ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم
ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم
ڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم صاحب سے میرا غائبانہ تعارف میری طالب علمی کے زمانے میں پروفیسر حمید احمد خاں کے واسطے سے ہوا جو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن میں ان کے شاگرد رہے تھے اور ان کا ذکر نہایت عزت و احترام سے کیا کرتے تھے ۔ خلیفہ صاحب رہنے والے تو لاہور کے تھے مگر تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں عمر کا بیشتر حصہ انہوں نے لاہور سے باہر گزارا ۔ علی گڑھ سے ایف اے کرنے کے بعد بی اے اور ایم اے فلسفہ کے لیے وہ سینٹ سٹیفن کالج دہلی چلے گئے ، پھر لاہور آئے اور لاء کالج سے ایل ایل بی کا امتحان تو پاس کر لیا مگر وکالت نہیں کی بلکہ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہو گئے ۔ وہاں سے جرمنی گئے اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
وطن واپسی پر عثمانیہ یونیورسٹی ہی میں فلسفہ کے پروفیسرا ور پھر صدرِ شعبہ ہوئے۔ ۱۹۴۳ ء کے لگ بھگ انہیں ریاست جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم کے سربراہ کے عہدے کی پیش کش ہوئی تو گویا ان کی دلی مراد بر آئی ۔ انہوں نے اس پیش کش کو بڑی خوشی سے قبول کیا ، خطۂ کشمیر سے ان کو عشق تھا۔ وہ حیدر آباد سے بھی ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں گزار نے کشمیر جایا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خلیفہ صاحب کشمیری نژاد تھے اور اس پر انہیں بڑا ناز بھی تھا۔ لہٰذا کشمیر میں ملازمت اور مستقل قیام کی صورت پیدا ہوئی تو انہوں نے اسے مراجعت وطن کے مترادف سمجھا اور اس خیال سے کہ اب زندگی کے باقی دن وہیں بسر کر یں گے سری نگر میں ایک پر فضا مقام پر گھر بھی بنالیا مگرتین چار سال کے بعد حالات نے جو کروٹ بدلی اس کی وجہ سے انہیں ملازمت اور جما جمایا گھر چھوڑنا پڑا۔ وہ اپنے اس گھر کا کہ جسے انہوں نے بڑے شوق اور اہتمام سے بنوایا تھا ذکر تو اکثر کرتے تھے مگر ان میں چوں کہ راضی برضار ہے کی صلاحیت بھی تھی لہٰذا انہوں نے اس انتہائی ناخوش گوار نقل مکانی کو بھی زندگی کی ایک حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا اور اسے اپنے دل کا روگ نہیں بنایا ۔ یوں بھی ان کی طبیعت میں کچھ ایسی رجائیت پسندی تھی کہ وہ چیزوں کے تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کر کے ان کے روشن پہلوؤں پر نظر رکھتے تھے ۔ چناں چہ وہ اپنی زندگی میں ان کامیابیوں کو جو پاکستان بننے کے بعد ان کے حصے میں آئیں کشمیر سے واپسی پر محمول کیا کرتے تھے ۔
پاکستان میں وہ ادارہ ٔثقافتِ اسلامیہ کے پہلے سربراہ مقرر کیے گئے بلکہ یہ ادارہ پاکستان کی پہلی مرکزی حکومت کے زمانے میں کہ جس کے وزیر خزانہ غلام محمد صاحب خلیفہ صاحب کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے خلیفہ صاحب ہی کی تحریک پر لاہور میں قائم کیا گیا تھا ، اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے خلیفہ صاحب نے اس کے لیے مال روڈ کے ایک حسین گوشے کلب روڈ پر سبزہ و گل سے تختوں کے درمیان ایک کوٹھی حاصل کی اور پھر وہ تصنیف وتالیف کے اس کام میں ہمہ تن مصروف ہو گئے کہ جو ان کے علمی وفکری کار ناموں کی قیمتی یادگار سمجھا جاتا ہے کشمیر چھوڑنے کا غم ان کو بھول گیا کہ یہی دور اُن کی اپنی دانست میں بھی تخلیقی لحاظ سے ان کی زندگی کا بہترین دور تھا۔
