دشت
چشم گماں بہ شاخ صنوبر عجیب ہے وہ دھند ہے کہ ماہِ منور ،عجیب ہے ظالم ہوا کا رزق میسر عجیب ہے جو دیکھتی ہے آنکھ وہ منظر عجیب ہے ہم حیرتی بھی راندۂ شوقِ فضول ہے اے دشتِ مرگ تیرے درختوں کے پھول ہیں نخل فلک کا برگ ِ نمو یاب کیا ہوا پیشانی، جہاں کا زرناب کیا ہوا وہ جو ابھی ابھی تھا وہ مہتاب کیا ہوا اے چشمِ خوش خیال! ترا خواب کیا ہوا بیٹھے ہیں اپنے ہاتھوں تماشے کو رول کے منظر گنوا دیا گیا آنکھوں کو کھول کے پروردگانِ دشت ہیں اپنا شمار کیا ہم خستگانِ غم کی خزاں کیا بہار کیا ہوتا ہے موسموں کا یہاں اعتبار کیا ہم سے سنبھل سکیں گے ترے برگ و بار کیا ہم زخم زخم ہیں چمن ایجاد تو نہیں اُگ کر زمیں سے بھی زمیں زاد تو نہیں وہ جو ابھی تھی ریت کی ڈھیری نہیں رہی وہ ساربان، وہ اونٹوں کی ٹولی نہیں رہی قصرِ فلک میں چاند کی کھڑکی نہیں رہی جائیں کہاں کہ اک بھی نشانی نہیں رہی اے دستِ غیب تیرے اشارے کے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں دشت میں تارے کے منتظر ہم کس طرف کو آگئے بارِ الم اٹھائے! دیوار ہے کہیں نہ کہیں ہے کوئی سرائے ہر سمت سیلِ ریگ ہے ہر سمت مرگنائے ہم پھر بھی چل رہے ہیں اماوس کے سائے سائے اس رات کے نصیب میں صبحِ دعا نہیں وہ دشت ہی نہیں ہے جو دشتِ بلا نہیں ہر سمت بہہ رہا ہے شب تار کا سراب ہم پیاس پی کے خود کو سمجھتے ہیں باریاب ہم بندگانِ دشت ِ فنا! محوِ اضطراب گر زندگی پکارے تو کیا دیں اسے جواب کیا ذکر پیڑ کا کہ پرندہ کوئی نہیں ہم زندگاں میں ٹھیک ہے زندہ کوئی نہیں ہر جسم نوکِ مرگ سے یکسر چھدا ہوا یہ دشتِ غم ہے بانس کا جنگل بنا ہوا کس سے کہیں کہ اپنا یہاں حال کیا ہوا ہم پھر بھی جی رہے ہیں تو یہ معجزہ ہوا ہم یاں پھنسے ہوئے ہیں کسی پھانس کے لیے یعنی بدن میں اٹکی ہوئی سانس کے لیے یہ دشت ہے یہاں نہیں ہوتے مہِ منیر جو شاخ ہے سو طوق ہے جو خار ہے سو تیر ٹھہرے گا کون ایسے خرابے کا راہ گیر با وصف بندشوں کے بھی ہم سے ترے فقیر ہونٹوں پہ تشنگی کا بیاباں لیے ہوئے جاتے ہیں خوابِ منزلِ جاناں لیے ہوئے آسودگانِ رنج ہیں وحشت ہوئی تو کیا کچھ کچھ ہماری دور مصیبت ہوئی تو کیا دشتِ جنوں میں اتنی سہولت ہوئی تو کیا ہم کو غبارِ قیس سے نسبت ہوئی تو کیا تو جانتا نہیں ہے ہمیں دشت ِ بے اماں ہم ہیں کسی کے ساتھ کسی کی طرف رواں اے محملِ رضا! ترے گریہ گزار ہم ہیں خاک پائے رفتگاں یعنی غبار ہم اک خوابِ رونمائی سے ٹھہرے دوچار ہم اس خستگی پہ بھی ہیں تعاقب شعار ہم اب تو مثالِ ماہِ منور دکھائی دے اسے حسنِ خاص! پردے سے باہر دکھائی دے ہم تیری