سہیل انجم

سہیل انجم

اردو اورالیکٹرانک میڈیا: پاپولر لٹریچر کے حوالے سے

    ہندوستان میں الیکٹرانک میڈیا اور اردو زبان میں بہت گہرا ربط رہا ہے، دونوں میں بڑی گہری شناسائی ہے اور دونوں ایک دوسرے کو آگے بڑھنے اور پروان چڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔ بالخصوص اردو زبان کے الیکٹرانک میڈیا پر بہت احسانات ہیں۔ میڈیا کے آغاز سے لے کر آج تک اردو زبان اسے سنوارتی اور نکھارتی رہی ہے۔ اسے اس زبان کا مرہون منت اور احسان مند ہونا چاہیے کہ اس نے میڈیا کے حسن میں چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہم باریک بینی سے غور کریں تو پائیں گے کہ جب بھی الیکٹرانک میڈیا کی دوشیزہ کا حسن  مرجھانے لگا ہے یا اس کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ لوگوں کی توجہ اب اس پر سے ہٹ رہی ہے تو اس نے اپنے چہرے پر اردو کا غازہ ملا ہے۔ اپنی پیشانی پراردو کا ٹیکہ آویزاں کیا ہے، اپنے ہونٹوں پر اس کی سرخی سجائی ہے، زلفوں میں اس زبان کا گجرا باندھا ہے، بازوؤں پر اس کے بازو بند اور کنگن چڑھائے ہیں ، انگلیوں میں اس کی انگشتری پہنی ہے اور اپنے سراپا کو اردو کے خوبصورت اور حسین لباس میں لپیٹ کر لوگوں کو اپنے حسن کا دیوانہ بنایا ہے۔

         کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا نے اردو کو سہارا دیا ہے اور اس کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اردو کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں، اس نے خود دوسروں کو سہارا دیا ہے اور جب بھی الیکٹرانک میڈیا کو ضرورت پڑتی ہے اردو نے اس کی رگوں میں اپنا خون دوڑایا ہے اور اس کے چہرے کے زردہوتے رنگ کوحسن کی تمازت میں تبدیل کیا ہے۔ ہاں ایک حد تک آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا نے اردو زبان سے لوگوں کو آشنا کیا ہے اور اردو میں پاپولر لٹریچر کو فروغ دیا ہے۔ جہاں فلم ، ریڈیو، ٹی وی اور دیگر ذرائع ترسیل نے اردو کے حسین الفاظ اور اس کے اسلوب کا سہارا لے کر دور دراز تک رسائی حاصل کی ہے وہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ان خطوں اور علاقوں میں بھی اردو کے الفاظ کو رائج کیا ہے جو اردو کے علاقے نہیں ہیں لیکن پھر بھی میں یہ ایک طرف دعویٰ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ الیکٹرانک میڈیا کا فروغ زیادہ ہوا ہے اور اردو سے الیکٹرانک میڈیا کا فروغ نہیں ہوا ہے یا کم ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا سے اردو کو جتنا فروغ ہوا ہے الیکٹرانک میڈیا کو اردو سے اس سے کہیں زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے۔ ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا باقاعدہ اور باضابطہ آغاز 1930 میں ہوا اور ٹی وی کا 1965 میں۔ پہلی تکلم یا بولتی ہوئی فلم عام آرا1 193 میں بنی اور ٹی وی نیوز کی عمر بھی بہت کم ہے۔ یہ ابھی اپنے سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچی ہے۔ ریڈیونشریات کے آغاز کے وقت اور غیر متکلم فلموں کے دور میں اور اس کے بعد بھی ملک میں اردو کا سکہ چلتا تھا۔ کوئی بھی تقریر، کوئی بھی مضمون، کوئی بھی فلم اردو کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں تمام ذرائع ترسیل اردو زبان کے محتاج تھے چونکہ اردو ہی بولی، سمجھی  اور پڑھی جاتی تھی اس لیے مذکورہ تمام ذرائع ترسیل اردو ہی کا دامن تھام کر آگے بڑھتے تھے۔