خلیفہ صاحب سے میرارسمی تعارف تو شاید ۴۸ - ۱۹۴۹ ء کے موسم سرما میں ہوا تھا کہ جب پروفیسر احمد شاہ بخاری (پطرس) گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے اور میں وہاں شعبۂ انگریزی میں لیکچرار تھا ایک دن بخاری صاحب سٹاف روم میں آئے اور باتوں باتوں میں یہ بتانے کے بعد کہ آج خلیفہ عبدالحکیم صاحب ان کو ملنے آرہے ہیں انہوں نے غیرمعمولی الفاظ میں ان کا ذکر کیا کہ جو بخاری صاحب کی زبان سے کسی کے بارے میں کم ہی سنے گئے تھے ان کا انگریزی کا یہ جملہ مجھے اب تک یاد ہے :
’’ HE HAS A MOST INCISIVE MIND ‘‘
اور پھرفلسفہ، تصوف اور دیگر متعلقہ علوم میں ان کی دسترس اور رومی و اقبال کے فکر کو سمجھنے میں ان کے فہم و فراست کی تعریف کرتے رہے۔ بخاری صاحب کی گفتگو جاری تھی کہ خلیفہ صاحب خود ہی بخاری صاحب کے سیکرٹری کے ساتھ سٹاف روم کی طرف آنکلے ، بخاری صاحب نے ان کا استقبال کیا سٹاف روم میں موجود اساتذہ سے ان کا تعارف کرایا اور پھر ان کو اپنے کمرے میں لے گئے، خلیفہ صاحب کے بارے میں میرا پہلا تاثر ان کے سرخ وسفید رنگ، ان کے چہرے کی بشاشت اور ان کی شخصی وجاہت کا تاثر تھا۔
کچھ عرصہ بعد خلیفہ صاحب تاثیر صاحب سے ملنے ان کے گھر آئے تو میں اتفاق سے وہاں پہلے سے موجود تھا ، اس دن میں نے ان کی گفتگو بھی سنی جس میں لطیفے، اشعار، حالات حاضرہ پر تبصرہ ہلکی پھلکی گپ شپ ، سبھی کچھ شامل تھا۔ خلیفہ صاحب بڑے کھلے ڈھلے انداز میں باتیں کر رہے تھے ۔ کچھ دیر بیٹھے اور پھر جب جانے کو اٹھے تو تاثیر صاحب انہیں رخصت کرنے باہر تک گئے ۔ جونہی واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ تاثیر صاحب کی طبعی شرارت جو د بائے نہیں دبتی تھی ان کے چہرے پر کھیل رہی ہے ۔ کہنے لگے کہ اصل میں تو خلیفہ صاحب بخاری کے یار ہیں۔ اگر چہ بخاری ان سے عمر میں کچھ چھوٹے ہیں اور ہم بخاری سے چھوٹے ۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ خلیفہ صاحب اپنے آپ کو اقبال سے کم تر نہیں سمجھتے ۔ ان کے خیال میں اقبال بھی کشمیری تھے ۔ یہ بھی کشمیری ہیں، اقبال نے جرمنی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی تھی ۔ انہوں نے جرمنی ہی سے وہی ڈگری حاصل کی ہے۔ اقبال رومی کے عاشق تھے ۔ یہ بھی ہیں اور انہوں نے تو رومی پر کتاب بھی لکھی ہے ۔ اقبال فلسفی اور شاعر تھے ۔ یہ بھی ہیں ۔ غرض یہ کسی بات میں اقبال سے گھٹ کے نہیں ہیں۔ بس یہ ہے کہ اقبال کی بات ذرا چل نکلی ہے ! ..... تاثیر صاحب نے یہ بات جس انداز سے کہی تھی میں اس سے کچھ محفوظ ہوا اور ظاہر ہے کہ وہ خود بھی ۔ مگر اسےتاثیر صاحب کی شوخ گفتاری کا نمونہ ہی سمجھنا چاہیے ورنہ خلیفہ صاحب کی قابلیت کے وہ بھی قائل تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے دورِ جدید میں اسلامی فلسفہ اور ثقافت کو سمجھنے پر کھنے اور اُن کی قدر وقیمت اجاگر کرنے کے جس کام کی ابتداء کی تھی خلیفہ صاحب نے اس کو بڑی خوبی اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا ہے اور اس سلسلے میں ان کی جملہ تصنیفات، جن میں میٹا فزکس آف رومی اور اس کا اردو ترجمہ الٰہیات رومی تشبیہات رومی، حکمت رومی، اسلامک آئیڈ لوجی اور اس کا اردو ترجمہ اسلام کا نظریۂ حیات ، افکارِ غالب اور فکر اقبال شامل ہیں، اپنی اپنی جگہ ایک روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ باقی رہی شاعری تو مشرق میں پڑھے لکھے لوگوں کے طبقے میں شعر تو سبھی کہہ لیتے ہیں ہاں اقبال جیسے عظیم شاعر البتہ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
اس ملاقات کے بعد بھی خلیفہ صاحب سے بعض محفلوں میں سرسری ملاقاتیں ہوتی رہیں مگر میرے ذاتی تعلقات کا سلسلہ اس وقت استوار ہوا جب جنوری ۱۹۵۳ء میں مجید ملک صاحب اور ان کی بیگم آمنہ باجی لاہور آئے ، مجید صاحب تو ہفتہ دس دن ٹھہر کر واپس کراچی چلے گئے مگر آمنہ باجی نے بچوں سمیت لاہور میں دو چار مہینے گزارے ۔ وہ مجید صاحب کے بڑے بھائی حمید ملک صاحب کے ہاں ٹھہری ہوئی تھیں ۔ خلیفہ صاحب آمنہ باجی کے حقیقی ماموں تھے اور مجید ملک صاحب اور حمید ملک صاحب کے پرانے دوست، یہ سب لوگ اکثر خلیفہ صاحب سے ملنے ان کے گھر جاتے تھے کئی بار مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے ۔ آمنہ باجی کی کراچی واپسی کے بعد بھی حمید ملک صاحب اور میں خلیفہ صاحب کے ہاں جانے لگے اور ایک زمانے میں تو یہ دستور بن گیا کہ ہم دونوں رات کے کھانے کے بعد اکثر خلیفہ صاحب کے ہاں کشمیری گھرانوں کی مشہور معروف نمکین پیازی چائے پینے جایا کرتے تھے۔ اس مضمون کی ابتدا میں ان کی زندگی کے بارے میں جو تفصیلات لکھی گئی ہیں وہ اسی زمانے میں دوران گفتگو جستہ جستہ خود ان کی زبانی مجھے معلوم ہوئیں ۔ خلیفہ صاحب کی گفتگو بڑی دل چسپ ہوتی تھی اس میں بذلہ سنجی، لطیفہ گوئی کے علاوہ علمی و ادبی نکتے رومی و حافظ اور غالب و اقبال کے اشعار پر ان کے تبصرے بھی شامل ہوتے تھے ۔ اب میری ملاقات ان سے اتنی بڑھ چکی تھی کہ میں ان کو ان کی اپنی خواہش کے مطا بق آمنہ باجی کے تتبع میں خلیفہ صاحب کی بجائے حکیم ماموں کہنے لگا تھا۔ اگلے چھ سال کے عرصے میں یعنی ان کی وفات تک وہ میرے لیے حکیم ماموں ہی رہے اور ان کی شفقت برابر مجھے حاصل رہی اور کچھ تکلف کے پردے بھی اٹھ گئے۔
میں نے ابھی عرض کیا تھاکہ خلیفہ صاحب کشمیری نژاد نے اور اس پر انہیں بڑا ناز نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ذہنی صلا حیتوں کو بھی اپنے کشمیری ہونے کا فیضان سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ ذراترنگ میں آ کر کہنے لگے کہ دیکھو لیڈروں میں جواہر لال نہرو، شاعروں میں اقبال، وکیلوں میں سر تیج بہادر سپرو، پہلوانوں میں رستمِ زماں گاما سب کے سب کشمیری ہیں۔ میں نے ذر اشرارت آمیز لہجے میں گرہ لگائی کہ یہ سب حضرات کشمیری ہیں تو کیا وہاں کی زبان تک تو جانتے نہیں تھے۔ ان کی ذہن نشوونما اورتربیت تو یو پی اور پنجاب کی سرزمینوں میں پرہوئی تھی اور یہیں کی آب و ہوا اور علمی وثقافتی فضا میں ان کا جوہر چمکا تھا ۔ اس پر خلیفہ صاحب نے اپنے خاص انداز میں نسلی خصوصیات کے اثرات کا قصہ چھیڑ دیااور ایران توران کی حکایات سنانےلگے ۔ میں نے جواب میں ان کو یاد دلایا کہ آپ اپنی تقریروں میں تو اسلامی ثقافتی اقدار کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خاں کا یہ شعر پڑھاکرتے ہیں:
اسلام امتیازِ نسب کا حریف ہے
کل آریہ تھے آج ملے سامیوں میں ہم
اس پر یہ بحث شروع ہوگئی کشمیری آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں یا سامی نسل سے۔ اس کے بارے میں مؤرخین میں دو رائیں پائی جاتی ہیں۔ بہرحال خلیفہ صاحب اہل کشمیر کی حد تک دماغ سے نہیں تو دل سے رنگ ونسل کے امتیاز کے قائل تھے اور اس کے بھی کہ انسانی معاملات میں رنگ ونسل کے اشتراک اور عدم اشتراک کا بڑا عمل دخل ہے۔
اس سلسلے میں وہ علامہ اقبال سے منسوب یہ واقعہ بھی سنایا کرتے تھے کہ ۱۹۳۷ء کے انتخابات کے بعد جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب کا وقت آیا تو اس میں دو حریف تھے۔ سر سکندر کی یونیسنٹ پارٹی کی طرف سے سر شہاب الدین اور کانگریس پارٹی کی طرف سے ڈاکٹر سیف الدین کچلو ، سر شہاب الدین پنجاب کی جاٹ برادری سے تعلق رکھتے تھے اور کچلو امرتسر کی کشمیری برادری سے، سرشہاب الدین اگر چہ علامہ اقبال کے بہت پرانے اور بے تکلف دوست تھے مگر انہوں نے اس انتخاب میں اپنا اثر ورسوخ کچلو کی حمایت میں استعمال کیا حالاں کہ وہ کانگریس کے امیدوار تھے ۔ یہاں تک کہ خلیفہ صاحب کی ایک عز یز باجی رشیدہ لطیف کو جو لاہور سے خواتین کی طرف سے اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی تھیں۔ خلیفہ صاحب کے چھوٹے بھائی خلیفہ عبدالغنی کی معرفت یہ پیغام بھجوایا کہ وہ اپنا ووٹ اپنے کشمیری بھائی کچلو کے حق میں دیں! میں نے یہ قصہ سن کر کہاکہ اقبال نے باجی رشیدہ لطیف کا ووٹ لینے کی خاطر لفظ تو یہی استعمال کیے ہوں گے مگر شاید انہیں ایک انگریز نواز پارٹی کے مقابلے میں ایک حریت پسند پارٹی کے امیدوار کی خصوصاً جب وہ کچلو جیسا مرد ِمجاہد ہو حمایت مقصود ہو گی۔ آپ اس واقعے کی تفسیر اس طرح کیوں نہیں کرتے ؟
اس پر خلیفہ صاحب نے اقبال کی کشمیری نوازی کے سلسلے میں ایک ایساحتمی حوالہ دیا جو میرے لیے ایک انکشاف سے کم نہ تھا۔ وہ کرسی سے اُٹھے ۔ الماری سے اقبال کی کتاب ’’جاویدنامہ “ نکالی اور اس میں سے غنی کاشمیری کے باب میں ذیل کے اشعار سنائے :
ہند را ایں ذوقِ آزادی کہ داد ؟
صید را سودائے صیادی کہ داد؟
آں برہمن زادگانِ زنده دل
لالۂ احمر زروئے شاں خجل
تیزبین و پختہ کار و سخت کوش
از نگاهِ شاں فرنگ اندر خروش
اصلِ شاں از خاکِ دامن گیر ماست
مطلع ایں اختراں کشمیرِ ماست
شعر سنانے کے بعد کہنے لگے تمہیں معلوم ہے کہ یہ برہمن زادگان زنده دل کون تھے ؟ موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو،میں نے کہا کہ اس سے تومیرے موقف ہی کی تائید ہوتی ہے کہ اقبال حریت پسندوں کے طرف دار تھے ۔ خلیفہ صاحب نے یہ کہہ کے مجھے لا جواب کر دیا کہ ذوق آزادی دینے والے توکئی اور بھی تھے ۔ اقبال نے صرف ان دوکشمیری برہمنوں ہی کی طرف کیوں اشارہ کیا ؟
