قیصر قلندر

قیصر قلندر

آلاتِ موسیقی

    آلاتِ موسیقی

    تمہید

    گُلویُ موسیقی (Vocal Music) یا گائین ہو یا ساز سنگیت میں جُداگانہ اور مختلف سازوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بے ساز گانا نظم خوانی یا کِوتَا پاٹھ کے مترادف ہوتا ہے آواز کے ساتھ ساز آہنگ یا صدا کا کام کرتے ہیں۔ یہ آہنگ سماعیاتی ما حول قائم کرنے میں ممدو معاون بن جاتا ہے جس میں کئی ہوائی سالمہہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو مختلف قوت کے ارتعاش ضرب یا ذمہ یا دَم (پھونک) سے وجود میں آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سنگیت کی ہریں پیدا ہو جاتی ہیں اور فجا ترنمی کیفیت سے متاثر ہو جاتی ہے۔ کوئی سازاز کُود کوئی آہنگ پیدا نہیں کر سکتا۔ ساز بادی ہو یا زہی یا ضربی جب تک نہ دَم، زخمہ یا ضرب سے مطلوبہ آہنگ پیدا کیا جائے سماعیاتی ماحول میسر نہیں آ سکتا اور نہ ہی خوش آئیندہ صدا پیدا ہو سکتی ہے۔

    تعارف

    بھارت میں آلاتِ موسیقی اتنے متنوع اور اتنے وافر ہیں کہ اِن کا ذکر اختصار سے بھی نہیں کیا جا سکتا چہ جائکہ وہ سیر حاصل ہو۔ سازوں کی اَن گِنت قسمیں ہیں۔ سازوں کی اَن گِنت قسمیں ہیں۔ اُن کا شمار بھی ممکن نہیں ان سازوں میں بعض قومی سطح پر معروف و مروج ہیں اور کچھ علاقائی اور مقامی سطحوں پر ممتاز درجہ رکھتے ہیں بعض ساز جو لوک سنگیت سے وابستہ رہے   ہیں اُن کی مقبولیت اور شہرت اکثر دیہی علاقوں تک ہی محدود رہی ہے۔ سازینہ یعنی ارکسٹرا کا تصور بھارتی موسیقی میں بہت پُرانا نہیں ہے۔ بلکہ ہرساز فرداً فرداً دوسرے سازوں کی سنگت میں بجایا جاتا رہا ہے۔ سازینہ کی ایک ابتدائی شکل تو وہ ہو سکتی ہے جب راجوں، مہاراجوں، نوابوں اور شہزادوں کے درباروں اور محلفوں میں کچھ ساز نواز ملازم اکٹھا ہو کر کوئی دُھن یا کسی راگ کے آدھار پر کوئی نغمہ یا دُھن یش کیا کرتے تھے یا سازندے مذہبی اداروں سے منسلک ہوتے اور وہ کسی بھگتی گیت کی طرز بجاتے۔ کیا ایسی کاوشوں کو سازینہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہاں مقصود نہیں ہے بلکہ قارئین کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا ہے کہ ہماری کلاسیکی موسیقی ہیں سازینہ کا کوئی تصور نہیں رہا ہے۔ سازینہ کی تدوین،   ترویج اور اہمیت پر اگلے کچھ صفحوں میں بات کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

    ساز چوں کہ بے شمار ہیں لہٰذا اُن پر الگ الگ ایک ایک کر کے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اس لئے صرف اُنہی سازوں کا ذکر مقصود ہے جو معروف و مقبول ہیں۔ قومی یا بین الاقوامی سطح پر۔

    ایک تو وہ ساز ہیں جو خالصتاً ہندوستانی نژاد ہیں اور دوسرے وہ جو یونانیوں اور مسلمانوں کی آمد کے بعد بھارتیہ سنگیت سے منسلک ہوئے اور پھر یکے بعد دیگرے کلاسیکی موسیقی میں شامل ہوتے گئے۔ انگریزوں کے تسلط کے ساتھ کچھ اور سازوں سے بھارتیہ سنگیت آشنا ہُوا اور دھیرے دھیرے وہ بھی کلاسیکی موسیقی کا جُز و لانیفک بن گئے اور دیسی   یا مقامی( ہندوستانی) سازوں سے کچھ زیادہ قابلِ رشک مقام پا گئے۔

    پُرانے سازوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو استعمال سے باہر ہو چکے ہیں۔ مستعمل نہیں رہے ہیں۔ ان کا ذکر صرف مسودوں میں ملتا ہے یا وہ سنگتراشی کے فن پاروں میں نظر آتے ہیں۔ اس کے یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قدیم ساز متروک ہوئے ہیں۔ نہیں! ایسا نہیں ہے۔ قدیم ساز آج بھی مستعمل ہیں۔ مسلمانوں کے ورودکے ساتھ ایرانی اور عربی ساز بھی بھارتیہ کلا کاروں نے اپنائے۔ یہ بھی صحیح ہے اُن سازوں کے قبولِ عام حاصل کرنے میں کچھ دشواریاں بھی پیدا کی گئیں۔ وہ ساز بیشتر مسلمان موسیقاروں اور خاص طور سے شمالی خطے تک ہی محدود رہے۔ دکنی بھارت کے سنگیت کاروں نے اُن سے کوئی نمایاں استفادہ نہیں کیا وہ اپنے سازوں سے لو لگا بیٹھے۔

    دیکھا جائے تو پورے برصغیر پاک و ہند میں اتنے اورنت نئے ساز ہیں جن کو سُننے یادیکھنے کے لئے انیک جگہوں پر پہنچنا پڑے گا یا گندھرو مہیا ودیالہ بمبئی سے لے کر بڑدوھ میوزیم، انڈین میوزیم کلکتہ اورنیشنل میوزیم دھلی کی سیر کرنا پڑے گی تو ہمیں تصویروں میں یا طاقوں پر یا الماریوں میں انہیں! حتیاط سجے ہوئے پائیں گے۔

     

    کتابوں اور مسودوں میں سازوں کا ذکر

    موسیقی کے فن پر سنسکرت میں وہ دستاویزیں یا کتابیں جو دست بُردِ زمانہ سے کسی نہ کسی طرح محفوظ رہ سکی ہیں۔ مختلف سازوں کے بیان کی حامل ہیں۔ ان کے علاوہ تصویروں میں بھی ساز نقش یا کندہ کئے گئے ہیں۔ سنگتراشی کے کئی ایسے نمونے دستیاب ہوئے ہیں جن میں آلاتِ موسیقی کی شبہیں کندہ ہیں۔ یہاں اُن غاروں اور عبادت گاہوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے جن میں ماحول اور زندگی کے مختلف پہلوؤں اور ان سے وابستہ افعال پتھروں میں کئی اشکال میں کندہ ہیں۔ ہزاروں سال پہلے کے بنے ہوئے بُدھ و یہار اور استو پا خاموش گواہ ہیں۔ امراوقی سانچی میں کئی سازوں کے نقش پتھروں پر تراشے گئے ہیں۔ ہیون سان(چینی سیاح) نے اپنے سفر نامے میں خاص طور سے امراوتی کے فنِ سنگراشی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اُس نے دیواروں پر اور ستونوں پر کئی سازوں کی ٹسویریں اور خاکے منقش پائے۔ ایسی ہی ایک شبیہہ کا بیان یوں لکھا ہے:

    “ "ایک بڑی جاذبِ نظر تصوریر تھی، خاص ماحول کی عکاسی کر رہی تھی۔ سبزہ اور پیڑ پودے پس منظر کے طور پر استعمال کئے گئے تھے۔ کمی اگر تھی تو رنگوں کی۔ مگر منظر بڑا ہی دلکش تراشا گیا تھا۔ اٹھارہ عورتوں کا   ایک گروہ تھا۔ ہاتھوں میں طرح طرح کے ساز ہیں۔ جو ڈھول شنکھ، سُرنا سے ملتے جلتے ساز اور کوئی ساز قانون کی شکل سے مشابہت رکھتا۔ ایک ساز افریقی ساز سانچوں کی طرح تھا۔ یوں لگتا تھا کہ سب کی سب عورتیں انے اپنے ساز بجا رہی ہیں۔ اُن سازوں کا ذکر کتابوں اور مسودوں میں شاذونادر ہی ملتا ہے مگر مصری اور آشوری مصوروں اور سنگ تراشوں نے محفوظ کیا ہے۔

    کیپٹن ڈے کی مزید تحقیق کے مطابق ہیون سانگ کو سنگتراشی کے بعض نمونوں میں رومن تِبائی پر ے (TIBES PAKES) سے ملتے جلتے سازوں کی شبیہیں ملی تھیں۔ اس ضمن میں بعض محققوں کا خیال ہے کہ ہیون سانگ کو ہندوستان میں کچھ ایسے بھی سازوں کی تصویریں ملی تھیں جو دراصل قدیم یونان کے متروک ساز تھے۔

    سازوں کا رُتبہ

    سازوں کی مختلف قسموں پر روشنی   ڈالنے سے پہلے کچھ سازوں کے سماجی رُتبہ کی بات مختصر ہو تو آگے چلیں ہمارے ہاں کئی ایسے ساز ہیں جن کا دخل مذہبی رسوم میں رہا ہے یا یوں کہا جائے کہ مذہبی پیشواؤں اور اوتاروں سے نسبت رہی ہے۔ غالباً اُسی لئے ازمنہ قدیم سے تا امروز اکثر سازوں کی ساخت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ گویا ان سازوں کے ساتھ کسی طرح کا تقدس وابستہ ہو گیا ہے۔ مشہور ایرانی موسیقار ڈاکٹر روح اللہ خالقہ (ناظم ادارہ موسیقی املی تہران) نے کشمیر کی سیاحت کے دوران 1956ء میں کہا تھا کہ کشمیری موسیقی کی صنف "صوفیانہ موسیقی" قدیم ایرانی موسیقی سے ملتی جلتی ہے اور سنتور اور دیگرسازوں میں کوئی تنوع نہیں ہوا ہے بلکہ قدیم بھارتی سازوں کی طرح تغیر آشنا نہیں ہیں۔

    کئی فرنگی ماہرین موسیقی یہ بھی کہتے ہیں کہ "ہندوستان کے عوام مزاج اور عادات کی رو سے قدامت پسند رہے ہیں اور سازوں میں بھی کسی تبدیلی کو پسند نہیں کرتے"۔

    بہرحال کچھ ساز ہمارے پاس ہیں اور ہم اُن سے برابر استفادہ کرتے آئے ہیں۔ مُرلی اور شنکھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ساز مہاراج مری کرشن جی کی دین ہیں۔ ہندو دیو مالا میں مُرلی کا وہی مرتبہ رہا ہے جو قدیم یونان میں لیئر (LYRE) کا تھا۔ شوجی مہااج سے اکتا راقسم کا ساز پنایا پنا کا منسوب ہے کہیں یہ وہی اکتارا تو نہیں جونا رومُنی بجاتا تھا۔ اِک تارا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو پنجاب، ہماچل اور جموں و کشمیر میں متدوال ہے اور دوسرا وہ جو بنگال میں معروف ہے۔ دونوں کی ساخت، ہیئت اور طرزِ استعمال میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔

    سازوں کی قسمیں

    سہولیت اور آسانی کے لئے سازوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

    1۔       بادی ساز            (WINA INSTRUMENTS)

    2۔   زہی ساز          (BOW INSTRUMENTS)

    3۔   ضربی ساز PPUCK AND PERCUSSION INSTRUMENTS

    بادی سازوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو وہ ہے جو زُبان( REED )کی بدولت بجائے جاتے ہیں۔ جیسے سُرنا، شہنائی، ناگا سورم یا نادا سورم وغیرہ کے علاوہ یوروپی بادی سازوں میں کلارنٹ، اُوبُو (OBOE) وغیرہ معروف ہین۔ دوسرے وہ ساز جو پھونک یا سانس کی مدد سے بجائے جاتے ہیں یعنی مُرلی، بانسری، یوروپی فلیوٹ، ارغنونِ دہنی (MOUTH ORGAN) ۔ ایسے سازوں میں زُبان استعمال نہیں ہوتی۔

    بادی سازوں میں مرلی، بانسری، شہنائی، ناگوسورم، الغوزہ، کاشرائی، بین، کتما، قرنا یا سُرنا، نفیری، نوبت، کرال، تبرائی، اور کئی دوسرے ساز شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھینس، ہرن، ہاتھی اور دوسرے جانوروں کے سینگوں سے بنے ہوئے ساز برصغیر ہندو پاک کے مختلف علاقوں میں مقامی فنکاروں کی ضرورتوں کو پورا کرتے رہے ہیں۔ ان سب سازوں میں کچھ تو قومی سطح پر معروف ہیں تو کچھ علاقائی یا مقامی یا دیہی سطح پر۔

    اِدھر سب سازوں کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جا سکتا البتہ بعض زیادہ معروف و مقبول سازوں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔

    ایسے سازوں کے "نقوش" قبل از تاریخ یا عہدِ عتیق میں بھی ملے ہیں۔ جو پتھروں کے زمانے سے لے کر عہد آہن تک مختلف رُوپ میں نظر آتے رہے ہیں۔ کبھی تو وہ دھرم سے وابستہ رہے تو کبھی ریت رواح سے۔ ان دوروں کے بعد مغرب و مشرق سازوں کی ہئیت، میں تبدیلی حسبِ ضرورت ہوئی۔ اور نئے نئے ساز وجود میں آتے گئے۔ موجودہ عہد تک آتے آتے اَن گِنَت بادی۔ زہی اور ضربی ساز موسیقاروں نے بنائے یا ان کی ایجاد میں شمولیت کی اور اپنا کران کی ترویج و تشہیر میں حسبِ مقدور حصہ لیا ہے۔

    بانسری

    پراچین بھارت میں وَمسی یا وَمشی وہ آولین بادی ساز تھا جس سے مپرلی، بانسری اور پھونک یا مُونہہ سے بجانے والے دوسرے ساز بنائے گئے۔ یہ کہنا صحیح معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسی کئی ایسے بادی سازوں کا پیشتر و ساز ضرور ہے جو بانس سے بنائے جاتے ہیں۔"ایشیا کی سر گزشتِ موسیقی" کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بعض سمیری اور چینی سازوں کا پتہ چلتا ہے جو بانس یا نرکل سے بنائے جاتے تھے۔ بعض موسیقی دانوں کا خیال ہے کہ عہدِ تاریخ سے قبل اس قسم کے ساز ایشیائی عوام میں قبول عام حاصل کر چکنے کے بعد معدوم ہوتے گئے۔ لیکن مشرقی ایشیائی خطے میں ایک ایسا بادی سازوجود میں آیا جو بانسری کا ہم پلہ تھا اور مونہ سے بجایا جاتا تھا۔ اُس میں پانچ یا چھ سوراخ ہوتے تھے ان پر انگلیاں رکھی جاتی تھیں تا کہ مطلوبہ سُر اور صدا پیدا ہوں۔ اسے بعض سازشناسوں نے سمیری ساز ٹی جی (ti gi) گردانا ہے ۔ چین میں اسی طرح کا ایک قدیم ساز ہسوآں (hsuan) تھا جس کا سلسلہ عبادت گاہوں کے اُن سازوں سے ملتا ہے جو پرستش کے وقت استعمال کئے جاتے تھے۔ اسی ساز کی ترمیم شدہ صورت بعد کا وہ چینی ساز ہے جسے موسیقاروں نے شی ایہہ (CHIIH) نام دیا ہے۔

    شِی ایہہ کی بات چلی ہے تو یہاں یہ کہنا ضروری ہے اس بادی ساز کے دونوں سِرے بند ہوتے تھے ان پر PLUG لگائے جاتے۔ اس کے خول کے درمیان میں ایک سوراخ ہوتا جس کو دم یا پھونک سے بجایا جاتا۔ اس سوراخ کے دائیں بائیں تین تین سوراخ ہوتے جو آہنگ پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے۔ دونوں سِروں کو بند کرنے کی وجوہ کے بارے میں ایف۔ ڈبلیو گالپن نے اے،ایچ، فوکس سٹرینج وے کے حوالے سے تبصرہ کیا ہے:۔

    اس طرح سے شِی ایہہ میں آہنگ گمک یا (RESONANCE) برقرار رکھنے کی کوشش کامیاب رہی۔ جانبین کے سپوراخ کُھلنے سے سپتک ہیں چوتھے سُر کو تیور بنانے میں آسانی ہوتی جب بُدھ مت چین پہنچا وہ پہلی صدی عیسوی کا زمانہ تھا۔ تو فوراً اسے سرکاری مذہب کا مقام میسر آیا اور شِی ایہہ نے دھرم کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات سے ہوتا ہوا ہندوستان پہنچ گیا اور یہاں پہنچ کر اس موجودہ بانسری کا جنم ہوا جسے ساز نو از مُنہ سے بجاتے تھے اور اس میں منہ سے لگا کر بجانے کا سپوراخ بائیں جانب رکھا گیا اور چھ سوراخ جن پر انگلیاں رکھی جاتی تھیں دائیں طرف۔ یہاں گمک اور گونج کا اصول ذرا بدل جاتا ہے اس کا براہِ راست اثر ہمیں بودھ آرٹ اور فنِ تعمیر میں جھلکتا نظر آتا ہے۔

    اے، ایچ، فوکس اسٹرینج وَے نے اس ساز کا ذکر اپنی تصنیف "ہندوستانی موسیقی میں نظام" میں کیا ہے کہ "شی ایہہ بدھ مت کے ساتھ پہنچا۔ موجودہ دور میں اس ساز کی نمائیدگی بانسری یا مُرلی یا ف،لما گوری (PHILLEGOR) کر رہے ہیں جو مہاراج سری کرشن سے منسوب ہیں۔"

    بادی سازوں میں سب سے قدیم ترین ساز شاید سرنگا،بھینس کا سینگ، جو آج بھی نوادِرات خانوں میں محفوظ ہے اور کئی علاقوں میں محدود طور پر مستعمل رہا ہے۔ سازشناسوں نے کو کلی، کلا ہائے کو میو، نل ترنگ، تونبی، ابوا(اسرائیلی ساز) سِی ایم (اہل بابل کا ساز) وغیرہ کو اسی قبیل کے شمار کئے ہیں۔ یہ ساز محفلوں ، تقریبوں، تہواروں اور جلوسوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

    "پرانی بانسریاں، مرکزی یوروپ اور کیلفور نیا کے غاروں میں سے برآمد ہوئی ہیں"۔ (پروفیسر سامبا مورتی) فرانس میں بھی بارہ سنگا کے سینگ سے بنی ہوئی ایک بانسری ملک ہے جو پتھروں کے زمانے میں متدوال رہی ہے۔ اِسے شکاری بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ وہ اسے سیٹی کا کام لیتے رہے ہیں۔

    عہد قدیم سے بھارت اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے مابین ثقافتی ارتباط و اختلاط جاری رہا ہے۔ جہاں ادب پارے اور صنعت و حرفت کے نمونے ایک دوسرے ملک میں لائیے جاتے یا پہنچائیے جاتے وہاں آلاتِ موسیقی بھی اس تبادلے کے زُمرے میں آتے ہیں چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اس ثقافتی تبادلہ ، میں وہ بادی ساز جوشی ایہہ کے نام سے مقبول ہو کر معدوم ہو چکا تھا پھر از سرِ نوچین پہنچا تو چینیوں کے لئے اجنبی ساز تھا اور انہوں نے اسے تی توں (Ti TUN) کا نام دیا۔ یہی ساز قرونِ وسطیٰ میں باز لطینی اثرات اور وسائل سے افریقہ میں نمودار ہُوا اور کئی صورتوں میں متداول رہا۔ اہل بابل کے ہاں سینگ سے بنے ہوئے ساز کو سِی ایم (SI IM) کہتے تھے۔