    ریڈیو اور ٹی -وی نشریات

    جب ریڈ یونشریات کا آغاز ہوا تو اردو میں خبریں پڑھی جانے لگیں، تقریریں ہونے لگیں، اپیلیں جاری کی جانے لگیں، اطلاعات دی جانے لگیں اور دیگر معلومات بہم پہنچائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ ریڈیو پروگراموں میں تنوع آنے لگا اور پھر ڈرامے شروع ہوئے، مشاعرے ہونے لگے، مزاحیہ فیچرز پیش کیے جانے لگے اور اردو خبروں کا وقت بڑھایا گیا۔ آل انڈیا ریڈیو کے ایکسٹرنل سروس ڈویژن میں اردو سروس شروع ہوئی۔ دوسرے اسٹیشنوں سے بھی پروگرام نشر کیے جانے لگے۔ اور پھر یوں ہوا کہ اردو کے بیشمار پروگرام آنے لگے، یہ کیوں ہوا؟ اس لیے کہ اردو کا ایک بڑا حلقہ ملک میں موجود تھا۔ اگر اس حلقے تک رسائی حاصل کرنی تھی تو اردو کے پروگرام بھی ضروری تھے اور اس کی آسان اور عام زبان کا سہارا بھی ضروری تھا۔ ریڈیونشریات کو اردو کے انتہائی جید اور قدآور ادیبوں اور اداکاروں کی خدمات حاصل رہیں۔ شہرت یافتہ ادیب سید پطرس بخاری کو آل انڈیا ریڈیو کا پہلا  اسٹیشن ڈائریکٹر  اور ان کے بھائی سید ذوالفقار بخاری کو اسسٹنٹ اسٹیشن ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ عوام تک پہنچنا ہے تو شیریں و شگفتہ  زبان کا سہارا لینا پڑے گا۔ ایسی زبان میں لوگوں سے مکالمہ کرنا ہو گا جو نہ صرف یہ کہ آسانی سے سمجھ میں آ سکے بلکہ جس کی شیرینی اور حلاوت سامعین کے دل و دماغ میں براہ راست اپنا گھر بنا سکے۔ بقول شہنشاہ جذبات دلیپ کمار  ”جولوگ اردو زبان سے ناواقف ہیں وہ بھی اس کی لوچ اور اس کی کھنک کے دیوانے ہیں ۔“  اس لوچ اور اس کھنک نے ریڈیو پروگراموں کومقبول بنایا اور پھر ان پروگراموں کے توسط سے اردو کو بھی فائدہ پہنچا۔

    ان حقائق کے باوجود میں یہ اعتراف اور اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ ریڈیو نے اردو ادب کے دامن کو مالا مال کر نے میں کسی نہ کسی حد تک ضرور رول ادا کیا ہے ۔ اگر ہم غور کریں تو اردو کے بیشتر ادیب و قلمکار ریڈیو سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے ادب میں نئے نئے تجربے کیے ہیں۔ چونکہ ریڈیو کی زبان عام فہم رہی ہے اس لیے عوام میں یہ مقبول بھی ہوتی ہے۔ سید پطرس بخاری ،سید ذوالفقار بخاری ، شاہد احمد دہلوی ، اسرارالحق مجاز ، آغا اشرف ، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو ، امتیاز علی تاج،  آغا حشر کاشمیری،  فضل حق قریشی، شوکت تھانوی ، کرشن چندر ، اوپندر ناتھ اشک، ریوتی سرن شرما، سید انصار ناصری ، عظیم بیگ چغتائی ، خواجہ حسن نظامی ، قیصر قلندر، سلام مچھلی شہری، کمال احمد  صدیقی، محمود ہاشمی، رفعت سروش، عابد سہیل، اقبال مجید اور بیشمار ایسے نام ہیں جنہوں نے ریڈیو کے توسط سے اردو ادب کے دامن کو اپنی تخلیقات سے مالا مال کیا ہے۔ ریڈیو نے ایک نیا اسلوب پیدا کیا اور متعدد ادیبوں  نے اس اسلوب کو اپنایا ہے ۔ آل انڈیا ریڈیوکی اردو سروس سے نشر ہونے والے اردو پروگرام اور اس کی تخلیقات کو ”آواز نامی“ ایک رسالہ میں شائع کیا جاتا تھا، جو اب بند ہو گیا۔ وہ رسالہ اردو ادب میں یقیناً اہمیت کا حامل تھا اور اردوسروس سے نشر ہونے والے ادب سے لوگ رسالہ کی شکل میں بھی روشناس ہوتے تھے۔ جن شخصیتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ بہت سے قد کار ہیں جنہوں نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور ریڈیو کے توسط سے انہیں عام کیا ہے۔ آج بھی اردومجلس اور خاص کر آل انڈیا ریڈیوکی اردو سروس  سے ادبی و ثقافتی پروگراموں کے نشر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ادبی سیمینار ہوں ، مشاعرے ہوں، قو الیاں ہوں، ادبی تقریبات ہوں ، مباحثے ہوں ، عرس ہوں یا اس قسم کی دیگر تقریبات ، ریڈیو نیوز ریل کی شکل میں نشر ہورہی ہیں اور ادب کا حصہ بن رہی ہیں ۔ آج بھی بہت اچھے ریڈیو ناٹک لکھے جارہے ہیں ۔ حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ اور تجزیے نشر ہورہے ہیں ۔ یہ سب اردو کا دامن بھر رہے ہیں اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی ندامت نہیں ہونی چاہیے کہ ان ریڈ یائی نشریات نے اردو ادب کو اور بھی گراں قدر بنا دیا ہے۔

