مانک باندیو پادھیائے

مانک باندیو پادھیائے

بڑھیا

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

    (1)

    بڑھیا کے لیے آج کا دن بہت ہی خوشی کا دن ہے۔ اس کے پڑپوتے کا بیاہ ہو رہا ہے۔ وہ اس کے بیٹے کے بیٹے کا سب سے بڑا لڑکا ہے۔ بڑھیا کے لیے اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ پورا گھر رشتے داروں اور عزیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ چاروں طرف ہلچل مچی ہوئی ہے۔ہر ایک کام میں مشغول ہے۔ اسے کوئی نہیں پوچھ رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے راجہ کے محل میں سب کاموں میں لگے ہوں اور راجہ کوئی بھی کام نہ کر رہا ہو۔ بڑھیا کو ایسا ہی لگ رہا ہے۔

    وہ اپنے آپ کو ہر کام میں اس طرح شامل سمجھ رہی ہے جیسے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں وہ شامل ہوتی ہے۔ ساٹھ سال سے وہ وہاں موجود ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اتنی پھیلی ہیں کہ اس کی طرف اب کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی۔ جیسے وہ وہاں ہے ہی نہیں۔ وہ گھر کے پچھم میں کھڑے اس چھتنار پیڑ کی طرح ہے جس کی شاخوں پر بے شمار چڑیاں بیٹھی ہر وقت چہچہاتی رہتی ہیں اور جب زور کی ہوائیں چلتی ہیں تو رات کے وقت اس کے تنے سے چرچرانے کی آواز آتی ہے۔

    بڑھیا دالان کے ایک کونے میں اپنی جگہ پر بیٹھی ہے۔ اس کے پاس پھٹی پرانی چادریں اور گودڑ رکھا ہے جسے وہ تکیے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس کا جوڑ جوڑ ہل چکا ہے،مرجھا گئی ہے۔ بال بھونسلے ہو گئے ہیں ، کھال لٹک گئی ہے اور سارے بدن پر جھریاں پڑ گئی ہیں۔ منہ میں کوئی دانت نہیں ہے اور گال اندر کو دھنس گئے ہیں۔ آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔ دیکھنے میں وہ بہت بوڑھی نظر آتی ہے مگر جب وہ لاٹھی کے سہارے چلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کھال منڈھی ہڈیوں میں اب بھی بہت جان ہے۔ جب وہ چیختی چلاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ابھی اس کے پھیپھڑوں میں کتنی طاقت ہے۔ مگر وہ زیادہ وقت چارپائی پر لیٹے لیٹے اپنے آپ سے ہی باتیں کرتے گزارتی ہے۔ پڑے پڑے اگر گھر کے کاموں میں کوئی غلطی دیکھتی ہے تو وہیں سے چلانا شروع کر دیتی ہے۔ وہ اپنے منہ میں تمباکو کی پتی دبائے رکھتی ہے۔ کبھی کبھی وہ بیٹھے بیٹھے ہنسنے لگتی ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے۔

    اس کے بیٹوں اور پوتوں کی بیویاں بڑبڑاتی ہیں۔ ’’لو دیکھو پھر دورہ پڑ گیا۔‘‘ جب وہ اپنی عجیب و غریب حرکتوں سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کراتی ہے تو نوجوان بیویاں چپکے چپکے ہنستی ہیں۔ ایسا وہ اس لیے نہیں کرتیں کہ وہ اس کی عزت کرتی ہیں،بلکہ یہ ظاہر کرنا چاہتی ہیں کہ انہوں نے جیسے کچھ دیکھا ہی نہیں۔ اگر وہ اس کی بات سنتی بھی ہیں تو کوئی پروا نہیں کرتیں۔ اپنی ساسوں اور گھر کی بیٹیوں کے ڈر سے چپکے چپکے ہنستی ہیں۔ وہ بے حیائی پسند نہیں کرتیں۔

    دولہا نندا کے بال نتال نائی نے اس موقع  کے لیے خاص طور سے کاٹے ہیں۔ نائی نے اس کے آٹھ آنے لیے ہیں حالانکہ اسے اتنے پیسے نہیں لینا چاہئیں تھے کیونکہ اس کا اپنا بیٹا دولہا کے ساتھ شہ بالا بن رہا ہے۔ اس کے اتنے پیسے لینے پر گھر والے باتیں بنا رہے ہیں۔

