عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا

    ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا اک ذرا منظرِ غرقابیِ جاں دیکھئے گا سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پا کر اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا شاخِ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے کبھی صر صر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا یہی دنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا دل طرفدارارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا