انیس فاروقی

انیس فاروقی

قرون جدید

    قرون جدیدکی مصوری

    فرنگیوں کی آمد

    اورنگ زیب کی وفات کے بعد جو بعض حکمران تخت نشین ہوئے وہ خصوصاً اپنی عیاشی اور بھی بہت سی وجوہ کی بنا پر اتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنے سے قاصر رہے۔ چھوٹے چھوٹے راجہ اور نواب جواب تک مغلیہ سلطنت کے اطاعت گزار تھے خود مختاری کا اعلان کرنے لگے۔ ایسے حالات میں غیر ملکی طاقتوں خصوصاً فرانسیسیوں اور انگریزوں نے اس برصغیر پر اپنی دھاک جمانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس کشمکش میں فرانسیسی تو کامیاب نہ ہو سکے لیکن انگریزوں کو خاطر خواہ کامیابی ملنے لگی۔ انگریزوں نے پہلے ساحلی علاقوں پر اپنے ہاتھ مضبوط کئے پھر دھیرے دھیرے اندرونِ ملک میں بڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے جدید ہتھیاروں سے آراستہ اپنی فوجوں سے نسبتاً کمزور نوابوں اور راجاؤں کو مدد دینا شروع کر دیا۔ انہوں نے بڑے عظیم طریقے سے اپنی کاروائیاں تیز کر دیں۔ ہندوستانی حکمرانوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کرتے اور جس طرف کسی مقامی قوت کے ابھرنے کا اندیشہ محسوس کرتے اسے پوری طرح طاقت سے ختم کر دیتے۔ اس طرح فوجی طاقت کی مدد سے وہ متعلقہ حکمرانوں کو احسان کے بوجھ سے لاد دیتے۔ انگریز اس کے بدلے میں ان ریاستوں کا نظم و نسق اور معاشی انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیتے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ نواب یا راجہ برا ئے نام رہتا اُسے فقط حسب ضرورت پنشن دے کر محلوں یا قلعوں کی   چار دیواری میں نظر بند کر دیا جاتا۔ یہ سلسلہ 19ویں صدی کے پہلے چوتھائی حصہ تک چلتا رہا۔

    فرنگیوں نے ثقافتی اعتبار سے بھی ہندوستان کو دیوالیہ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس سکیم کے تحت فرنگیوں نے انگلستان کے مصوروں کو ہندوستان آنے کے لئے مدعو کیا۔ اوڈیلی کٹیل غالباً سب سے پہلا فرنگی مصور تھا جو 1769میں مدراس پہنچا اور 1776تک ہندوستان میں رہا۔ اس کے بعد سے فرنگی مصوروں کی آمدورفت کا سلسلسہ کافی زور پکڑ گیا اور تقریباً60مصوروں نے ہندوستان کی سیاحت کی جن میں سے کچھ مشہور مصوروں کے نام حسبِ ذیل ہیں:۔

    نام       وقفہ قیام ہندوستان

    1۔   اوڈیلی کٹیل                                 76۔1769

    2۔   ولیم ہوجز                                    83۔1780

    3۔       جوہن زوفانی                           89۔1783

    4۔       آرتھرڈیوس                            95۔1785

    5۔       جان اسمارٹ                            85۔1785

    6۔       اوزیاز ہمفری                            1785-85

    7۔       ڈیانا ہل                                1786-1806          

    8۔       تھومس ڈینیل                         1786-1794

    9۔       ولیم ڈینیل                             1786-1794

    10۔     سیمول اینڈ روز                         1791-1809

    11۔     جیمس ویلز                              1791-92

    12۔     ولیم بیلی                                1794

    13۔     بالٹا سار سالوین                         1799

    14۔     جان الفاؤنڈر       

    15۔     ڈے ویز

    16۔     رابرٹ مے بان

    17۔     جارج چتری                            1802-25

    18۔     جیمس موفات                          1805

    19۔     جیمس فریزر                            1837

    20۔     رچرڈبیرن                             1837

    21۔     ڈی ۔ آئی۔پی                           1825

    22۔     مسز مے ریان پوسٹن                   1838

    23۔     کیپٹن ولیم سن                          1803

    24۔     کیپٹن گرنڈلے                         1813-1869

    25۔     ولیم ٹیلر                                1842

    26۔     جیمس پرنسپ                           26-31

    27۔     بشمپ ہیبر         

    28۔     کیپٹن

    29۔     مارشل کلیکسٹن

    30۔     رابرٹ ہوم

    31۔     تھیوڈور جنسن

    چار روسی مصوروں کے نام بھی ملتے ہیں۔ 1۔ اے۔ڈی۔ سالٹی کوو43۔1841اور پھر دوبارہ 46۔1845میں ہندوستان آئے۔ 2۔ وی۔وی۔ ورشچگن 76۔1874 اور 8۔1832   3 و 4 این۔این۔کرازین اور این۔ ایس سموکش 91۔1190 میں ہندوستان کی سیاحت کی۔)

    یہ مصور خصوصاً ہندوستانی آثارِ قدیمہ، جغرافیائی اہمیت کے مناظر۔ ہندوستان کے مختلف طبقے اور ان کے طور طریقے رہن سہن اور پوشاکیں جو بھی ان کی دلچسپی کے باعث ہوتے تھے اپنے سفر نامے کے ایک دستاویز کی حیثیت سے مصور کرتے تھے۔ ان فرنگی مصوروں کا طرز مصوری رائل کاڈمی لندن کا وہ مستند طریقہ تھا۔ جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ تحریک کی کم و بیش میراث کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عام طور سے سایہ اور روشنی کا امتزاج ، قدرت کی عکاسی، تناسب و تناظر، ڈرامائی سہ جہتی انداز ترتیب و تنظیم اس طرز کے خصوصی ارکان ہیں   ۔ غرض یہ کہ حقیقت نگاری مغربی اسلوب کا سب سے اہم کردار ہے۔

    جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے مغل، راجپوت اور کانگڑی مصوری کے اسالیب اپنے کسی نہ کسی انداز میں 18ویں صدی تک مروج تھے لیکن جہاں جہاں کمپنی سرکاریں قائم ہوئیں وہاں ایک مخلوط قسم کا اسلوب مصوری فرنگی سر پرستی میں ابھرنا شروع ہوا جسے ناقدین نے کمپنی طرز مصوری کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ طرز خصوصاً تبخور، مرشد آباد، پٹنہ، بنارس اور بعد میں لکھنو اور دہلی میں فرنگی سوداگروں اور دوسرے فرنگی افسران کی سر پرستی میں پروان چڑھا اس طرز میں مغربی اسلوب مصوری اور مشرقی مینا ور مصوری کی خصوصیات کو مد غم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں عام طور سے ہندوستانی روایتی مصورانہ جمالیاتی قدروں کا زوال دیکھا جا سکتا ہے۔