اِک جھلک کے لیے یوں ترس گئے اندر کو کھلتی آنکھوں کی صورت برس گئے جو پل کٹے وہ اور بھی اعصاب کس گئے ہر بار ہم کو لگتا ہے اس بار بس گئے پڑتی ہے جیسے مردہ وجودوں میں جان آ ہم مر چلے ہیں صاحبِ آخر زمانؑ آ بھاگے ہیں دشت بھر میں بگولوں کے ساتھ ساتھ نوچا ہمیں ہوا نے درختوں کے ساتھ ساتھ آئی ہے ہم کو موت پرندوں کے ساتھ ساتھ دریا کیا ہے دشت کو آنکھوں کے ساتھ ساتھ رو رو کے اپنے آپ کو اندھا نہیں کیا ورنہ ترے فراق میں کیا کیا نہیں کیا کیا کیا شکستہ رنگ تھے ہم نے جما دیے دیوارِ غم میں اشکوں کے ردے لگا دیے اب در بدر نہیں رہے ہم بے بلا دیے رو رو کے ہم نے دشت میں خیمے اگا دیے بے صوت ہو کے صورتِ صوتِ ہزار ہیں ہم خاندانِ عشق کے گریہ گزار ہیں پہنچا ہے دشتِ غم میں عجب خاندانِ عشق سب غیرتِ فرا ہیں سب تشنگانِ عشق یہ پیاس میں گندھے ہوئے کوزہ گرانِ عشق چرخِ زمیں کو کرنے چلے آسمانِ عشق اپنے لہو میں خاک ملا کر بنائیں گے کوزے نہیں یہ لوگ سمندر بنائیں گے آئے ہیں کربلا میں مدینے کو چھوڑ کر جیسے بھنور میں کوئی سفینے کو چھوڑ کر پہنچے ہیں زین تک کسی زینے کو چھوڑ کر سانسوں کی طرح نکلے ہیں سینے کو چھوڑ کر صغریٰ ترے چراغ و ستارہ نہ آئیں گے تجھ آنکھ میں یہ اشک دوبارہ نہ آئیں گے ایسے دکھائی دیتے ہیں بچے زمین پر جیسے ہوں سوگوار پرندے زمین پر ٹیلے ہیں ریت کے کہ ہیں خیمے زمین پر افسوس! عرش مرتبہ بیٹھے زمین پر غربت کا امتحاں جسے یکسر قبول ہے اے آسماں! یہ راکب دوشِ رسولؐ ہے لایا ہے کس طرف انہیں اے محملِ رضا یہ راہبانِ عشق ہیں یہ منزلِ رضا یاں تشنگی ہی تشنگی ہے حاصلِ رضا یہ لوگ جسم و جان سے ہیں شامل رضا لیتے ہیں آنسوؤں کو روانی کے طور پر پیتے ہیں پیاس ، پیاس میں پانی کے طور پر اصغرؑ کا جھولا آگے جھُلاتی نہیں ہوا خیمے کی بجھتی شمع جلاتی نہیں ہوا بادل کو رکھ کے کاندھے پہ لاتی نہیں ہوا کیسے بجھے گی پیاس، بتاتی نہیں ہوا سنا ہٹے میں رات کے خاموش ہو گئی کیا دشت کی ہوا بھی کہیں جا کے سو گئی صحرا ہے آج رات نہ صحرا نورد ہے اُمید کی کرن کفِ مژگاں پہ گرد ہے ہر آنکھ شمعِ خیمہ کے مانند سرد ہے وہ رات ہے کہ چاند کا چہرہ بھی زرد ہے خیمہ نشینِ دشت ہیں آنکھوں کو نم کیے بیٹھے ہیں سب کے سب سرِ تسلیم خم کیے دھونے تمام اے شبِ عاشور دھو بھی جا سختی کشانِ عشق کی حالت پہ رو بھی جا بیمار کہہ رہا ہے کہ اے صبح ہو بھی جا خیمے میں اک صدا کہ مرے لال سو بھی جا شب کے خلاف صبح کے حق میں بیان دے آواز آئی اے علی اکبرؑ اذان دے صبحِ دعا بہ صورتِ صبحِ اَلم ہوئی آلِ عبا نشانۂ اہلِ ستم ہوئی اٹھے قدم تو موت فقط ہمقدم ہوئی لیکن علیؑ کے لال کی ہمت نہ کم ہوئی ہر چند اہل ِ شام کا لشکر تھا سامنے خطبہ دیا حسین علیہ السلام نے منبر نہ تھا پہ صاحبِ منبر تھا ہمکلام دشتِ فنا میں فاتحِ خیبر تھا ہمکلام خوں خواہیاں سے ساقیٔ کوثر تھا ہمکلام کیا ہے غلط جو کہہ دوں پیمبر تھا ہمکلام یوں ٹھاٹھیں مارتی تھی روانہ حسینؑ کی گویا تھا شہرِ علم زبانی حسینؑ کی جن کی صفت صفت پہ فدا کلہم صفات جن کی جہت جہت سے عیاں عالمِ جہات جن کے سخن سخن میں جہانِ تکلمات یا ریت سنتی تھی انہیں یا موجۂ فرات بنجر سماعتوں کا بیاباں تھا سامنے پھر بھی سخن کیا شہ عالی مقام نے گویا ہوئے کہ یہ جو میں آفت رسیدہ ہوں سرو سہی ہوں بارگۂ میں خمیدہ ہوں لوگو! امامِ وقت ہوں میں برگزیدہ ہوں مولائے کائنات کا میں نور دیدہ ہوں بھائی حسنؑ کا ، فاطمہ زہرا کا چین ہوں کیسے تمہیں بتاؤں میں بے کس حسینؑ ہوں دم کر گئے ہیں پیڑ بھی جوں آہوانِ دشت وحشت نہ مجھ سے چاہیے اے ساکنانِ دشت تم نے مجھے بلا کے کیا میہمانِ دشت میں جنگ کے لیے نہیں آیا میانِ دشت تم مدعی نمی کے نہ کارِ نمو کے ہو پیاسے ہو او رپیاسے بھی میرے لہو کے ہو دیکھا تمہارے خط ہیں یہ تم نے لکھے مجھے پڑھ لیجیے سطر سطر میں بیعت کے تذکرے اب کہہ رہے ہو ہم نے یہ تم کو نہیں لکھے اے کوفے والو! تم تو سراسر بدل گئے یوں بھی کسی کا خون بہانا حرام ہے اور یہ غریب تو شہِ عالی مقام ہے میں نے کسی کے گھر کو جلایا نہیں کبھی میں نے کسی کا خون بہایا نہیں کبھی چہرہ لبِ فرات بٹھایا نہیں کبھی یوں گھر بلا کے ظلم کمایا نہیں کبھی کیوں چاہتے ہو مجھ سے جھگڑنا فضول کا جانے دو! کہہ رہا ہے نواسہ رسولؐ کا بنجر سماعتوں میں نہ ٹپکا یہ انگبیں گرہیں جو اُن کے دل میں پڑی تھیں پڑی رہیں ڈوبا تھا زہر خند میں سب لشکر لعیں یہ دشتِ کربلا تھا یا طائف کی سرزمیں کچھ اور گھیرا تنگ کیا فوجِ شام نے حجت تمام کی شہِ عالی مقامؑ نے دھوکا تھا تیز دھوپ پہ گردِ مما ت کا کیسی حیات، گم تھا تصورِ حیات کا اندازہ کیسے کیجیے اُن مشکلات کا آنکھوں تک آ کے رہ گیا پانی فرا ت کا سر پر حباب کی طرح خیمے تنے ہوئے وہ پیاس تھی کہ بچے تھے آنسو بنے ہوئے بے برگیاں پہ موت کی چھاؤں گھنی ہوئی بادل نہ تھا سروں پہ تھی مٹی تنی ہوئی اشجار ہو سکتے تھے، عجب جاں کنی ہوئی وہ دھوپ تھی کہ ریت تھی تانبا بنی ہوئی آنسو گرا جو اصغرؑ مولا صفات کا سب دشت بن کے رہ گیا دریا فرات کا دل کا کٹاؤ اصغرؑ لاچار کی طرف دستِ دُعا تھا عابدِؑ بیمار کی طرف جان کوندتی تھی لشکرِ اغیار کی طرف لیکن نگاہ لاشِ علمدارؑ کی طرف دشمن تھا سر پہ اور تھے بے دست و پا حسینؑ وہ بے کسی کہ دشت بھی کہتا تھا یا حسینؑ مشکِ دریدہ لاشِ علمدارؑ کے قریب تمثیل تھی وفا کی وفادار کے قریب کھلے تھے ہونٹ جیسے ہوں اظہار کے قریب یہ کہتے تھے کہ میں نہیں بیمار کے قریب جب سامنا ہو حشر میں کرنا نہیں گلہ زینبؑ تمہارے بھائی کو پانی نہیں ملا آیا نہ صرف لاشۂ قاسمؑ سموں تلے آباد کارِ دشت تھے لاشے مَلے دلے اس سخت مرحلے سے بھی بڑھ ک تھے مرحلے ہر جسم میں بنا لیے تیروں نے گھونسلے آلِ عباؑ تھی جیسے شجر ٹنڈمنڈ ہوں تیر آ رہے تھے جیسے پرندوں کے جھنڈ ہوں یہ جو زمین پر علی اصغرؑ کی لاش ہے پیاسے کی لاش ہے کہ سمندر کی لاش ہے یہ شیرخوارکی نہیں حیدرؑ کی لاش ہے اُٹھ اُٹھ کے دیکھتی جسے اکبرؑ کی لاش ہے یوں رو کے پڑ رہا ہے وہ تیر و سناں کے ساتھ یہ بچہ آج رات نہ سوئے گا ماں کے ساتھ تپتی زمیں پہ لاشۂ اصغرؑ پڑا ہوا لگتا ہے حرملہ کے مقابل کھڑا ہوا مانع نہیں ہے حلق میں ناوک گڑا ہوا یہ بچہؑ تیر کھائے ہی کتنا بڑا ہوا خوں سے نہا کے اپنے نہالوں میں آگیا وہ پالنے سے پالنے والوں میں آگیا صدمہ عجب تھا دل کے لیے دین کے لیے بے چادری کا رنج تھا تکفین کے لیے آئے تھے گھوڑے لاش کی توہین کے لیے کھودا گڑھا حسینؑ نے تدفین کے لیے روتے تھے ایک ایک تنِ پاش پاش کو اور دفن کرتے جاتے تھے اصغرؑ کی لاش کو یوں ہی نہیں یہ دشت کی مٹی میں روشنی رکھی گئی ہے قبر کی ڈھیری میں روشنی جس سے ہوئی ہے وقت کی آندھی میں روشنی جس سے ہوئی ہے چاند کی کھڑکی میں روشنی جس سے جہانِ خاک میں کوئی نہیں چراغ ایسا جلا دیا گیا زیرِ زمیں چراغ جب تک رہے زمین یہاں یہ تیری رہے اصغرؑ کی پیاس خاک کے لب پر دھری رہے میں چاہتی ہوں کوئی تو ٹہنی ہری رہے میری نہیں تو خاک کی گودی بھری رہے اُمِ رباب نوحہ کناں تھیں دُعا کے ساتھ مولا مری رضا بھی ہے تیری رضا کے ساتھ روتی تھی اور کہتی تھیں اے ربِ مشرقین کیوں دشمنوں نے چھین لیا میرے دل کا چین تُو ہے کہیں قریب تو آ اور سن یہ بین وقتِ نمازِ عصر ہے اور سجدے میں حسینؑ مولا تری رضا تری طاعت کا وقت ہے آلِ رسولؐ پر یہ قیامت کا وقت ہے گریہ کناں ہیں جن و ملک دشتِ غم کے ساتھ سانسیں بھی نوحہ کرتی ہیں تیغِ دو دم کے ساتھ ہے سینہ کوب وقت بھی اپنے عدم کے ساتھ دریا بھی چیختا ہے ہر اک چشمِ نم کے ساتھ جینے کا اعتبار زمانےسے اُٹھ گیا یہ کون ، ذی وقار زمانے سے اُٹھ گیا تلوار بھی اداس ہے، رہوار بھی اُداس رکھی ہوئی ہے خاک پہ دستار بھی اُداس عابد اُداس، لاشِ علمدارؑ بھی اُداس زہرا اُداس، سید ابرارؐبھی اُداس گریہ نہیں ہے صرف اس