سے ایک روپیہ پیشگی لیتی تھی جہاں وہ کام کرتی تھی۔ گھروں میں کام کرنے والی عورتیں ایک جگہ ٹک کر کام نہیں کرتیں اس لیے ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں کام چھوڑ کر کہیں اور نہ چلی جائیں اس لیے انہوں نے ایک انوکھا طریقہ نکالا ہے۔ وہ ہر مہینے ان کی پوری تنخواہ نہیں دیتے بلکہ تھوڑے پیسے دیتے ہیں تاکہ اگر کام کرنے والی کہیں چلی جائے اور گھر والی کو خود کام کرنا پڑ جائے تو انہیں یہ تسلی تو ہو کہ اس کے پیسے کاٹ لیے ہیں۔ اس طریقے کی وجہ سے درگا اور اس کی ماں کے لیے روزانہ کار اشن پانی حاصل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

    نوتون کی داڑھی بڑھ آئی اور اس کی آنکھیں اندر کو دھنس گئیں۔ اس کی آوازمیں بھی کمزوری آگئی تھی اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں مایوسی اور غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دن وہ غصے میں کہنے لگا: ’’تم دونوں ایک ہی تنخواہ پر ساتھ ساتھ کیوں کام کرتی ہو۔ درگا تو کوئی اور کام دیکھ اور وہاں جایا کر۔‘‘

    ’’ماں اکیلی سارا کام کیسے کر سکتی ہے؟‘‘

    ’’پھر تو ایک گھر اور دیکھ لے۔ تو مترا کے گھر کام کیا کر۔ اس کا کام زیادہ نہیں ہے۔‘‘

    ’’مترا کے گھر؟ ادھر ماں کر لے گی میں ماں کے کسی گھر میں کام کر لوں گی۔‘‘

    وہ دونوں  جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ مترا بابو درگا کو چاہتے تھے اس کی ماں کو نہیں۔ ابھی چھ دن پہلے نوتون نے درگا کی ماں کو اس لیے مارا تھا کہ اس نے درگا کو مترا کے گھر کام کرنے بھیج دیا تھا۔ اب وہی نوتون بڑی چالاکی کے ساتھ درگا سے کہہ رہا تھا کہ مترا کے گھر چلی جایا کر۔ جب انسان لاچار ہو جائے، اور سر پر بھوک اور فاقے منڈلانے لگیں اور دور دور تک کوئی امید نظر نہ آئے تو کون شخص ہے جو پرانی باتوں پر قائم رہ سکتا ہے اور اس نے اپنے ساتھ جو عہد کیے ہیں ان کی پابندی کر سکتا ہے۔

    درگا جب آسمان پرشک و شبہ کے بادل امنڈتے دیکھتی تو اس کی زندگی تلخیوں سے بھرتی چلی جاتی۔ یہ شک و شبہے اس وجہ سے تھے کہ اس کا باپ معذور و لاچار تھا اور ماں بہت جلد بچے کو جنم دینے والی تھی، جس سے ان کی حالت اور بھی ابتر ہو جائے گی۔ یوں سارا بوجھ اس پر ہی پڑ جائے گا۔ گندی بستی کی رہنے والی لڑکی اور مزدور کی بیٹی بابو گھرانوں کی لڑکیوں کی طرح اپنے باپ او ربھائی پر زیادہ بھروسا نہیں کرتی۔بابو گھرانوں کی لڑکیاں تو بیاہ کے بعد بھی اپنے باپ اور بھائی پر ہی بھروسا کرتی ہیں اور ان کے گھر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ سارے گھر کی مصیبت مانی جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو اپنے آپ پر بھروسا کرنے کی عادت شروع سے ہی پڑ جاتی ہے۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا تھا اور زندگی میں آگے کچھ نظر نہیں آرہاتھا۔ اس کے گھر کے حالات جتنے خراب ہوتے جا رہے تھے وہ اس کے لیے اپنے لیے ہی پریشانی کا باعث بنتے جا رہے تھے۔ یہ حالات بہت بھیانک تھے، گو وہ سنبھل بھی سکتے تھے مگر وہ کیا کرتی، انہی دنوں بنود کے کارخانے میں ہڑتال ہو گئی اور ہڑتالی مزدوروں کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ بنود کی مصیبتیں اور اپنے گھر کی تکلیفیں اکٹھی ہوئیں تو اس نے محسوس کیا کہ وہ زندگی کی آخری سیڑھی پر پہنچ چکی ہے۔ اب اسے ادھر یا ادھر چھلانگ لگانا ہے۔

    ایک شام اس کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں تھا۔ گھر میں چاول یا آٹا ہی نہیں تھا کہ وہ کچھ پکاتی یا چولہا جلاتی۔ وہ کوٹھڑی کے ایک کونے میں بیٹھی سستی انگوٹھیوں، چھلوں اور کانچ کی چوڑیوں کے ساتھ یونہی کھیل رہی تھی۔ یہ سب چیزیں اسے بنود نے دی تھیں۔ مگر یہ کس کام کی تھیں۔ ان سے پیٹ تو نہیں بھر سکتا تھا۔ کنگھی اور جوڑے میں لگانے والے نقلی پھول بھی اس وقت بیکار تھے۔ جذباتی تسلیوں سے کہیں بھوک مٹتی ہے۔

    اس کی ماں دوسرے کونے میں ننھی بچی کو گود میں لیے کراہ رہی تھی۔ نوتون اپنی کھاٹ پر پڑا ان دونوں ہٹی کٹی عورتوں کو گندی گندی گالیاں دے رہا تھا جو اب تک اس کی محنت مزدوری کی کمائی پر پلتی رہی تھیں اور اب اس قابل بھی نہیں تھیں کہ اسے ایک مٹھی بھات ہی کھلا سکیں۔ باہر دکان پر پورے زور و شور سے ریڈیو بج رہا تھا اور اس کے ساتھ کوئی شخص بانسری بجا رہا تھا۔