    تا ہم ٹیلی ویژن کا زمانہ آتے آتے اردو زوال آمادہ ہوگئی ۔ سماج اور سرکاری دربار میں اس کی وہ قدر و منزلت نہیں رہ گئی جو پہلے ہوا کرتی تھی لیکن اس کے باوجود ٹیلی ویژن پروگراموں کو اردو زبان کے خوبصورت لفظوں اور محاوروں سے سجایا جانے لگا ۔ اردو پروگرام گر چہ بہت کم بن رہے تھے مگر جو دوسرے پروگرام بن رہے۔ ان میں بھی اردو الفاظ و تراکیب اور تشبیہات وتلمیحات کی بھر مار ہونے لگی۔ چونکہ اسے بھی اردو داں حلقے تک پہنچنا تھا اور اپنی زبان کو سہل  اور شیریں بنا کر عوام الناس تک رسائی حاصل کرنی تھی ، اس لیے ٹی وی نے بھی اردو کے خزینوں سے اپنا دامن بھرا اور اس طرح جہاں ایک طرف اس نے اردو سے فائدہ اٹھایا وہیں دوسری طرف اس سے اردو کو بھی فائدہ پہنچا۔ آج جب کہ کم و بیش تین سو ٹی وی چینل ہیں اردو کے الفاظ کثرت سے استعمال ہورہے ہیں اور متعددسیریلوں کے اردو نام رکھے جارہے ہیں تا کہ لوگ آسانی سے سمجھ  سکیں ۔ دور درشن پر انجم عثمانی کے پیش کردہ پروگرام بزم کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے اور اسے اردو ادب کو عوام تک پہنچانے کا ایک بہترین وسیلہ کہا جاسکتا ہے۔