خانداں کے بیچ شورِ عزا بلند ہے کون و مکاں کے بیچ سیارگاں کو غم کہ وہ مژگانِ تر کہاں منظر کو غم کہ دیکھنے والی نظر کہاں حرفِ دُعا کو غم کہ دُعا میں اثر کہاں چڑیوں کو غم کہ اُن کے گھنیرا شجر کہاں بچوں کو غم کہ حرفِ تسلی کہاں گیا ہستی کو غم کہ صاحب کون و مکاں گیا وہ دھوپ ہے کہ روحِ نباتات غمزدہ وہ وقت ہے کہ حالِ جمادات غمزدہ وہ ظلم ہے کہ ارض و سماوات غمزدہ وہ شور ہے کہ دشت کے جنات غمزدہ مولائے جن و انس کے پرسہ گزار ہیں لگتا ہے کائنات میں سب سوگوار ہیں کرنے لگے ہیں خود کو پرندے لہو میں تر اب دشت سے کریں گے مدینے کو وہ سفر یہ قاصدانِ غمزدہ پہنچے وہاں اگر رنگیں کریں گے شہرِ مدینہ کے بام و در دیں گے ہر اک کو خون نشانی حسینؑ کی لکھیں گے قطرہ قطرہ کہانی حسینؑ کی اے دشتِ بے اماں یہ تیرے بے اماں درخت یہ قتلِ وقتِ عصر پہ نوحہ کناں درخت یہ یاد میں حسینؑ کی ماتم بجاں درخت یہ گریہ زار بیبیوں کے ہم زبان درخت یوں ہیں نڈھال لگتے ہیں بے اختیار سے یہ سینہ کوب ہوتے ہیں دستِ ہزار سے سائے کی طرح خود کو میسر نہیں درخت وہ دھوپ ہے کہ رات کا شہ پر نہیں درخت لاشوں کو کیسے ڈھانپیں کہ چادر نہیں درخت بے پردہ بیبیوں کے بھی سر پر نہیں درخت مل کر ہوا سے پڑھتے ہیں نوحہ حسینؑ کا جب دیکھتے ہیں دھوپ میں لاشہ حسینؑ کا لاشوں کے پاس بیبیاں جب ننگے سر گئیں اُمِ ربابؑ چند قدم پر ٹھہر گئیں بولیں کہ مولا میری تمنائیں مر گئیں لیکن تمہارے واسطے کچھ بھی نہ کر گئیں وعدہ ہے میرا دھوپ میں لاشے کو دیکھ کر مولا! میں چھاؤں میں نہیں بیٹھوں گی عمر بھر مرتا ہے دشت عالمِ فانی ہو جس طرح بہتا ہے وقت آنکھ کا پانی ہو جس طرح ڈھلنے لگی ہے دھوپ جوانی ہو جس طرح انجام کے قریب کہانی ہو جس طرح خیمہ بدر ہوئے ہیں غریب الوطن تمام لیکن ابھی ہوئے نہیں رنج و محن تمام ہونے لگی ہے شامِ غریبانِ کربلا نوکِ سناں پہ سج گیا مہمانِ کربلا قرآن پڑھ رہا ہے خوش الحانِ کربلا یا حالتِ نزول میں قرآنِ کربلا نوکِ سناں پہ دیکھ پیمبرؐکی روشنی غارِ حرا سے آئی ہے اِس سر کی روشنی خیموں میں آگ لگ گئی اُٹھنے لگا دھواں پردے میں آگ کے گئیں بے پردہ بیبیاں ہونے لگا ہے شرم سےتاریک آسماں آئی صدا کہ عونؑ و محمد ؑ ہو تم کہاں بالوں کو کھولے بیبیاں لاشوں کے پاس ہیں رہوار رو رہا ہے، پرندے اُداس ہیں یہ دشتِ غم کہاں، وہ مدینے کا گھر کہاں اے خوابِ خوش! وہ جائے گی باچشمِ تر کہاں بابا چلے گئے ہیں اُسے چھوڑ کر کہاں چھاتی نہیں تو سوئے گی رکھ کر وہ سر کہاں رو رو کے وقت ِشام شہِ مشرقینؑ کو لاشوں میں ڈھونڈتی ہے سکینہ حسینؑ کو