    کمپنی دُور کی ہندوستانی مصوری

    "تبخور قلم"1773میں برٹش انڈیا کمپنی اور ریاست تنجور کے راجا تُلساجی 87۔1765کے درمیان ایک معاہدہ ہو، جس کی رُو سے تلساجی تاوان ادا کرتا رہے گا اور ریاست تنجور کی نگہبانی برٹش انڈیا کمپنی کے ذمہ ہو گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ریاست میں فرنگی تہذیب و تمدن کو پھیلنے پھولنے کا خاطر خواہ بڑا موقع ملا۔ راجہ نے 1777 میں فرنگی مصور جارج ولی سن   سے مدراس کے گورنر لارڈ پائی گاٹ کی شبلیہ بنانے کی درخواست کی اور اس طرح فرنگیوں کی خوشنودی، حاصل کی گئی۔ راجہ نے بذاتِ خود مغربی فیشن کو اختیار کرنے میں پہل کی اور اس کا اثر ریاست کے عوام پر بھی پڑا۔ راجہ کو فنِ مصوری سے بھی دلچسپی تھی۔ لہٰذا قرب و جوار کے مصوروں نے تبخور آ کر اپنی قسمت آزمائی کی۔ اس دور کی تصاویر کے تین سیٹ جن میں دو وکٹوریہ البرٹ میوزیم اور ایک برٹش میوزیم لندن کے مجموعہ میں ہے۔ ان تصاویرمیں زیادہ ترہندوستانی عوام کے نچلے طبقے کے پیشہ ور لوگوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ مثلا دھوبی، بڑھئی، قُلی اور کمہار وغیرہ وغیرہ۔ 1787میں راجہ تلُساجی کی وفات کے بعد اس کا بھائی امر سنگھ تخت پر بیٹھا۔ راجہ تُلساجی کا ایک گود لیا ہوا لڑکا تھا جس کا نام سرفگی تھا! اسے 1790میں مدراس لوکتھرن مشن میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ 1804 میں جب وہ انگریزی زبان اور تہزیب سے فارغ التحصیل ہو کر تبخور پہنچا تو انگریزوں نے اسے تبخور کا راجہ بنا دیا۔ اس راجہ کو بذاتِ خود فنِ مصوری سے کافی شوق تھا۔ اس کے بنائے ہوئے بہت سے فنی نمونوں کے باسند حوالے ملتے ہیں۔ 1750سے تبخور میں خصوصاً مرجع انچ سائز کے ہاتھی دانت کی سطح پر شبیہ کتی کا کام شرو ع ہوا جس کا سلسلہ 19ویں صدی کے آخری دور تک چلتا رہا۔ دوسری قسم کی تصاویر میں ہندو، دیوی اور دیوتاؤں کی تصاویر بنائی گئیں جو کاغذ اور گتے کے علاوہ لکڑی اور کپڑے پر بھی بنائی گئیں۔ 19ویں صدی کے وسط میں کچھ مصور تبخور سے تر چنا پلی آ کر آباد ہو گئے جہاں انہوں نے ابرک اور شیشے پر تصاویر بنانا شروع کیں۔ ان تصاویر کا ایک سیٹ وکٹوریہ البرٹ میوزیم لندن میں محفوط ہے۔ ضلع مدراس اور ملایار کے ساحلی علاقے میں بھی اس دور میں ابرک پر تصاویر بنائی گئیں جس میں مقامی اُمراء کی شبیہ قابل ذکر ہیں۔

    "مرشد آباد قلم" بیگر تھی ندی کے کنارے واقع یہ شہر دورِ مغلیہ میں ایک نواب کے نظم و نسق میں ہوتا تھا۔ یہاں مغل بادشاہ کا ایک گورنر رہتا تھا۔ مختلف حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ نواب علی وردی خاں (90۔1743) کو فنِ مصوری سے کافی دلچسپی تھی اور مرشد آباد کے دیپ چند نامی مصورے نواب علی وردی خاں کی روزمرہ مصروفیات مرقع کی تھیں جس کی کچھ مثالیں وکٹوریہ البرٹ میوزیم کے ہندوستانی شعبہ میں محفوظ ہیں۔ 1730میں کچھ کاستھ مصور بھی وہاں پہنچ گئے جن کے آباؤاجداد راجستھان کے اودے پور ریاست کے رہنے والے تھے اور انہوں نے دہلی کے شاہی اسٹوڈیو میں بھی کام کیا تھا۔ ان مصوروں میں سے دھنی رام کا نام ملتا ہے جس سنے بیگرتھی ندی کے کنارے بالو چک نامی گاؤں میں رہائش اختیار کی تھی۔ اس مصور کو وقتاً فوقتاً نواب کی فرمائش   پر محلوں کی دیواروں پر نقاشی یا سجاوٹ کے لئے بلایا جاتا تھا۔ تیو ہاروں کے موقعوں پر بھی سجانے کے لئے مصوروں کی خدمات لی جاتی تھیں۔ علی وردی خاں کے بعد نواب سراج الدولہ(57۔1756) اور پھر نواب میر جعفر(61۔1757) کے دور میں ریاست کی ساری عملداری فرنگیوں کے ہاتھ میں آ گئی تھی لہٰذا نواب مرشد آباد برائے نام نواب رہ گیا تھا لہٰذا مصوروں کی سر پرستی نوابی دربار سے بالکل ختم ہو گئی۔ مصوروں نے اپنے نئے آقا یعنی فرنگیوں کی رضا اور خوشنودی کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ اس دور کی جو تصاویر دستیاب ہوئی ہیں انہیں تین حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

    1۔       فرنگی شبیہیں۔ یہ عموما جھپٹ پہنچے ہوئے، حقہ پیتے ہوئے یا ہاتھ میں پان کی ڈبیہ لئے ہوئے جیسی تصاویر ہیں جو 1782کے لگ بھگ کاغذ ر بنائی گئیں۔

    2۔       ہندوستانی شبہییں۔ روایتی ہندوستانی طرز میں بنگال سے اودھ تک کے مختلف حکمرانوں کی شبیہیں جو 1840تک بنائی جاتی ہیں۔

    3۔       تیوہاروں کے مناظر، دیوالی، محرم، گنیش پوجا، کالی پوجا جیسے موضوعات پر بارک پر بنائی گئی تصاویر جو 1770کے بعد کی معلوم ہوتی ہیں۔

    "پٹنہ قلم" دُورِ مغلیہ میں پٹنہ بہار صوبے کا دارلخلافہ تھا اور وہاں مغل گورنر رہتاتھا لیکن غالباً اُمرا کو فنِ مصور سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ آرچر کی تحقیق کے مطابق 1706میں مرشد آباد کے کچھ کانستھ مصور پٹنہ منتقل ہو گئے تھے جس کی غالباً سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نواب میر جعفر کے لڑکے میران نے مرشد آباد میں بڑا ظلم مچا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ پٹنہ ایک بہت بڑی تجارتی منڈی تھیلہٰذا فرنگیوں کا ایک اچھا خاصا طبقہ پٹنہ آ کر آباد ہو گیا تھا۔ خصوصاً پٹنہ میں ایک برٹش فیکٹری کے قیام کے بعد اُن کی تعداد میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا۔