میں نے جب یہ واقعہ ۱۹۵۵ ء میں اپنے قیام لندن کے دوران عاشق حسین بٹالوی صاحب کو سنایا تو انہوں نے مجھے بتایاکہ انہیں تو ان اشعار کا علم خود پنڈت جواہر لال نہرو کے ذریعے ہوا تھا۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ جب نہرو لندن آئے تو انہوں نے انڈیا ہاؤس کے ایک استقبالیہ میں تقریر کرتے ہوئے اپنے کیمبرج کے ایام کو یاد کیا اور پھر ایسے سربرآوردہ ہند وستانیوں کے ذکر میں کہ جنہوں نے کیمبرج میں تعلیم پائی تھی اقبال کا نام لیا اور یہ کہا کہ وہ بہت بڑے شاعر تھے اور بعد میں انہوں نے مجھے اور میرے والد کو اپنی ایک نظم کے ذریعے زندہ جاوید کر دیا۔ عاشق صاحب نے کہا کہ تقریر کے بعد چائے کے دوران میں نے پنڈت جی سے پوچھا کہ اقبال کی وہ نظم کون سی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’’جاوید نامہ‘‘ میں غنی کاشمیری والا باب دیکھیے عاشق صاحب نے جب اس میں یہ اشعار دیکھے تو ٹھٹھک کررہ گئے ۔
کشمیر میں خلیفہ صاحب کے آباد ہونے اور پھر وہاں سے نکلنے کا ذکر میں کر چکا ہوں۔ اس سے ایک دل چسپ داستان بھی وابستہ ہے جسے وہ بڑے مزے لے کر سنایا کرتے تھے ۔ شاعروں میں خلیفہ صاحب رومی کے مرید تھے اور حافظ کے گرویدہ دیوان حافظ سے فال نکالنا بھی ان کا ایک محبوب مشغلہ تھا ۔ اکثر موقعوں پر حافظ سے رجوع کیا کرتے تھے ۔ چناں چہ ان کے بیان کے مطابق ۱۹۴۳ ء میں جب کشمیر جانے کا امکان پیدا ہوا تو شیراز کے لسان الغیب کی طرف سے جو آواز آئی اس نے خلیفہ صاحب کےلیے فیصلے کاراستہ صاف کر دیا :
مسند بباغ بر کہ بخدمت چو بندگان
استادہ است سرو و کمر بستہ است نے
اور جب وہ وہاں سے واپسی کے بارے میں سوچنے لگے تو لسان الغیب نے آنے والے زمانے کی دہشت سے خبر دار کر تے ہوئے نکل بھاگنے کا مشورہ دیا :
آتش زرق وریا خرمن دیں خواہد سوخت
حافظ ایں خرقۂ پشمینہ بر انداز و برو
خلیفہ صاحب روشن خیال اور وسیع المشرب آدمی تھے ۔ اسلامی فلسفہ وتصوف کے ماہر تھے مگر اس کے ساتھ مغربی فلسفی اور ثقافت کا گہرا اثر بھی قبول کیے ہوئے تھے۔ آزادیٔ نسواں کے حامی تھے اور ان کے خاندان اور قریبی عزیزوں کی خواتین سب پڑھی لکھی تھیں اور پردے کی رسم سے آزاد۔ یوں تو خلیفہ صاحب اقبال کے بہت قائل تھے لیکن آزادیٔ نسواں، پردہ اور اسی قسم کے چند اور معاملات میں وہ اقبال کے خیالات سے متفق نہیں تھے اور اس کا برملا اظہار ہی نہیں بلکہ اس کے بارے میں فقرہ بازی سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے خودہی ذکر کیا کہ مری کے مال روڈ پر انہیں اقبال کی بیٹی منیزہ اور ان کے ساتھ یا الگ سے اکبرالٰہ آبادی کے خاندان کی کوئی خاتون سیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ انہوں نے خلیفہ صاحب آداب سلام کیا تو خلیفہ صاحب نے بغیر کسی رورعایت کے انہیں اکبر کے مشہور اشعارسناد یے:
بے پردہ آج آئیں نظر چند بیبیاں
اکبرزمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پو چھا جو اُن سے آپ کے پردے کو کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پر مردوں کی پڑگیا
