عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی

    توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی ہم تو صحرا ہوئے جاتے تھے اس نے آ کر شہر آباد کیا نہرِ صباجاری کی ہم بھی کیا شے ہیں طبیعت ملی سیارہ شکار اور تقدیر ملی آہوئے تاتاری کی اتنا سادہ ہے مرا مایۂ خوبی کہ مجھے کبھی عادت نہ رہی آئنہ برداری کی میرے گم گشتہ غزالوں کا پتہ پوچھتا ہے فکر رکھتا ہے مسیحا مری بیماری کی اس کے لہجے میں کوئی چیز تو شامل تھی کہ آج دل پہ اس حرفِ عنایت نے گراں باری کی