    اس دور کے مشہور پٹنہ مصوروں میں سیوک رام نامی مصور (تقریبا1830۔1730) کافی مقبول عام تھا۔ اس کی تصاویر کے عموماً دو موضوعات ہیں(1) ہندوستانی مختلف فرقے اور لوگوں کے مختلف پیشوں کی عکاسی مثلاً بڑھئی ، کمہار، بنیا، جولا ہے، موسیقار، اینٹ بنا نے والے وغیرہ وغیرہ(2) 3 بڑی تصاویر جو پہلے کرل آف منٹو کی ملکیت تھیں۔ یہ تصاویر 12’x16’ سائز کی ہیں جو غالباً1890 کے لگ بھگ بنائی گئیں۔ ان کے موضوعات ہیں مختلف تیوہاروں کے مناظر اور دوسرے مواقع مثلاً محترم، و شہرہ، دُرگا پوجا، شادی بیاہ اور جھولے کی بہار وغیرہ۔ ان تصاویر میں مغربی اسلوب کافی عیاں ہے۔ خصوصاً مغربی تناظر کا استعمال کافی اچھا ہے۔

    دوسرا مصور ہولاس لال (تقریباً1875۔1785) پٹنہ آیا جس کے آبا ؤ اجداد بنارس کے رہنے والے تھے ۔ آرچر کی اطلاع کے مطابق ہولاش لال کے پوتے رٹیام بہاری لال۔ پٹنہ کے پاس 1942میں جولاس کی ایک اسکیچ بُک دیکھی گئی جس کے ذریعہ ہولاس کے متعلق مزید معلومات فراہم ہوئیں۔ اس میں کچھ خائے1816کے دستخط شدہ ہیں۔ ہم عصر مصوروں میں لعل جیروڈن رنگوں کے زریعے شبیہ بنانے میں بڑا ماہر تھا۔ جے راس (جو ہولاس کا رشتے کا بھائی تھا) جھمک لال فقیر چند لعل، توقہ لعل، شیو لال، شیو دیال لال، گوپال لال، گور سہا سے لال، بانی لال، بہادر لال اول، بہادر الال ثانی، کنبائی لال، جے گووند لال اور جمنا پرساد19ویں صدی کے وسط میں پٹنہ طلم کے مصور تھے۔ جن کے پاس خاندان تیموریہ کے شہزادوں کی تصاویر کے کئی سیٹ تھے جنہیں وہ نقل کر کے عام طور سے بیچا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ ایسی بھی تصاویر تھیں جن مین ہندوستانی رسم و رواج کی عکاسی کی گئی تھی۔ پٹنہ مصوروں میں خصوصی تبدیلی اس وقت آئی جبکہ سر چارلس ڈی۔آئینی جو برٹش انڈیا کمپنی کے ایک افسر تھے اور مصوری بھی کرتے تھے1832میں پٹنہ پہنچے اور انہوں نے اپنا بہار لیتھو گرافی پریس کھولا۔ اسی پریس سے انہوں نے اچھی ڈرائنگس چھاپیں جو مغربی اسلوب میں بنی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہے اس طرز کا مقامی مصوروں پر اثر پڑنا لازمی تھا جو کچھ بھی ہو کم از کم پٹنہ مصوروں نے آئل کے خاکوں سے تناظر کے اصولوں سے کافی واقفیت حاصل کر لی تھی۔

    "بنارس قلم" بنارس مغلیہ سلطنت کے صوبہ اردھ کا ایک   اہم مرکز تھا۔ یہاں نواب اودھ کی حملہ آواری تھی مگر فنی اور ثقافتی اعتبار سے بنارس کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہ تھی کیوں کہ یہاں کے امرا اور حکمرانوں کو ہمیشہ اپنے عیش و آرام میں زیادہ دلچسپی تھی۔ انہیں   فنون لطیفہ سے غالباً کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد 1722 کے لگ بھگ ایک مقامی زمیندار منسا رام نے بنارس میں اپنی دھاک قائم کر لی اور اس کے لڑکے راجہ   بلونت سنگھ(70۔1738) نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر خود مختاری کا اعلان کر دیا اور اودھ کی شاہی حکومت کے خلاف انگریزوں کی مدد کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1764میں بنارس برٹش انڈیا کمپنی کے زیر نگران ہو گیا۔ لیکن انگریزوں کو 1765میں بنارس اردھ کے نواب کے حوالے کرنا پڑا۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ بنارس میں راجہ بلونت سنگھ کو اقتدار حاصل رہے گا۔ راجہ بلونت کی وفات کے بعد اس کا غیر قانونی لڑکا راجہ چیت سنگھ گدی پر بیٹھا جس کے ناتے میں پھر کمپنی نے بنارس کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنا ایک ریزسیڈنٹ مقرر کر دیا۔ 1781میں راجہ مہیپ نارائن سنگھ اور اس کے بعد 1795میں راجہ اُدت نارائن سنگھ کو گدی پر بٹھا دیا گیا جو 1835تک بنارس کا تاجدار رہا۔ اس درمیان بنارس کم و بیش پوری طرح برٹش کا لون بن چکا تھا۔

    آرچر کے مطابق18ویں صدی کے وسط میں چاند جی اور حُب لال کے نام سے دو مصور بنارس میں تھے۔ چاند جی پٹنہ کے بلاس لال مصور کے دادا تھے لیکن ان مصوروں کی کوئی فنی شہادت ابھی تک نہیں ملی ہے۔ ناقدین کا خیال   ہے کہ غالباً انگریزوں کی قدر دانی سے مرغوب ہو کر کچھ مصور مرشد آباد سے بنارس آ گئے تھے ان میں سے جن مصوروں کے فنی نمونے دستیاب ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔

    1۔       دتو لال تقریباً   (1860۔1790)

    2۔       کملا پتی   (تقریباً1818۔1760)

    3۔       چُنی لال ولد کملا پتی   (تقریباً1908۔1820)

    4۔       مُنی لال ولد گملا پتی   (تقریباً1901۔1826)

    5۔       بہاری لال ولد کملا پتی (تقریباً1914۔1835) اور کملا پتی کے دو ناموں زاد بھائی گنپش پرساد (1880۔1815) اور مہیش پرسانہ (1906۔1825) بھی قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ لول چند مصور کا بھی نام لیا جاتا ہے۔

    اس دور کی بنارس مصوری ہندوستانی اور رنگی طرزوں کا ایک امتزاجی اسلوب لئے ہوئے ہے۔ موضوعات عموماً ہندوستانی مذہبی تیوہار اور دیوی دیوتا رہے ہیں۔ 1835میں ایشوری نارائن سنگھ کے راجہ بننے کے بعد راج محل میں انگریزی خوبو اور وضع قطع کا عروج ہوا۔ اس نے اسی سال مصور ڈُلال لال کو گوپال چند اور لال چند نامی بھائیوں کو مصوری سکھانے کے لیے مقرر کیا۔ اس کے بعد شیو رام اور اس کے لڑکے سورج نے بھی دتو لال سے مصوری سیکھی اور پھر بعد میں بنارس کے درباری مصور بن گئے۔ ان مصوروں نے خصوصاً راجہ کے اُمرا اور ان کے رفیقوں کی شبیہیں مصور کی ہیں کے کچھ نمونے کلابھون ، بنارس میں محفوظ ہیں۔ بنارس میں بھی ابرک پر تصویر بنانے کی لہر پیدا ہوئی کیوں کہ اس کی مانگ فرنگی سوداگروں میں بڑھ گئی تھی۔