مجھے چوں کہ خلیفہ صاحب کے ان خیالات کا علم تھا لہٰذا جب انہوں نے مجھ سے اپنے مقالے ’’اقبال اور ملا ‘‘کے بارے میں پوچھا جو پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں ایک خصوصی جلسے میں پڑھا گیا تھا جہاں میں بھی موجود تھا تو میں نے کہا کہ مقالہ آپ کا بہت اچھا تھا لیکن ایک اور مقالے کا امکان ابھی باقی ہے اور وہ بھی صرف آپ ہی لکھ سکتے ہیں ۔ کہنے لگے وہ کون سا؟ میں نے کہا۔’’دی ملا ان اقبال‘‘ یہ سن کر خلیفہ صاحب محظوظ ہوئے اور ہنس دیے اور بات ہنسی میں ٹال دی۔
میری ان ملاقاتوں کے دوران خلیفہ صاحب کی بیگم اور ان کی بیٹی رفیعہ اور خاندان کے دوسرے افراد سے بھی میرے اور میری دونوں چھوٹی بہنوں جمیلہ اور رشیدہ کے بھی جو میرے ساتھ رہتی تھیں میل جول کے مراسم پیدا ہوگئے ۔ دسمبر ۱۹۵۸ ء میں جب جمیلہ کی شادی کا موقعہ آیا تو میں نے سوچا کہ بجائے کسی ملائے مسجد کو بلانے کے کیوں نہ خلیفہ صاحب سے نکاح پڑھانے کی درخواست کی جائے ۔ خلیفہ صاحب ہم لوگوں سے بڑی شفقت کرتے تھے لہٰذا فوراً مان گئے ۔ نکاح کے ساتھ ہی شام کے کھانے کا انتظام بھی تھا۔ ہم لوگ اس زمانے میں میسن روڈ پر تاثیر صاحب کے مکان کے اوپر کے حصے میں رہتے تھے ۔ چناں چہ نکاح کی رسم تاثیر صاحب کے ڈرائنگ روم میں ادا ہوئی۔ دسمبر کے آخری دن تھے ۔ اس شام اتفاق سے بارش بھی ہوگئی ۔ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی ۔ خلیفہ صاحب نے نکاح کا خطبہ شروع کیا تو سب سے پہلے انہوں نے دولہامیاں کو مخاطب کر کے یہ مزے کی بات کہی کہ آپ کی ہونے والی بیوی کو تو میں جانتا ہوں ۔ بڑی سعیدبچی ہے ۔ آپ کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں خدا کرے کہ آپ اس کے قابل ثابت ہوں ۔ اس کے بعد وہ داستان در داستان ایسے رواں ہوئے کہ خاتمہ کلام کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے ۔ آخر میں نے پر وفیسر حمید احمد خاں سے کہ محفل میں میرے عزیزوں میں وہی ایک بزرگ تھے اور خلیفہ صاحب کے چہیتے شاگردبھی۔ عرض کیا کہ خلیفہ صاحب کو کسی طرح اشارہ کریں کہ وقت کم ہے اور موسم بہت سرد ، ہم یہ تقریب جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حمید احمدخان صاحب نے کسی قدر شرارت آمیز لہجے میں بہ آواز بلند کہا کہ خلیفہ صاحب قبلہ آپ کے علم وفضل کے خزانے تو لامتناہی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے! اس پر مجلس میں قہقہہ پڑا ، مگر اس فقرے کا سب سے زیادہ لطف خود خلیفہ صاحب نے لیا۔ اس لیے کہ یہ فقرہ تھا ہی ان کا ۔ بعد میں انہوں نے خود بتایا کہ مجید ملک صاحب اور آمنہ باجی کے نکاح کے موقع پر جب خلیفہ صاحب ہی کے ایک دوست مولانا صدر الدین صاحب اس قسم کاطویل خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو خلیفہ صاحب نے دلہن کے ماموں کی حیثیت سے انہیں اس طرح مخاطب کیا تھا ۔ حمید احمد خاں صاحب نے خلیفہ صاحب سے یہ قصہ سن رکھا تھا ۔