    گمان غالب ہے کہ شہ ایہہ اور سِی ایم ہم نژاد ساز رہے ہیں۔ یہ بھی غالب ہے کہ جب شِی ایہہ چین سے عرب دیس تک گیا تو اس کی ساخت میں تبدیلی لائی گئی اور متغائیر(تغیر شدہ)، شِی ایہہ سے شیپورین گیا۔ پھر یہی ساز کئی صورت میں ساز نوازوں کا محبوب ساز بنا جن میں شیپور، قرنا اور سُرنا زیادہ مشہور ہیں۔

    بعض سازشناسوں کا خیال ہے کہ پامپاتی ساز سپار (SPAR) میں تحریف ہوئی۔ شیپور آشوری لفظ (SHAPPARA) یا عبرانی لفظ (SHCPPAR) یا عربی شب بور (SHAB BUR) سے مشق ہے۔ ایران میں بانسری کو "سازِ چوپان" اور نے ہفت بند بھی کہتے ہیں، برصغیر پاک و ہند میں بانسری چرواہوں اور گڈریوں کا محبوب ساز ہے۔ اونچی نیچی گھاٹیوں میں وادیوں میں بانسری سے نکلے ہوئے مدھر میٹھے سر سار ے ماحول میں خوشگوار اور دل پذیرسماں باندھتے ہیں۔

    اس وقت اگر ساغر نظامی کی ایک طویل نظم "سری کرشن" سے کچھ شعر بانسری کی تاثیر کے حوالے سے آپ کی ضیافتِ طبع کے پیش کروں تو کوئی مضاحقہ نہیں ہو گا۔

    یہ نظم اس صدی کے اوائل میں تخلیق ہوئی تھی جب انگریزوں کی حکومت تھی اور غلامی کا زمانہ تھا۔ ساغیر نظامی نے اس نظم میں آزادی کی تمناؤں کا ذکر کیا ہے اسی لئے سری کرشن مہارج سے استدعا کرتے ہیں کہ بنسری کے نغموں سے ایسی   روح پھونک دو کہ ہم وطنوں میں آزادی حاصل کرنے کا جذبہ آتشیں عمل میں بدل جاتے اور زنجیر غلامی راکھ کر دے۔

    چین اور جاپان کے لوک سنگیت سے لے کر موجودہ دور تک بانس کی نے استعمال ہوتی ہے یش کوہائی (جاپانی بادی ساز ہے) ایک خشک بانس کے دواڑھائی فٹ ٹکڑے سے بنایا جاتا ہے اور اس سے کیا کیا مدھرتا نیں برآمد ہوتی ہیں اور کس طرح سے روح کو مسحور کرتی ہیں۔ اس چوبِ خشک کی تاثیر کیا ہے کہ مولانا روم کی شہرہ آفاقی تخلیق یوں شروع ہوتی ہے؎

    برصغیر پاک و ہند میں نے نوازی نے کئی مرحلے ملے کتے ہیں چھوٹی سے چھوٹی بانسری سے لے کر ایک بڑی لابنی بانسری تک راتج رہی ہے۔ چھانچ سے چارفٹ لمبی بانسریاں جدگانہ رساتی (RANGE) کی حامل رہی ہے ۔ " فرانس میں درختوں کے چند ایسے کھوکھلے تنے بھی ملے ہیں جن کو دَم دیجئے تو وہ گونج اُٹھتے ہیں۔ شاہی مقبرے سے اکہری اور دوہری دونوں قسم کی بانسریاں برآمد ہوتی ہیں۔ مورخین انہیں مصری بانسری سے بھی قریب تیرہ سو برس پُرانی یعنی قریباً دو ہزار آٹھ سو قبل از مسیح کی مانتے ہیں۔" (شہباب سرمدی بحوالہ کلیئر پولن (ANCIENT MUSIC OF NEAR-EAST BY CLAIRE POLIN) عصری نے نوازوں میں پنا لال گھوش کا نام امر اور فہرست ہے۔ جنہوں نے چوبِ خشک سے بنے ہوئے اس ساز کو کلاسیکی مقام دلوایا۔ ساخت کے تجربے کئے اور پتلے سے بانس کے علاوہ لگ بھگ دو انچ قطر والے بانس سے ابنسری تراشی جس میں سُر کی گہرائی اور گیرائی کا ایک خوش آہنگ امتزاج پیدا ہوا۔

    ثقافتی ارتباط

    کلچرل اختلاط کی بدولت چھوٹی بڑی تہذیبوں نے ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ سرجان مارشل نے اپنی تضیف کیمبرج ہسٹری آف انڈیا میں اس ثقافتی لین دین کے بارے میں خوب کہا ہے:

    "تاریخ اقوامِ ملل میں شاید ہی کوئی ایسی واضح اور بین مثال موجود ہو جب دو متضاد عظیم اور بے مثل تہذیبیں ایک دوسے سے اثر پذیر نہ ہوتی رہیں یہ فرق کرنا کہ ایک دوسرے سے جُدا ہے ذرا دزوار بن جاتا ہے ان دونوں تہذیبوں کی جُداگانہ نوعیت، مذہب اور ثقافت کا اختلاف ان کے اثرات کی تاریخ کو دلچسپ ہی نہیں بلکہ سبق آمورز بھی بناتے ہیں۔"

    یہ اقتباس چین، بھارت او روسط ایشیائی(خاص طور سے مصری) تہذیبوں کے اختلاط اور اُن سے حاصل اثرات کے حوالے سے دیا گیا۔ شاید ہمیں سازوں کے زُمرے میں ارتباط اور اشتراک یا جسے میں ثقافتی لین دین کہنا پسند کرتا ہوں۔ شِی ایہہ کا چین دوبارہ پہنچنا اور پھر نئے نام سے موسوم ہونا یا ایران اور عرب ملکوں کے حاصل شدہ تجربات اور پھر ان ملکوں کو متاثر کرنا ثقافتی لین دین کے عمل کا نتیجہ ہے۔

    کچھ اور باتیں ہوں بانسری یا مرلی یا نے کے حوالے سے تاریخی پس منظر کے طور سے ہزاروں سال پہلے اقوام باستانی میں بانسری سے ملتا جپلتا ساز مقبول رہا۔ جو شاہد، تحریری اور روایتی، اُس زمانے سے متعلق آج ملتی ہیں ان میں ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے نوازی پسند کرتے تھے اور نے نوازی سے واقف تھے۔ یہ بھی ساز شناسی کے بعض ماہروں نے لکھا ہے کہ اسلام کی رُو سے نے نوازی کی تحریم نہیں ہوئی بلکہ نَے کی آواز کو کئی امراض اور روھانی اختلال کے علاج و معالجہ میں موثر و مفید پائی گئی۔

    یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ ابتائ میں انسان نے ان حیوانوں کی ہڈیون سے بوق بنائے ہونں جنہیں وہ اپنی غذا کے لئے ہلاک کرتا تھا اس کی قدیم ترین مثال ہمیں سنا کریپس (SENNA CHERIB) کے مزار کے پتھروں کے نقوش میں ملتی ہے وہ آشوری (Assyrian) شہنشاہ تھا لیکن بعض محققیوں کا خیال ہے کہ انسانی آواز کو تقویت دینے اور اسے دُور تک پہنچانے کے لئے بُوق کا استعمال ہوتا تھا اور بجانے کا طریقہ سادہ تھا یعنی ذرا زور سے پھونک مارنے سے صدا نکلتی تھی مگر سُر محدود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بوق قدیم یونانی اور رومی اس وقت بھی استعمال کرتے جب کہ کوئی معرکہ ہوتا۔ آج بھی بوق بعض ایرانی اور عرب علاقوں میں متدوال ہے اور قدیم یونانی اور رُومی شیپور سے مشابہت رکھتا ہے۔

    شنکھ

    شنکھ محدود افادیت کا حامل ہے اور بہت ہی مختصر ضرورت پوری کرتا ہے اُس کے سُر بھی محدود ہیں شنکھ کے ساتھ ایک طرح کا تقدس وابستہ ہے۔ مندروں سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبوں تک شنکھ استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے بادی سازوں میں اسے وہ درجہ نہیں مل سکا جو بانسری یا دوسے بادی سازوں کو میسر ہے۔

    شنکھ بہت پُرانا ساز تصور کیا جاتا ہے اور بعض ساز شناسوں کا خیال ہے کہ شنکھ یورپ کے ساز ٹرمپٹ (TRUMPET) کا پیشترو ہے ۔ شِنکھ کا ذکر قدیم سنسکرت کتابوں اور مسودوں میں ملتا ہے اور اس کے استعمال کے بارے میں یہ بیان بھی درج ہے کہ یہ جنگ میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ علاوہ اس کے مذہبی تقریبوں پر ضرور بجایا جاتا تھا۔ آج بھی ایسی تقریبوں اور مندروں میں شنکھ ضرور بجایا جاتا ہے۔ مندروں میں اکثر پوجا پاٹھ کی ابتدائیں میں شنکھ بجایا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کُوجا پاٹھ کا آغاز ہوا ہے۔ آج کل بھگ منگے بھی گاؤں گاؤں دَکھشنا وصول کرتے شنکھ بجاتے ہیں۔

     

    الغوزہ

    بادی آلاتِ موسیقی میں ایک دلچسپ ساز الغوزہ ہے ۔ جو دو چھوٹی چھوٹی بانسریوں سے بنتا ہے۔ اس کی لمبائی ایک سے دو فٹ کے درمیان ہوتی ہے۔ ساز نواز پوری مہارت سے مطلوبہ سُر پیدا کرتا ہے۔

    برصغیر پاک و ہند میں الغوزہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، ہماچل اور صوبہ سرحد کے علاوہ دوسرے علاقوں میں سب سے زیادہ دیہی عوام میں مقبول رہا ہے۔ خمسیو خاں جیسے الغوزہ نواز بہت ہی کم پیدا ہوتے ہیں جو اس مختصر رسائی والے ساز سے لوک دُھنون ، نغموں سے لے کر نیسم کلا سیکی دُھنیں بجانے میں مہارت حاصل کر چکا ہے۔

    عرب اور یرانی ساز شناسوں نے مختلف سازوں کی نشاندہی کی ہے جو اِسی قبیلے کے ساز ہیں جن میں قابلِ ذکر یہ ہیں:۔

    1۔       مزمارالمثنیٰ

    2۔       دونائی

    3۔       دوآہنگ

    ایک رومی ساز( TIBES PERES )   کو ذکر بھی الغوزہ کے ساتھ ہوا۔ الفارابی نے بھی دو نائی کے بارے میں لکھا ہے کہ دو بانسریوں کی لمبائی یکساں ہوتی ہے۔ ہر ایک میں پانچ پانچ سوراخ ہوتے ہیں ان میں سے ایک بانسری بنیادی سُر یعنی سا فراہم کرتی رہتی ہے اور اس طرح سے ایک دل پذیر گمک یا گونج پیدا ہوتی ہے اور دوسری، بانسری سے مطلوبہ سُرنکالے جاتے ہیں۔ دونوں ملا کر الغوزہ بڑے دل پذیر نغمے پیدا کر سکتا ہے۔

    اَولس اور ڈبل ریکارڈر

    برصغیر کہئے یا مشرق کی سر زمیں کے علاوہ قدیم ترین یونانی ساز اَولس (AULOS) مانا جاتا ہے جس میں دو زُبانہ استعمال ہوتے تھے۔ بجانے کا ڈھنگ بھی نرالا تھا۔ اَولس نواز ہونٹوں کے درمیان زُبانہ دابتانہ تھا بلکہ منہ میں بھر کر ہلکے ہلکے پھونک سے محدود تِیور آہنگ پیدا کرتا تھا جیسے کہ مشرقی ممالک میں ایسے بادی ساز بجانے کا رواج تھا۔ اولس کا لاطینی ساز تِبیا (TIBIA) سے خاص مناسبت تھی جو دُو نے یا دو آہنگ کا مترادف مانا جاتا ہے۔ ڈبل ریکارڈر (DOUBLE RECORDER) اصل میں قرون وسطی میں اولس اور تِبیا کی مدد سے وجود میں آیا ہے اور گمان غالب ہے کہ یوروپ میں کلاسیکی موسیقی میں ڈبل فلاگیلٹ (DOUBLE FLAGEOLET) قدیم یونانی اور لاطینی بادی سازوں کے آدھا ر پر بنایا گیا تھا۔

     

    دوسرے کم معروف بادی ساز

    شہنائی اور ناگوسورم کے ذکر سے پہلے مناسب یہ ہے کہ اُن چھوٹے چھوٹے بادی سازوں کا بھی بیان ہو جنہیں وہ درجہ حاصل نہیں ہُوا ہے جو ان دوبادی سازوں کو میسر ہوا ہے ۔ مگر یہ چھوٹے چھوٹے ساز دیہی ماحول میں مروج رہے ہیں یا علاقائی ماحول میں پَنپ چکے ہیں۔ مگر کلاسیکی رُتبہ نہیں پا سکے ہیں۔ ایسی صورت میں سازوں کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی ساز نواز موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ دراصل اگر عوام بہت زیادہ ایسے سازوں کو پسند نہیں کرتے تو قبولِ عام حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ساز کم توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اُن کی ساخت اور رسائی RANGE بھی غیر مقبولیت کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے سازوں میں ہیں۔

    1۔       بین(سپیرے والی)

    2۔       تومبی

    3۔       کما

    4۔       تورائی

    5۔       نفیری یا نوبت

    6۔       کراں

    7۔       کاشراتی

    ان کے علاوہ اور بھی کئی چھوٹے چھوٹے علاقائی بادی سازہوں گے جو مختلف علاقوں میں مقامی طور پر متدوال ہوں گے جن کا ذکر یہاں نہیں کر پاؤں گا۔

    بین

    بین تو عام طور سے سپیرے بجایا کرتے ہیں۔ بین سے نکلی ہوئی دُھن سے کیسے سانپ قابو میں آتا ہے؟ یہ معاملہ موسیقی دانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ماہرین حیوانات کے لئے معمہ بنا ہوا ہے کیوں سانپ سماعت سے محروم ہے۔ بعض ماہرین کی تحقیق کے نتیجہ میں یہ بات کافی وزن دار ہے کہ سانپ میں چُھونے کی حِس زیادہ تیز ہے اس لئے جو سُر بین سے نکلتے ہیں وہ سانپ کے جسم سے چُھو جاتے ہیں اور سپیرے کی حرکت سے وہ اپنے آپ کو ہلاتا جُھولاتا ہے۔ بہر حال یہ مسئلہ شاید "احساس و موسیقی" کے زمرے میں آ سکتا ہے جس میں حیوانات پر ہی نہیں بلکہ نباتات پر موسیقی کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

    نومبی

    تومبی بھی بین کی طرح کا ساز ہے وہ بھی سپیرے بجاتے ہیں۔ یہ بھی کدونما ساز ہے جس کا بالائی حصہ پتلا ہوتا ہے۔ گرون کے مصداق اور نچلے حصے میں دو چھوٹے سے بانس گزار کر بالائی حصے کے کُھلے سر سے سُر نکالے جاتے ہین۔ انہیں اس طرح سے کاٹا جاتا ہے کہ وہ زب ان REED) )یا مونہ ہ نال کا کام دے سکیں۔ ایک بانس کے سوراخوں کو انگلیوں سے چھیڑا جاتا ہے تا کہ دَم سے برابر سُر پیدا ہو سکیں اور دوسرا بانس متواتر بنیادی آہنگ پیدا کرتا ہے ۔

    کاشراتی وغیرہ

    یہ ایک قسم کی بانسری ہے جو کھاسی پہاڑیوں میں لوک سنگیت میں محبوب و مقبول ہے۔ کما، تورائی دتُراتی)، نضیری، نوبت پتیل سے بنائے جاتے ہیں اور لگ بھگ عصری ٹریمپیٹ کے پیشر و ہو سکتے ہیں۔ یہ ساز مختلف مگر محدود مواقع پر استعمال ہوتے ہیں۔

    آئیے اب ایسے دو سازوں اور اس سے ملتے جلتے بادی سازوں کا ذکر کریں جو بانسری ہی کیطرح سے کلاسیکی موسیقی میں ممتاز مقام پا چکے ہیں اور اُن کے بجانے والے بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں۔ یہ ہیں:

    1۔       ناگا سورم

    2۔       اور شہنائی

    ان دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ چلے گا اور ان کے ساتھ سُرنا یا سُر نے، سورنائی یا قرنا کی بھی بات ہو گی ۔ کیوں کہ یہ سارے بادی ساز ایک ہی قبیلے کے ہیں۔

    کچھ پس منظر کی بات

    بیشتر اس کے کہ ہم ناگا سورم یا شہنائی اور ہم چو قسم کے سازوں کا ذکر چھیڑیں کچھ اور متعلقہ باتوں کا ھوال یا اعادہ ضروری ہے۔

    بارہویں صدی عیسوی سے قبل ہمارے پڑوسی ملکوں خاص طور پر وسط ایشیائی اور عرب ملکوں میں کئی بادی ساز استعمال ہوتے تھے۔ سازشناسوں کا قیاس ہے کہ آلاتِ موسیقی میں کامل ترین اور دل چسپ ترین وہی ساز ہے جو انسان کی آواز کے بالکل قریب ہو۔ کچھ عالموں کا خیال ہے، کہ جب انسان کی آواز پہلے پہل اپنے گلویا حلقوم سے نکلی تو حالات کے تقاضے کے مطابق ایک ایسے ساز نے جنم لیا جسے مُرلی یا بانسری کہتے ہیں۔ یہ بڑی دلچسپ بات ڈاکٹر مہدی فروغ نے اپنے ایک مقالے "مُزماروناتی" (مطبوعہ: مجلہ موسیقی 13شہر پور 136تہران 1957ء) میں لکھی ہے۔

    "نورائے نے وسائر آلاتِ بادی بیشتر از صدائے ساز ہائے دیگر بصدائی انسان شابہت وار د یعنی بطیعت نزدیک ترمے باشد"۔

    بُوق

    عرب ممالک میں ایک ایسا بادی ساز استعمال میں رہا ہے جو نفیری، سرنگا اور سُرنا کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اُس کا نام بُوق تھا۔ ابتدائین بوق ان حیوانوں کی ہڈیوں سے بنایا جاتا تھا جو شکار کئے جاتے تھے۔ گوشت غذا کے طور پر کام آتا اور چمپڑے سے پوشاک بنتی اور موزون ہڈیوں سے بپوق بنائے جاتے۔ بُوق کی صدا کافی دور تک سنائی دیتی ہے کئی تلاقوں میں یہ ساز آج بھی مستعمل ہے۔

