میر باقر علی داستان گو
میر باقر علی داستان گو
داستان گوئی کافن اب ہمارے ہاں بالکل ختم ہو چکا ہے۔ دِلّی کے آخری داستان گومیر باقرعلی تھے۔ جن کے انتقال کو اب بیس برس سے اوپر ہوئے ۔ دبلے پتلے سے آدمی تھے۔ سفید چھوٹی سی ڈاڑھی، سر پر دوپلی، پاؤں میں دیسی جوتی، انگرکھا اور چست پاجامہ پہنتے تھے۔ عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان، کھلتا ہوا رنگ، سواسی ناک، میانہ قد، باتیں کرتے تو منہ سے پھول جھڑتے۔ داستان سنانے دور دور جاتے تھے۔ رجواڑوں اور نوابوں میں بلائے جاتے۔ ایک زمانے میں ریاست پٹیالہ میں داستان سنانے کے لیے ملازم بھی رہے۔ رئیس مر گیا تو دِلّی واپس آگئے۔ املی کی پہاڑی پر گھر تھا۔ آخری وقت میں افلاس نے گھیر لیا تھا۔ سینما ایسا چلا کہ میر صاحب کی پرسش ختم ہوگئی ۔ دِلّی کے ہندورئیس چھنا مل کے ہاں کسی وقت میں چالیس پچاس روپے ماہوار پر ملازم تھے۔ چھنا مال والوں کا بیان ہے کہ ہم میر صاحب سے بچپن سے داستان سن رہے ہیں ۔ بیس پچیس سال ہو گئے ، ایک داستان ہی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ میرے بچپن میں میر صاحب فراش خانہ میں داستان سنایا کرتے تھے۔ ہفتے میں ان کا ایک دن مقرر تھا۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ داستان کہتے ۔ برسوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ داستان کا ایک حصہ سنانے پائے تھے کہ یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ میر صاحب ہمیشہ داستانِ امیر حمزہ ہی سنایا کرتے تھے۔ ایک نے ان سے پوچھا کہ میر صاحب! یہ داستان کبھی آپ نے ختم بھی کی ہے؟ بولے : ’’عمر بھر میں ایک دفعہ‘‘۔
میر صاحب کے آباؤ اجدادشاہی داستان گو تھے۔ غالباً انہی میں سے کسی کے متعلق یہ روایت مشہورتھی کہ بادشاہ کو روزانہ داستان سنایا کرتے تھے۔ ایک موقع ایسا آیا کہ عاشق و معشوق کے درمیان صرف ایک پردہ حائل تھا۔ پردہ اُٹھ جائے تو وصال ہو جائے مگر داستان گو نے احساسات، خیالات اور کیفیات کے بیان میں بارہ سال گزار دیئے اور پردہ نہ اُٹھا۔ آخر بادشاہ کا اشتیاق بے قابو ہو گیا اور اس نے تنگ آ کر کہا:”آج پردہ اُٹھ جانا چاہیے‘‘ تب کہیں وہ پردہ اُٹھا۔ میر صاحب کا بھی اسی سے کچھ ملتا جلتا حال تھا، بیگم کے بناؤ سنگھار میں ایک نشست ختم کردیتے تھے ۔ آراستہ ہونے کی تفصیل، زیورات کی قسمیں، لباس کی قسمیں ، زیورات کی تفصیل شروع ہوتی تو میر صاحب سینکڑوں نام گنا جاتے۔ پھریہ بھی بتاتے کہ شاہی بیگمات کے زیور کیا ہوتے تھے، درمیانہ طبقے کی خواتین کون کون سے زیور پہنتی تھیں ۔بھٹیاریاں، سقنیاں اورمہترانیاں کیا کیا پہنتی تھیں۔
میر صاحب بزم اور رزم کو اس انداز سے بیان کرتے کہ آنکھوں کے سامنے پورا نقشہ کهنچ جا تا ۔ داستان کہتے جاتے اور موقع بہ موقع ایکٹنگ کرتے جاتے۔ آواز کے زیرو بم اور لب ولہجہ سے بھی اثر بڑھاتے ۔ امیر حمزہ اور عیاروں کا جب بیان کرتے تو ہنساتے ہنساتے لٹا دیتے۔ ہتھیاروں کے نام گنانے شروع کرتے تو سوڈیڑھ سونام ایک سانس میں لے جاتے ۔ پھر کمال یہ کہ نام صرف طوطے کی طرح رٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ آپ جب چاہیں ، ٹوک کر کسی ہتھیار کی شکل اور اس کا استعمال دریافت کر سکتے تھے۔ میر صاحب پوچھنے سے چڑتے نہ تھے بلکہ خوش ہوتے اور تفصیل سے بتاتے ۔ مثلاً منجنیق کو بیان کرنے ہی میں پندرہ منٹ صرف کر دیئے ۔ عورت کا حسن بیان کرنے پر آئیں تو زمین آسمان کے قلابے ملا دیں اور کچھ نہیں تو چال کی ہی سینکڑوں قسمیں بتاتے ۔ بیگم بن سنور کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آرہی ہیں ۔ ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا، بیگم دہلیز نہیں پھلانگتیں۔ پھر کیا مجال کہ آپ میر صاحب کے بیان سے اُپرانے یا اُکتانے لگیں۔ انہوں نے یہ وسیع معلومات بڑی محنت سے حاصل کی تھیں ۔ ہرعلم کا انہوں نے با قاعده مطالعہ کیا تھا۔ استادوں سے با قاعدہ سیکھا تھا اور تو اور جب دِلّی میں طبیہ کالج کھلا تو میر صاحب نے ساٹھ سال کی عمر میں اس میں داخلہ لیا اور لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنے لگے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کی سند بھی حاصل کی۔
میر صاحب کی داستان جہاں ہوتی وہاں اجلی اجلی چاند نیوں کے فرش بچھ جاتے ۔ میر صاحب کے لیے ایک چھوٹا سا تخت بچھا دیا جا تا۔ اس پر قالین اور گاؤ تکیہ ہوتا۔ سامعین گاؤ تکیوں سے لگ کر بیٹھ جاتے ۔ پان اور حقے کا دور چلتا رہتا ۔ گرمیوں میں شربت اور جاڑوں میں چائے سے تواضع کی جاتی ۔ میر صاحب تخت پر براجمان ہوتے ۔ کٹورے یا گلاس میں پانی منگواتے ۔ جیب میں سے چاندی کی ڈبیا اور چاندی کی چھوٹی سی پیالی نکالتے ۔ ڈبیا میں سے افیون کی گولی نکالتے ۔اسے روئی میں لپیٹتے ، پیالی میں تھوڑا ساپانی ڈال کرانٹے کو اس میں گھولتے رہتے اور دوستوں سے باتیں کرتے رہے۔ جب ساری افیون دھل کر پانی میں آ جاتی تو روئی اگال دان میں پھینک دیتے اور گھولوے کی چسکی لگا لیتے۔اس کے بعد چائے کا ایک گھونٹ پیتے ۔ فرماتے ’’چائے کی خوبی یہ ہے کہ لب بند ،لب ریز اورلب سوز ہو ، پھر داستان شروع کر دیتے۔
دِلّی میں کہیں داستان کہنے جاتے تو دو روپے لیا کرتے پھر ایک دور ایسا آیا کہ لوگوں کو دو روپے بھی اُکھر نے لگے تو میر صاحب نے اپنے گھر پر داستان کہنی شروع کر دی ۔ اور ایک آنہ ٹکٹ لگا دیا۔ دس بیس شائقین آجاتے اور میر صاحب کو رو پیہ سوا رو پیہ مل جا تا ۔ بعض دفعہ سامعین کی حسب فرمائش کسی ایک پہلو کو بیان کرتے ۔کوئی کہتا میر صاحب آج تو لڑائی کا بیان ہو جائے اور میر صاحب رزم کو اس تفصیل کے ساتھ پیش کرتے کہ آنکھوں کے سامنے میدانِ جنگ کا نقشہ آ جا تا ۔ کوئی کہتا ، میر صاحب آج تو عیاریاں بیان ہو جائیں اور میر صاحب عیّاروں کے کارنامے بیان کرنے لگتے ۔میرمحمود علی صاحب نے بتایا کہ کلکتہ میں ایک دفعہ لکھنؤ کے ایک داستان گو کی دھوم مچی ۔ ایک دن ہم بھی سننے گئے تو دیکھا کہ داستان گو کے آگے کتاب کھلی دھری ہے۔ اس میں سے پڑھتے جاتے ہیں اور بہت جوش میں آتے ہیں تو ایک ہاتھ اونچا کر لیتے ہیں ۔ طبیعت بڑی مکدر ہوئی جی چاہا کہ کسی طرح میر باقرعلی یہاں آجاتے تو کلکتہ والوں کو معلوم ہوتا کہ داستان گوئی کسے کہتے ہیں؟ نہ سان نہ گمان، اگلے دن کیا دیکھتے ہیں کہ کولوٹولہ میں میر صاحب سامنے سے چلے آتے ہیں ۔ معلوم ہوا اپنے کسی کام سے آئے ہیں۔ قصہ مختصر، میر صاحب کی داستان ہوئی اور لکھنوی داستان گو ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہتا تھا: ”حضور یہ اعجاز ہے، حضور یہ آپ ہی کاحِصّہ ہے‘‘۔
جب داستان سننے والوں کا قحط ہو گیا تو میر صاحب نے چند کتابیں لکھیں۔ مثلاً گاندھی جی کی کھادی تحریک کے زمانے میں ایک کتابچہ ’’گاڑے خاں نے ململ جان کو طلاق دے دی‘‘، ’’ پاجی پڑوس‘‘، ’’مولا بخش ہاتھی‘‘ اور ایسی ہی چھوٹی چھوٹی کتا بیں کئی لکھی تھیں ۔ جو ایک بار چھپنے کے بعد پھر نہیں چھپیں ۔ اکثر رسالوں میں ان کے مضامین بھی شائع ہوئے گرجولطف ان کی تقریر میں تھا، تحریر میں نہ آسکا۔
میر باقرعلی اپنے نانا میر پیڑا کے شاگرد تھے۔ جن بزرگوں نے میر پیڑا کی داستانیں سنی تھیں، کہتے تھے کہ باقرعلی کی داستان ان کی پاسنگ بھی نہیں تھی۔ غالباً فرق یہی ہوگا کہ وہ بارہ سال تک پردہ پڑا رہنے دیتے ہوں گے ، میر باقرعلی سال دوسال میں پردہ اُٹھادیتے تھے۔
بڑھاپے میں ناقدری اور کس مپری کے ہاتھوں میر صاحب کو بڑی تکلیف پہنچی ۔ دِلّی کا کامل الفن آخری داستان کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے چھالیا بیچتا تھا۔
اے کمال افسوس ہے، تجھ پرکمال افسوس ہے