    درگا کی ماں نے اس کے باپ کے پریوار کے بارے میں کچھ کہا جو درگا نہیں سن کی۔ نوتون ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھ میں جو چیز بھی آئی وہ اٹھا کر درگا کی ماں کے دے ماری۔ یہ مٹی کا برتن تھا جو درگا کسی گھر سے لے کر آئی تھی اور اب وہ نوتون کے لیے اگالدان کاکام دیتا تھا۔ وہ برتن ننھی بچی کے سر پر لگا اور وہ خون میں نہا گئی ۔ وہ زمین پر گری اور زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ درگا اٹھی اور باہر جانے لگی۔

    ’’اتنی رات گئے کہاں جا رہی ہے؟‘‘ اس کی ماں چیخی۔

    ’’جہنم میں۔‘‘

    نوتون نے آس بھری آواز میں کہا: ’’اسے جانے دے، وہ جانا چاہتی ہے تو جانے دے اسے، مت روک۔‘‘

    وہ بنود کے پاس پہنچی تو وہ کھاٹ پر پڑا کراہ رہا تھا۔ اس نے کارخانے کے دروازے پر دھرنا مارا تھا جس پر پولیس نے اسے پیٹا تھا۔ درگا اس وقت اتنے غصے اور طیش میں  بھری ہوئی تھی کہ وہ اب کسی کی آہیں اور کراہیں سننے کو تیار نہیں تھی۔ وہ غصے میں کانپ رہی تھی۔

    ’’تو مجھے چاہتا ہے یا ہڑتال کو؟‘‘

    ’’کیا ہو گیا ہے تجھے؟‘‘

    ’’مجھے کچھ نہیں ہوا۔ میں تیرا آخری فیصلہ سننا چاہتی ہوں۔‘‘

    بنود نے تھوڑی دیر سوچا پھر بولا: ’’میں تجھے چاہتا ہوں۔‘‘

    ’’تو فوراً سکھ لال کے پاس جا اور اس سے کہہ کہ تو اس کی شرط پر کام کرنے کو تیار ہے۔ اس سے کچھ پیسے قرض لے اور کھانے کو کچھ لے کر آ۔ میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔ آج میرے گھر میں کسی نے کچھ نہیں کھایا۔‘‘

    ’’ میں جاتا ہوں تو گھر چل میں ابھی کھانا لے کر آتا ہوں۔‘‘ بنود نے سر جھکا لیا۔

    درگا نے جو ابھی تک غصے اورطیش میں لرز رہی تھی مشکل سے اپنے آنسوروکنے کی کوشش کی اور بنود کو غور سے دیکھا۔ اس کا سارا بدن زخمی ہو رہا تھا۔

    ’’تجھے کیا ہوا؟‘‘

    ’’کیا ہونا تھا۔ پولیس نے مارا ۔‘‘ بنود کی آواز میں بھی اچانک غصہ آگیا تھا: ’’تو گھر چل میں آتا ہوں۔‘‘

    وہ وہاں سے نہیں ہلی جمی کھڑی رہی وہ اسے دیکھتی رہی اور سوچتی رہی۔

    پھر اس نے سوال کیا کہ اگر وہ مالک سے اکیلا ہی سمجھوتہ کر لے گا تو کیا ہو گا؟ اس نے کوئی جواب نہیں دیا او رکوٹھڑی کے اندھیرے کونے کی طرف دیکھتا رہا۔

    درگا پھر بھی نہیں گئی۔ وہ پورے حالات سمجھنے کی کوشش کر تی رہی اور سوچتی رہی اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کا دماغ پاگلوں کی طرح کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا بدن بالکل اکڑا ہوا تھا۔ اس کا سر ایک طرف جھک گیا تھا۔ اس نے سوچا کہ اس شخص کا حوصلہ اور جوش ختم کرکے اسے کیا ملے گا۔ وہ جو لڑائی لڑ رہا ہے اس سے اسے پیچھے ہٹانے کا کیا فائدہ ہو گا؟ اس سے اسے کیا ملے گا؟

    اب اس نے وہ فیصلہ کیا جو اس کے پہلے فیصلے کے خلاف تھا۔ اگر وہ کسی طرح یونہی گزارا کر لے اور اپنی ہمت سے کام لے کر حالات پر قابو پالے، اگر تھوڑے دن اور ہمت نہ ہارے تو پھر وہ بچ جائے گی۔ یہ شخص تو پھر بھی یہیں رہے گا اور اس کا حوصلہ اور ہمت بھی قائم رہے گی پھر وہ مل کر زندگی گزاریں گے۔

    ’’اچھا آج رات تو کچھ نہ کر۔‘‘ اب اس کی آواز میں لرزش نہیں تھی۔ ’’میں کل پھر آؤں گی پھر دونوں مل کر اطمینان سے سوچیں گے، سمجھا؟‘‘

    ’’تو آج رات کیا کھائے گی؟‘‘

    ’’دیکھا جائے گا۔ ماں کسی گھر سے قرض مانگ لائے گی۔‘‘

    بنود سے رخصت ہونے کے بعد درگا سکھ لال ٹھیکیدار کے گھر کی طرف آہستہ آہستہ مگر پختہ ارادے کے ساتھ چل پڑی۔ کل ہی ٹھیکیدار نے اس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا تھا اور دس روپے کا نوٹ اس کی طرف لہرایا تھا۔

    وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ سوائے اس کے کہ زندہ رہنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے۔ اپنی زندگی کے لیے، اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے او راس موہوم سی آس کے لیے جو اس کا سہارا ہے۔