    "امریکہ کے روڈ انڈین (RED INDIAN) آج بھی ہڈی کی بنی ہوئی بانسری بجاتے ہیں۔ موجودہ آسام کے کچھ قبائل بیج بونے اور فصل کاتنے کے زمانے میں "لِنگ پُوجا" کا مخصوص تیوہار مناتے ہیں اور "بُہو ناچ" ناچتے ہیں۔ تو منہ کا ایک باجہ بجاتے ہیں جس کو "مہے سِنگر پوپا" کہتے ہیں۔ اسے بھینسے کے سینگ سے بناتے ہیں اس لئے اسے "مہے سنہگر" کہتے ہیں۔ پوپا کا لفظ پائیپ سے دُور کا نہیں معلوم ہوتا"۔ (ہیم بروابحوالہ شہاب سرمدی، رسائلہ شب خون ستمبر 1967ء۔)

    لداخ(جموں و کشمیر) میں آج بھی اس قبیلے کا ایک ساز"تونگ" ملتا ہے جو جنگ اور امن میں برابر استعمال ہوتا تھا۔ جیسے کہ نفیری اور سرنگار۔

    بوق کے علاوہ قصابہ، یراع، شاہین اور کئی عمدہ بادی ساز استعامل میں رہے ہیں۔ مُزمار اورنے کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ لکڑی کا نالی نُما ساز ہے جسے نَے نواز دَم سے، پُھونک مار کر بجایا کرتے۔ ایسے سازوں کے بارے میں ابن سینا کے ایک شاگرد رشید ابو منصورینِ محمد معروف بن زیلہ نے استادِ مکرم کی تصنیف"کتا   النجات" میں ان سازوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سے ابوالفرج اصفہانی (تصنیف۔ کتابُ الاغانی) اور ابونصر فارابی (تصنیف۔ علم الانظام) میں مزمار اور دوسرے کئی بادی سازوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ الفارابی نے لکھا ہے کہ مُزمار آٹھ سوراخ والا سازتھا جو مونہہ سے بجایا جاتا تھا اور اس پر پورا وکٹیو (OCTAVE ( سپتک) پیش کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔ اُسی زمانے کی بدلی ہوئی ہئیت سے سورنائی یا سورنا یا شعیرہ یا سپرنا وجود میں آئے۔

     عربی تصانیف

    عربوں نے موسیقی پر بہت کچھ لکھا ہے اور عربی ادب و ثقافت کو اپنی معتبر تحقیقی کام سے مالا مال کیا ہے تاریخ موسیقی، کے علاوہ نغموں کے مجموعے، ساز شناشی سے متعلق کتابیں، موسیقی کا قنانی پہلو، موسیقی اور جمالیات اور موسیقاروں کی سوانح عمریاں شامل ہیں۔ قدیم ماہرین میں الغارابی، المسعود، الصفہانی، محمد ابن اسحق، اتوراق، ابو محمد عبداللہ، محمد بن یوسف خورازمی، ابن غیبی، صفی الدین عبدالمومن، جامی بو علی سینا، اولیا چلبی چند قابلِ ذکر موسیقی دان ہیں۔ ابن خلدون نے الا صفہانی کی کتاب کتاب الاغانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "وہ عربوں کا دیوان ہے" ابنِ غیبی نے جامع الالحان، میں سورنا، قرنا، کرنا کے بارے میں لکھا ہے کہ کہ بادی ساز ہیں۔ ہیئت میں خمیدہ نال جیسے ہیں۔ خالی نالی میں سوراخ ہیں، مُونہہ سے بجاتے ہیں۔

    کرنا/قرنا یا سورنائی کی تخلیق و ترویج کے بارے میں بھی کچھ موسیقی دانوں میں اختلاف برائی ہے۔ اولیاء چلبی نے اِسے ترکی سازشناس جمشید کی دین کہا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ تُرکی کے مختلف علاقوں میں سورنائی کو جُدا ناموں یاد کیا جاتا ہے۔ اس نے کچھ علاقائی نام یوں دئیے ہیں۔

    زورنا، زرنا، ظورنا اور قبازونا۔

    معروف ایرانی سازشناس ڈاکٹر مہدی فروغ کا قیاس ہے کہ قباز و رنا شاید وہی سازہے جو اِن دنوں مصر میں زُمر الکبر کے روپ میں پایا جاتا ہے۔ جس کی لمبائی 60سینٹی میٹر ہے اور اس میں سات سوراخ ہیں۔ جن سے مطلوبہ سُر نکالے جاتے ہیں۔

    کشمیر میں بھی ایک سورناتی یا سُر نے مستعمل ہے جو لوک ناچ اور لوک ناٹک کے کلا کار بجاتے ہیں۔ اس بادی سازکو لوک سازوں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ بعض لوگوں کا گمان غالب ہے کہ سُر نے ساز بھی کشمیری کلاسیکی موسیقی (صوفیانہ موسیقی) سے وابستہ تھا جو گردِ روزگار کی زد میں آ کر حافظ (صوفیانہ موسیقی کے ساتھ مُغینا ور رقاصہ) کے ساتھ جُدا ہو گیا۔ اس طرح سے صوفیانہ موسیقی سے وابستہ یہ تنہا بادی ساز بھی اس سے چھن گیا۔

    بہرحال کشمیر میں سُر نے اب بھی اپنی قدیم ہئیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس حالت کئی اسباب ہیں جن میں سب سے مقدم ثقافتی ارتباہ اور اختلاط کی کمی۔ سر پرستی کا فقدان، ساز نوازوں کی کم آگہی اور جو ان فنکاروں کی عدم توجہی ہو سکتی ہے۔ سُر نے اب بھی دیہی کلا کاروں میں مقبول ہے اور شہر باش موسیقاروں نے اسے زمانہ بھر سے منہ نہیں لگایا ہے۔

    کشمیر میں   سُرنے نے عوامی ناٹک یعنی بانڈہ پا تھر میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ بانڈہ پاُتھر میں کلا کار کوئی منظر یا کوئی "پتے کی بات" (طنز و مزاح پر محمول) ادا کرتے ہیں تو سُر نے پر لہراجیسا پیش کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں جب ناتک کا کوئی ایکٹ ختم ہو جاتا ہے تب بھی سُر نے بجائی جاتی ہے۔ اگر پا پتھر میں منا دی یا کسی بڑے آدمی یا کسی سرکاری اہلکار یا کسی راجہ کی آمد کا مقام آجاتا ہے تو حسِبِ ضرورت سُر نے کا استعمال ہوتا ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ سُر نے نواز بھی پا پتھر کا حصہ بن جاتا ہے۔ سر نے کے ساتھ نگارہ یا طبل مستعمل رہے ہیں۔

    شہنائی

    لوک سنگیت سے لے کر شاستریہ سنگیت تک شہنائی کی داراتی ہے۔ سنگیت ہی کیا شاعری بھی اِس کے ذکر لطیف سے آسودہ ہے۔

    میلے ٹھیلے ہوں یا موسم کے بدلنے کی رُت، فصلوں کی کٹای کا جشن یا قومی تیوہار یا شادی بیاہ کی تقریبیں، شہنائی کی ،ُمدھرتانیں مسرت و شاد مانی کی نقیب ہوتی ہیں۔ اس ساز سے کچھ عجیب طرح کی عقیدت وابستہ ہے۔ شہنائی اصل میں کُھلی فضا کا ساز رہا ہے۔ اب وقت گزرنے اور ضرورت کے ساتھ ساتھ یہ محدود فضاؤں، کمروں یا ہالوں میں بھی بجائی جاتی ہے۔ سات چھیدوں والا یہ بانس نما سا ز کلاسیکی موسیقی میں معتبر مقام حاصل کر چکا ہے۔

    ڈاکٹروی، کے، نرائن میںن(مشہور موسیقی   دان اور آل انڈیا ریڈیو کے سابق ڈائریکٹر جنرل) کا کہنا بجا ہے کہ موجودہ مقام تک اگر کسی فنکار نے شہنائی کو پہنچایا ہے تو وہ استاد بسم اللہ خان ہے جس نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے اس ساز پر راگ راگنیاں پیش کیں اور قومی اور بین الاقوامی رُتبہ دلانے کی کامیاب کوشش کی۔ استاد بسم اللہ خان نے اپنے والد اُستاد پیغمبر بُو ا کے علاوہ اپنے تایا استاد علی بخش سے شہنائی بجانے کی تربیت حاصل کی۔ اُستاد بسم اللہ خان کے دادا اور چچا گوالیاء کے بالا جی مندر میں صبح و شام شہنائی بجایا کرتے تھے یہ مندر مہاراجہ سِندھیا نے بنایا تھا اور وہی اس کا مہتمم بھی تھا۔ آرتی سننے کے لئے اور بجانے والے سازندہ کو دیکھنے کیلئے لوگ شردھا اور عقیدت سے محفوظ ہو جایا کرتے تھے۔ شہنائی کی تربیت میں استاد محمد حسین(لکھنؤ والے) بھی شامل تھے۔ رات رات بھر ریاض جاری رہا کرتا جس کی بدولت سُر سرگم سے پُوری واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ہی اعتماد بڑھ گیا اور پھر18سال کی عمر میں یعنی 1926ء میں ایسی دھاک بٹھادی کہ ملک کے امتیاز شہنائی نواز کا اعزاز پایا۔

    لَوڈ سپیکر اور مائکرو فون کی غیر موجودگی میں شہنائی کی رسائی RANGE کی بدولت میلوں تک لوگ اس کے رسیلے اور بلند آہنگ نغمے سُنا کرتے اور بقول استاد بسم اللہ خان کہ "تب پتہ چلتا تھا کہ کہیں کوئی تقریب ہے، شادی ہے یا عقیقہ ہے یاُمنڈن ہے یا تہوار یا اجتماع ہے"۔ لوک دُھنیں بجائی جاتیں اور دھیرے دھیرے راگ راگنیاں بھی پیش ہونے لگیں۔ محرم کے دنوں میں شہنای پر سوز خوانی کی کوئی دُھن بجتی و شادمانی کا یہ ساز ایسا سماں باندھتا کہ آنکھوں سے خود بخود آنسو رواں ہو جاتے لوگ پکارتے "مِت روشہنائی۔ مت رو!" شہنائی کے تیکھے، طرار اور کو مل آہنگ میں ایسی تاثیر پیدا کرنے کا فن استاد بسم اللہ خان کو آتا ہے۔

     

    ہیت و ساخت

    شہنائی قدرے مخروطی ہئیت کی ہوتی ہے اوپر کے حسے میں زُبانہ (منہ نال) لگتا ہے یہی حصہ لبوں کے بیچ میں دبایا جاتا ہے انگلیاں سوراخوں پر حسبِ منشا و التزام اٹھائی اور رکھی جاتیں۔ دَم (سانس ) اور انگلیوں کا باہمی تعاون مطلوبہ سُر نکالنے میں مدد کرتا ہے اور ساز نواز اپنی دانست۔ واقفیت اور انگلیوں کی جان کاری سے سماں باندھتا ہے۔ اس ساز کا صوتی حپسن اور آہنگ کی رسائی (RANGE) اسے بادی سازوں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے۔ یہ ساز شمالی بھارت میں بے حد مقبول ہے اور دکنی بھارت میں اسی قبیلے کا ساز ناگا سورم کی صورت میں موجود ہے۔ دونوں آہنگ کی شدت کے لئے ممتاز و معروف ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ شہنائی صدا میں ملائمت ہے جبکہ ناگا سورم میں تیزی اور تیکھا پن۔ ڈاکٹر نرائن منن نے ایک دفعہ شہنائی کے بارے میں لکھا تھا۔ " یہ ساز کم و بیش اُس قدیم اوبو (OBOE) کے مصداق ہے۔ جس زمانے میں اُس میں کُنجیوں (KEYS) کا اضافہ نہیں ہوا تھا"۔

    بہر حال، کُھلی فضا کا ساز ہونے کے باوجود شہنائی اپنی صوتی خصوصیات کی وجہ سے کلاسیکی سنگیت کا اہم ساز بن گیا ہے اُسی طرح سے جیسے مغزلی موسیقی میں اُوبو کلاسیکی درجہ پا چکا ہے۔

    نفیری

    شہنائی بجانے کا عمل بانسری اور اوبو سے قدرے مختلف ہے۔ کلاسیکی سنگیت پیش کرتے وقت شہنائی کے ساتھ تان پورہ استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا بنیاد ی (DRONE) قائم رکھنے کے لئے اسی طرح کی چھوٹی سی شہنائی بجائی جاتی ہے جسے نفیرہ یا نفیری کہتے ہیں۔ ساز نواز کے کان میں متواتر اور مسلسل نفیری کا سُر پڑتا ہے نفیری بجانے والے کا کام کوئی آسان نہیں ہے۔ اُس میں اگر فنی مہارت اور دَم پر قدرت نہ ہو تو ساز نواز کے عمل میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔

    تنہا نہیں

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوک سنگیت میں ایک ہی ساز نواز شہنائی تنہا نہیں بجایا کرتا۔ اس کی لے اور تال کے لئے دوسرا کلاکار ڈھول یا نگاررا(نقارہ) پر ضرب لگاتا ہے کبھی کبھی خوشی اور شادیانے کی تقریبوں میں دو سے چار تک سازندے شہنائی مل کر بجاتے ہیں۔ کلاسیکی سنگیت میں بھی اسی طرح کا چلن ہے۔ یوں تو یہ کام بڑا آسان سا لگتا ہے لیکن یہ کام بڑا مشکل ہے۔ اجتماعی صورت میں سُر قائم رکھنا اور سنگت کرنا ہوشیار کلا کارہی کر سکتا ہے۔ بہرحال ہر وقت شہنائی نواز کے حواس اور فن کی شناسائی کی آزمائشیں ہوتی ہے۔ اس لئے ساز نواز بڑی محنت، لگن اور ریاض سے اپنے فن کو جلا بخشتا ہے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دستور کے مطابق تال قائم رکھنے کے لئے شہنائی کے ساتھ طلبہ بہت ہی کم بلکہ مردنگ بجائی جاتی ہے۔

    ناگا سورم

    ناگا سورم شہنائی کے قبیلے کا زام ہے۔ اس بادی ساز کو شہنائی کا حلیف کہہ سکتے ہیں۔ کوئی خوشی کی تقریب، کوئی تہوار یا کوئی پوجا اس ساز کی تیز تیکھی دُھنوں کے بغیر نامکمل تصور ہوتی ہے۔ دو سے تین فٹ کی لمبائی کا یہ ساز لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنایا جاتا ہے اور شہنائی کی طرح دو زبانہ (DOUBLE REED) سے بجایا جاتا ہے اس میں بارہ سوراخ ہوتے ہیں۔ عمودی انداز میں کلا کار مطلوبہ سات سُر نکالتے رہتے ہیں اور باقی ماندہ سُوراخ متواتر آہنگ اور سُر پیدا کرتے ہیں۔ ناگاسورم بھی کھلی فضا کا ساز ہے اس سے نکلے ہوئے سُر کُھلے ماحول میں تحلیل ہو جاتے ہیں لیکن اب جبکہ بند کمروں اور ہالوں میں بجانے کا رواج چل پڑا ہے تو نا گام سور م نواز بڑی مہارت اور احتیاط سے اس کی تیز طرار صداؤں کو آہنگ سے (MODULATE) کرتا ہے۔ا س میں بڑی محنت اور ریاض کی ضروری ہوتی ہے یہ معیار یوں ہی نہیں ہاتھ آتا۔

    دکھنی بھارت نے کئی ممتاز نا گا سورم کلا کار پیدا کئے ہیں۔ جو بڑی خوبی اور سلیقہ سے اِس ساز کا استعمال کرتے ہیں اور دل پذیر پیرایے میں لوک سنگیت سے لے کر کلاسیکی سنگیت تک اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ناگا سورم کو انہی مشتاق فن کاروں کی وجہ سے قومی درجہ میسر آ چکا ہے۔ ناگا سورم ہی طرح کا ایک اور ساز ہے جسے نکرانہ کہتے ہیں جو ساخت و ہئیت میں چھوٹا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں بھی اتنے ہی چھید ہ وتے ہیں جتنے کہ ناگا سورم کے۔ مگر صدا بڑی چُھبنے والی پیدا کرتا ہے۔ ناگا سورم کا ذکر جب دکھنی بھارت کے موسیقی داں اور ساز شناس کرتے ہیں تو وہ کچھ اور مگر کم تربادی سازوں یعنی اوٹو، پوں جی، شِرقی اپانگ، تومبو وغیرہ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ جن کا استعمال مقابلتہً نہایت محدود مختصر ہوتا ہے۔

    جہاں تال قائم رکھنے لئے شہنائی کے ساتھ مردنگ بجائی جاتی ہے وہاں ناگاسورم کے ساتھ اسی قبیلے کا ایک ضربی ساز استعمال ہوتا ہے جسے تاویل کہتے ہیں۔ تاویل ڈھول نُنام جربی ساز ہے جس کے دونوں سروں پر چمڑا لگایا جاتا ہے ایک جانب تو اس چمڑے پر چھوٹی سی لکڑی سے ضربیں لگائی جاتی ہیں تو دوسری سمت سے انگلیوں سے۔ انگلیوں میں یا تو لوہے کے دائیرے ہوتے ہیں یا انگوٹھیاں، تاویل بلند آہنگ ہوتا ہے اور اچھا تا ویل کلا کار اُسے بڑی عُمدگی سے بجایا کرتا ہے عجب حُسنِ اتفق ہے کہ کشمیری سورنائی یا سُرنے کے ساتھ اسی قسم کا ڈھول نما ضربی ساز بجایا جاتا ہے جسے وصول کہتے ہیں تاویل ہی کی طرح وصول پر بھی ضربیں لگائی جاتی ہیں اور لے اور تال قائم کی جاتی ہے۔

    نوبت، نفیری اور تورائی وہ بادمی ساز ہین جو امن اور جنگ کے دنوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نوابوں، راجوں، مہااجوں، امیروں اور تئیسوں کی نوبت خانوں قیام گاہوں اور محلوں میں ایسے ساز نواز ملازم رکھے جاتے جو خاص موقعوں پر یہ ساز بجاتے۔ کسی کی آمدو اخراج یا جشن کے موقعوں پر یہ ساز نواز اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے ہے۔ ایسے سازوں نے اگر شہنائی اور ناگاسرم کی طرح کا درجہ نہیں پایا ہے مگر یہ ساز علاقائی حدود میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ بادی سازوں کی بات یہیں پر ختم کرتے ہیں۔ کیوں کہ جُملہ اور مختلف النوع بادی سازوں کا ذکر قرینِ مصلحت نہیں ہے۔

    زہی ساز

    آئیے ذرا ایک اور طرف نکل چلیں۔ ذرا کچھ زہی (BOW) سازوں کا جائزہ لیں۔ ان میں وہ زہی ساز بھی ہیں جو لوک سنگیت میں متداول ہیں اور وہ بھی جو شاستر یہ سنگیت کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے سازوں میں 1۔سارنگی2۔دلربا۔3۔ اسراج۔4۔ساز کشمیر(کمانچہ)5۔سارندہ۔6۔چکارا۔7۔شراوت کناری وغیرہ شامل ہیں۔ میں ان میں وائلن اس لئے شامل نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ بُنیادی طور سے یہ مغربی موسیقی کا ساز ہے اور اس کا ماخذ بھارت نہیں ہے۔ البتہ وائلن کا ذکر کرنا ناٹک سنگیت کے حوالے سے کیا جائے گا کیوں کہ وائلن نے اُس سنگیت میں ایک نُمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ علاوہ اس کے لائیٹ میوزک، نیم کلاسیکی اور جدید طرز کی موسیقی، فلمی سنگیت اور ارکسٹرا میں وائلن نے اپنا جائز اور اہم مقام پایا ہے۔ یوں تو مغربی موسیقی سے ہمارے ہاں کئی ور ساز مستعار لئے گئے ہیں جن میں 1۔گٹار۔2۔ ساکسفوں۔3۔کلارنٹ۔4۔کارنٹ۔5۔حِپلیو۔6۔ سِم بالز۔7۔فلو گری وغیرہ شامل ہیں۔