    "لکھنو قلم" نواب شجاع الدولہ(75۔1753) کے عہد میں صوبہ اودھ جس کا دارالخلافہ فیض آباد تھا۔ ایک طاقت ور خود مختار علاقہ بن گیا تھا۔ فرنگیوں کی نظریں اس پر بہت دنوں سے مرکوز تھیں۔ حالاں کہ یہ نواب دہلی نام نہاد مغل شہنشاہ کا محکوم تھا لیکن یہاں دولت کی اتنی فراوانی تھی کہ اودھ کی اہمیت دہلی سے کہیں زیادہ ہو چکی تھی۔ محمد فیض بخش نے اپنی "تاریخ فرح بخش" میں لکھا ہے کہ علماء فن کار ،کا ریگر اور ہر قسم کے ماہرین ہندوستان کے کونے کونے سے صوبہ اُودھ میں اپنی قسمت آزمانے آ گئے تھے اور اگر نواب شجاع الدولہ دس بارہ برس اور زندہ رہتے تو یہ صوبہ ایک دوسرا دہلی بن چکا ہوتا۔

    نواب آصف الدولہ (97۔1775) کے دور میں 1775 میں دارالخلافہ فیض آباد سے لکھنو منتقل کر دیا گیا آصف الدولہ کے زمانے میں بھی دولت کی کوئی کمی نہ رہی لیکن اس کی عیاشی خراب خصلتوں اور کچھ ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے معاملات بگڑنے شروع ہو گئے تھے۔ دولت کو خرچ کرنے کے بہانے تمام فضولیات شاہی محبوب مشغلے بن چکے تھے۔ عمارتیں بنائی جاتیں۔ دو دن رہ کر دوسری جگہ منتقل ہونے کا حکم ہو جاتا اور پھر اس عمارت میں مرمت اور سفیدی کرانا تو در کنار اس میں چراغ بھی نہ جلایا جاتا۔ اس طرح دولت کو بے جا صرف کیا جانے لگا۔ ان حالات سے فائدہ اُٹھانے کے لئے فرنگیوں نے 1773 میں ایک ریسیڈنٹ لکھنو میں مقرر کر دیا اور دھیرے دھیرے انگریزوں کی آبادی لکھنو میں بڑھنا شروع ہو گئی۔ انہوں نے موقعہ بہ موقعہ لکھنو دربار میں اپنے اثرات اور سوخ بڑھانا شروع کیا۔

    نواب شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کے عہد تک مقامی مصوروں کو درباری سر پرستی حاصل رہی اور کچھ انگریز افسران نے بھی مغل راجستھانی اور مقامی مصوری کے اعلیٰ نمونوں کی کاپیاں کروائیں۔ 1771 میں ٹلی کیٹل فیض آباد پہنچے دراصل شجاع الدولہ نے ٹلی کیٹل کی بڑی تعریف سُنی تھی لہٰذا اُسے اپنے دربار میں خود بلوایا تھا۔ یہ 1773تک فیض آباد میں رہا۔ اس نے اس دوران چھ بہت بڑی روغنی تصاویر بنائی تھیں جن میں شجاع الدولہ ان کے مختلف امراء اور اراکینِ سلطنت اور شہزادوں کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ ان تصاویر   کی کچھ نقلیں فیض آباد کے مقامی درباری مصوروں نے بھی بنائی تھیں جس کی ایک کاپی ودر میوزیم پیرس میں موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں فیض آباد میں قامی لال اور ہر چند نامی دو مشہور مصور تھے جو اس قسم کی نقلیں تیار کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔

    نواب آصف الدولہ کے زمانے میں مصور جان زوفانی 1734میں لکھنو آباد اور پانچ برس تک مقیم رہا۔ 1786 میں مصور اوزیاد ہمفری بھی لکھنو آ گیا۔ ان دونوں مصوروں نے خصوصاً نواب اور شہزادوں کی کئی تصاویر مینا تور سائرز میں بنائیں۔ لارڈینا نے 1930 کے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ آصف الدولہ نے کئی ہزار برٹش پرنٹس(چھاپے سے بنی تصاویر) اپنے ذاتی کلکشن کے لئے خریدا تھا۔ نواب سعادت علی خاں 1814۔1798) نے بچپن ہی سے کلکتہ میں پرورش پائی تھی۔ فرنگی افسران کے ساتھ رہنے کی وجہ سے وہ انگریزی انداز رہن سہن اور طور طریقے اپنا چکے تھے۔ انہیں ہر یوروپی چیز پسند تھی اور اسے جمع کرنے کا خبط اتنا تھا کہ نواب سعادت علی خاں کے دربار کو دیکھ کر کسی کو یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ دربار کسی "مشرقی ملک کے شہزادے کا ہو گا ۔ نواب غازی الدین حیدر (1827۔1814) کے دور میں انگریزی اثرات کی جڑیں اور بھی مضبوط ہو گئیں۔ اس دوران پانچ فرنگی مصور رابرٹ ہوم، جارج پلیس، تھامس لائگکرافٹ، ہیبر اور چارلس اسمتھ لکھنؤ آئے۔ ان تمام فرنگی مصوروں کے لکھنو آنے اور کچھ عرصے تک شاہی دربار میں رہنے سے مقامی مصوروں کے فن پر اس کا خاطر خواہ اثر پڑا۔ مصورں نے اپنے صوبہ جاتی مغل کلاسیکی انداز میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی اسلوب کو بھی اپنایا۔ لہٰذا تکنیک اور طرز میں تبدیلی آ گئی تھی۔ خصوصاً رنگوں میں بڑی تیزی پیدا کی جانے لگی ۔ تیز لال، گہرے ہرے اور چمکدار پیلے رنگ کا استعمال کیا جانے لگا۔ روشنی اور سائے کے امتزاج کو اپنایا گیا۔

    "دہلی قلم" ناقدین کا خیال ہے کہ شاہ جہاں کے عہد میں شاہ جہاں آباد کے قیام کے بعد مغل اسٹوڈیو بھی دہلی منتقل ہو گیا لیکن ارجمند بانو بیگم کی وفات کے بعد مغلیہ دارالخلافہ دوبارہ آگرہ منتقل کر دیا گیا۔ لیکن اورنگ زیب نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی شاہی نشست دہلی ہی رکھی اور اس کے بعد جو بادشاہ تخت نشین ہوئے انہوں نے بھی دہلی کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ اس طرح یہ قیاس   کیا جاتا ہے کہ دربار مغلیہ کی رونق کے لئے جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے کچھ مصور ضرور موجود رہے ہوں گے۔ لیکن اس دور کے فن نمونے زیادہ نہیں ملتے ہیں اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ 1790   میں نادر شاہ کے حملے سے تمام اس قسم کے رکارڈ یا تو لوٹ لئے گئے یا برباد ہو گئے۔ ایسے حالات میں مصوروں نے بھی غالباً اپنی جان و مال کی حفاظت کے پیش نظر ہجرت کرنا مناسب سمجھا ہو گا اور اگر ایسا ہوا بھی ہو تو یہ بھی امکانات بعید از قیاس نہیں کہ وہ حالات سدھرنے کے بعد پھر واپس دہلی آ گئے ہوں کیوں کہ نادر شاہ کی کچھ تصاویر دستیاب ہوئی ہیں جنہیں دہلی کے مصوروں نے بنایا تھا لیکن ان تصاویر کے بارے میں عام طور سے ناقدین کا خیال یہ ہے کہ یہ زیادہ تر ایرانی اصل تصاویر کی نقل ہیں جو دہلی کے مصوروں نے شاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کافی تعداد میں بنائی تھیں۔ بہر حال جدید تحقیقات سے اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ دہلی دربار میں 1857تک فنِ مصوری کا وجود برقرار رہا۔