     فلم اور اردو

    فلموں کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے ان کی زبان اردو ہوتی ہے مگر ان کو ہندی کا سرٹیفیکیٹ دیا جا تا ہے۔ اگر فلمسازوں سے دل کی بات پوچھی جائے تو اردو کے ہی سرٹیفیکیٹ لینا چاہتے ہیں مگر مجبوراً ہندی کا سرٹیفیکیٹ لیتے ہیں۔ ابھی حال میں فلم اور اردو کے رشتے کے موضوع پر بھی منعقد ایک مباحثے میں شرکاء  نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں فلم فیئر ایوارڈ دینے والوں نے یہ شرط لگا دی تھی کہ صرف انہی فلموں کو ایوارڈ کےلیے نامزد کیا جائے گا جو ہندی کی ہوں گی۔ لہذا  یہ لوگ فلم بناتے ہیں اردو میں اور سرٹیفیکیٹ لیتے ہیں ہندی کا۔تاہم وہ فلمیں زیادہ مقبول ہوتی ہیں جو اردو میں بنتی ہیں، جن کے مکالمے اردو الفاظ سے مزین ہوتے ہیں ۔ اور جن کے نغمے اردو میں لکھے جاتے ہیں ۔ آج کے فلمی نغموں میں تو ایسا لگتا ہے جیسے شرفاء کی محفل میں کوئی اجڈ اور گنوار آ گیا ہے اور شرافت وشائستگی کے ماحول میں طوفانِ بدتمیزی برپا کر رہا ہے۔ ان بے ہنگم شوروغل اور ہنگاموں کے درمیان اگر کوئی اردو کانغمہ  گونج اٹھے تو ایسا لگتا ہے جیسے خزاں کے موسم میں بہار کا خوشگوار جھونکا آگیا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ فلموں نے اردو نغموں اور مکالموں کے ذریعے اردو کو ایک نئی شناخت عطا کی ہے اور فلموں کی ضرورت کے مطابق نغمے لکھے گئے ہیں اور زبان و بیان میں نئے تجربے کیے گئے ہیں۔ غزلوں اور گیتوں کو فلمی  دھنوں پرتو گایا  ہی گیا ہے نظموں کو بھی نئے انداز و آہنگ دئیے گئے ہیں ۔ آج کی تک بند شاعری کے دور میں بھی کبھی کبھارا چھی  غزل کسی فلم میں سننے کو مل جاتی ہے تو طبیعت شاداں وفر حاں ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طوفان انگیز نغموں اور بھدے  مکالموں میں بھی اردو موجود ہے۔ گرچہ اس کی شائستگی کو تار تار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود اردو الفاظ کا استعمال فلمی دنیا کی مجبوری بنی ہوئی ہے۔ فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج فلموں کی زبان بدل رہی ہے، ڈائیلاگ بدل رہے ہیں، نغمے بدل رہے ہیں اور پیشکش کے انداز بدل رہے ہیں ۔ بعض لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ فلموں کی کوئی زبان نہیں ہوتی بلکہ کردار اپنی زبان بولتے ہیں، اس دعوے سے انکارنہیں مگر سوال یہ ہے کہ پہلے کی فلموں میں بھی ہر طرح کے کردار ہوا کرتے تھے ، وہ کیوں اردو میں بات کرتے تھے اور اردو میں گانے گاتے تھے؟ زبان بدلنے کے دعویدار فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“  اور ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ کے سکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی ہیں لیکن وہ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ فلموں میں نغموں کی زبان کو اردو کہا جا سکتا ہے۔ جاوید صدیقی جہاں یہ کہتے ہیں کہ فلم” دل مانگے مور“ کے مکالمے انہوں نے آدھے انگریزی اور آدھے اردو میں لکھے ہیں، کیونکہ اس فلم کا یہی تقاضا تھا اور یہ کہ زمانے کے ساتھ ساتھ زبان بھی بدل رہی ہے وہیں وہ بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ ”فلموں میں اردو آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ کیوں کہ اردو رابطے کی زبان ہے، عام فہم زبان ہے، جذبات کی زبان ہے اور سب سے خاص بات یہ کہ محبت کی زبان ہے۔“ فلم ”بھگت سنگھ“ سمیت کئی فلموں کے سکرپٹ رائٹر پیوش مشرا فلموں میں اردو زبان کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں اور جہاں وہ یہ کہتے ہیں کہ فلموں کی زبان ہندوستانی ہے اور ہندوستانی رہے گی وہیں وہ بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ فلموں کی زبان میں اردو کی چمک دمک برقرار رہے گی ۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو اور فلمیں ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں ۔فلموں نے اگر اردو کے دامن کو وسیع کیا ہے تو اردو نے فلموں کو مقبولیت ومحبو بیت کے ساتویں آسمان پر پہنچایا ہے۔ مجروح سلطان  پوری نے اپنی زندگی کی آخری فلموں میں بھی زبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس پھوہڑ پن کو اپنے مضمون میں نہیں آنے دیا جو اردو شاعری کی شاندار اور توانا روایت پر بدنما داغ بن کر رہ گیا ہے۔ زبان سے سمجھوتہ کیے بغیر مقبول نغمے لکھنے کی یہ ایک عمدہ مثال ہے۔

     

    نیوز چینلز اور اردو

    اب کچھ گفتگو موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا کے اہم ستون یعنی ٹی وی نیوز کی کر لی جائے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی انقلاب آتا ہے بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ زبان متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ  زمانہ الیکٹرانک میڈیا کے انقلاب کا زمانہ ہے اور اس انقلاب نے سب سے زیادہ اگر کسی چیز کو متاثر کیا ہے تو وہ زبان ہے۔ آج ٹی وی چینلوں کی زبان ایک کھچڑی زبان بن گئی ہے۔ نیوز چینلوں نے تو زبان کو بُری طرح بگاڑ دیا ہے۔ آج نئے نئے محاورے بن رہے ہیں ، نئے نئے اسالیب تخلیق پارہے ہیں اور ترسیل و ابلاغ کے نئے نئے انداز سامنے آرہے ہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا کی نئی زبان کمیونی کیشن کی زبان تو ہے مگر ادب کی روح سے خالی ہے۔ ادبی چاشنی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ گرامر کا بھی دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔  مقفیٰ اور مسجع زبان تو پہلے ہی ختم ہوگئی تھی اب عام بول چال کی زبان میں بھی بہت سی خامیاں در آئی ہیں اور معمولی سا لسانی شعور رکھنے والا شخص بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی موجودہ زبان نے  معیاری زبان کا جنازہ نکال دیا ہے۔

    یہ وہ زبان ہے جو ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس سے بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور سب سے زیادہ نقصان اردو کو پہنچ رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں اردو کے الفاظ کی بھر مار ہے اور اپنی خبروں اور رپورٹوں کو عام اور دلچسپ بنانے کے لیے اردو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ان کی شکل و صورت بگاڑ دی جاتی ہے۔

     

    آج ELECTRONIC MEDIA اور NEWS   CHANNELS   کی جو زبان ہے اس میں ہندی بھی ہے انگریزی بھی ہے۔ اردو بھی ہے اور مقامی زبانوں کا رنگ بھی ہے۔ اور کبھی کبھی یہ زبان انتہائی درجہ بگڑ جاتی ہے۔ خاص طور پر جب نیوز چینلوں کے رپورٹرز کسی سے سوال کرتے ہیں یا LIVE REPORTING کرتے ہیں تو ان کی زبان کا بگاڑ کہاں تک جائے گا اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

    دراصل نیوز چینلوں کے مالکوں کو اس کے لیے وقت نہیں ہے اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ وہ زبان پر توجہ دیں۔ ان کو مقابلے کے بازار میں زندہ رہنا ہے تو اپنے ادارے کی معاشی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ معیشت کسی بھی ادارہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور اگر ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوگئی تو کمر جھک جائے گی ۔ کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے مالکوں کو سرمایہ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے اور سرمایہ کی حصولیابی کے ذرائع یعنی اشتہارات پر توجہ دی جاتی ہے لیکن ان اشتہارات میں بھی زبان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ان میں ایک نئی زبان استعمال ہورہی ہے ایسی زبان جو ہماری عام بول چال کی زبانوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں بھی ہندی، انگریزی، اردو اور مقامی زبانوں کے الفاظ ہیں اور اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ ان کا استعمال کیسے کیا جارہا ہے۔ اشتہاروں میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے جو پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں ہم کہاں تک کامیاب ہیں۔ اگر آپ ٹی وی  اشتہاروں پر غور کریں تو آپ کو ایسے بے شمار الفاظ ملیں گے جن کو آپ عام لوگوں میں بولنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ ٹی وی چینلوں میں اشتہارات کے شعبے تو ہیں اور ان میں لوگوں کو بڑی بڑی تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں لیکن زبان کی درستی کا کوئی شعبہ نہیں ہے۔ اس کی انہیں ضرورت بھی نہیں ہے۔ زبان کی درستی سے پیسے نہیں آئیں گے ۔ پیسے آئیں گے اشتہاروں سے۔ لہذا زبان پر توجہ دینا وقت اور صلاحیتوں کی بربادی مانا جاتا ہے۔

