شمیم حنفی

شمیم حنفی

نئی تنقید کا المیہ

    ایسی تنقید جو انسانی تجربوں سے زیادہ دلچسپی تصورات اور نظریات سے رکھتی ہو، ہمارے نظام احساس میں نہ تو کوئی تبدیلی پیدا کر سکتی ہے، نہ ہی زیادہ دنوں تک اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تہذیبی زندگی میں کسی بامعنی رول کی ادائیگی کے لیے تنقید کو ادب کی طرح اجتماعی تہذیب 

    کی عام سرگرمی کا حصہ بننا پڑے گا۔ گئے زمانوں میں نقاد کے لقب کی تہمت اٹھائے بغیر ادبی رموز و نکات کے مفسر اور ادب پاروں کی شرح لکھنے والے یہی خدمت انجام دیتے تھے۔ مگر جب سے تنقید، سماجی اور سائنسی علوم کی طرح اختصاص کے دائرے میں داخل ہوئی ہے، اپنی اس طاقت اور استعداد سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ 

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تنقید اس ضعف کا شکار کیوں ہوئی؟ نقاد کے مرتبے میں بہ ظاہر اضافے کے باوجود تنقید کی اثر آفرینی میں تخفیف کیوں ہوئی؟ تنقید کو یہ المیہ کیوں کر پیش آیا کہ جیسے جیسے اس کا علمی وقار بڑھتا جاتا ہے، اس کے استفادے کے میلان میں کمی آتی جاتی ہے؟ 

    ان سوالوں کے جواب ہر عہد کی اجتماعی نفسیات میں، ذہنی اور تہذیبی ترجیحات میں، اور اس عہد کے سمٹتے ہوئے دائرہ خواص میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک پے چیدہ مسئلہ ہے اور اس کا تعلق صرف زبان سے یا صرف ادب سے نہیں ہے۔ ایک سبب تو یہ ہے کہ ہمارے زمانے سے زیادہ بے روح اور غیر دلچسپ تنقید لکھنے کی روش کبھی عام نہیں رہی۔ اموس آز (Amosoz) نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا: ”کسی ناول کا یا شاعری کا مطالعہ نظریات، سماجیات، تاریخ وغیرہ کے مطالعے کی بہ نسبت لاکھوں گنا زیادہ دلچسپ عمل ہوتاہے۔ کسی چھپے ہوئے صفحے پر ہم محض خیالوں اور نظریوں سے دوچار نہیں ہوتے، انسانی مزاج کے الجھاووں اور مہملیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ انسانی سرشت کی طرف سے بے خبر ہیں تو آپ ہر طرف سے بے خبر ہوتے ہیں۔“گویا کہ ادب اور شاعری کا بنیادی سروکار صرف ذہنی سرگرمیوں سے نہیں ہوتا۔ ہم کسی ادب پارے کو پڑھتے وقت صرف خیال کی کائنات میں سفر نہیں کرتے۔ ہمارا سامنا جیتی جاگتی زندگی سے، اس کی سچائیوں سے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ادب پارے کی تفہیم و تعبیر یا تحسین شناسی کا کوئی بھی مفہوم صرف تصورات کے حوالے سے متعین نہیں ہو سکتا۔ ہمارے زمانے کی تنقید کا المیہ یہ ہے کہ تصورات کے معاملے میں بھی اس کا رویہ فراخ دلی کا نہیں ہے۔ طرح طرح کے تعصبات نے اسے گھیر رکھا ہے۔ یہ تعصبات بالعموم خیال کے جبر کانتیجہ ہوتے ہیں۔ یہی جبر نقاد کو زندگی کی بنیادی اور حقیقی سطح سے دور رکھتا ہے اور اس کے گرد تعصبات کا دائرہ کھینچتاہے۔ ان تعصبات کو غذا ملتی ہے نقادکے شعور کا حوالہ بننے والے کچھ بندھے ٹکے نظریوں سے، یا علم کے ان شعبوں سے جن پر نقاد کو تھوڑی بہت دسترس حاصل ہوتی ہے، اور انجام کار جو نقاد کے شعور اور بصیرتوں کو اپنا تابع فرمان بنا لیتے ہیں ان ہی کی روشنی میں نقاد کچھ کلیے قائم کرتا ہے۔ اور دائیں بائیں دیکھے بغیر انہیں لپیٹ میں آنے والے ہر تجربے پر آزماتا رہتا ہے