    ان سارے سازوں اور دوسرے سازوں کا بیان دو مختلف صورتوں میں ممکن ہے ایک یہ کہ ثقافتی اختلاط (CULTURAL COOPERATION) اور دوسرے یہ کہ نیشنل آرکسٹرا کی ترتیب و تدوین، فلمی ارکسٹرا میں استعمال مغرب سے بھارت نے ہی نہیں بلکہ عرب ایشیائی اور دُور مشرق کے ملکوں کے موسیقاروں نے کئی ضربی، زہی اور بادی س از اپنائے ہیں۔

    زہی ساز

    ہاں تو زہی سازوں کی فہرست سے سب سے پہلے سارنگی کو لیتا ہوں۔ اسلئے کہ ہر سُر کو من و عن پیش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہاں مجھے ڈاکٹر مہدی فروغ(ایرانی ساز شناس) سے اختلاف ہے جو نَے و مُزمار کی صدا کو انسانی آواز سے قریب تر کہتا ہے۔ ہمارے ہاں اس قیاس آرائی کا جواب سارنگی پیش کرتی ہے۔

    سارنگی

    سارنگی کی تین قسمیں ہیں:۔

    1۔       ایک وہ جو کشمیر میں سارنگ کے نام سے مشہور ہے اور کشمیریوں کا خیال ہے کہ یہ مہاراجہ سارنگ دیو کے زمانے کی ایجاد ہے۔

    2۔       دوسری قسم وہ ہے جو بنگال میں مروج ہے یہ کسی حد تک کشمیری سارنگ سے بڑی ہوتی ہے۔ اس میں چار بُنیادی تار اور چھ سے بارہ تک امدادی تار لگتے ہیں۔ یہ سارنگی عام طور سے علاائی عینی بنگالی سنگیت میں سنگت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

    3۔       تیسری قسم وہ ہے جو ہندوستانی کلاسیکی سنگیت میں اونچا مقام رکھتی ہے اس سارنگی پر آگے چل کر ذرا تفصیل سے گفتگو ہو گی۔

    کشمیری سارنگ

    صورت اور ہئیت کے اعتباد سے کشمیری سارنگ مقابلتاً بہت مختصر سی ہے کشمیری سارنگ لوک سنگیت اور لائٹ میوزک سے وابستہ ہے عام طور سے سارنگ کی لمبائی ڈیڑھ فٹ تک ہوتی ہے۔ اس میں رودے اور فولاد کے دو تارا اور ایک پتیل کا تار بُنیادی اساس فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ آٹھ یادس فولادی تارامدادی نوعیت کے ہوتے ہیں جنہیں اصطلاح ِ عام میں "طر ہیں" کہتے ہیں۔ گز (BOW) لگ بھگ فٹ بھر لمبا ہوتا ہے جس میں گھوڑے کی دُم کے بال لگائے جاتے ہیں اور سارنگی نواز دائیں ہاتھ میں گز(گمان) لے کر ب نیادی تاروں پر چلاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے نغمہ کے سروں کے مطابق سارنگ کے اوپر حصے پر تاروں کو دباتا ہے۔ یہ تار اوپر سے نچلے حصے کی طرف کھونیٹوں سے بندھے ہوتے بینی (BRIDGE) سے کسے جاتے ہیں۔

    بِینی چمڑے کے اُس حصے پر نصب ہوتی ہے جو نیم مخروطی صورت کا ہوتا ہے چوں کہ سارنگ صرف کشمیر میں متداول ہے۔ اس لئے اس ک و علاقائی سازوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

    برسلز میں

    حُسنِ اتفق سمجھے کہ 1970ء کے ستمبر مہینے میں جب کہ میں بلجیم کے دارالخلافہ برسلز میں یونسکو UNESCO کی طرف سے متعین تھا تو مضافات میں جانے کا موقعہ ملا جہاں مختلف قسم کے عجائب گھر(میوزیم) ہیں۔ ایک میوزیم افریقی قوموں کی تاریخ سے وابستہ ہے۔ دوسرا زراعت کے مختلف مدارج اور الاتِ کشاور زی کی نمائش کے لئے وقف۔ تیسرا ٹرانسپورٹ خاص طور سے ریلوے کی داستان کی جزئیات کا حامل ہے۔ چوتھا آلاتِ حرب و ضرب کا مسکن ہے اور دوسرے عجائب گھروں میں ایک میوزیم دُنیا بھر کے آلاتِ موسیقی کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ اس میوزیم (MUSE INSTRUMENTEL) یا (MUSIC INSTRUMENTEL MUSEUM) میں ہندوستانی سنگیت کے لئے ایک گوشہ وقف کیا گیا ہے جس میں وِینا، ستار، ڈھول، نگارا، کھڑتال، طبلہ، شہنائی اور دیگر بادی، زہی اور ضربی سازوں کے ساتھ کشمیری سارنگ بھی رکھی ہُوتی تھی۔ البتہ سارنگ کے ساتھ وائیلن والا گز0کمان) رکھا ہُوا تھا نہ کہ اُس کا اصلی گز جو لمبائی اور ہیت میں قدرے مختلف ہے۔ بہرحال میں نے کیوریٹر (CURATOR) (محافظ عجائب گھر) کی توجہ اس کمی یا غلطی کی طرف مبذول کرائی اور وِزیٹر س بک اپنے تاثرات میں یہ بھی لکھ دیا کہ ہندوستانی گوشے میں سنتور نہیں ملا اور نا ہی ایرانی یا یونانی شعبوں میں سنتور تھا۔

     

    سارنگی

    سارنگی کو کشمیری سارنگ کی بڑی بہن کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ ہئیت اور ساخت اور طول و عرض لمبائی چوڑائی میں سارنگی بڑی اور قومی ہے۔ اس میں سے گائیک کی آواز یا اُس کے گلے سے نکلے ہوئے سُروں کو الگ بھگ ہپو ہو یا برابر کی صدا نکالنے کی صلاحیت ہے۔ لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنایا جانے والا یہ ساز دوحصے رکھتا ہے:۔ اوپُری او نچلا نچلے حصے پر جسے بعض ماہر شُکم، کہتے ہیں سُوکھا چمڑا لگایا جاتا ہے اور اُوپری حصے میں کھونتیاں (KEYS) بن پر رودے، فولادی اور پیتل کے تار باندھے جاتے ہیں۔ ان تاروں میں بنیادی تار بھی ہیں اور امدادی تار بھی تاروں کی تقسیم یوں ہے۔

    تین یا چار بنیادی تار ہوتے ہیں جن پر گز چلایا جاتا ہے اور مطلوبہ سُر بائیں ہاتھ کی مدد سے حاصل کئے جاتے ہیں۔

    ان بنیادی تاروں میں دو یا تین رودے کے اور ایک فولادی ہوتے ہیں۔ جو قدرے موٹے ہوتے ہیں۔

    ان کے علاوہ 18سے24تک تیلے فولادی تارامدی نوعیت کے ہوتے ہیں جنہیں ساز نوازوں کی اصلطاح میں طربیں کہتے ہیں۔

    بُنیادی تارسا پا سا ما یا سا گا کے سُروں سے ملائے جاتے ہیں۔ چار چار کھونٹنیاں اُوپری حصے کی دونوں جانب نصب کی جاتی ہیں۔ چمڑے کے حصے پر ایک بینی (BRIDGE) ہوتی ہے جس پر سے تار گزارے جاتے ہیں اور نچلے سرے پر باندھے جاتے ہیں۔ سارنگی نواز دائیں ہاتھ میں گز(کامن) لے کر بنیادی تاروں کو نچلے حصے کے آس پاس چھیڑتا ہے جہاں کہ چمڑا لگا ہواور بائیں ہاتھ کی اُنگلیوں کے ناخن سے بالائی حصے سے درمیانی حصے تک ساتھ ساتھ مَس کرتا یا دباتا ہے۔ اس عمل سے مطلوبہ سروں کے ساتھ ساتھ گمک اور آہنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اور کیفیت سُروں کو جنم دیتی ہے۔

    سائیز:

    عام طور سے سارنگی تین فت لمبی اور آٹھ انچ چوڑی ہوتی ہے۔ اصل میں موجودہ سارنگی کے وجود میں آنے سے پہلے اسی طرح کے کچھ اور زہی (BOW) سازوں کا ذکر مسودوں اور کتابوں میں ملتا ہے جن میں گیارہ تار والا کوٹا اور 24تاروں والا ساز ڈیڑھ پسولی مختلف زمانوں میں متداول اور مروج تھے۔ موجودہ سارنگی کی ابتدائی صورت کو بعض سازشناس دو مغزہ بھی کہتے رہے ہیں۔

    کلاسیکی سنگیت کے ساتھ

    سارنگی جہاں کلاسیکی گائیک کا ساتھ دیی ہے۔ وہاں اسے تنہا (SOLO) بھی بجایا جاتا ہے اور خُوب بجایا جاتا ہے۔ گائیک کے سُر سے سُر ملانے میں سارنگی نواز بڑی چابک دستی سے اور فن کارانہ صلاحیت کے ساتھ راگ (خیال وغیرہ) کی باریکیاں اُجاگر کرتا ہے اور مجموعی طور سے گائین کی خُوب صورتی بڑھاتا ہے۔ اس طرح سے یہ صرف امدادی یا سنگت کا ساز ہی نہیں رہتا بلکہ گائیک کی طرح اپنی اہمیت اصحابِ فن اور شائقین پر واضح کرتا ہے۔

    سارنگی کلاسیکی سنگیت کے علاوہ نیم کلاسیکی، لائیت میوزک اور بعض خاص موقعوں پر لوک سنگیت میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ آرکسٹرا(سازینہ) میں بھی اس نے اپنے لئے مخصوص جگہ بنائی ہے اسی طرح سے سارنگی کلاسیکی موسیقی سے لے کر فلمی سنگیت تک اپنا رنگ جما چکی ہے۔" سوگ اور سارنگی" ایک بات کا مجھے ہمیشہ قلق رہا ہے کہ دیڈیو کے اہلکاروں نے اس ساز کو کسی حد تک زوال آمادہ اور حقیر کر دیا ہے وہ ایسے کہ جب بھی قومی یا علاقائی سطح پر کسی بڑے آدمی کا سوگ منایا جاتا ہے تو سارنگی نشر کرتے ہیں شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ساز ھُزینہ ماحول کی عکاسی کرنے میں "بڑی " اعانت کرتا ہے۔ میں نے ریڈیو کی اپنی 36ملازمت میں بھی کافی کوشش کی کہ سارنگی سوگ کے ایام میں نشر نہیں ہونی چاہیے۔ مگر میں "اقلیت" میں تھا آواز موثر ثابت نہیں ہو سکی اور روایت کے پرستار بہت زیادہ نکلتے۔ وہ میدان مار جاتے۔ وہ یہ وجہ پیش کرتے کہ حُزن و ملال کے تاثرات اس زہی ساز سے زیادہ کوئی اور ساز پیش نہیں کر پاتا۔

    کچھ نامور سارنگی نواز

    فنکاریہ ساز تنہا (SOLO) بھی بجاتے رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسے موسیقاروں(ساز نوازوں) کی کمی نہیں ہے جو روایت کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ فنکاروں کے اس گروہ کےسالار استاد بندھوخان مرحوم تھے۔ اُن کے علاوہ اس صدی کے شروع میں دوسرے مشہور ساز نگے استاد ممن خان تھے۔ اُستاد ممن خان(شمس الموسیقی غلام محمد خان المعروف میاں ممن خان) دلی کے سرنگیوں کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ گو کہ وہ گویوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر انہوں نے سارنگی اسلئے اپنائی کہ لوگ اس ساز کی قدامت، اہمیت اور افادیت سے ناواقف تھے۔ اُستاد چاند خان نے اپنے اُس خطبہ صدارت میں اُستاد ممن خان کا ذکر کیا ہے جو 24ربیع الاول 1385ھ کو استاد مرحوم کی برسی پر پڑھا تھا:

    "اس خاندان میں قدیم روایات کے مطابق گانے کے علاوہ بیں سرود، رباب وغیرہ ساز تو بجائے جاتے تھے۔ مثلاً استاد ممن خان صاحب کے دادا میر محمد بخش خان صاحب جونواب لوہارو کے معروف درباری   گوئیے تھے سرو د اور رباب بھی بہت اچھا بجاتے تھے ۔ ممن خان صاحب کے بہنوئی امیر خان صاحب جے پوری اور ان کے فرزند جمال الدین خان جو بڑو دہ دربار میں تھے۔ مشہور بین کار تھے اور جمال الدین خان کے چھوٹے بھائی شمس الدین خان مشہور ستار نواز جو ریاست حبنجیرا میں تھے اسی طرح سے مُراد خان صاحب بینکار اور دیگر خاندان کے حضرات مختلف ساز بجاتے تھے مگر سارنگی کو طوائفوں کے ساتھ بجنے کی وجہ سے بُرا سمجھتے تھے۔"

    "جب 1857ء کے غدر سے متاثر ہو کے دربارِ شاہی کے بہت سے ماہرین جن میں شادی خان صاحب اور مُراد خان صاحب وغیرہ جیسے فن کار بھی شامل تھے پناہ کی خاطر بلب گڑھ پہنچے تو میاں ممن خان صاحب کے دادا پردادا نے یوں تو اُن کی ہر طرح کی خاطر مدارت کی مگر اپنا حُقہ اُن کو نہیں پلایا۔ جب اُن لوگوں نے اس کا سبب پوچھا (کیوں کہ یہ اُس زمانے کی بہت بڑی قومی سزا تھی) تو انہوں نے کہا کہ تمہارا میل سغرداؤں سے ہے(سغردہ طوائیفوں کے ساتھ طبلہ سارنگی بجانے والوں کو کہتے ہیں) ممن خان صاحب کے والد میر عبدالغنی خان کو اپنے دادا کی یہ بات اور روش بُری معلوم ہوئی کیوں کہ دہلی سے آنے والے حجرات میں ان کے سُسر میاں غلام حسین خان اور میاں اچپل خان کے قرابت دار بھی تھے۔ جو اپنا کُنبہ اور خاندان سمجھ کر ہی وہاں آئے تھے۔ دوسرے اس میں سارنگی جیسے مایہ ناز از کی توہین بھی تھی۔ عبدالغنی خان نے کہا اگر طوائیفوں کے ساتھ بجنے کی وجہ سے آپ سارنگی جیسے ساز سے متنفر ہیں تو گانے سے کیوں نفرت نہیں کرتے کیوں کہ سارنگی تو اُن کے ساتھ بجتی ہے اور گانا وہ خود گاتی ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھی سارنگی بجائیں گے اور جب تک یہ ساز وہ اونچا مقام حاصل نہیں کرے گا جس کا یہ مستحق ہے اُس وقت تک دریغ نہیں کریں گے یہ کہہ کر سارنگی بجانی شروع کر دی۔ سارے خاندان کے لوگوں کی میٹنگ ہوئی اور سب نے اُن کو ہر طرح سے سمجھایا مگر یہ حق و صداقت کا نشہ تھا وہ نشہ نہیں تھا جسے تُرشی اتار دے۔"

    "جب سب خاندان کے لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ اپنی ہٹ سے نہیں ہٹیں گے تو انہوں نے متفقہ طور پر جس میں ان کے باپ اور دادا بھی شریک تھے اُن کے خاندان سے بائیکاٹ کیا۔ مہاراجہ سے کہہ کر بَلب گڑھ سے بھی نکل جانے کا حکم دلایا۔ یہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر اپنی سُسرال میں دہلی آ گئے پھر مرتے دم تک اپنے باپ دادا کی صورت نہیں دیکھی۔ خاندان کے لوگوں نے ان کا نام سارنگی خان رکھ دیا تھا جو کچھ عرصہ بعد سنگی خان سے بدل گیا اور آک تک ان کو سنگی خان کے ہی نام سے جانتے ہیں ان کے اصل نام سے بھی کوئی واقف نہیں۔"

    "میاں سنگی خان صاحب نے فنی حق و صداقت کی خاطر عزیز و اقارب دولت و نژوچ، عزت و وقار کو ٹھکرا دیا اللہ تعالیٰ نے اُس نیک بندے کی کوشش و جہدوجہد سے شمس الموسیقی استاد ممن خان صاحب اور استاد بندھو خان صاحب جیسی مایہ ناز ہستیاں پیدا کر دیں جنہوں نے سارنگی کو معزلت سے نکال کر بامِ عروج تک پہنچا دیا اور یہ ساز فنی اعتبار سے جس عزت وقار کا مستحق تھا اس کو حاصل ہو گیا۔"

    اُستاد ممن خانصاحب کو والد سنگی خان کا خاندان سے بائیکاٹ ناگوار گزرا تھا تو گانے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کے قول کو پُورا کرنے کے لئے اور ان کی تعمیل حکم کی وجہ سے سارنگی بجائی اگر وہ صرف گانا ہی گاتے تو ان کی عزت وشہرت موجودہ عزت و شہرت سے کئی گنا ہوتی۔ شاگردوں کو گانے کی تعلیم دیتے تو بڑے بڑے مشکل انگ ان کے گلے سے ایسے خوش نما ڈھنگ سے ادا ہوتے کہ ہم سب ان کا حیرت سے منہ تکتے رہ جاتے۔ "

    "میاں ممن خان کی ملاقات کلکتہ میں استاد امداد خان سے ہوئی تو کہا۔ " سارنگی اپنی فنی خوبیوں اور جملہ خصوصیات کی بدولت "سورنگی" کہلاتی ہے اور اس میں گائیکی کا ہر ایک انگ بھی پیدا ہوتا ہے۔"

    اُستاد بندھوخان

    استاد ممن خان کے سارنگی ساز کے اپنانے اور ان کے خاندان میں   ان کے والد وغیرہ سے متعلق جو کچھ کہا گیا وہ معلومات میں اضافے کے طور سے حاضر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سارنگی سے نفرت کی وجوہ بھی پیش کی گئیں جو زمانے کے ساتھ بے وقعت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ سارنگی یقیناً "سورنگی"کہلائی جا سکتی اور استاد ممن خان، استاد بندھو خان اور خلیفہ بادل خان جیسے مایہ ناز سارنگیوں نے فنی کمالات سے کر دکھایا ہے کہ سارنگی کتنی توانا اور دلنواز ساز ہے۔ استاد بندھو خان اگرچہ ریاست اندور کے دربار سے وابستہ رہے مگر اپنے اصل وطن دہلی سے برابر رابطہ بنائے رکھا۔ استاد بادل خان نے اپنے جو انمرگ بیٹے کی وفات کے بعد سارنگی کو ہاتھ نہیں لگایا اور زندگی بڑی افسردگی میں گزاری۔