    نیوز چینلوں میں چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر NEWS READERS کا تلفظ بہت خراب ہے۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ناخواندہ اور جاہل شخص خبریں پڑھ رہا ہے۔ خبروں کی پیشکش میں جنس  اور جذبات کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ زبان اور معیار کو نہیں۔ ادب کس چڑیا کا نام ہے یہ  نیوز چینلوں کو نہیں معلوم ۔ اس سلسلے میں ہم نے لسانیات کے بعض ماہرین سے گفتگو کی تو انہوں نے بہت دکھ کے ساتھ کہا کہ نیوز چینلوں نے معیاری زبان کا جنازہ نکال دیا ہے اور ایسا لگتا  ہے کہ کچھ چینلوں نے تو زبان خراب کرنے کا جیسے بیڑہ ہی اٹھا لیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دیگر بہت سے شعبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ زبان اور تلفظ کی درستی  کا بھی شعبہ قائم ہونا چاہیے۔ جوخبروں اور رپورٹوں کے پیش کیے جانے سے قبل ان کی زبان ٹھیک کرے اور اس کے ساتھ نیوز ریڈروں اور رپورٹروں کو تلفظ کی درستی کی ٹریننگ بھی دے۔ ان کی بھرتی کے وقت جہاں بہت سی صلاحیتوں اور خوبیوں کو ضروری قرار دیا جاتا ہے وہیں ان میں یہ خوبی بھی تلاش کی جانی چاہیے کہ ان کی زبان اچھی ہو اور ان کا تلفظ ٹھیک ہو۔ اگر ان میں بہت زیادہ بگاڑ ہو تو ان میں اصلاح کی جائے اور ان کی تربیت کی جائے ۔ تاہم بعض چینل ایسے ہیں جن کے نیوز ریڈروں کا تلفط  قدرے بہتر ہے اور جن کی زبان ٹھیک ہے۔ تلفظ کی اہمیت سے کوئی بھی انکارنہیں کر سکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو نیوز ریڈر اردو سے واقف ہیں ان کی زبان صاف ستھری اور تلفظ قدرے ٹھیک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیوز چینلوں میں اردو جاننے والے لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا تلفظ درست ہوتا ہے، بالخصوص ان لوگوں کے مقابلے میں جو اردو سے ناواقف ہیں۔

    جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں اردو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں مگر ان کی شکل  بگاڑ دی جاتی ہے یا اردو سے ناواقفیت کی بنا پر  الفاظ بگڑ جاتے ہیں ۔ آج کل ایک جملہ کثرت سے استعمال ہورہا ہے کہ ”فلاں چیز کی قواعد شروع ہوگئی ہے ۔“  اس جملے میں قواعد کا غلط  طریقے سے استعمال کر کے قواعد کا برسرعام قتل کر دیا گیا ہے۔ قواعد کا مفہوم کیا ہے اور اسے کس مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے اس کا ان لوگوں کو ذرا بھی علم نہیں ہے۔ قہر بر پانا، فلاں کے چلتے اور فلاں معاملے کو لے کر جیسے الفاظ خوب استعمال ہورہے ہیں ۔ اب بارش کو برسات کہا جانے لگا ہے۔ آج کے رپورٹر کہتے ہیں کہ دہلی میں برسات ہورہی ہے۔ بارش بند ہو جانے کو کہتے ہیں کہ برسات بند ہوگئی ہے ۔ انہوں نے برسات اور بارش کی تمیز ہی ختم کر دی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ لفظ بوڑھے اور بڑھاپے کی تمیز ختم ہو جائے ۔ خلاف کو مخالفت کے معنی میں استعمال کرنا تو بہت پرانا معاملہ ہے ۔لفظوں کی جمع الجمع بھی خوب بنائی جاتی ہے جیسے جذ باتوں ، خیالاتوں ، علماؤں وغیرہ ۔ یہ محض چند نمونے ہیں ورنہ اگر آپ ایسے الفاظ کی فہرست سازی کریں تو ایک لغت تیار ہو جائے گی۔