    بڑھیا اپنے پڑپوتے کو بلاتی ہے۔’’نندا، ارے ادھر تو آ۔ تو نے کتنے اچھے بال کٹوائے ہیں۔ ادھر آ میری بات تو سن۔ تو بیاہ کی تیاری کر رہا ہے مگر تو نے یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ لڑکی کنواری بھی ہے؟‘‘

    نندا کی ماں یہ بات سنتی ہے اور اپنی نند سے شکایت کرتی ہے۔ ’’یہ بات مذاق میں کہنا بھی ٹھیک نہیں۔‘‘ پھر وہ خود ہی زور سے کہتی ہے ’’مگر وہ بھی سچی ہے۔ لڑکی اچھی خاصی بڑی ہے۔‘‘

    ’’مگر وہ اچھے پریوار کی ہے۔‘‘

    ’’اچھے پریواروں میں ہی بری باتیں بھی ہوتی ہیں۔ ‘‘ ان لوگوں نے اتنی دیر اس کا بیاہ کیوں نہیں کیا؟‘‘

    نندا بوڑھی پردادی کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: ’’اگر وہ کنواری نہیں ہو گی تو تمہاری طرح بوڑھی ہو گی۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر ہنستی ہے۔ ’’سارا سنسار چھان مارو گے تو تمہیں میری جیسی کنواری نہیں ملے گی۔ میں تمہارے پڑدادا کے ساتھ سوئی ہی کہاں تھی۔ وہ تو بیاہ کی رات ہی مر گئے تھے۔ وہ جب گہری گہری سانسیں لے رہے تھے تو میں ڈر گئی تھی۔ ڈر کے مارے میں تو کمرے سے نکل بھاگی تھی۔ گھر کے لوگ مجھے روتا دیکھ کر بھاگے بھاگے آئے تھے۔ کیا ہو گیا؟ جو میری قسمت میں لکھا تھا وہی تو ہوا تھا۔ اس وقت تک وہ مر چکے تھے۔‘‘

    اس نے پھر کھی کھی کرکے ہنسنا شروع کر دیا ۔ مگر اس کا پڑپوتا نہیں ہنسا۔ اس کے چہرے پر شک و شبہ کے بادل آگئے۔ ’’ہو سکتا ہے وہ کنواری نہ ہو؟ اتنی بڑی عمر کی لڑکی کے بارے میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘

    ’’ارے پاگل بندر، تو ایسی بات کیوں کہہ رہا ہے، تو اسے خود پسند کرکے لا رہا ہے۔‘‘

    ’’ہاں پسند تو میں نے ہی کیا ہے۔‘‘

    ’’ذرا اس بے وقوف کو تو دیکھو! تجھے پتہ نہیں کنواری لڑکی جلدی خراب نہیں ہوتی۔ مجھے دیکھ میرا پتی بیاہ کی رات ہی مر گیا تھا۔ اس کے بعد بہت لوگوں نے مجھے خراب کرنے کی کوشش کی مگر میں خراب نہیں ہوئی۔ تیرے پتا کے سر کی قسم میں بالکل خراب نہیں ہوئی۔ لڑکی اس وقت خراب ہوتی ہے  جب مزہ چکھ لیتی ہے۔ اگر وہ کنواری رہے تو پھر کبھی خراب نہیں ہوتی۔‘‘

    بات تو عجیب سی تھی مگر لڑکے کے چہرے پر خوشی کی چمک آگئی۔

    ’’تم سچ کہتی ہو دادی ماں؟‘‘

    ’’ہاں ہاں بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘

    گھر والے بیاہ کے ہنگاموں میں ان دونوں کو اکٹھے بیٹھے باتیں کرتے دیکھتے رہے اور انہیں بڑھیا کے پوپلے منہ سے نکلنے والے قہقہے بھی سنائی دیتے رہے۔

    (2)

    منیکا دن بھر روتی ہی رہی۔ ’’میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ میرا تو کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘

    پریوار کے کسی آدمی کو بھی نندا کی پتنی پسند نہیں آئی تھی۔ ایک تو وہ عمر میں بڑی تھی پھر اس کے ماں باپ نہیں تھے۔ اس لیے اس کے چاچا نے اس کا بیاہ کیا تھا۔ دولہا والے اس پر بھی ناراض تھے کہ اس کے چاچا نے وعدے کے مطابق جہیز نہیں دیا تھا۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ نندا نے اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف اپنی پسند سے یہ بیاہ کیا تھا اور بیاہ کے بعد وہ اس پتنی کی جیسے پوجا کرنے لگا تھا، اسے اپنے گھر والوں کے خیالات کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اگر کوئی لڑکا اپنی مرضی سے بیاہ کر لے تو گھر والے اس سے بھی خوش نہیں ہوتے۔ ماؤں کا بیٹا ان کے ہاتھ سے چلا جاتا ہے اس لیے بھی وہ ایسی بہو سے ناراض ہی رہتی ہیں۔

    برسات ختم ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے اور ابھی آنگن کی کیچڑ بھی نہیں سوکھی تھی کہ نندا نے اپنی پتنی کو لے کر شہر سے باہر جانے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ اس کے خاندان کی کوئی بہو اس طرح اکیلی اپنے پتی کے ساتھ سفر پر نہیں گئی تھی۔

    پھر ایک اور مصیبت آئی۔ نندا بیاہ کے ایک برس کے اندر ہی مر گیا۔

    بھلا بتائیے، جس عورت میں اتنی بہت سی خرابیاں ہوں، جس کی قسمت اتنی خراب ہو اسے اپنے گھر میں کون رکھ سکتا ہے؟

    انہوں نے منیکا کے چاچا کو لکھا کہ وہ اسے آ کر لے جائیں۔ مگر انہوں نے اس خط کا جواب ہی نہیں دیا۔ اس لیے سب نے طے کیا کہ وہ منیکا کو اس کے چاچا کے گھر خود لے جائیں گے اور دروازے پر اسے چھوڑکر واپس آئیں گے۔ منیکا جانا نہیں چاہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ پہلے کی طرح اس کی پھر پٹائی ہو گی اور اسے گرم گرم چمٹے سے جلایا جائے گا۔ اس کے چاچا اسے اپنے گھر میں گھسنے بھی نہیں دیں گے۔

    اس لیے وہ روتی رہتی ’’میں کدھر جاؤں ، کس کے پاس جاؤں۔‘‘

    بڑھیا اسے اپنے پاس بلاتی ہے۔ ’’اری لڑکی ادھر آ۔ میری بات سن۔‘‘

    منیکا اس کے پاس جاتی ہے۔ بڑھیا اسے دلاسہ دیتی ہے۔ ’’اری بچی رو کیوں رہی ہے۔ تو بہت اچھی لڑکی ہے۔‘‘

    ’’وہ مجھے گھر سے نکال رہے ہیں۔‘‘ وہ سسکیاں لیتے ہوئے کہتی ہے۔

    ’’کون نکال رہا ہے تجھے گھر سے؟ وہ گھر سے نکالیں گے تو کیا تو چلی جائے گی؟ یہ تیرے پتی کا گھر ہے۔ اگر تو نہیں جائے گی تو وہ تجھے کیسے نکال سکتے ہیں۔‘‘

    منیکا غور سے سنتی ہے بڑھیا کہے جاتی ہے۔’’مجھے دیکھ، مجھے انہوں نے نکال دیا تھا ؟ یا میں یہ گھر چھوڑ کر گئی؟ میں تو اس گھر کی دھرتی کے ساتھ چمٹی رہی۔ تو اپنے پتی کے ساتھ ایک برس سوئی ہے۔ تو گھر کی بہو بن کر رہی ہے، کیا تو صرف اس لیے یہ گھر چھوڑے گی کہ وہ تجھ سے ایسا کہتے ہیں؟ اس زمین کے ساتھ چمٹ جا اور اسے کبھی نہ چھوڑ۔‘‘

    منیکا کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے، وہ بڑھیا کے سامنے چوکڑی مار کر بیٹھ جاتی ہے۔

    گھر کے لوگ منیکا کو بڑھیا کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کرتے دیکھتے رہے۔ بھگوان جانے وہ کیا باتیں کر رہی ہے!