ڈوبتے سورج کی سرگوشی
-
ڈھیر کرچیوں کے آنکھ میں ہیں لیکن آئنے کا نوحہ ہر کسی قلم کی دسترس سے باہر روشنی کے گھر میں تیرگی کا پتھر کس طرف سے آیا کون ہے وہ آخر جو پس تماشا مسکرا رہا ہے اک سوال ہوتی ہے زندگی نگر کی سرخیاں خبر کی کھوجتی ہے لیکن خواب کے سفر کی ساعتوں پہ قدغن سوچ رہن سر ہے نیند کی سحر جو قریۂ تمنا لوٹ لے گیا ہے اس کے نقش پا بھی چن لیے ہوا نے منصفی کے داعی بے یقین موسم بانٹتے ہیں گھر گھر اور ہڈیوں کے ناتواں سے پنجر سرخ بتیوں کے خوف کی سڑک پر سائرن بجاتی ایک ناگہانی تاابد تعاقب ختم ہے کہانی