    بہرحال اس دور کی جو بھی تصاویر اب تک دستیاب ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ نسخوں کی موقع سازی میں قدرے کمی آ گئی تھی لیکن عام روزمرہ درباری زندگی اور عام لوازمات مصوروں کے موضوع بن گئے تھے۔ خصوصاً عورتوں کے مختلف مشاغل ان کے مختلف جسمانی انداز جس میں غربا قیمت کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مصوروں کے ظلم کے شکار بنے۔1803 میں انگریزوں نے آخر کار جب دہلی کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیا تو انہوں نے دیکھا کہ ثقافتی اور تمدنی روایات دہلی میں ابھی تک زندہ تھیں۔ دہلی میں کام کرنے والے مصور دورِ مغلیہ کے چوٹی کے مصوروں کی کاپی کرنے میں اس قدر مشاق تھے کہ اُن کے کارناموں کو دیکھ کر اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس قسم کا کام اُمراء کے حسبِ منشا اور اُن کی فرمائش پر کیا جاتا رہا ہو گا۔

    1798میں ڈینیل برادران نے دہلی میں قدم رکھا تو انہوں نے دہلی کے بیشتر آثارِ قدیمہ کو مصور کیا۔ اس طرح مغربی فنی اسلو ب دہلی میں درآمد ہوا۔ مقامی مصوروں نے مغربی فنی قدروں کو آزادانہ طور پر گلے لگایا۔ موضوعات بھی بدل گئے فنِ تعمیر کے نمونوں کی عکاسی کی جانے گلی۔ تمام دہلی کے آثارِ قدیمہ کو مینا تور کی صورت میں مصور کہا جانے لگا۔ اس میں مغربی اسلوب کی طرح روشنی اور سایہ کی تمیر تناظر اور حجم کو دکھایا جانے لگا۔ ایسی تصاویر زیادہ تر ہاتھی دانت کی سطح پر کی جاتی تھیں۔ مغربی تجاروں کی سر پرستی میں ہاتھی دان پر شبیہیں بھی بنائی گئیں۔ اس فن کے ماہرین میں سے آرچرکی تحقیق کے مطابق غلام مرتضیٰ خاں(تقریباً1840۔1760) ایسے پہلے دہلی قلم کے مصور ہیں جن کے شاہکار دستیاب ہو چکے ہیں۔ انہیں بہزاد اور مانی کا ہم پلہ تصور کیا جاتا تھا۔ دوسرا ہم عصر مصور راجہ جیون رام تھا جس کے متعلق فرنگیوں نے بڑی تعریفیں لکھی ہیں کیوں کہ اس نے مغربی طرز میں مینا تور سائز کی تصاویر بنانے میں کافی مہارت پیدا کر لی تھی۔ 1839میں مصور ایملی ایڈن اپنی یادداشت میں لکھتی ہے کہ عظیم مصور کا کاپی کرنے میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ غلام حسین (تقریباً1868۔1790) جو غلام مرتضیٰ خاں کا لڑکا تھا فن مصور کا اُستاد بنایا گیا ہے اس نے خصوصاً مغل بادشاہوں اور ان کی بیگمات پر بڑی تصاویر بنائیں۔ محمد حسین خاں ولد غلام حسین خاں (تقریباً1912۔1840)بھی اس فن میں ماہر تھا، وال پرنسپ نے 1176میں اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ اس وقت دہلی میں تین اساتذہ فن تھے اور ہر ایک کے نگار خانے میں بہت سے شاگرد تھے۔ ان میں سے سب سے بہتر اور بزرگ اُستاد اسمعیل خاں تھے۔ سر سید احمد خاں نے اپنی تصنیف "آثار الصنادید" میں غلام علی خاں فیض علی خان مرزا شاہُرخ بیگ، محمد عالم اور علی خاں نامی مصوروں کا تذکرہ کیا ہے۔

    راقم الحروف دہلی میں مرقع کئے گئے دو قلمی نسخے "تشریح الاقوام" اور "صحیفہ گلشن التواریخ" کے تحقیقی مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ دہلی میں دو فنی اسلوب متوازی طور پر کام کر رہے تھے۔ ایک وہ جو تعلیمی مغل روایتی مینا تور طرز اور مغربی اسلوب کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ مرقع تشریح الاقوام اس قلم کی بہترین مثال ہے اسے لارڈ اسکنسر نے دہلی میں اپنے قیام کے دوران بنوایا تھا اور اب برٹش لائبریری لندن میں محفوظ ہے۔ اس نسخہ میں19ویں صدی کے ہندوستانی اقوام اور ان کے پیشتوں کے متعلق بڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے اور انہیں موضوعات پر تصاویر بنائی گئیں۔

    فرنگ طرز مصوری کی ابتدا

    فرنگی مصوروں کی مسلسل آمدورفت اور ان کے اثرات سے اس برصغیر میں جو تبدیلیاں ہو رہی تھیں ان کے علاوہ فرنگیوں کی دیرینہ خواہش یہ تھی کہ ہندوستان میں مغربی مصوری کا باقاعدگی سے تعلیم دینے کا اانتظام کیا جائے تا کہ یہاں کے کلاسیکی روائتی اندازِ فن کو ختم کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے تحت بڑے منظم طریقے سے 19ویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں کام شروع ہوا لیکن آرچر کی تحقیق کے مطابق 1822میں بمبئی میں ہگز کا نسٹینٹینو اگسٹو نے اسکول آف آرٹ مارلیڈیز یعنی عورتوں کے لئے ایک آرٹ اسکول کھولا جہاں خصوصاً تناسب و تناظر اور منظر کشی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کے بعد سرکاری سطح پر سب سے پہلے مدراس میں1850میں اور پھر کلکتہ میں1854میں سرکاری آرٹ اسکول کھولے گئے جہاں برٹش رائل اکاڈی لندن کے نصب تعلیم کو مروج کیا گیا ۔ اسی طرح بمبئی میں 1853 میں سرجمشید جی   بھائی نے بمبئی میں ایک آرٹ اسکول کے قیام کے لئے ایک لاکھ روپے کی پیشکش کی لیکن کام میں کچھ دیر ہونے کی وجہ سے 1857میں تعلیم شروع ہو سکی اور 1865میں مشہور مصور جان گرنتھ کو شعبہ مصوری کا لاک اوڈ کپنگ کو شعبہ سنگ تراشی کا اور گلپنگس کو دھات کے کاموں کا مہتمم بنا کر بمبئی بھیجا گیا۔ 1850میں لاک   اوڈ کپلنگ کو لاہور میں گورنمنٹ اسکول آف آرٹ قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ 1919میں لارڈ گائڈ گورنر بمبئی   کی ایماء پر دیوری تصاویر اور شخصی تصاویر کے اعلیٰ درس دینے کا انتظام بمبئی اسکول میں کیا گیا۔