    استاد بندھو خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سارنگی سے باتیں کرواتے تھے اور خود بھی سارنگی سے باتیں کرتے تھے۔ جب بھی مست مگن ہو کر سارنگی بجاتے تھے تو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اپنی غیر جاذب آواز میں بول اور سر گم بھی گانے لگتے تھے۔ اس ادا میں بھی ایک کشش ہوتی اور مجموعی ادائیگی پر کوئی غیر موزون اثر نہیں پڑتا۔ وہ گزر اور باتیں ہاتھ کی انگلیوں کے اشتراک سے بے حد دل پذیر اور اعلیٰ سنگیت پیش کرتے کہ سننے والا محوِ حیرت ہو جاتا۔ تحسین و آفریں کے کلمات ازخود زبان سے جاری ہو جاتے۔ یوں لگتا کہ تاروں کے مس سے سنگیت کے مدُھر دھارے پھوٹ رہے ہیں۔ چار بنیادی تاروں(تین رودے اور ایک پیتل) اور امدادی تاروں(طربوں) کی مہیں و نازک جسامت میں آہنگ و صدا کی دل نشیں کائینات پوشیدہ ہے۔

    استاد بندھوں دلی کے مشہور سارنگی نواز خاندان کے چشم و چراغ تھے جس میں سارنگی خان کے علاوہ استاد ممن خان جیسے سارنگیئیے پیدا ہوئے تھے یہ خاندان اگرچہ خیال گائیکی میں ممتاز درجہ رکھتا تھا مگر اُستاد ممن خان کے والد کی وجہ سے سارنگی ساز کو اپنائے جانے کے بعد اس ساز کو بلند مقام نصیب حاصل ہو سکا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔

    استاد بندھو خان 1880ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اور 1955ء میں کراچی(پاکستان) میں فوت ہوئے۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی ابتداء میں منسلک رہے تھے اور پھر کچھ وقت کے لئے ریڈیو پاکستان سے بھی۔

    ولی کے سارنگیا خاندان میں استاد ممن خان اور استاد چاند خان کا بڑا رُتبہ تھا۔ اسی خاندان میں تربیت اور ہدایت حاصل کر کے استاد بندھو خان نے کم سنی میں ہی سارنگی پر عبور حاصل کیا۔ اور اسے فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرنے کے مواقع مل گئے۔

    استاد بندھو خان کچھ درویش صفت لا اُبالی طبیعت کے مالک تھے اُن کے کئی دلچسپ قصے مشہور ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ہی ساز میں اِتنے ڈوبے رہتے تھے کہ فرصت کا کوئی وقیقہ فر وگزاشت نہیں ہوتا اور تنہائی میں خوب خوب سارنگی بجایا کرتے۔ حاجت مندوں کی امداد کرنے میں پیش پیش ہوتے۔ دولت جمع کرنے کو پسند نہیں کرتے۔ جاہ و حشم پسند نہیں تھا۔ سادہ زندگی گزارنے کے قائل تھے۔ عادات بھی سادہ تھیں۔ ایک فقیر کی سی زندگی گزارنے میں بڑا آنند ملتا۔

    مغربی موسیقی میں سارنگی کا حلیف وائیلن تصور کیا جاتا ہے۔ ایک بھکاری یا میراثی سے لےکر شاستہ یا سنگیت کار تک سارنگی بجاتے پھرتے ہیں۔ ہندوستانی سنگیت (شمالی بھارت کی موسیقی) اور ہلکی پھلکی موسیقی میں جائزہ مقام پانے کے باوجود سارنگی دکھنی بھارت اور کناٹک سنگیت میں   بار حاصل نہیں کر پائی۔ وہاں تو اس کی جگہ مغربی زہی ساز وائیلن نے پائی ہے۔

    اسراج

    یہ ساز بڑا دلچسپ ہے۔ صُورت میں یہ سارنگی اور ستار سے ملتا   جلتا ہے اس لئے یوں لگتا ہے کہ یہ تاروں والا ضربی ساز ہے۔لیکن اصل میں یہ زہی ساز ہے جو گز(کمان) سے بجایا جاتا ہے۔ یہ سارنگ لگ بھگ تین فٹ لمبا ہوتا ہے۔ اس ساز کی قدیم ترین قسم کو "میوری" یا "طاؤسی" کہتے تھے کیوں کہ اُس کی ہئیت مور کی سی بنائی جاتی تھی۔ اسراج کے بھی دو حصے ہیں۔اُوپری اورنچلا ۔ یہ بھی لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنایا جاتا ہے اور اس پر بھی ایک بِینی (BRIDGE) ہوتی ہے اور اس میں بھی فولاد اور پیتل کے تار لگائے جاتے ہیں۔15سے 17 تک کھنٹیاں ہوتی ہیں جن میں تار کس دئیے جاتے ہیں۔ صدا اگرچہ سُہانی ہوتی ہے مگر پھر بھی قدرے فلزاتی (METALIC)   ہے۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ فولاد کے مہین ترین تار تیور سُر پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ برعکس ان تاروں کے پیتل کے تار قدرے موٹے ہوتے ہیں۔

    اِسراج صوبہ بنگال میں بے حد مقبول رہا ہے اور اکثر بنگالی موسیقی نواز گھرانوں میں موجود اور مروج ہے وہاں اس کی ہر دلعزیزی کے اسباب معلوم تو نہیں البتہ جیسے مختلف علاقوں میں مختلف ساز متداول رہے ہیں اسی طرح سے پنجاب اور اُتر پردیش کے بعض علاقوں کے بعد بنگال میں بھی اسراج موسیقاروں کی پسند کا ساز رہا ہے۔ اِسراج بنگالی سنگیت میں نمایاں زہی (کمان والا)ساز ہے۔ چوں کہ اِسراج رابندر ناتھ ٹیگور کا محبوب ساز تھا اسی لئے رابند رسنگیت میں اہم ساز بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں وہاں یہ ساز بھگتی سنگیت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسراج تنہاہ (SOLO) بھی بجایا جاتا ہے اور گائن کے ساتھ بھی۔ اس ساز میں بھی کچھ سارنگی جیسی صلاحیت ہے کہ گلے یا حلق سے نکلے ہوئے سُر پیش کرنے کی۔

    بنگال میں کئی نامی گرامی اسراج بجانے والے رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ چتہ دیور برمن غالباً مشہور فلمی موسیقار ایس دی برمن اور آرڈی برمن کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اسراج بڑی مہارت سے بجایا کرتے۔

    تارشہنائی

    اسراج ہی کی طرح دو اور کم معروف ساز ہیں:۔

    ارسندبہاراورتارشہنائی

    مندر بہار کا ذکر تو ملتا ہے کتابوں میں مگر یہ بتانا قدرے مشکل ہے کہ آج بھی اس قسم کا ساز کہیں مروج ہے کہ نہیں۔ تارشہنائی میں بینی کے نیچے ایک جعئبہ صوتی (SOUND BOX)   ہوتا ہے جس سے صوتی ہیت بدلنے میں مدد ملتی ہے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تارشہنائی کو بنگالی موسیقی دان سُریش چکرورتی نے 1936ء میں متعارف کرایا۔ اُس نے اِسراج میں جعئبہ صوتی (SOUND BOX) نصب کیا اور نام دیا: "تارشہنائی" یعنی دو لفظوں کے اشتراک سے یعنی تار اور شہنائی سے اِسراج میں ذرا سی ترمیم کر کے نیا ساز بنایا۔ آپ یہ تو نہیں سوچ رہے ہیں کہ یہ دو لفط تار اور شہنائی دو الگ الگ قبیلوں یعنی ضربی اور بادی سازوں سے مُستعار لئے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے امتراج سے ایک ساز بن گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ تو سُریش چکرورتی ہی بتا سکتے تھے۔ ہم زیادہ سے زیادہ کہہ سکتے ہیں کہ نغماتی آہنگ میں اس سے جو صدا نکلتی ہے اس سے شہنائی کا گماں سا ضرور ہوتا ہے۔ تاروں کے ساتھ SOUND BOX  کے اضافے اور گز سے بجائے جانے سے مجموعی تاثر جُداگانہ ہے۔ غالباً اسی لئے تار شہنائی کے نام سے بتپسمہ(نام کرن) کرایا گیا۔ ورنہ صورت اور مزاج میں یہ اسراج کا ترمیم شدہ ایڈیشن ہے۔

    دِل ربا

    یہ ساز کچھ سارنگی اور ستار سے ملتا ہے اور کچھ اسراج سے فرق اتنا ہے کہ ستار کے نچلے حصے میں کاسہ (BOWL) ہوتا ہے لیکن دِلر با خالی اور لکڑی کھوکھلی کر کے تراشا جاتا ہے جس پر چمڑا منڈھ دیا جاتا ہے۔ نچلا حصہ سارنگی سے ملتا جلتا ہے۔ یہ ساز شمالی بھارٹ میں زیادہ مقبول و معروف رہا ہے۔

    اسراج اور کئی دوسرے سازوں کی طرح یہ ساز بھی مسلمان موسیقاروں کی کاوشوں سے وجود میں آیا ہے بنگال میں جہاں اِسراج نے دلوں کو موہ لیا ہے وہاں شمال اور شمال مشرقی بھارت میں دِلربا نے فن اور من میں جگہ بنائی ہے اس ساز میں چار بنیادی تاروں اور بائیس امدادی تاروں(طریقوں) سے ساز نواز مطلوبہ سُر نکالتے ہیں۔ گز(کمان) سے بجایا جانے والا یہ ساز تین فٹ لمبا ہوتا ہے اور شکم(نچلے حصے) کی چوڑائی 6انچ ہوتی ہے۔ جو گز(کمان) استعمال ہوتا ہے اس گھوڑے کی دُم کے بال لگائے جاتے ہیں۔ دِلربا کی لمبائی کو ئی پونے دو فٹ ہوتی ہے۔ بنیادی تار پیتل اور فولاد کے ہوتے ہیں اور طربیں حسبِ معمول مہیں فولادی تار کی۔

    دلربا بہت زیادہ عام ساز نہیں ہے بہت کم موسیقار اس ساز کی دلربائی سے اس کے پرستار ہو گئے ہیں۔ یہ بھی پنجاب اور اتر پردیش میں کچھ موسیقاروں میں مقبول ہے۔ دلربا اور اسراج کی جگہ تو سارنگی نے سنبھال لی ہے۔

    سارندہ

    سارنگی کے قبیلے کا ایک اور ساز سارندہ ہے جو بنگال(بھارت) صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان(پاکستان) میں بجایا جاتا ہے سارنگی ہی کی طرح سارندہ بجایا جاتا ہے۔ سارندہ کا نچلا حصہ قدرے بیضوی شکل کا ہوتا ہے اور بالائی حصہ کُھلا۔ اس میں ردوے کے دو پتلے سے تار لگائے جاتے ہیں۔ تین یا چار کھونٹیاں ہوتی ہیں کہ ہیت سے یوں لگتا ہے کہ جیسے انسانی کھوپڑی اُلٹی رکھی ہو اور گالوں کے حصے اور جبڑے اندر دھنس گئے ہوں۔ سارنگی، اسراج اور دلربا کی طرح یہ ساز بھی گز سے بجایا جاتا ہے اور کبھی کبھی محدود پیمانے پر اس پر کسی راگ راگنی کی دھن بھی پیش کی جاتی ہے۔ سارندہ کی اصلی جگہ علاقائی سنگیت ہی میں ہے۔ سارندہ شہر نورد اور دیہہ نورد میراثیوں کا محبوب ساز ہے۔ آراکلیان نے "سازہا تے مہجور" میں ایک ایسے ہی ایرانی ساز کا ذکر کیا ہے جو سارندہ کا ہم شکل تھا اس کا نام قیچک تھا مگر اب متروک و معدوم ہے (مجلہ موسیقی ایرانی تہران)۔

    چکارا

    سارندہ کے علاوہ چکارا بھی زہی ساز ہے جع بعض علاقوں میں موسیقی سے وابستہ رہا ہے مگر کلاسیکی سطح یا مقام حاصل نہیں کر پایا ہے۔ لکڑی کے کھوکھلے ٹکڑے سے بنا ہوا چکارا اپنی نوعیت میں سارنگی کے قبیلے کا ساز ہے۔ جس کے نچلے حصے پر چمڑا منڈھ دیا جاتا ہے جس پر بھی بینی (BRIDGE) اس طرح سے لگتی ہے جس طرح کہ سارنگی اور اسراج وغیرہ پر۔ اس میں تین بنیادی تار لگتے ہیں جو یا تو رودے کے ہوتے ہیں یا گھوڑے کے بال کے۔ امدادی تا پانچ ہوتے ہیں۔

    تیں بنیادی تاروں کو سا      ما      پا     سے ملایا جاتا ہےجبکہ امدادی تار    پا      دھا      نی      سا ری      سے۔

    سازِ کشمیر

    کشمیرکلاسیکی موسیقی یعنی "صوفیانہ موسیقی" میں واحد گز والا ساز "ساز کشمیر" کے نام سے موسوم ہے۔ اس ساز کی ہیت و ساخت بڑی سادہ ہے۔ کچھ چکارا اور مالتی دنیا سے ملتا جلتا ساز ہے ایک ڈیڑھ انچ قطر والے لکڑی کے بانس نما دستے کے پاتین حصے میں کاسہ (BOWL) لگا ہوتا ہے (صوفیانہ موسیقی میں اسے پیالہ کہتے ہیں) جنہیں دستہ بالا، دستہ وسط اور دستہ پائین کہتے ہیں۔ ساز کی مجموعی لمبائی چار سے پانچ فٹ تک ہوتی ہے۔ نچلے حصے میں فولادی سیخ کی لمبائی چھ انچ کے برابر اور کاسہ کے اوپر کا حصہ لگ بھگ تین چار فٹ ہوتا ہے۔ کاسہ بیضوی شکل کا ہوتا ہے اور اس کا قطر 8سے 12انچ تک ہوتا ہے۔ اس میں رود ے کا ایک موٹا تار ہوتا ہے جو بنیادی آہنگ مہیا کرتا ہے 4تک امدادی تار لگتے ہیں۔ رودے کے تار کے سنگ   دو فولادی تار بھی لگائے جاتے ہیں۔ گزکی لمبائی لگ بھگ 3 ½ فٹ ہوتی ہے۔ اس میں گھوڑے کی دُم کے بال لگائے جاتے ہیں۔

    اصل میں سازِ کشمیر ایرانی نژ اد ساز ہے جو کہ کشمیر کی صوفیانہ موسیقی سے منسلک ہے۔ یہ ساز صرف ایک (DRONE)   یعنی متواتر آہنگ یا سُر مہیا کرتا ہے اور بس اس ساز سے بہت کم استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ ساز جو ایران "تاجکستان، ازبکستان وغیرہ میں کمانچہ یا کھمانچہ کے نام سے موسوم ہے اتنی ترقی کر گیا ہے کہ اب یہ آرکسٹرا کا ایک اہم ساز بن گیا ہے اس کا اہم سبب یہ ہے کہ کشمیر میں کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں سازِ کشمیر بجانے کی تربیت دی جا سکے۔ ایران وغیرہ میں کئی اداروں میں یہ ساز سِکھایا جاتا ہے۔

    کشمیر میں استاد امیر شاہ اور کئی دوسرے صوفیانہ موسیقاروں نے اسے (سازِ کشمیر) صوفیانہ موسیقی میں سنگت کی حد تک اپنایا اور بس لیکن ایک نوجوان موسیقار بھجن لال سوپوری نے سنتور کی افادیت اور سنتور نوازوں کی قلت محسوس کرتے ہوئے سنتور بجانا شروع کیا ایسا کرنے میں اُسے اپنے باپ شمبوناتھ سو پوی(ستار نواز) کی بھرپور حوصلہ افزائی میسر تھی۔ سمبو ناتھ سوپوری اپنے سنگیت ودھیالیہ میں شاگردوں کو سنتور کی طرف راغب کرتا رہا مگر کوئی نمایاں کامیابی نہیں ہوئی۔

     

    ضربی ساز

    عہد عتیق سے موجودہ دور تک دُنیا بھر میں کتنے ہی ساز بنائے گئے ہیں اور کتنے سازوں کی ہئیت اور ساخت میں ترمیم و تحریف ہوتی رہی ہے؟ اس کا اندازہ کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ کتنے پُرانے سازوں کی ہئیت بدل گئی اور تحریف و ترمیم سے کتنے نئے ساز وجود میں آئے اُن کا مشاہدہ مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔

    قدیم ترین انسان ("غیر مہذب" موجودہ دُنیا کی نظر میں" نے جب ایک چھوٹا پتھر دوسرے پتھر سے رگڑا ہو گا یا دانت غصہ میں کٹکٹائے ہوں گے۔ ضرور ان آوازوں نے اسے اپنی طرف مائل کیا ہو گا۔ کیا وہ سازوں کی پہلی ضرب ہوتی؟ سوچئے ان مثالوں سے ملتی جلتی اور بھی مثالیں ملیں گی۔

    بہرحال سازوں کی قسمیں گنواتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ مختلف نوعیت، ہئیت اور محلِ استعمال کے لحاظ سے تین الگ الگ قسمیں ہیں یعنی:

    1۔بادی         2۔ زہی          3۔جربی

    چند اہم بادی اور زہی سازوں کی بات ہو چکی ہے اور باری ہے ضربی سازوں کی یعنی وہ ساز جو ضرب، مضراب، زخمہ، قلم یا تھاپ، چھڑی(لکڑی) انگشتانہ وغیرہ سے بجائے جاتے ہین۔

    ایسے ضربی سازوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ یعنی:

    1۔تاروں والے           ستار، باب، سنتور وغیرہ۔

    2۔      بے تار                   طبلہ، ڈھولک، مردنگ، ڈھول وغیرہ۔

    اولین قسم کے تاروں والے ساز مضراب، زخمہ، قلم وغیرہ سے بجائے جاتے ہیں او ر دوسری قسم کے ساز ہاتھ کی تھاپ یا لکڑی کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں سے بجانے کا رواج رہا ہے۔

    کوشش تو یہ رہے گی کہ ایسے اہم اور بڑے سازوں پر کچھ روشنی ڈالی جائے تا کہ صاحبانِ ذوق کے ساتھ طالبانِ موسیقی کے لئے تاریخی پسِ منظر پیش کیا جائے۔

    آئیے ہم ابتداء میں ایسے ضربی سازوں کی بات کریں جو تاروں والے ساز ہیں۔ سب سے پہلے ایک ایسے ضربی ساز کی بات ہو گی جو زمانہ قدیم سے کسی نہ کسی رنگ میں اور نوعیت سے موسیقی دانوں اور سازشناسوں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز رہا ہے یہ ساز ہے:۔

    سنتُور

    سنتور کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم تاروں والے ضربی ساز قانونکی بات ہو گی۔ سنتور کے دعوے دار بہت رہے ہیں۔ دکھنی بھارت میں شڈ تنتر و ینا والے ایک طرف تو کشمیری موسیقار دوسری طرف اس پر اپنا حق جتاتے رہے ہیں۔ ہم بھی کافی عرصہ تک اسی مغالطے میں رہے کہ "سنتور خالصتاً کشمیری ساز ہے" پھر اصل ماخذ تک پہنچنے اور تحقیق کی لگن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سنتور بہت ہی قدیم ساز ہے جس کا ذکر تو رات مقدس میں ملتا ہے جس میں دراصل اس سے ملتے جلتے چند سازوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ہندوستان میں بھی پتھروں پر کندہ کچھ مُتشابہہ سازوں کی تصویر اور کاکے (OUTLINES)  کے نام سے موسوم ہے۔ اہل یہود بھی اس ساز کی اختراع کے دعوے دار ہیں۔ مگر ایک یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ مختلف اقوام میں سنتور مقبول رہا ہے اور اہل یہود کی موسیقی میں اِس کا ایک خاص مقام ہے۔