اس واقعے کے کوئی ایک مہینے بعد یعنی جنوری ۱۹۵۹ ء کے آخر میں خلیفہ صاحب کا کراچی میں انتقال ہوگیا۔ میں اتفاق سے کراچی کے سرکاری دورے پر تھا ۔ خلیفہ صاحب بھی کسی کام کے سلسلے میں وہاں پہنچے ۔ وفات سے ایک دن پہلے خلیفہ صاحب مجید ملک کے ہاں آئے اور ہم سب نے مل کر دوپہر کا کھانا کھایا ، دوسرے دن صبح خلیفہ صاحب، ممتازحسن صاحب سیکرٹری فنانس حکومت پاکستان سے ملنے گئے، ممتاز صاحب کسی ضروری کام میں مصروف تھے ۔ خلیفہ صاحب صوفے پر بیٹھے ہوئے ان کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے کہ انہیں دل کا شدید دورہ پڑا اور انہوں نے ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے ہی جان جان آفریں کے سپرد کر دی ۔
خلیفہ صاحب پہلے بھی ایک دفعہ دل کے دورے کا شکار ہوئے تھے مگر انہوں نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا ۔ انہوں نے اپنے اس عارضے کے متعلق یہ رائے قائم کر لی تھی کہ دل کے زخم کا ٹانکا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ ایک دفعہ لگ جائے تو پھر ٹوٹتا نہیں ۔ لہٰذا انہوں نے غذا اور دیگر معمولات میں بھی کبھی کوئی پرہیز ملحوظ نہیں رکھا ۔ اپنے قینچی مار کہ سگریٹ بھی مسلسل پیتے رہے کبھی کسی قسم کی ورزش بھی نہیں کی بلکہ جب انہیں اس زمانے کے مشہور امریکی ماہر قلب پال ڈیڈ لے وہائٹ کا یہ قول سنایا گیا کہ دل کے مریضوں کو پیدل چلنا چاہیے یا سائیکل چلانا چاہیے تو خلیفہ صاحب نے کہ پیدل چلنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے تھے یہ کہہ کے ٹال دیاکہ ” ایناں ڈھیکیاں دا کی پتہ اے ، کدی کج کہندے نے کدی کج‘‘۔ اس پنجابی فقرے کے بنیادی لفظ ڈھیکیاں کی اُردو تو مجھے آتی نہیں باقی مطلب یہ ہے کہ ان کا کیا پتہ کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ۔
میں نے عرض کیا تھا کہ خلیفہ صاحب وسیع المشرب اور روشن خیال آدمی تھے ۔ ان کے حلقۂ احباب میں ایک طرف تو پطرس بخاری، مجید ملک ، تاثیر، امتیاز علی تاج ،جسٹس ایس اے رحمان، جیسے حضرات شامل تھے ان کے علاوہ بھی ان کا ملنا جلنا زیادہ تر اسی قسم کے انگریزی پڑھے لکھے مگر اُردو فارسی سے ربط رکھنے والے جد ید خیالات کے لوگوں سے تھا اور دوسری طرف ان کے ادارے میں روایتی دینی مدرسوں کے پڑھے ہوئے مولوی تھے جن سے ان کا روزانہ کا رابطہ تھا اور جن کی معلومات اور ریسرچ سے وہ استفادہ بھی کرتے تھے۔ خلیفہ صاحب ان دونوں دنیاؤں کے شہری تھے اور دونوں میں آسو دہ رہتے تھے۔ وہ سنجیدہ فکری مسائل سے اپنی گہری دل چسپی اور لگاؤ اور اپنے علم وفضل کے باوجودٹھس آدمی نہیں تھے ۔ اپنی فطری شگفتہ مزاجی اور خوش دلی کے باعث وہ ہر محفل کے آدمی تھے اور کبھی کبھی تو وہ اپنے موچی دروازے کے یارانِ قدیم سے ملنے بھی چلے جایا کرتے تھے ۔ وہ اپنے ہم عمروں کے علاوہ چھوٹی عمر کے لوگوں اور نوجوانوں سے بھی انتہائی شفقت کا برتاؤ کرتے تھے ۔ ان کی گفتگو میں حکایتوں اور داستانوں کی چاشنی بھی تھی اور لطائف و ظرافت کی پھلجھڑیاں بھی۔ میں نے انہیں کبھی کسی قسم کے شکوک و شبہات میں گرفتار نہیں دیکھا۔ در اصل وہ اپنے آپ میں اور اپنے آپ سے بہت مطمئن اور خوش تھے اور دوسروں کو بھی اسی طرح مطمئن اور خوش دیکھنا چاہتے تھے ۔
( ۱۹۹۵ء)