    لیکن 19ویں صدی میں فنِ مصوری میں جس ہندوستانی شخصیت کو فرنگ سر پرستی بدرجہ اتم نصیب ہوئی وہ ہے راجہ رومی ورما "راجا روی درما" روی ورما اپریل 1843میں وسط کیرالا کے شہر کو ٹایم سے 24میل دور کلی معود نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ مہاراجہ ٹراونکور کے رشتہ داروں میں سے تھے۔ رومی کے چچا راجہ ورما کو فن مصوری سے گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے تبخور اسکول کے ایک مصور الاگرمی نائیڈو سے درس مصوری سیکھی تھی۔ الاگری لائیڈو مہاراجہ ٹراونکور کی ایما پر تراوندرم میں رہتے تھے۔ بچپن ہی سے رومی ورما کو بھی مصوری کا بے حد شوق تھا لہٰذا وقتاً فوقتاًوہ اپنے چچا سے درس لیتے رہتے تھے لیکن جب اُن کی عمر 14 برس کی ہوئی تو وہ تراوندرم محل میں لائے گئے۔ رانا سوامی نائڈو اس وقت درباری مصور تھے۔ 1868 میں مہاراجہ ٹراونکور نے ایک فرنگی مصور تھیوڑدور جانس کو اپنے دربار میں بلایا۔ رومی ورما نے ان دونوں مصوروں کی فنی تکنیک کو بہت غور سے دیکھا اور اس کی عشق شروع کی۔ 1866میں روی ورما کی شادی مہاراجہ کی چھوٹی بہن سے ہو گئی۔ اس طرح روی ورما کا تعلق مقامی انگریز سیسیڈنٹ سے پیدا ہوا جس کی ایماء پر 1873 میں منعقد مدراس کی   نمائش میں رومی ورما نے حصہ لیا جہاں انہیں پہلا انعام دیا گیا۔ تبھی سے رومی ورما کی شہرت ملنا شروع ہو گئی۔ خصوصاًڈیوگ آف سچھمگم نے جو اس وقت مدراس کے گورنر تھے، رومی ورما کو بہت سے کمیشن دئیے۔ 1875 میں جب پرنس آف ویلز تراوندرم گئے تو مہاراجہ نے رومی ورما کی گئی تصاویر انہیں تحفہ کے طور پر دیں۔ اس کے بعد مختلف ریاستوں کے مہاراجاؤں نے خصوصاً بڑودہ اور میسور کے حکمرانوں نے انہیں بہت سے کمیشن دئیے۔ لیکن رومی ورما اپنی عمر کے آخری دور میں مصوری پر زیادہ وقت صرف نہ کر سکے کیوں کہ وہ ٹراونکور کے کمس نامزد مہاراجہ کے متوکی بن گئے تھے۔ اکتوبر1906میں تراوندرم کے نزدیک ائنگل کے مقام پر رومی ورما کا انتقال ہوا۔

    روایتی ہندوستانی فن کے پرستاروں نے راجہ روی ورما کی مغرب پرستی کو قدر کی نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ خصوصاً ای۔بی۔ ہیول اور آنند کمار اصوامی نے روی ورما کے فن کی کڑی نکتہ چینی کی اور اسے بالاری فن سے منسوب کیا۔ دراصل غلطی یہ ہوئی کہ راجا سرما دھراؤ، دیوان آف بڑودھ کے کہنے پر روی ورما نے بمبئی میں ایک اولیو گرافک(روغنی رنگوں کا) پرنٹنگ پریس کھول دیا جس کے ذریع روی ورما کی تصاویر کی رنگین کاپیاں بننا شروع ہوئیں۔ چوں کہ ان کے موضوعات ہندو دیوی روی ورما کی تصاویر کا ایک تجارتی پہلو تھا جو ظاہر ہے ناقدین کی پسندیدگی کا باعث نہیں ہوا کیوں کہ ان کا یوں کو دیکھ کر کوئی بھی فن شناس روی ورما کی تصاویر کے متعلق اچھی رائے قائم نہیں کر سکتا۔ لیکن چوں کہ کمار سوامی نے ایک بار خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے روی ورما کی اصلی تصاویر نہیں دیکھی ہیں لہٰذا ایسی صورت میں روی ورما کی فنی صلاحیت سے مُنکر ہونا بے انصافی ہے۔ رومی ورما نے مغربی طرز مصوری کو وقت اور ماحول کے تقاضےکے تحت لبیک کہا تو بلاشبہ یہ ایک زبردست باغیانہ قدم تھا اور آج اس کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں جدید مصوری کی جڑیں کافی مضبوط اور گہری ہو گئی ہیں اور راجہ روی ورما کو ایک نظریہ فکر کے مطابق جدید روغنی تصاویر کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔

    راجہ روی ورما کے علاوہ 19ویں صدی کے آخری دور میں جن مصوروں نے مغربی اسلوب مصوری میں استادانہ مہارت پیدا کی ان کے اسمائے گرامی ہیں پستون جی بومن جی، ایم۔ایف۔ تپھاوالا، اے۔ایکس، ترمبراد، چمین   مجھدار اور جے۔پی گنگولی ان استاتذہ اکرام نے خصوصاً منظر کشی اور شیہ کشی پر مشتمل تصاویر بنائی ہیں۔ اس طرز میں 20ویں صدی میں بھی برابر کام ہوتا رہا۔ خصوصا بمبی آرٹ سوسائٹی کی سالانہ نمائشوں میں 1920 تک جو مصور فنِ شبیہ کشی میں ممتاز تصور کئے گئے اس میں ایس۔پی۔ اگاسکر ایس۔ ایچ۔ او گراُ۔ایم۔اے جوشی، آر۔ کے بھپڈ کے۔ ایس۔ڈی۔ ساتو الکر اور رُستم سوڈیا کے نام قابل ذکر ہیں ۔ ایم۔وی دُھرندھر۔ اے۔ایچ۔ والی اور اے۔ایچ ٹلٹر راجہ روی ورما کی طرح مختلف موضوعات پر روغنی رنگوں میں کمپوزیشن کے لئے مشہور تھے۔

    1920سے لے کر 1937تک بمبئی ارٹ سوسائٹی کے سالانہ نمائشوں کےکیٹلاگوں میں مغربی اسلوب مصوری میں کام کرنے والے مصوروں کے جو نام ملتے ہیں ان میں این۔ایس۔ بیندرے، جی۔ڈی۔ دیو سکر۔ آر۔ڈی۔ دھو پیش ورکر۔ ایس۔ایل۔ تلتوا کر ہے۔ اے۔ لالکاکا۔ ایس۔ پی شرگاونکر۔ ایل۔این۔ تاسکر۔ این۔ایم۔ کیتکر۔ ڈی۔ڈی۔ دیولا لیکر، وتاٹک موجی اوردی۔ آر۔چڑا کے نام قابل ذکر ہیں۔ شمالی ہندوستان میں فیضی رحیمن، استاد اللہ بخش، سید حسن عسکری اور آئل بوس اس اسلوب کے علمبردار ہے۔