    جس طرح مختلف ادوار میں کچھ ساز مقبول رہے اور کچھ متروک ہوتے گئے۔ اِسی طرح سے سنتور سے بھی ہوتا رہا ہے۔   سنتور کی ابتداء سفرِ یوروپ، عرب و عجم کی موسیقیوں میں مقام اور اس ساز سے ملتے جُلتے دیگر آلاتِ موسیقی کے بارے میں کاصی تحقیق ہوئی ہے۔

    سنتور مشرق و مغرب میں کسی نہ کسی ہئیت اور روپ میں متداول رہا ہے۔ صورت اور ساخت کے اعتبار سے سنتور، قانون اور دوسرے اسکنڈی نے وی یائی (SCANDINAYIAN)   سازوں سے ملتا جلتا ہے۔ بجانے کے ڈھنگ اگرچہ جُداگانہ ہیں مگر وہ ساز تو ایک ہی زُمرے آ سکتے ہیں جو سنتور یا قانون سے کسی نہ کسی طرح کی مناسبت رکھتے ہیں۔

    مختلف سازشناسوں نے لفظ سنتور کبھی    صاد     سین     تا     اور     طاء     کے اختلاف کے ساتھ لکھا ہے یعنی: صنتور     سنتور     سنطور     بعض اِسے صانطور لکھتے رہے ہیں اور بعض سینطر۔ ترکی فارسی اور عربی کتابوں میں اِس لفظ کے ہجے اسی طرح سے قدرے مختلف رہے ہیں حالاں کہ تلفظ صحیح اور ایک جیسا رہا ہے۔ صرف یونانی لفظ اور تلفظ جداگانہ ہے۔

    اوائلِ قرونِ وسطیٰ میں ایران اور وسطِ ایشیاء سے نکل کر یہ ساز یورپ جا پہنچا اور گوناگوں صورتوں میں متداول رہا ہے ساتھ ہی اُس نے الگ الگ نام پائے۔ عہد نامہ عتیق OLD TESTAMENT کا حوالہ پہلے دیا   جا چکا ہے جس میں اور سازوں کے ساتھ ڈل سی مر (DULCIMER) کا بھی ذکر ہے۔ قدیم فرانسیسی زبان میں اسے ڈول سی میر (DOULCIMERA) یا ڈول سی میل (DOULCEMELE) لکھا گیا ہے۔ اصل فرانسیسی سازشناسوں نے یہ لفظ اطالوی زبان سے مستعار لیا ہے۔ اطالوی زبان میں DOULCE ڈول چے اور ڈول چس (DOULCIS) دو الگ الگ لفظ ہیں ان دونوں کو ملا کر ڈول چہ مِل (DOULCMELE) بنا اس لفظ کے معنی ہیں شیریں اور مرغوب۔ قدیم یونانی زبان میں میلوس (MELOS) کے معنی ہیں آہنگ دل پذیر یا۔ موسیقار واگنر (WAGNER) نے پہلی بار اپنے اوپرا (OPERA) میں اسے مترنم (RECITATIVE)  کے معنوں میں استعمال کیا تھا۔ اسی لفظ میلوس (MELOS) سے میلو ڈی بنا ہے۔

    سنتور کی طرح قانون بھی قدیم ساز ہ اور اس سے مشابہہ تصویریں پتھروں پر نفقش ہیں۔ آشوری عہد سے لے کر طاق بستام تک یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ چنانچہ ایک نقش آشور بانی پال(669ق۔م میں تخت نشین ہوا) کو جس مسندِ حکومت پر جلوہ افروز دکھایا گیا ہے اس کے رُوبرُو فرش پر چند موسیقار بیٹھے ہیں اور ایک موسیقار اپنے ہاتھ میں   سنتور سے ملتا جُلتا ساز لئے ہوئے ہے۔ قرینِ قیاس ہے کہ موجودہ سنتور کا وہی جدا امجد تھا۔ اُس ساز میں دس تار صاف نظر آ رہے ہیں۔ سازندہ اسے ایک پتلی سی چھڑی سے ضرب لگاتا یا نازک سی ہڈیوں سے سیدھے ہاتھ سے چھیڑتا ہے۔ اُلٹے ہاتھ سے تاروں کی حرکت کو روکتا اور نرم یا مدھم کرتا ہے۔ الکندی نے اپنی تصنیف"رسالہ فی الموسیقی" میں اور ڈاکٹر مہدی فروغ نے "آلاتِ موسیقی قدیم" میں سنتور پر بھی سیر حاصل بات کی۔ ڈاکٹر مہدی فروغ نے مزید لکھا ہے:۔

    "یہ ساز موسیقار اپنی گردن میں حمائل کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس لئے سنگتراشی کے مکتلف نمونوں میں سنتور کے ساتھ نوار یا تسمہ لگا ہوا دیکھا گیا ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہون کہ نوار یا تسمہ موسیقار اپنی گردن میں حمائل کرتا اور ساز کو اُٹھانے اور لیجانے میں مدد گار ثابت ہوتا تھا۔ سنتور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی"۔ چنانچہ کشمیر میں بھی سنتور کے ساتھ فیتہ لگا ہوتا ہے۔

    دائرۃ المعارف یہود میں PSANTER درج ہے۔ مترجمیں نے اِسے پصانتر لکھ کر اسے پیانو سے تعبیر کیا۔ مگر صحیح تلفظ بت دیر میں لکھا گیا ہے۔ رؤف یکتا بیگ (ترکی موسیقی داں) نے اپنی تحقیق کی بنا پر لکھا ہے:۔

    "دراصل سنتور قومِ یہود کا ایک قدیم ترین آلہ موسیقی ہے۔ کلمہ سنتور آرمیںی ماخذ رکھتا ہے اور احتمال ہے کہ یونانی قوم نے اسے وہیں سے مستعار لیا ہے۔ آرمیںیا کی بیشتر آبادی اہلِ یہود پر مشتمل ہے اور یہ ساز اپن میں بے حد مقبول ہے"

    (دائرۃ المعارف الاوینیاک1922ء)

    توراتِ مقدس میں سنتور اور قانون کا اگرچہ راست ذکر نہیں ہے دیگر سازوں کے ساتھ۔ مگر اُن ضربی تار والے سازوں کا ذکر جن کے بارے میں موسیقی شناس ماہرین یہ رائی اخذ کرتے ہیں کہ وہ ساز سنتور ہو سکتے یا اس کے پیش روکتابِ دانیال کے بابِ سوئم کی دسویں آیت یوں ہے:

    THOU, O KING, HAST MADE A DECREE, THAT EVERY-MAN THAT SHALL HEAR THE SOUND OF CORNET, FLUTE, WARP, SACK BUT PSALTERY AND DULCIMER, AND ALL KINOS OF MUSICK SHALL FALL DOWN AND WORSHIP THE GOLDEN IMAGE.

    اس ذکر خیر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن چند سازوں کا حوالہ موجود ہے وہ بہت ہی پُرانے ساز ہیں۔ توراتِ مقدس کے ایک انگریزی متن میں کتا دانیال کے حوالے سے سنتور اور قانون کے علاوہ چنگ و نَے کا بھی بیان درج ہے۔ کئی موسیقی دانوں نے کلمہ سنتور کو جُدا جُدا طریقوں سے قلم بند کیا ہے۔ یہاں یہ کہنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ مترجمیں نے اس آیت کو منتقل کرتے وقت سازوں کے ناموں کے بارے میں اشتیباہ پیدا کیا ہے کسنی نے سنتور، قانون اور چنگ لکھا ہے تو کسی نے عُود بربط اور سنتور۔ یہ اشتباہ فارسی کے ترائم میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ دراصل سَلٹری (PSALTERY)  اور ڈل سی مر (OULCIMER) دونوں لفظوں کے ترجموں میں مقامی رنگ دینے کے لئے صحیح لفظ کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔

    اولیا چلبی نے "رسالہ فی الموسیقی" میں کلمہ سنتور (صنتور) کا ذکر چھیڑا ہے۔ لیکن اس ساز کی ساخت اور بجانے کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔ اسی طرح لاروس (LE ROSE) (دائرۃ المعارف یہود جلد4) کا کہنا ہے کہ "یہ احتمال قوی ہے کہ قانون سنتور سے پہلے وجود میں آیا کیوں کہ ہم جب اس آلہ موسیقی کی بناوٹ وغیرہ کا حال پڑھتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے قانون کے نام سے روشناس ہونا پڑتا ہے۔" مگر لاروس کے ہواں اپنے دعویٰ کی صحت میں کوئی صریح دلیل نہیں ملتی۔

    لفظِ سنتور کے بارے میں کچھ اور باتیں کرنا ضروری ہے تا کہ اس کے ماخذ اور اس آلہ موسیقی سے متعلق اشتباۃ دُور ہوں اور کچھ اور احوال معلوم ہو سکیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ دائرۃ المعارفِ یہود میں PSANTER درج ہے اور مترجمیں نے پِصانتر لکھ کر پیانو سے تعبیر کیا ہے اور پھر یہ لفظ طرح طرح کے طریقے سے لکھا گیا۔ اس اِقتباس کا حوالہ قندِ مکرر کے طور دیا گیا ہے۔

    مشہور و معروف مغربی موسیقی دان شارڈن (CHAROIN) سترہویں صدی عیسوی میں ایران کے سفر پر گیا تھا تو اس نے وہاں ساز نوازوں کو سنتور بجاتےیا جس کا ذکر اس نے اپنے سفر نامے میں کیا ہے۔ مشہور ایرانی موسیقی دان ڈاکٹر رپوح اللہ خالقی نے اپنی تصنیف "سرگذشتِ موسیقی ایران" اور مجلہ موسیقی " (تہران) شمارہ نمبر10دورِ سوم میں بھی خاء زکر کیا ہے۔ ڈاکٹر خالقی نے اپنی تحقیق کی بنا پر اور باتوں کے علاوہ کہ ایران کے علاوہ ترکی میں بھی یہ ساز سنتور ترکی کے نام سے موسوم رہا ہے جس میں 160تار لگتے ہیں اس میں دو سپتک کی گنجائشیں رکھی ہوئی ہے تُرکی ہی میں ایک اور ساز "ستوارِ افرنگی" مروج تھا جس میں 105تار لگتے۔ اس کا حوالہ ہمیں کارل گِرانگر (KARL GRINGER) ے "دورِ سنگ سے عصرِ حاضر تک کے آلاتِ موسیقی" کے مقالے میں لکھا اور "انسائیکلو پیڈیا بڑمنیکا" میں درج ہے۔ سنتورِ افرنگی کے بارے میں یوں بھی گمان ہے کہ اِسے حلیم بیگ(موسیقی دان) نے یورپ سے تُرکی پہنچایا اور رفتہ رفتہ ساز نوازوں نے اِسے بھی اپنایا۔ سازندہ اپنے گلے میں اس کا تسمہ بانوار حائل کرتا سنتور کا قاعدہ اپنی چھاتی اور پیٹ کے درمیان رکھ کر بجاتا رہا اور عموماً سازندہ کھڑے ہو کر بجایا کرتا"۔

    فرانس میں

    فرانس میں بھی سنتور ہی طرح کا ساز لوئی چہار دہم (LOUIS XIV) کے عہد میں ایک فرانسیسی موسیقی دان پانتلِیاں ہَبن سٹریٹ (PANTRALEON HEBRAN STRAIT) نے سنتورِ اکبر ایجا دکیا جس میں 158تار لگتے تھے ا ور ایک پُورا سپتک رودے کے تاروں پر مشتمل تھا اور باقی تار پیتل کے تھے۔ اس کے دو جعبہ صوتی (SOUND BOX) تھے۔ پاتلیان جب پیرس پہنچا اور اپنا عظیم ساز 1705ء میں لُوئی چہار دہم کے حضور پیش کیا تو لُوئی نے اس کا بتپسمہ(نام کرن) کیا اور اس وقت سے یہ ساز اپنے موجد کے نام ہی سے معروف و مشہور ہے یعنی کہ ساز پانتلیاں۔ خود پانتلیان دائلین بجانے میں بہت دسترس رکھتا تھا اور اپنے عہد کا مشہور نامی وائیلن نواز تھا وہ اپنے فن کا مظاہرہ مختلف مقامات پر جا کر کیا کرتا تھا تو اتفاق سے اپنے ایام سفر میں ڈلسی کا ذکر پڑھا پھر اسے سنتور کا خیال آیا اور ساتھ ہی ساتھ اس کو سنتور میں ترمیم کرنے کی فکردامن گیر ہوئی ۔ بہت سوچ بچار اور تجربوں کے بعد اس نے پرانے سنتور کی ساخت اور ہئیت میں تبدیلی لائی اور رُودے اور پیتل کے تاروں کے امتزاج سے نیا ساز بنا دیا۔

    خانہ بددوشوں کا ساز

    لُوئی چہار دھم کے زمانے میں ڈنمارک، ہنگری اور ناروے کے خانہ بدوشوں میں ایک ساز سیم الم (CYMBALOM)  رواج پا گیا تھا۔ یہ خانہ بدوش ایک جگہ قیام نہیں کیا کرتے۔ ملک ملک سیر کرتے۔ ڈنمارک سے لے کر سپین تک اور ناروے سے لیکر روم تک پہنچ جاتے۔ کبھی کبھی عرب ممالک کی طرف بھی نکل جاتے۔ ان خانہ بدوشوں میں اکثر یہودی ہوتے۔ اُن کے ساتھ یہ ساز دیگر یوروپی ملکوں میں پہنچایا گیا۔ جہاں سبزہ تخلستاں اور وادیاں مل جاتیں وہیں قیام کرتے اور دنوں تک ایک ہی مقام پر ٹھہرتے۔ اپنی تفریح کے لئے رقص و موسیقی کی محفلیں آراستہ کرتے یہ ساز یعنی سِم بالم بھی خوب بجایا کرتے۔

    اب بھی سنکڈینائی (SCANDINAYIAN) ملکوں میں سِم بالم ساز خانہ بدوشوں اور بنجاروں کا مقبول ساز ہے جس کی صورت وہئیت کافی حد تک پانتلِیان کے ایجاد کردہ ساز سے مِلتی ہے۔ اس ساز پر اکچر و بیشتر لوک دُھنیں اور مقبولِ عام عوامی نغمے پیش کئے جاتے ہیں۔ بعض ساز نوازوں نے اتنی مہارت حاصل کی ہے کہ وہ اُس پر نیم کلاسیکی دُھنیں اور جدید موسیقی کی طرزیں بھی بجاتے ہیں۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ میری دلچسپی دیکھ کر ہندوستان میں مقیم ہنگری کے سفیر نے 1972ء میں تحفتہً دو ریکارڈ (L P S ) دے دئیے جن میں سِم بالم کی کئی مقبول دُھنیں محفوظ ہیں جو ہنگری کے مشہور ساز نواز متیاس جونس (MATYASEJONAS)   کی سرکردگی میں آرکسٹرا نے بجائی ہیں۔ ایک ریکارد پر (THE BUDAPEST GIRSIES)   بوڈ اپسٹ جیپسیز لکھا گیا ہے۔ گردپوش پر سِم بالم بجانے والے ساز ندے اور وائلن نواز کی تصویریں دی گئی ہیں۔ سم بالم ساز بجانے والا کا نام اَلادراز (ALADAR RAEZ) دیا گیا ہے۔ دراصل یہ لوک دُھنیں سازوں پر بوڈ اپسٹ ڈانس این سام بل BUDAPEST DANC ENSEMBLE  کے اشتراک سے پیش ہوتی رہی ہے۔ گلوکاروں کے ساتھ رقاص بھی سٹیج پر گاتے بجاتے رہے ہیں۔ عَطیلا بیرو (ATTILA BIRO)  کے نوٹ کے مطابق رقاصوں اور گلوکاروں نے تہیہ کیا ہے کہ وہ ہنگری کی قدیم روایات کے عین مطابق لوک فن کی پاکیزگی برقرار رکھیں گے ان سازینوں میں نامی گرامی پرانے موسیقاروں یعنی لِسزٹ، بار ٹوک اور کوڈ اے (LISZT, BARTOK, KODAY)  کے مشہور اور نمایندہ شہ پارے بھی شامل ہیں۔ جدید اور جوان موسیقاروں کی نغمہ گری COMPOSITION بھی شائقین کے لئے پیش کی جاتی ہے۔

    قرونِ وسطیٰ میں

    سنتور جس شکل میں بھی قرونِ وسطیٰ میں یوروپ پہنچا وہاں کے موسیقی دان اس کی ترمیم اور بہتری کی ٹوہ میں رہے۔ اُن کی یہی کوششیں تھی کہ ایک ایسا ساز ایجاد کیا جائے جو لُطف تو سنتور کا دے مگر ساخت اور رسائی (RANGE) میں یکسر مختلف ہو چنانچہ اُن تھک اور مسلسل کدو کاوش کے بعد سنتور کی اولادِ خلفی پیانو (PIANO) کا وجود عمل میں آیا اور آج پیانو کو سازوں کا سلطان کہتے ہیں جسے کئی موسیقیدانوں نے سنتور کا جدِ امجد بھی لکھا ہے!