    نیوز چینلز کے اثرات

    الیکٹرانک میڈیا کی اس بگڑی ہوئی زبان کا اثر عام بول چال کی زبان پر بھی پڑ رہا ہے اور پرنٹ میڈیا کی زبان پر بھی ۔ اردو کے اخبارات بھی اس سے  بچ نہیں پائے ہیں ۔ یہ زبان پا پولر لٹریچر  میں بھی رفتہ رفتہ گھسنے لگی ہے۔ بیشتر اردو اخباروں کی خبر میں پڑھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ جیسے خبر سازوں نے ٹی وی دیکھ کر خبر بنائی ہے ۔ وہی سرخی ، وہی زبان ، وہی انداز اور وہی غیر معیاری پن ۔ اب تو اردو کے اخباروں میں ایسی سرخیاں بھی نظر آتی ہیں ”امریکہ صدام حسین کے فراق میں“ ہمارے اردو صحافیوں کو شاید اب یہ بھی نہیں معلوم کہ فراق کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسے کہاں اور کیسے استعمال کیا جانا چاہیے ۔ اسی طرح ”فلاں کے چلتے“اور ”فلاں کے ذریعے“  اور ”فلاں کو لے کر“ جیسے الفاظ کا استعمال اخباروں میں تو عام بات ہے بعض اردو اخباروں کی سرخیاں دیکھ کر تو کبھی کبھی انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ آخر اردو زبان کا کیا ہوگا۔ کیا عوام تک اپنی بات پہنچانے کے لیے زبان کا گلا گھوٹنا ضروری ہے۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اردو کے صحافیوں کا گنجینہ الفاظ بالکل خالی ہو گیا ہے۔ ان کے ترکشوں میں غیروں کے تیر آ گئے ہیں ۔ ہما رے صحافی یا تو زبان کی نزاکتوں سے واقف نہیں رہ  گئے  یا وہ  محنت کر کے متبادل الفاظ ڈھونڈنا نہیں  چاہتے یا پھر جان بوجھ کر زبان کو خراب کرنے والے گروہ میں شامل ہوگئے ہیں۔

    ہندی اخبارات میں زبان کی بگاڑ پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا کہ اردو اخباروں کی خراب ہوتی زبان پر۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو صحافیوں کو اس جانب متوجہ کیا جائے اور ان کو یہ بتایا جائے کہ اردو زبان کا حلیہ بگاڑنے کا قصور وار صرف الیکٹرانک میڈیا نہیں، آپ بھی ہیں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ صحیح اور درست اردو استعمال کریں اور جذبات کی نمائندگی کو زبان کے معیار پر ترجیح  نہ دیں۔ آپ صحیح زبان کے استعمال کے ساتھ بھی جذبات کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ جذبات پیش کرنے کے لیے زبان کا قتل ضروری نہیں ہے۔ بلکہ آپ بہتر زبان استعمال کر کے بہتر انداز میں لوگوں کے مسائل اٹھا سکتے ہیں ۔ اردو صحافیوں کو مشورہ دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے دل و دماغ پر الیکٹرانک میڈیا کو جاری نہ ہونے دیں اور اس کی زبان اور اس کے انداز کو معیار نہ بنائیں۔ اردو اخبارات کا اپنا معیار رہا ہے اور یہ بہت بلند رہا ہے۔ ہمارے بزرگ صحافیوں نے معیاری زبان سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور آج بھی ایسے متعدد اخبار اور صحافی موجود ہیں جو زبان سے سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ جو معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی مسائل کو اٹھاتے ہیں اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہیں اور روزمرہ کے واقعات کا تجز یہ کر تے ہیں۔ کہیں ایسانہ ہو کہ آنے والا مورخ جب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی تاریخ رقم کرے تو ہمیں اردو زبان کے بگاڑ کا ذمہ دار قرار دے دے۔ جہاں تک الیکٹرانک میڈیا کا سوال ہے تو وہ اپنا راستہ خود طے کرے، اپنی زبان خود بنائے اور اپنا گرامر خود تخلیق کرے۔ کوئی کیا کر سکتا ہے مگر اردو والوں کو ان کے نقش قدم پر نہیں چلنا ہے بلکہ الیکٹرانک میڈیاکواپنے نقش قدم پر چلانا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا میں اچھی اردو استعمال کی جائے یا کم از کم اردو کو بگاڑ کر نہ استعمال کیا جائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اردو کی بنیادی تعلیم سے واقف یا اردو زبان کا بنیادی علم رکھنے والے طلبا کو آگے بڑھائیں اور ایسےزیادہ سے زیادہ طلبا کو الیکٹرانک میڈیا میں داخل ہونے کی ترغیب دیں اور کوشش کر کے ان کی تقرری نیوز چینلوں میں کروائیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اردو اور پاپولر لٹریچر کے فروغ کا جائزہ لینے کے بجائے الیکٹرانک میڈیا کے ذر یعہ ان کے بگاڑ کا جائزہ لینے کی ضرورت پڑ جائے اور ہم کو مجبوراً یہ کہنا پڑے کہ الیکٹرانک میڈیا نے جہاں پہلے اردو زبان کو فروغ دیا وہیں وہ اب اردو اور اس کے پاپولر لٹر یچر کو تباہ و برباد کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