    یہاں ذہن تنقید کی ایک عام روش کی طرف جاتاہے۔ یہ روش عبارت ہے انسانی ہستی کی رنگا رنگی اور اس سے وابستہ تجربوں کے تنوع کو سب ایک سطح پر، ایک آزمائے ہوئے، رٹے رٹائے نسخے کے مطابق جانچنے پرکھنے سے۔ ہمارے زمانے کے نقادوں میں اکثریت ایسوں کی ہے جو نہ صرف یہ کہ اپنی ترجیحات پر اصرار کرتے ہیں، ان ترجیحات کا حوالہ بننے والے علوم و افکار سے آگے زندگی یا شعر و ادب کی کسی سچائی کو سمجھنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں ان کی تنقید بھی ایک طرح کا اشتہار بن کر رہ جاتی ہے۔ اشتہار میں اور اس قسم کی تنقید میں ایک یہ وصف مشترک ہوتا ہے کہ دونوں اپنے پڑھنے والوں کی فہم و ضرورت کے سلسلے میں زیادہ خوش گمان نہیں ہوتے۔ دونوں کے طریقہئ کار میں ایک طرح کی مبالغہ آمیزی ہوتی ہے۔ دونوں، اپنے پڑھنے والوں کے احساسات کو کند کردینا چاہتے ہیں تا کہ پڑھنے والا اپنی قوت فیصلہ کا استعمال کرنے کی بجائے، بے چوں و چراں ان کے کہے پر ایمان لائے اور ان کا client بن جائے، دونوں کا مقصد اصلاً کاروباری ہوتا ہے۔ 

    ظاہر ہے کہ اس طرح تنقید، تنقید نہیں رہ جاتی۔ تبلیغ بن جاتی ہے اور اپنے من پسند خیالوں کا پرچار شروع کر دیتی ہے۔ ان خیالوں کی بنیاد یں سیاسی، معاشرتی، تہذیبی، لسانی علمی کچھ بھی ہوسکتی ہیں۔ ان میں بہ ظاہر کوئی قباحت بھی نہیں کیوں کہ ہر گہرا خیال، ہر ذہین مفروضہ کسی نہ کسی بڑی فکری بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ کوئی مخصوص ضابطہئ علم اس فکری بنیاد کے اساسی حوالے کی حیثیت اختیار کر لے لیکن اس سلسلے میں ہمارے مذہب کے نقاد کی سب سے بڑی کم زوری ایک تو یہ ہے کہ اپنے مخصوص ضابطہئ علم کے سیلاب میں وہ خود کونہیں سنبھال پاتا، بہنے لگتا ہے۔اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ضابطہ ئ علم نے اسے بے دست وپا کر کے رکھ دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں اپنے ضابطہئ علم کے حدود کا احساس باقی نہیں رہتا وہ اسی ذرا سے گوشے کو پورا مکان اور اس سے فیض یابی کے چند لمحوں کو تمام و کامل زماں سمجھ بیٹھتا ہے۔ اسی ضابطہئ علم سے اس کا شغف دراصل عدم تحفظ کے ایک مستقل خوف کا پروردہ ہوتا ہے۔، ابھی حال میں شام لال نے ہمارے عہد کے بازار علم میں غلبہ پانے والے بعض تصورات سے متعلق ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایسے لوگ جو جملوں اور خیالوں کو جستہ جستہ توڑ کر ان میں مضمر سچائی کی دریافت کے دعویٰ دار ہوتے ہیں ان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ توڑ پھوڑ کا یہ عمل آگہی انہوں نے جاری نہ رکھا تو اپنے آپ کو بھی سالم و ثابت نہیں رکھ پائیں گے۔ یہ خالی خولی فقرے بازی نہیں ہے۔ تنقید کے سیاق میں اس رویے کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح نقاد کی ساری جستجو کا محور بدل جاتا ہے، اس کی توجہ اصل ادب پارے سے زیادہ اسے پرکھنے کے معینہ  اصولوں پر ہوتی ہے۔ اور یہ اصول انسانی تجربے کی ساخت اور نوعیت کے برعکس عام طور پر جامد اور بے لوث ہوتے ہیں۔ اپنی صلاحیت کا اظہاریہ اصول بھاری بھر کم، ثقیل، ٹھوس اصطلاحوں کے واسطے سے کرتے ہیں۔ نقاد یہ بھول جاتا ہے کہ ہمہ دانی کا دعویٰ کرنے والے تمام نظریے اور علوم آج زندگی کی رفتار، بوقلمونی، عدم اثبات اور اس کی قیاسات سے ماورا حقیقتوں کے بوجھ سے پسپا ہو چکے ہیں۔ چنانچہ تنقید میں اب کسی طرح کے ضابطوں میں وسعت اور اس کے آہنگ میں عجز کا عنصر پیدا کرنے سے قاصر رہی تو تنقیدی سرگرمی بتدریج انسانی ہستی کے اظہارات سے دور ہوتی جائے گی اور اس کا دائرہ اثر سمٹتا جائے گا۔ 