    1937کے بعد بھی اس رائل اکاڑی کے روائتی طرز کو کچھ لوگوں نے زندہ رکھنے کی کوششیں کیں۔ ان میں ایم۔آر۔آچر بکر پی۔اےۯ دھوند، ایم۔ایس۔جوشی اوردی۔اے۔مالی کے نام خصوصی طور سے لئے جا سکتے ہیں۔

    بنگال طرز مصوری

    19وین صدی کی آخری دھائی میں ای۔بی۔مہیوال گورنمنٹ اسکول آف آرٹس، مدراس کے پرنسپل کی حیثیت سے ہندوستان آئے۔ شاید اس دور میں وہ پہلے انگریز تھے جنہوں نے ہندوستانی مذہبی، روایتی قدروں اور مصوری و سنگ تراشی کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا اور اس کی عظمت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے ہندوستانی مصوری و سنگ تراشی پر ضخیم کتابیں لکھیں اور شائع کیں۔     1897میں ان کا تبادلہ گورنمنٹ اسکول آف آرٹس کلکتہ ہو گیا۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ کلکتہ ایک بڑا فنی مرکز بن کر اُبھر رہا تھا۔ خصوصاً کلکتہ کا مشہور ٹھاکر خاندان فنون لطیفہ کا بڑا سر پرست تھا۔ مصوری، شاعری ڈراما، رقص اور موسیقی ان تمام فنون کا عام چرچا تھا اور "جورا سنکو" 1951۔1871 (تیگور خاندان کا آبائی گھر) اس کا مرکز تھا۔

    اونیندر ناتھ ٹیگور7اگست1871کو "جورا منکو" میں پیدا ہوئے لیکن ان کا بچپن "چمپدانی" مقام پر گزرا، جہاں ان کے والد کی جاگیر تھی۔ یہ جگہ کلکتہ سے دور دریا کے کنارے خوبصورت قدرتی ماحول سے پُر تھی جس مکان میں یہ یہاں رہتے تھے وہ قدرے پُرانے قسم کا تھا۔ لیکن چاروں طرف پر سکون منظر تھا۔ یہیں پر اونیدرناتھ نے مصوری کی شروعات کی ۔ بدقسمتی سے کچھ ہی عرسے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ لہٰذا اونیندرنا تھا معہ اپنی والدہ کے کلکتہ واپس آ گئے اور سنسکرت کالج کلکتہ میں اپنی ابتدائی تعلیم شروع کی جہاں وہ 1881سے 1890تک زیر تعلیم رہے۔ اسی دوران انہیں کلاسیکی فنون سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اونیندر ناتھ ٹیگور جب کمسن ہی تھے۔ راجا روی ورما ان کے گھر گئے تھے اور مذہبی موضوعات پر اونیندرناتھ کے بنائے ہوئے کچھ مرقعوں کو بہت پسند فرمایا تھا۔

    1890میں اور گلہارڈی(یہ اطالین مصور تھا جو گورنمنٹ اسکول آف آرٹ کلکتہ کا وائس پرنسپل تھا) سے چھ مہینے تک قلم وروشنائی اور آبی رنگوں میں کام کرنا سیکھا۔ 1893میں اونیندر ناتھ کی ملاقات ایک فرنگی مصور چارلس پامر سے ہوئی جس سے اونیندر ناتھ نے1895تک یوروپی فن مصوری کی تیکنیک، خصوصا سیاہی، خشک اور روغنی رنگوں سے شبیہ کشی کرنا سیکھا۔ لیکن ماپر نے جب اونیندر ناتھ کی بنائی ہوئی کرشن لیلا کے موضوع پر ہندوستانی روائتی طرز میں ہی تصاویر دیکھیں تو اُس نے اونیندرہ ناتھ کو مغربی طرز سکھانے سے گریز کیا اور یہ مشورہ دیا کہ انہیں اپنے روایتی طرز کو نکھارنے میں توجہ دینی چاہیے ۔ بنوا بہاری مکر جی سے منقول ہے کہ 1895میں ایک فرنگی خاتون نے اونندر ناتھ کو کچھ انگریزی فنی مرقعے بھیجے اور اسی زمانے میں ٹھاکر کے ایک رشتہ دار نے لکھنو کا قلم بھی دکھایا۔ اس کا اثر بنگالی شاعر چندی داس کی نظم "ابھیار" کے ایک مرقع میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں یوروپی طرز کی مُرقع نگاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ 1897 میں اونیندر ناتھ کی ملاقات ای۔پی۔ہیول سے ہوئی۔ ہیول اورنیندر ناتھ ٹیگور میں غیر معمولی فن کا رانہ صلاحیتیوں کو دیکھ کر بہت مرعوب ہوئے اور ان کے بڑے زبردست مداح بن گئے۔ بعد میں ہیول نے اونیندر ناتھ کو گورنمنٹ اسکول آف آرٹ کلکتہ میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے کام کرنے پر مدعو کیا۔ ہیول کے مسلسل اصرار پر اونیندر ناتھ نے یہ دعوت نامہ قبول کر لیا اور وہ اس عہدے پر 1902 سے 1905تک فائز رہے۔ اسی دوران اونیندر ناتھ تین بڑی تصاویر تیار کیں جنہیں1902میں دلی کی کل ہند نمائش میں بھیجا۔ سرجارج واٹ جو اس نمائش کے ڈائرکٹر تھے۔ لکھتے ہیں کہ ان تصاویر کو بہت پسند کیا گیا اور ان میں سے ایک تصویر "شاہ جہاں کے آخری لمحے" کو خصوصاً بہت داد دی گئی اور اسے دوسرے انعام سے سرفراز کیا گیا۔ اس کے لئے چاندی کا تمغہ بھی دیا گیا۔ (دہلی کے محمد حسین خان کو بھی دوسرا انعام دیا گیا۔ جنہوں نے مینا تور تصاویر کا ایک سیٹ تیار کیا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دہلی میں بیسویں صدی تک روائتی مغل طرز میں کام کرنے ولاے ماہر فن کار موجود تھے۔)

    جاپان ان دنوں دنیا کی ایک زبردست فوجی طاقت کی حیثیت سے سامنے آچکا تھا۔ اس نے 1992 میں روس کو شکست دے دی تھی۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ جاپانی اثرات دھیرے دھیرے جنوبی مشرقی ایشیا میں پھیلنا شروع ہو گئے۔ فنی اور ثقافتی دائرے میں بھی اس فتح کا خاطر خواہ اثر ہوا جاپانی فنی قدروں کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ اوکاکورا کا کوزد نامی شخص جاپان کے اس دور کا بڑا زبردست عالم، نقاد اور فن شناس تھا۔ یہ 1902 میں ہندوستان کی سیاحت کرنے آیا اور ٹیگور کا مہمان رہا۔ 1913 میں اوکا کورا نے "آئیڈیلس آف دی ایسٹ" نامی اپنی کتاب انگریزی میں شائع کی جس میں اوکا کورا نے مشرقی جنوبی ایشیا کے سبھی ملکوں کی تہذیب و تمدن ، فنون ، مذاہ اور تخیلات کو ایک سانچے میں ڈھالنے کی تجویز پیش کی۔ جاپان واپس پہنچنے پر اس نے دو جاپانی مصوروں نائکوان اور ہشیدا کو ہندوستان بھیجا۔ یہ مصور اوئیندر ناتھ کے مہمان رہے اور جوراسنکو اسٹوڈیو میں اونیندر ناتھ کے ساتھ مختلف فنی تجربات میں مشغول رہے۔ دراصل انہیں فن کاروں کی مشترکہ کوششوں سے جگالی طرز مصوری کا جنم ہوا۔