    ہم چوقسم کے ساز

    ایران اور عرب ملکوں میں سنتور کی قبیل کے ساتھ تھے اور قرونِ وسطیٰ کے اوائل میں ایران سے سنتور یوروپ پہنچایا گیا۔ عالمِ اسلام میں قانون کئی صورتوں میں مُروج رہا ہے اور ہر صورت کو جُدا جُدا نام دئیے گئے ہیں۔ عرب موسیقی دانوں اور ساز شناسوں نے اسی ساز اور اس ساز سے ملتے جلتے سازوں کا تفصیلی حال بیان کیا ہے۔ نُزھ(برونِ شُبہ) مغرفہ، رود، مغنی اور دوسرے سازوں کا ذکر اسلامی تمدن کے مؤرخوں نے کیا ہے۔ مولفِ کنز التحف کا دعویٰ ہے کہ نپزھ کا مُوجد صفی الدین عبدالمئومن (وفات: 1294ء) ہے صفی الدین اپنے زمانے میں ایک بہت بڑا دانشور اور اعلیٰ پایہ کا موسیقی دان تھا۔ مبسوط اطلاع و خبر کا مالک تھا اور اُس نے نُزھ میں بھی ترمیم کی تو ایک نئے ساز نے جنم لیا جسے وہ مغنی کہتا تھا گمان عالب ہے کہ مگنی، شاہرود کا پیش رَو تھا۔ مغنی، بربط اور قانون کے اشتراک و امتزاج سے وجود میں آیا تھا۔ نُزھ سے اس امتزاج کی ترغیب ملی تھی۔ کہتے ہیں کہ صفی الدین نے مغنی اپنے اصفہان کے دوران، قیام میں بنایا۔ شاہرود خُلفائے بغداد کے زمانے میں بے حد مقبول تھا اور جب یہ ساز بھی عرب ممالک سے نکل کر یوروپ پہنچا تو وہاں ایک اور ساز نے جنم لیا۔ نئے ساز کو آرچ لُوٹ (ARCHI LUTE) یا "بربطِ بزرگ" کہنے لگے۔ یہ اُس دَور کی بات ہے جب عرب ثقافت یورپ پر پوری طرح سے حاوی ہو گئی اور زندگی کے مختلف شعبوں پر اثر انداز ہوئی تھی۔

    یہاں نُزھ، شاہرُود، مغنی وغیرہ سازوں کا ذکر اس لئے بھی کر رہا ہوں کہ کسی نہ کسی موسیقی دان نے سنتور اور قانون سے اُن کا رابطہ بڑھایا۔ یہ سارے تاروں والے ساز ضربی تھے اور ان کی ساخت اور ہئیت بھی کسی حد تک سنتور سے مشابہت رکھتی تھی اسی لئے غالباً مختلف عرب، تُرک، ایرانی، فرانسیسی اور انگریز موسیقی دانوں نے سنتور اور قانون کے بیان میں اُن کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی چنگ، لِیئر اور مغرفہ کا بھی ذکر کیا ہے یہ ساز یا تو مضراب، یا زخمہ یا قلم سے بجائے جاتے یا انگلوں سے۔

    ایک اور ساز کا ذکر ابو النصر الفارابی نے بھی تفصیل سے کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مغاریفہ (واحد: مغرفہ) تاروں والا ضربی ساز تھا جو مضراب سے بجایا جاتا اور نغمے حسبِ منشا پیدا کئے جاتے کچھ موسیقی دانوں جیسے لین (LEXICON LANE)  کا خیال ہے کہ صورت اور ساخت سے مغرفہ، بربط کا متشکل تھا۔ اب ذرا لفظ مغرفہ کے معانی تلاش کریں۔غُرف کے معنی ہے جن کی آواز: یہ کہنا قدرے دشوار ہے کہ اس ساز کی صدا اور جن کی آواز میں کیا مناسبت تھی۔ جس کی رُو سے مغرفہ کو ایسی دلچسپت تشیہہ ملی ہو سکتا ہے کہ اوائل دورۃ اسلامی میں لوگ جن و پری پر زیادہ اعتقاد رکھتے   تھے اور وہ زمان جاہلیت کے اثرات محو نہیں کر پائے تھے اور اپنی زندگی پر یہ اثرات "محسوس" کرتے تھے۔ ساز ندوں نے بھی اِسی حُسنِ اتفاق یا "حسن اعتقاد" کی بنا پر یہ عام کر دیا کہ اس ساز کی تربیت و تدریس الہا ما" جِن وپری ہی سے ملی ہے۔ بہرحال، مغرفہ مُسلم ممالک ہیں رواج پا گیا اور بربط و تنبور کی طرح انگلی یا مضراب سے بجایا جانے لگا۔

    ابجوالفرج الاصفہانی نے لکھا ہے کہ محمد بن الحارث بن بو سخور ابو جعفر کو موسیقی سے والہانہ عشق تھا اور اس کی خدمت میں ہمیشہ خو ش گلونا ئیکائیں (مطر بائیں) رہا کرتی تھیں اُس نے ابراہیم موصلی سے مغرفہ کی تربیت و تعلیم حاصل کی تھی۔ محمد بن الحارث بغداد کے قاضی کا لڑکا تھا جو خود بھی علم دوست اور عالم نواز تھا۔ الاصفہانی کا یہ بھی بیان ہے کہ مغرفہ امیروں اور متمول گھرانوں کی محفل سے باہر نہیں نکل سکا۔ اس لئے دوسرے سازوں کی طرح مقبول نہ ہو سکا۔

    قانون کا ذکر

    قانون کے بارے میں عبدالقادر ابن غیبی ایک دل چسپ عقیدہ رکھتا تھا کہ یہ ساز اطلاطون کی اختراع ہے حالاں کہ اکثر محققوں نے اسے الغارالی کی تخلیق کہا ہے۔ ابن غیبی لکھتا ہے کہ کلمئہ قانون دراصل یونانی نسل کا لفظ ہے۔ قانون سپین میں مسلمانوں کے درود کے ساتھ موسیقاروں میں مقبول ہُوا اور اپنی جگہ بنائی تھی۔ اس ساز کے بارے میں "کنزالتحف" (تصنیف: ابن الہشیم) میں ذراتفصیل کے ساتھ بت کہی گئی ہے کہ اس کا جعبہ صوتی (SOUNO BOX) یا سُر صندل کا قطر ایک گرہ سے زائد نہیں تھا۔ قانون چیل کی لکڑی سے بنایا جاتا تھا۔ ذُوزنقہ کی صورت سے اس میں 74تار لگتے ہیں جو مضراب یا زخمہ سے چھیڑ ے جاتے ہیں۔ ایرانی قانون میں رُودے کے تار لگتے ہیں اور دو مضراب سے بجایا جاتا ہے جو انگشتانہ کی طرح سبابہ (انگشت،ِ شہادت ) میں رکھے جاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اس لئے چھیڑا جاتا ہے کہ نغہ سے زیرو بم کی صدا نکلتی رہے اور کچھ لمحوں تک سُر کی لرزش جاری رہے۔ سنتور کی طرح اس کا آہنگ بہت ہی مرغوب اور دل نشین ہے۔ لیکن اس میں انعکاسِ آہنگ (ROSAANCE OF SOUND) قدر سے محدود ہے۔

    قانون سپین کے علاوہ وسط ایشیا اور برصغیر پاک و ہند میں مقبول رہا ہے اس کے بارے میں بعض ایسی کتابوں میں کچھ مختصر حال درج ہے جو موسیقی دانوں نے مرتب کی ہیں۔

    میوزیم میں

    مجھے موسیقی سے وابستہ میوزیم اور نوادرات خانے سیاحتِ یوروپ خاص طور سے برسلز اور پیرس میں دیکھنے کا موقع میسر آیا اور وہاں قدیم ترین سنتور اور قانون کی شبیہیں اور سنتوزن اور قانون نواز مردوزن موسیقاروں کی تصویریں دیکھیں ان کے علاوہ قدیم عرب و ایران کی تاریخ ثقافت سے وابستہ تابلو (TABLEUX) بھی کتب خانوں میں نظر آئے میرے نجی کتب خانے میں اس قسم کے تابلو ہیں۔

    کشمیر میں سنتور

    اب ذرا ایرانی اور عرب حدود سے نکل کر پھر کشمیر کا رُخ کریں جس کو اہل ایران" ایران صغیر" بھی کہتے ہیں اور دیکھیں کہ ایران اور وسطِ ایشیاء کے کلچر کے اثرات کی وجہ سے سنتور بھی کشمیری موسیقی کا ایک اہم ساز بن گیا ہے بالکل اُسی طرح سے جیسے کہ رباب تمبخ نار(تُمبک ایرانی)، ساز(کمانچہ ایرانی) یا کئی طرح کی مرغوب غذائیں(آب گوشت۔ کباب، گوشتابہ وغیرہ) کشمیری زندگی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ آخر یہ ساری چیزیں اچانک مخصوص کشمیری کلچرل زندگی کا حصہ تو نہیں بنی ہیں بلکہ یہ صورت طویل باہمی ارتباط کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔

    جب7ویں صدی عیسوی کے اختتام اور 8 ویں صدی کے اوائل میں مہاراجہ للتا دیتہ نے حکومت نبھالی تو کشمیر اور اس کے آس پاس کے لگ بھگ سارے علاقوں کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دی۔ امن و خوش حالی کا دور شروع ہوا۔ یہ ماحول فن اور فنکاروں افزائی اور حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ فنونِ لطیفہ کو فروغ حاصل ہوا۔ دربار میں ملک اور بیرونِ ملک سے ہُنرو رباصلاحیت فن کار اور موسیقار بُلائے گئے تو کلچرل زندگی کے کوشحال دَور کا آغاز ہوا۔ لازمی نتیجہ یہ تھا کہ بیرونِ ملک سے آئے ہوئے افغانستان اور ایران سے بُلائے گئے موسیقار اپنے ساتھ آلاتِ موسیقی بھی لائے ہونگے یہی وجہ کہ کشمیر میں مُروج ساز اتنے پُرانے اور قدیم ہیں کہ اُن کے بارے میں نیشنل سکول آف میوزک آف ایران کے ناظم ڈاکٹر رُوح اللہ خالقی نے لکھا تھا۔"کشمیری موسیقی میں جتنے سارے ساز میں نے دیکھے اور سُنے وہ بہت ہی پُرانے ہیں اُن میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔" سنتور کے بارے میں خاص طور سے یہ جملہ اُن ہی کے الفاظ میں دُراؤں گا۔

    "در کشمیر سنتور ماراھَم میںرازند وے تکنیک ایں ساز درآنبھا خیلی ضعیف است۔"

    "رسالہ میوزک ایران صفحہ 28تیر ماہ 1335)

    یونانی تعلق

    ایک روایت یہ بھی ہے کہ سکندر اعظم کے حملے کے ساتھ ہی سنتور بھی بھارت میں نمودار ہوا۔ سکندر، اعظم اپنے ساتھ دانشور، علماء اور ماہرین جنگ و جدال کے ساتھ موسیقار، رقاص اور گائک بھی لایا تھا جو لڑائی کی صبر آزما اور کٹھن گھڑیوں کے وقفہ درمیانی میں اپنے شہنشاہ کی تفریح و تواضع کا اہتمام و انصرام کرتے تھے۔ اُن موسیقاروں میں بعض فن کار اپنے شہنشاہ کے سفرِ مراجعت میں اُس کے ساتھ نہیں رہے بلکہ الگ ہو گئے اور پھر انہوں نے پُرسکون ماحول کی تلاش میں کشمیر کا رُخ کیا وہ اپنے ساتھ یونانی سنتوری (SANTOURIE)  لے آئے۔ یہ واقعہ لگ بھگ پانچ صدی قبل از مسیح کا ہے۔

    اس روایت کے علاوہ ایک اور حکایت ہے کہ بنی اسرائیل کا "گم شُدہ قافلہ" منزلیں طے کرتا ہوا کشمیر کی سمت آنکلا اور اپنے ساتھ ہی آرمیںی ساز PSANTER سنتریا سنطر لایا۔ کچھ بھی ہو سنتور جہاں سے اور جس کی بدولت کشمیر پہنچا ہے اپنی اصلی حالت میں مروج ہے۔ جس کی تکنیک ڈاکٹر خالقی کو ضعیف اور کمزرور نظر آتی ہے۔ کمزوری اور جعف کے کئی اسباب ہیں۔ سب سے بڑا سبب طویل دور، غلامی ہے جب کہ ساری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور کسی چیز پر بھی کشمیریوں کو کوئی استحقاق نہیں تھا۔ سب کچھ آقاؤں اور حاکموں کی ملکیت تسلیم کیا جاتا تھا اور علامہ اقبال بے بس کشمیری کی حالتِ زار کے بارے میں یہ بھی لکھ چکے:

    یہ ریشم قبا خواجہ از محنتِ اُو

    نصیبِ تنش جامہ تار تارے

    محکومی کے ابتدائی دور میں فنونِ لطیفہ کی طرف کوئی دھیان دیتا؟ دھیان بھی دیتا بے مثال فن پارے تخلیق ہوتے مگر کوڑیوں کے مول بِکتے۔ موسیقاروں اور فنکاروں کی خال خال ہی حوصلہ افزائی ہوتی اور ان کے آزوقہ کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔

    انگریزوں کے اقتدار میں گُل بُوٹے، کھیت کھلیان، باغ و راغ، ندی نالے، چشمے آبشار، پھل پُھول، دیدہ زیب مناظر، بلند قامت پیڑ اور فلک بوس کُہسار یہ سب کچھ چند سکوں کے عوض ایک فوجی کے حوالے کر کے کشمیریوں کے گلے میں طوقِ غلامی نئے طور سے ڈالا گیا تھا تو فن اور فنکار کو تخلیق کے آسودہ لمحوں کی کیا تلاش رہتی؟

    آزادی کے بعد

    انفرادی تربیت کے علاوہ اجتماعی طریقہ سے 1950ء کے بعد سنتور سکھانے کی کچھ مضمل کوششیں کی گئیں"استاد،شاگرد" کا سلسلہ تو بڑے ہی محدود پیمانے پر جاری تھا کچھ سنگیت وِدھیالوں میں ستار کے علاوہ کبھی کبھی سنتور بھی سکھلانے کی کوشش کی گئی مگر شاگرد اس ساز کی طرف بہت کم مائل ہوئے۔

    کلچرل اکادمی کے وجود میں آنے کے بعد فنونِ لطیفہ میں تربیت و تدریس کے لئے ایک ادارہ قائم ہوا تو سنتور سیکھنے کے لئے ترغیب بھی دی گئی مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکا۔

    سنتورزن

    بعض دوستوں کا گمان تھا کہ سنتور کی ایجاد میں اَرنی مال (زوجہ بھوانی داس کا چرو) کا ہاتھ تھا۔ حقائق اور دلائل یہ "فرمودہ" ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیوں کہ کشمیر میں سلاطین کے دور کے ساتھ ہی زندگی کے تمام پہلوؤں پر بیرونی(عرب و ایران کے)اثرات پڑنے لگے تھے یہ بھی صحیح ہے کہ شروع شروع میں کشمیر میں درودِ اسلام کے ساتھ ہی موسیقی شاہی سر پرستی سے مھروم ہو گئی تھی لیکن پھر آہستہ آہستہ فنونِ لطیفہ کے پھلنے پُھولنے کے مواقع فراہم ہوتے رہے۔ مقامی راگ راگنیوں کے ساتھ ساتھ عربی، افغانی اور یرانی نام بھی لئے جانے لگے بلکہ اُن کی تعلیم و تربیت کشمیری موسیقاروں کو دی جاتی رہی۔ اس سلسلے میں کشمیری موسیقی کے باب میں مزید بات ہو گی۔

    اس وقت کچھ ایسے موسیقاروں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے سنتور یا تواپنے خانوادہ ہی میں سیکھایا پھر ارادتاً اور شوقیہ سنتور بجانے میں عملی دلچسپی ظاہر کی کشمیر میں چند ایسے گھرانوں میں صوفیانہ موسیقی کا چلن رہا اور اُنہی میں سنتور اور دوسرے آلاتِ موسیقی سیکھنے کا رواج رہا ہے جو موسیقی بطور پیشہ گاتے بجاتے تھے۔ اس ضمن میں پچھلے سو برس سے جو خاندان سب سے زیادہ سنتور کی سر پرستی کرتا رہا ہے اُس کا ذکر کیا جانا ناگزیر ہے وہ خاندان ہے استاد رمجان جوکا۔ ان کے اسلاف میں استاد میر جو، استاد قادر جو، استاد صدیق جو اور دوسرے کئی موسیقار اور سنتور نواز ہوئے اور آج بھی غلام محمد ساز نواز اسی خاندان کا سنتورزن ہے، موسیقار ہے۔

    ان کے علاوہ شوقیہ طور موسیقی کی طرف راغب ہونے والوں اور سنتور بجانے میں نام پیدا کرنے والوں میں اُستاد محمد عبداللہ تبت بقال، استاد غلام محمد قالین باف، شیخ عبدالعزیز اور دوسرے موسیقار ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جموں کے موسیقار پنڈت اومادت شرما کا فرزند پنڈت شیو کمار شرما ہے جس نے سنتور بجانے کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔

    ہئیت اور ساخت

    پہلے ذرا ساخت اور ہئیت کی بات کریں پھر مزید تاریخی پس منظر پر کشمیر کے حوالے سے کچھ رقم کریں تا کہ قارئین و شائقین کے لئے وہ مواد بہم ہو جو عام طور سے دستیاب کتابوں میں یکجا نہیں ہُوا ہے۔

    کشمیر کے موجودہ سنتور میں 96تار لگتے ہیں۔ 24گوٹیوں یا بینی (BRIDGES) پر چار چار تار دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کھونٹیوں سے کس دئے جاتے ہیں۔ اس طرح سے اِسے "24پردوں والا ساز" بھی کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایران میں 18پردوں والا سنتور رائج ہے اور ترکی میں 48پردوں والا سنتور کبھی مروج تھا ۔ کشمیری سنتور زن صِرف گوٹیوں کے درمیانی حصے پر قلم (زخمہ) سے ضرب لگاتا ہے تو مطلوبہ سُر حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ایرانی سنتور زن گوٹیوں کے دائیں بائیں بھی ضرب لگاتا ہے اور حسبِ منشا و ضرورت سُر ھاصل کر پاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سنتور سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاتا ہے۔

    سنتور کی شکل چھاج سے ملتی ہے۔ سنسکرت میں اسے "سُوپ" اور کشمیری میں"شُوپ" کہتے ہیں۔ "سُوپ" یا "شوپ" چاول یا تَمُل یا ٹنڈُل(مراٹھی اور سنسکرت) چھٹنے کے کام آتا ہے تو سنتور، سرسنگیت مُنتشر اور سنورنے بکھیرنے میں کام آتا ہے۔

    سنتور سُر کرنے میں خاصا وقت لگتا ہے۔ 96تار اور تاروں کو چار چار کے گرو میں سُر کرنا اور گوٹیوں کے اَچل ہونے کی وجہ سے وسیقار کے لئے خاصی دشواری پیدا ہوتی ہے۔ اگر گوٹیوں کو ہلایا جائے اور اس ذوزئقہ نما ساز میں کچھ اور ترمیم کی جائے تا کہ موسیقار حسبِ منشا اور مقام کی ضرورت کے پیشِ نظر سُر باندھا کرتے تو اس ساز کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا اور حسبِ ضرورت آہنگ کی رسائی (RANGE OF SOUND)  بڑھائی جاتی۔ سنتور کی ترویج میں ایک اور مشکل یہ ہے کہ اس ساز کے چاہنے والے انے گنے لوگ ہیں۔ شاید اس لئے بھی کہ یہ ساز بے حد ریاضت، مشق اور مُسلسل کا وش طلب کرتا ہے۔ ہر طالب علم اس میں مناسب اور موزوں دسترس فوری طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔

    کشمیر میں اب سنتور سکھانے کا کوئی خاص ادارہ یا مرکز نہیں ہیں بلکہ سنتور انفرادی طور پر "استاد شاگرد" کی روایت کی رُو سے سیکھنے، سکھانے کا چلن کہیں کہیں ہے اور بس!