    وزیر آغا نے اپنے ایک مضمون(”تنقید، مشمولہ پاکستانی ادب جلد5، ادب مرتبہ رشید امجد، فاروق علی) کی ابتدا اس جملے سے کی تھی کہ: 

    ”نقد الادب کے سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کا ذکر جس شد ومد سے ہوا ہے اس سے یہ غلط فہمی عام ہو سکتی ہے کہ ہر نقاد پہلے خود کو کسی خاص فکری رویا میلان سے منسلک کرتاہے اور پھر اپنے مسلک کی تشہر کے لیے نقد و نظر کے کاروبار کا آغاز کر دیتا ہے حالا ں کہ جو نقادایسا کرتے ہیں انہیں انگلیوں پر گننا کچھ ایسا آسان نہیں، وہ بنیادی طور پر نقاد نہیں بلکہ اپنے اپنے نظریاتی مسلک کے ایسے مشتہرین ہیں جنہوں نے تنقید کو بھی یکے از آلات جراحی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

    اور مضمون کی اختتامیے میں یہ کہتا تھا کہ:

    ”میرے نزدیک نقاد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ جب کسی فن پارے کا جائزہ لے تو اپنے ذہن سے جملہ ذاتی اور نظریاتی تعصبات کو خارج کر کے ایسا کرے اور اس بات کو ملحوظ رکھے کہ تنقید اگر فن پارے کی جمالیاتی چکاچوندمیں اضافہ کا موجب نہیں بن پائی تو اس کا کوئی جواز موجود نہیں، مراد یہ کہ نقاد اپنے مطالعے میں اوّلین حیثیت فن پارے کو دے اور فن پارے کے اندر چھپے ہوئے امکانات کی روشنی میں اپنی تنقیدی حس کو بروئے کار لائے، نہ یہ کہ اپنے نظریات یا تاثرات کا عکس فن پارے میں تلاش کرنے کی سعی کرے“۔ 

    مگر بیش تر صورتوں میں ہو یہی رہا ہے کہ تنقید اور نقاد کے دائرہ کار میں ادب پارے کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اور تو اور اب اردو ادب کا عام طالب علم بھی اپنے نصاب میں شامل کسی ناول یا کسی کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ توجہ اس سے متعلق تنقیدی مضامین پر صرف کرتا ہے اور سب سے زیادہ مکتبی نوعیت کے مضامین کو اپنے لیے سب سے زیادہ کار آمد پاتا ہے۔ تخلیقی متن کا مطالعہ اگر انسانی تجربے کی حرارت اور زندگی سے بھری ہوئی دستاویز کے بجائے، ایک ٹھنڈی، بے جان لسانی ساخت کے طور پر کیا جاتا ہے اور واردات کے بجائے اگر محض مفروضات کو اس مطالعے کا حوالہ بنایا جاتا ہے، تب بھی صورت حال اتنی ہی پریشان کن ثابت ہوتی ہے۔ کلاسیکی تنقید کے اکثر نمونے غیر متعین مفاہیم کے پابند ہوتے ہوئے بھی، ادبی ہیئتوں کے انسانی عنصر سے اس حد تک بیگانہ نہیں دکھائی دیتے۔ ان کی جڑیں ایک تو اپنے معاشرتی اور تہذیبی سیاق میں گہری ہوتی ہیں، دوسرے یہ کہ ان میں خیال کی آمریت کا وہ رنگ ناپید ہے جس سے ہماری آج کی فیشن ایبل تنقید داغ دار دکھائی دیتی ہے۔ ادبیات اور اصول نقد، پر اظہارِخیال کرتے ہوئے نیاز فتح پوری نے ایک معنی خیز سوال یہ اٹھایا تھا کہ کیا نقاد کے لیے کسی خاص موضوع میں اختصاص کی حصول یابی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ:

