عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

جھلس رہے ہیں کڑی دھوپ میں شجر میرے

    جھلس رہے ہیں کڑی دھوپ میں شجر میرے برس رہا ہے کہاں ابرِ بے خبر میرے گرا تو کوئی جزیرہ نہ تھا سمندر میں کہ پانیوں پہ کھلے بھی بہت تھے پر میرے اب اِس کے بعد گھنے جنگلوں کی منزل ہے یہ وقت ہے کہ پلٹ جائیں ہم سفر میرے خبر نہیں ہے مرے گھر نہ آنے والے کو کہ اُس کے قد سے تو اُونچے ہیں بام و در میرے بہت ہے آئینے جن قیمتوں پہ بک جائیں یہ پتھروں کا زمانہ ہے، شیشہ گر میرے حریفِ تیغِ ستم گر تو کر دیا ہے مجھے اب اور مجھ سے تو کیا چاہتا ہے سر میرے