    شاید وہ سارے اسباب جن کا ذکر سنتور کے مقبول عام نہ ہونے کے حوالے سے پیش کئے گئے ہیں۔ سنتور کی قدیم حالت میں کوئی فرق پیدا نہیں کر سکے اور نہ ہی سازندوں نے ذراسی دور اندیشی اور جرات سے سنتور میں کوئی تبدیلی لائی ہے۔ وہی لکیر کے فقیر رہ کر کوئی جدت پیدا نہیں ہوئی ہے یا کی گئی ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ کشمیری سنتور ہو یا صوفیانہ موسیقی ، قدامت کے شکار ہیں۔ محمد عبداللہ ثبت بقال نے لَے اور ضرب میں کچھ تبدیلی یا تیزی کی تھی مگر بہت ہی محدود پیمانے پر۔ ہاں اگر کسی سنتورزن نے اس ساز کی ہیت میں جرات کے ساتھ اپنی ضرورت کی وجہ سے ایک دو پردے بڑھائے ہیں اور ترمیم کی ہے وہ ہے شِو کمار شرما۔ جس کی بدولت وہ ہندوستانی کلاسیکی اور دوسری اصناف میں بِلا تردد سنتور بجاتا ہے۔

    مزید تاریخی پس منظر کے بارے میں

    "کشمیر کے تاریخ و تمدن پر یہودیوں کا اثر رہا ہے۔" ڈاکٹر عزیز قریشی نے اس طرح کے بیانات دئیے ہیں جن کے ساتھ دلائل بھی پیش کی ہیں۔ عزیز کاشمیری بھی اُن کے مقلدوں میں سے ہیں وہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن روضہ بل خانیارسیہ سنگر میں اُن قبروں میں تلاش کرتا ہے جو یہودیوں کی قبروں کی طرح سے ہیں۔ دونوں سے پہلے بعض یوروپی اور لاہوری مفکروں نے بھی حضرت عیسٰی کے روضہ کے بارے میں اسی قسم کی قیاس آرائیاں کی ہیں۔ انہوں نے یہودیوں کے "گم شدہ قافلہ" کو کشمیریوں کی صورتیں ریاست جموں و کشمیر میں پایا ہے۔ یہ موضوع بجائے خود ایک الگ تصنیف کا متحمل ہے اور موجودہ تخلیق کے دائرے میں نہیں آتا۔

    کروٹسِ سَکسِ (CURTIC SACKS) نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف: عالمی موسیقی کی ایک   مختصر تاریخ (A SHORT (HISTORY   OF WORLD MUSIC) میں مختلف ملکوں کے مابین کلچرل ارتباط و اختلاط کے حوالے سے لکھا ہے۔

    "یونانی راگ راگنیاں معدوم ہوتی گئیں۔ لیکن اسلامی مشرق، عرب، ایرانی اور ترکی موسیقی سے متعلق تحریروں میں اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ ان موسیقیوں کے نظام کی اساس یونانی رہی ہے"۔

    یونانی موسیقی میں رقت ETHOS اس طرح سے پائی جاتی ہے جیسا کہ وسطِ مشرق یا مشرق قریب میں موجود ہے جو یونانیوں نے ہندو طور طریقے سے حاصل کی ہے اسی لئے راگ کی طرح ان کے پاس میلودی(نغمہ، راگ ) کی مختلف صورتیں یا اشکال موجود تھیں۔

    موسیقی کسی بھی ملک کی ہو ثقافتی ارتباط سے دوسرے دیس باسیوں کے کان میں رَس ضرورگھول لیتی ہے البتہ شرط یہ ہے کہ سُننے والا کسی طے شدہ اختلاف یا تعصب کے تحت نہ سنے۔ ہر میٹھا بول اور مدھر سپر ضرور اپنی طرف، راغب کرتا ہے۔ کم از کم مجھے یونانی، فرانسیسی، جرمن، عربی اور ایرانی عوامی نغمے سُننے کا جب جب موقعہ ملا ہے میں اُن کی اپیل، رسائی اور مٹھاس سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ برصغیر پاک و ہند کی موسیقیوں کا بھی یہی حال رہا ہے۔

    کلچرل ایکسچینج کی بات ذرا دوسری طرح سے آگے بڑھائیں ہم کہتے سنتے رہے ہیں کہ تان پورہ یا چنگ یا نَے بالکل ہندوستانی ساز ہیں۔ یہ تو صحیح ہے کہ ان کے موجد کے نام بھی ہم جاننے لگے ہیں۔ مگر موسیقی دانوں نے ان کے ماخذ ہندوستان سے باہر ڈھونڈ نکالے ہیں۔ ایسے ہی موسیقی دانوں میں ایچ جی فارمر (H.G FARMER)  ہے جس نے اپنی تصنیف THE ORIENTAL STUDIES: MAINLY MUSICAL) میں محمد عبدالحمید الاجیفی کی شہرہ آفاق کتاب"رسالتہ الفتحیہ فی الموسیقی" میں کئی سازوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ سُلطان بابر بد دوم کا ہم عصر تھا۔ اور یہ اقتباس نقل کیا ہے جس میں آپ کئی سازوں کے نام پائیں گے اور گمان ہوتا ہے ان سازوں میں وہ ساز بھی ہیں جن کو ہم برصغیر پاک و ہند کے ساز کہتے ہیں مگر اُن کی اصل کہیں اور ہے:۔

    ظاہر ہے الاضیقی نے اس میں صرف تیرہ سازوں کے نام دئیے ہیں۔ دوسرے سازوں کے نام وہی ہو سکتے ہیں جو ابنِ غیبی نے دُہرائے یا کاتب چلبی نے بیان کئے ہیں۔ جن میں مزمار، نقارہ، دائرہ۔ متقال، قوال اور ششس تار بھی شامل ہیں۔

    یہ مثال دے کر یہ بات واضح کرنا تھی کہ کشمیری موسیقی ہو یا غیر کشمیری، بیرونی یا غیر ملکی موسیقی باہمی اثرات سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ سنتور بہت قدیم زمانے سے متداول و مروج رہا ہے۔ اسے آپ مہاراجہ اللہ دتیہ کے زمانے سے کہتے یا ان یونانیوں کی رسوم چقافت کی بدولت جو سکندر اعظم کے ساتھ واپس وطن نہیں لوٹے اور کشمیر کو اپنا مسکن بنایا یا اُس "گُم شدہ قبیلہ یہود" کی سماجی زندگی کی دین سمجھے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے وہ کشمیر میں آ کر بس گیا تھا۔ غرض موجودہ سنتور اپنی نوعیت کا الگ سنتور ہے جو اس وقت کشمیر میں مروج ہے۔

    یہ صحیح ہے کہ کشمیر میں موسیقی کئی طرح سے حمبود میں مبتلا رہی ہے اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ہے۔ اسی طرح سنتور جو اپنی اصلی شکل میں ہمارے پاس ایا تھا اب بھی اسی طرح سے قائم و دائم ہے۔ اسی طرح سنتور جو اپنی اصلی شکل میں ہمارے پاس آیا تھا اب بھی اسی طرح سے قائم و دائم ہے۔ کہیں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ شری و رملا زادہ خراسانی، ملا جمیل ملا عود اور دیگر ارباب فنِ و ہنر نے سلطان زین العابدین اور حسن شاہ کے درباروں کو مُزین و منورکرنے کے ساتھ ساتھ فنِ موسیقی میں کوئی نمایاں اضافہ کیا یا سازوں کی ہیت یا ساخت میں تبدیلی لائی ہو۔ جہانگیر ماگرے، استاد وہاب الدین، شیخ شکور او ر دوسرے موسیقاروں کی زندگی کے حالات تفصیلی طور پر دستیاب نہیں ہو سکے ہیں ہاں مؤرخوں نے اتنا کرم کیا ہے کہ یہ لکھا ہے کہ بڈشاہ کے دربا کی زینت کون کون سے استا دبنے تھے تو کون کون سے حسن شاہ کے دربار سے وابستہ تھے۔ گمان غالب ہے کہ جہاں بڈ شاہ کے دربار میں سارنگی، ساز، طبنورہ، سُرنے، رباب، سہ تار، طلبلہ، وصول، نصیری، نقارہ، دائیرہ عُود اور دیگر ساز بجانے والے ماہرین تھے تو ان میں سنتور نواز بھی شامل ہوتے۔ تاریخ ثقافت کا یہ گوشہ تحقیق طلب ہے۔

    عرب موسیقی دانوں کا حوالہ

    بیشتر اس کے ہم دوسرے ضربی (تار والے) سازوں کا ذکر کریں۔ ان چند عرب موسیقی دانوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں جنہوں نے سنتور سے ملتے جلتے سازون کا تفصیلی بیان اپنی تصانیف میں دیا ہے جن میں نُزھ(بروزنِ شُبہ) مغرفہ، رُود، مغنی وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔

    عرب موسیقی دانوں اور ساز شناسوں کی ان تصانیف میں ہیں رسالہ معنی الموسیقی(الکندمی) کتاب الاغانی(الاصفہانی) کتاب الادوارفی موسیقی(صفی الدین عبدالمومن) معارف الموسیقی(ابن زید) رسالہ فتحیہ فی الموسیقی(محمد عبدالحمید الاجیقی)" کنز التحف(ابنِ الہشیم) مفتاح العلوم(محمد خوارزمی)، الشریفتہ،(صفی الدین عبدالمومن) کتاب النغمات(الفارابی)۔

    ان کے علاوہ ابن ماجہ، ابنِ رُشد، ابنِ صابری، خلیل، نصیر الدین طوسی، یحیٰ الخودج، ابنِ عبدالربیع، ابراہیم موصلی، اسحاق موصلی، ابنِ فرتاس، ابنِ غیبی، حسین ابن اسحاق، یوحنان، عبید اللہ، ابنِ عبداللہ، مسلم بن معرض، ابنِ سراج، ابنِ مسیجاۃ، ابوخابرجانی، ابن سُریج، ابنِ محریض، عزیز ابن سینا اور کئی دیگر دانشور مو سیقاروں اور موسیقی شناسوں نے قابلِ زکر تکلیقات میں موسیقی کے کئی پہلوؤں پر بحث کی ہے جن کی تفصیل پیش کرنا طوالت کو بے محل دعوت دینے کے مترادف ہے۔

    سِتار

    تار والے ضربی سازوں میں غالباً ستار ہی وہ ساز ہے جس نے مشرق و مغرب کے موسیقی دانوں، ساز شناشوں اور موسیقاروں کو کسی نہ کسی رنگ میں متاثر اور اپنی طرف مائل کیا ہے۔

    سنگیت میں استعمال ہونے والے سازوں میں ستا ر ایک مقبول ترین ساز ہے۔ موجودہ ستار ایک ایسے ذہین شخص کی ایجاد ہے جو بے پناہ قوتِ تخلیق اور فن کا رانہ صلاحیتوں کا مالک تھا۔ جس نے موسیقی اور شاعری کی دُنیا   میں بلند و بالا مقام حاصل کیا ہے اُس ہستی کا نام ہے امیر خسرو۔

    امیر خُسرو نے ہندوستانی سنگیت کو جہاں ایک نیا ڈھانچہ فراہم کیا وہاں گائیکی کو خیال کے سانچے میں ڈھالا اور ساز سنگیت میں وہ آلاتِ موسیقی اختراع کئے جو ضربی ساز ہیں یعنی ستار، طبلہ اور ڈھولک، ستار تاروں والا ضربی ساز ہے جس کے تار مضراب یا زخمہ یا اُنگلی سے چھیڑے جاتے ہیں تو حسبِ خواہش نغمے پیدا کئے جاتے ہیں۔

    ستار کی ہئیت و ساخت پر کچھ لکھنے سے پہلے اُستاد عبدالحلیم جعفر خان کے ایک مقابلہ: "امیر خُسرو اور ہندوستانی موسیقی" کا یہ اقتباس قابلِ توجہ ہے اور دلچسپ بھی:

    "یہ تار کا ساز ہے اور تار والے جتنے بھی ساز ہیں اپن کا مخرج "کمان" (تیر کمان BOW )ہے۔ قدیم تر زمانے میں کمان کے تاریا ڈور سے بہت کام لئے جاتے تھے کسی مخصوص ڈھنگ سے اس کو ضرب دے کو خطرہ یا کسی اور سگنل کو دُور تک پہنچایا جاتا تھا۔ دور تار لگا کر کچھ اور سِگنل بھیجا جاتا تھا۔ اس شکل کے مِلتے جلتے ساز آج بھی قدیم کتابوں اور گرنتھوں میں پائے جاتے ہیں۔ اِسی بُنیاد پر تار والے سازوں کی ایجاد عمل میں آئی۔"

    اس اقتباس سے قطع نظر، ہر دور میں موسیقی کی اصناف میں کچھ نہ کچھ ترمیم اور اضافے ہوتے رہے ہیں۔ جس سے زندہ فن کی توانائی کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی قاعدے کے تحت "اِک تارا" کے وجود میں آنے سے امیرخُسرو کے ستار کی طرح پورے برصغیر ہندو پاک میں کئی ساز وجود میں لائے گئے۔ غور فرمائے کہ نارو منی کے" اِکتار" نے امیر خُسرو کے ہاتھوں ساز کی کون سی شکل اختیار کی ہے۔

    قدیم ہندوستان میں موسیقی کا خاصا عمل دخل مندروں اور پاٹھ شالاؤں میں رہا ہے اور مذہبی پیشواؤں سے سنگیت کا گہرا ربط رہا ہے۔ دیومالائی اثرات کے حوالے سے کئی روایات نے جنم لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ "شیوبہ مہاراج نے ایک تار والا ساز ایجاد کیا تھا جس کا نام "پنا کہ (PINAKA) تھا۔ گُمان غالب ہے کہ یہ وہی "اکتارا" ہے۔ جو نا رومنی بجاتا تھا۔ اور جو آج بھی   پنجاب، ہماچل، بنگال اور جموں کے بعض علاقوں کی عوامی موسیقی میں متداول ہے اور بعض لوگ بجاتے بجاتے گاؤں گاؤں گھومتے ہیں اور گانے بجانے سے روزگار اور آزوقہ کی سبیل پیدا کرتے ہیں۔

    ستار کی ابتدائی صورت

    تاروں والے ضربی سازوں میں بھارت میں "اکتار" ایرانی اور عربی سنگیت میں عود اور دیگر چھوٹے بڑے علاقائی ساز ہوتے ہو لوک سنگیت اور علاقائی موسیقی میں متدوال رہے ہوں گے۔ البتہ تاریخِ ثقافت میں اُن کی واضح تفصیل نہیں ملتی ہے۔

    کشمیر میں تین تاروں والا ایک ساز" سہ تار" قدیم زمانے سے موجود ہے اور یہاں کی کلاسیکی موسیقی"صوفیانہ موسیقی" سے وابستہ ہے۔ قرینِ قیاس ہے کہ یہ ایرانی سُتہ تار' ہے جو کشمیر میں متداول ہے اس بات کا اعتراف ڈاکٹر روح اللہ خالقی نے مجھ سے ایک نجی گفتگو کے علاوہ اپنے مقالے میں کیا ہے جو ہندوستان سے واپسی پر اپنے سفر کی رُوداد اور کشمیر میں قیام کا ذکر کرتے ہوئے 1956ء کے "مجلہ موسیقی" اور"موزیک" میں شائع ہوئے۔

    امیر خسرو سے نسبت

    ڈاکٹر وحید مرزا نے اپنی تصنیف"امیر خسرو" میں ایک دلچسپ اور قابلِ تفکر بات کہی ہے جس کا ایک اقتباس یوں ہے:

    "عام روایت تو یہ چلی آتی ہے کہ مشہور و معروف ہندوستانی ساز"ستار" کے موجد وہی تھے اور یہ روایت اِس لحاظ سے قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کہ خُسرو کا زمانہ ہندوستانی اور ایرانی تہذیب کے باہمی اختلاط اور آمیزش کا دور تھا تعجب نہیں کہ ستار کی ایجاد جو وینا یا بین اور عپود یا طنبور کے اصول اور ساخت کی ترکیب سے بنا ہے اُسی زمانے میں ہُوئی ہے اور اس ایجاد کا سہرا امیر خسرو کے سر ہو۔"

    لیکن اس کے ساتھ ہی یہ روایت باوجود اپنی قدامت کے اس بنا پر کمزور سمجھی جا سکتی ہے کہ امیر خسرو نے کہیں کسی اس نام کے ساز کا تذکرہ نہیں کیا حالاں کہ اپنی مثنویوں مثلاً قرآن السعین اور نُہ سپہر وغیرہ میں انہوں نے بہت سے آلاتِ موسیقی کے جو اُن کے زمانے میں رائج تھے نام دئیے ہیں اور اُن کی ساخت اور وضع قطع کو بھی بیان کیا ہے بہر حال ستار کی ایجاد بھی خالق باری کی تصنیف کی طرح مشتبیہ ہے اور رہے گی۔ اس لئے کہ ہمارے پاس قدیم روایت کی تصدیق تاتردید کے لئے کوئی صریح اور قطعی دلیل موجود نہیں ہے لیکن اگر یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتی کہ امیر خسرو کسی نئے ساز کے موجد تھے یہ چیز تقریباًیقینی ہے کہ انہوں نے ہندوستانی راگ میں بہت کچھ تصفات کئے تھے اور اس میں ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا کہ وہ ایک نئے مسلک اور طریقے کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔"

    ڈاکٹر وحید مرزا سے بہت پہلے بھی امیر خسرو کی تخلیقات فکرو تحقیق کا موضوع بنی رہی ہیں۔ اس گُتھی کو کہ امیر خسرو نے اپنی تصنیفات میں ستار کا ذکر کیوں نہیں کیا کوئی نہ سلجھا سکا ہے اور نہ سُلجھانے کی کوئی امید نظر آتی ہے کیوں کہ ہمارے پاس یجاد کی اس روایت کو پرکھنے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے کہ ستار امیر خسرو کا ایجاد کردہ ساز ہے۔

    "صورت المبارک" میں واجد علی شاہ نے اختلافات کے باوجود امیر خسرو کی موسیقی شناسی تسلیم کی ہے۔ بادشاہِ اودھ خود بڑا موسیقی دان تھا امیر خسرو کو "نائک" جو قابلِ فخر لقب ملا تھا تو واجد علی شاہ نے خسرو کا "نائک" ہونا مان لیا ہے اور کہا ہے کہ "خسرو نے اپنی جدتوں سے ان قاعدوں اور ان سازوں کو جو ہزاروں برس سے رائج چلے آتے تھے تباہ و برباد کر دیا جو مہادیو کے زمانے سے پُرانے اصولِ موسیقی کے تحت متدوال تھے۔"

    مگر جب ہم مصنفِ "صورت لمبارک" کے اس بیان کو فن کی ترویج اور ارتقا کے معیار پر پرکھنے لگتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ فن اگر زندہ ہے تو وہ جمودی کیفیت میں مُبتلا نہیں ہو سکتا۔ یہاں غلام عباس کے ایک مقالہ:" امیر خسرو ماہر موسیقی کی حیثیت"۔ سے ایک مختصر اقتباس پیش کیا جائے جو رسالہ"نگار"(اکتوبر 1927ء) میں شائع ہوا تھا تو شکست دریخت، کی بات واضح سی ہو جائے گی۔

    "خسرو نے موسیقی کی قدیم روائتوں کو توڑا ہی نہیں بلکہ قدیم و جدید رایتوں کو بروئے کار لا کر ایک انوکھا ڈھنگ پیش کیا۔"

    فخر السلام مصنف"ہندوستانی موسیقی" بحوالہ مضمون "ہندوستانی سنگیت کو خسرو کی دین از ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی"(خسرو شناسی") نے ستار کی ایجاد کے سلسلے میں لکھا تھا:

    "تاروں کے ساز ستار سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بھی امیر خسروں کی ایجاد پسند طبیعت کا کرشمہ ہے۔ تار کا ساز عہد قدیم سے کس نہ کسی شکل میں ہر ملک میں موجود رہا ہے زمانے کے ساتھ ساتھ ان کی شکل و صورت میں تبدیلیاں ہوتی گئیَ یونان میں ایک قدیم ساز مونو کورڈ (MONOKORD) کے نام سے تھا۔ یہ ایک تارا باجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ فیثا غورث نے ہندوستان سے یونان لوت کر یہ ساز بنایا تھا۔ ایک اور قدیم ساز لاٹر (LETRE)  کے نام سے تھا۔ ایک مصری ساز کتارا کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں پندرہ یا اٹھارہ تار ہوتے تھے۔ موجودہ دور کا گِٹار (GUITAR)  اِسی کی ترقی یافتہ شکل ہے"۔