    ۱۔علمی رایوں پر اظہار کرنا نقاد کا کام نہیں ہے کیوں کہ نقاد کے لیے ہر موضوع میں مہارت تامہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔

    ۲۔البتہ ہر عہد اور ملک کی علمی تاریخ سے اس کا آگاہ ہونا یقینا لازم ہے کیوں کہ فنِ نقد اور تاریخِ علم و ادب میں بہت اہم ربط پایا جاتا ہے۔ 

    ۳۔فنِ نقد کے تین اغراض ہیں۔ تشریح، حکم اور تعین مراتب۔ جو شخص کسی کتاب پر نقد کرے اسے چاہیے کہ پہلے اسے غور سے پڑھ کر سمجھ لے اور اسی کے ساتھ اس موضوع کی اور کتابوں (یعنی ادب پاروں) کا بھی مطالعہ کرے کیوں کہ بغیر اس کے وہ کتاب زیر نقد کا کوئی درجہ متعین نہیں کر سکتا۔ 

    اس سلسلے میں آخری بات نیاز نے یہ کہی تھی کہ ”بہترین نقاد وہی ہو سکتا ہے جو کسی خاص فن یا موضوع سے گہری دلچسپی نہ رکھتا ہو بلکہ عام علمی مذاق رکھتا ہو“۔

    ظاہر ہے کہ نہ تو زندگی معین اصولوں اور اصطلاحوں کی قیدی ہوتی ہے، نہ ہی کوی ادب پارہ گنبد بے در کی مثال ہوتا ہے کہ نقاد ہر منظر و مظہر سے منہ موڑ کر بس ایک چھوٹے سے دائرے میں اپنے احساس اور نظر کو سمیٹ لے۔ ہر ادب پارہ انسانی ہستی کے تماشوں کی طرف کھلنے والا ایک دریچہ ہوتا ہے۔ ایک واسطہ ہوتا ہے ان تماشوں میں محض کسی اسرار کو جاننے اور سمجھنے کا، ایک زاویہ ہوتا ہے دیکھے ہوئے کسی منظر کو پھر سے دیکھنے کا۔ ادب پارہ اپنے قاری کے لیے ایک دریافت، ایک انکشاف، ایک تجربہ اسی سطح پر بنتا ہے۔ اور اگر تنقید ادراک کے اس نقطہ تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالتی ہے تو وہ ادبی تنقید نہیں کوئی اور شے ہے۔ 

    عسکری نے تنقید کو کتابوں کے درمیان روح کی مہم کا نام دیا تھا۔ اور اپنے زمانے کی (نئی) تنقید کے حدود کااحاطہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”نقادوں نے نظم پڑھنا اور اس سے لطف لینا چھوڑدیا، یہ دیکھنے لگے کہ نظم پڑھی کس طرح جاتی ہے۔ نئی تنقید کی سب سے نئی بات یہی ہے کہ یہ ادب کی تنقید نہیں ہے بلکہ تنقیدی تنقید ہے۔“ یعنی کہ ”روح کی مہم“ کا وہ عمل جو نقاد کے اندر ایک جوش، ایک سنسنی کی کیفیت پیدا کرتا ہے، اس کی حیرتوں کو جگاتا ہے اور اسے حواس کے نئے منطقوں کے سمت لے جاتا ہے، اگر یہ عمل علمی انہماک کے بوجھ میں دب کر رہ جائے تو اپنے نصب العین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ادب کی روح تک رسائی کے لیے بہ قول عسکری ”یہ دروازہ لاتیں مار مار کر نہیں کھولا جا سکتا۔“ مگر اپنے نظامِ احساس اور اقتدار سے مناسبت نہ رکھنے والے علوم، نظریوں اور تصورات کی اطاعت کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ نقاد اس راہ پر لگ جاتا ہے جہاں ادب کے مطالعے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اس قسم کا فرماں بردار نقاد کسی ادب پارے کو پڑھتے ہوئے بھی دراصل اپنے پسندیدہ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اوڑھے ہوئے تصور کی گردان کرتا رہتا ہے۔ اور تنقید لکھتے وقت اس کے پیش نظر مقصد یہ ہوتا ہے کہ کن کن حیلوں بہانوں سے عام قاری کو اپنا غلام بنایا جائے تا کہ تنقید کے واسطے سے اور پھر تنقید پڑھنے والے کی ذہنی سپردگی کے واسطے سے اپنے تصور کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری رہے۔ 

    یہاں اچانک عسکری ہی کی کہی ہوئی ایک اور بات یاد آ گئی۔ یہ کہ تنقید دوسروں کو غلام بنائے رکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ جدید نظم کی پوری تحریک اور انجمن اشاعت مفیدہ (انجمن پنجاب) کے ادبی منشور کی حقیقت کا کھلے ذہن کے ساتھ محاسبہ کیا جائے تو اس نکتے کو آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ اور تاریخ و تہذیب کا اس دور کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے تو اس گمان کی صداقت کا اک نیا پہلو سامنے آتا ہے۔ عسکری نے یہ بات کہتے وقت کسی انگریز نقاد کا وہ پرانا قول بھی نقل کیا تھا ”برطانوی سلطنت کے مستقبل کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ ہندوستانی لوگ انگریزی ادب کس طرح پڑھتے ہیں۔“ اسی مضمون میں عسکری نے دو ایک اور بھی ایسی باتیں بہ ظاہر رواروی میں کہہ د ی تھیں جن کے سیاق میں ہم تنقید کی موجودہ صورت حال کی بابت کچھ سنجیدہ سوالوں سے دو چار ہوتے ہیں۔ انسان کا تجزیہ کرنے کی بجائے سردست میں صرف دو اقتباسات کے ساتھ یہ گفتگو ختم کرتا ہوں :

    ایک تو یہ ہے کہ ”اول تو ادب میں تنقید کی حیثیت کائی یا پھپھوندی کی سی ہے، بجائے خود اس کی کوئی ہستی نہیں، لیکن اگر یہ اپنی ثانوی جگہ پر قانع رہے تو ادب کے لیے مفید بھی ہو سکتی ہے۔ بلکہ آپ چاہیں تو ضروری بھی کہہ لیجئے، مگر تنقید ضروری اور فائدہ مند صرف اس وقت تک ہو سکتی ہے جب تک خادمہ کے فرائض انجام دینے پر قانع رہے۔ تنقید کا حوصلہ اس سے آگے بڑھا اور تخلیقی ادب کا ستیاناس ہوا۔“

    اور دوسرا اقتباس یوں ہے کہ: 

    ”آج کل جمہوری دنیا میں ادب بھی بڑے فائدے کی چیز بن گیا ہے۔ بہ شرطے کہ آدمی نقاد ہو۔ ادب کی سر کی یہ جوئیں آج کل خوب موٹی ہوئی چلی جارہی ہیں۔ چنانچہ فن کاروں کے لیے زیر دستی نے یہ بہت بڑی ترغیب پیدا کردی ہے کہ وہ تخلیقی کام چھوڑ کر نقاد بن جائیں۔ ان کا وہ ادب جو پیدا ہو چکا ہے تو اس سے نبٹنے کے لیے پیشہ ور نقاد موجود ہیں۔ وہ بڑے سے بڑے ادب کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ شکل پہچاننے میں نہیں آتی “۔ 

    ان حالات میں ایک سوال جو بار بار سراٹھاتا ہے یہ ہے کہ ایسی تنقید کا اصل خطاب کس سے ہے؟ اس کے مقاصد اور اس عہد کے تہذیبی اور تخلیقی مقاصد میں مناسبت کا کوئی پہلو نکلتا ہے یا نہیں؟ کنزیومر معاشرے میں ادب جس حال کو جا پہنچا ہے اور خاص کر اردو زبان و ادب بقا کے جس مسئلے کی زد پر ہیں، اس کے پیش نظر نئی تنقید پر کوئی نئی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ ان سوالوں پر کھل کر بحث کیے بغیر ہم اس تنقید کے حوالے سے کسی معنی خیز نتیجے تک نہ تو پہنچ سکے ہیں نہ پہنچ سکیں گے۔ بس ہوگا یہ کہ تنقید کا یہ المیہ ایک طرح کے comic ماحول کی ساخت پر داخت میں لگا رہے گا۔