    1907میں اونیندر ناتھ کی دیکھ ریکھ میں سماویا بلڈنگ کلکتہ میں انڈین سوسائٹی آف اورینٹل آرٹ نامی ایک خنی انجمن کی بنیاد ڈالی گئی جہاں پر اونیندر ناتھ اور ان کے بڑے گکندر ناتھ نےنومولود بنگالی طرز مصوری کے طلبائ کو غیر رسمی طریقے سے درس دینا شروع کیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقسد یہ تھا کہ ہندوستان کے روایتی فن کو نئی زندگی دی جائے۔ مشرقی اور مغربی ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو اور ان ممالک کے باشندے ایک دورسرے کے فنی مزاج اور ثقافتی قدروں کو پہنچانیں۔ اس سوسائٹی کی کاکردگی میں سر جان ووڈروف، لارڈ مائیکل، لارڈ رونیلڈ،این بلاونٹ اسکات،اوسی گنگولی، پرسی براؤن، تھارن ٹن او جے پی مولر جیسی باوقار ہستیوں کا بہترین تعاون حاصل ہوا۔ دراصل اونیندر ناتھ نے کلکتہ آرٹ اسکول کے قیام کے دوران 1905 میں انڈین ایڈوانس ڈیزائن کا شعبہ کھولا تھ اور ہیول نے اس نئے سیکشن کو بڑھانے کے لئے بھرپور مدد بھی کی اور طلبا کو ہر طرح کی آسانیاں فراہم کیں مثلاً اس کلاس کے ہر طالب علم کو مفت داخلہ دیا گیا اور انہیں خصوصی وظیفے دئیے گئے لیکن اس کے باوجود بھی طالب علم زیادہ نہ بڑھ سکے۔ لہٰذا سرکاری دائرہ عمل سے ہٹ کر اسے عوامی سطح پر لانے کے لئے مندرجہ بالا سوسائٹی کا عمل لایا گیا۔ جس کے پہلے صدر لارڈ کچر تھے۔ یہ سوسائٹی تقریباً30ممبروں سے شروع ہوئی جس میں فقط5 ہندوستانی تھے بعد میں ان کی تعداد تک پہنچ گئی۔1907کی سوسائٹی کی فہرست میں مندرجہ ذیل آٹھ نام دئیے گئے ہیں۔

    1۔       اونیندر ناتھ ٹیگور

    2۔       گلکندر ناتھ ٹیگور

    3۔       مہاراجہ جگدیندر ناتھ رائے بہادر آف نٹور

    4۔       سریندر ناتھ ٹیگور

    5۔       جے چودھری

    6۔       اے چودھری

    7۔       سمر ایندر ناتھ ٹیگور

    8۔       جینی پرکاش گنگولی

     

    اس سوسائٹی کی جانب سے پہلی نمائش 1908میں کلکتہ اسکول آف آرٹ کی چار دیواری میں منعقد کی گئی۔ اس نمائش میں چھ مصوروں یعنی اونیندر ناتھ ٹیگور، گگیندر ناتھ ٹیگور، نند لال بوس، سریندر ناتھ گنگولی، اسیت کمار ہلدار اور ویکنٹپاکی تصاویر پیش کی گئیں۔ یہ نمائش بہت کامیاب ثابت ہوئی۔

    1916میں اس سوسائٹی نے باقاعدہ رسمی طور سے ایک آرٹ اسکول کا افتتاح کیا جہاں روایتی ہندوستانی طرز پر فنِ مصوری کی تعلیم دی جانے لگی۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد ادارہ دور دور تک مشہور ہو گیا۔ اس دوران اس ادارے کے زیر اہتمام کئی بڑی نمائشیں منعقد کی گئیں۔ 1919میں اس سوسائٹی کی جانب سے "روپم" نامی رسالہ شائع ہونا شرو ع ہوا جس کے مدیر اوسی گنگولی تھے۔ دراصل اسی رسالہ نے بنگالی طرز مصوری کا ساری دنیا کے فنی حلقوں میں تعارف کرایا۔

    اس ادارے میں جن لوگوں نے اونیندر ناتھ ٹیگور کی شاگردی میں فن مصوری کی تعلیم حاصل کی ان کے سمائے گرامی ہیں۔

    1۔       نند لال بوسس(1966۔1883)

    2۔       کھتیندر ناتھ مجدار(1975۔1891)

    3۔       کے۔ونیکٹپا(1965۔1887)

    4۔       ایس۔ این۔ گنگولی

    5۔       اسمیت کمار بلدار

    6۔       سمنیندر ناتھ گپتا

    7۔       حکیم محمد

    8۔       ناگا ہوتا

    9۔       ایس۔این۔ڈے

    10۔     سمیع الزماں

    11۔     ایس۔این۔کر

    12۔     ڈی۔ سنہا

    13۔     ایس۔این۔دت

    14۔     مبشا ردا اُکِل

    15۔     پی۔چڑجی

    16۔     ڈی۔پی۔رائے چودھری

    17۔     این۔این۔تیگور

    18۔     بی۔این۔تیگور

    19۔     پُن دت

    20۔     رامیشور پر ساد

    21۔     روپ کرشن اور

    22۔     چرورائے

    رابندر ناتھ ٹیگور کے چچا زاد بڑے بھائی تھے، کلتہ سے دور شانتی نکیتن میں 1902میں ایک چھوٹا سا اسکول قائم کیا تھا۔ یہ اسکول 1949تک پورے طور سے مستحکم ہو چکا تھا خصوصاً فنی درس کا بہت اچھا انتظام کیا گیا اور کلابھون کے نام سے اسی سال ایک شعبہ کا افتتاح ہوا جس میں ایک آرٹ میوزیم اور آرٹ لائبریری کا بھی انتظام کیا گیا۔ نند لال بوس جو اونیندر ناتھ ٹیگور کے اولین شاگردوں میں سے تھے اس کلابھون کے پرنسپل بتائے گئے۔ نند لال بوس کی شاگردی میں جن مصوروں نے اس تحریک نشاۃ ثانیہ کے علم کو بلند کیا ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

    1۔       بیر یشور سین

    2۔       ڈی۔ایس۔ بھٹا چاریہ

    3۔       ہری ہرن

    4۔       سُدھیر خاستگیر

    5۔       پر بھات نیوگی

    6۔       سلیش دیوورما

    7۔       کنو ڈیسائی

    8۔       رام کنکر بج اور

    9۔       منی شی ڈے

     

    ایمن اس گروپ سے پیشتر15۔1912تک شانتی نکتین میں اسینت کمار ہلدار کی شاگردی میں جنہوں نے فضیلت حاصل کی ان کے اسمائے گرامی ہیں۔

    1۔       مُکل ڈے

    2۔       ڈی کے۔ دیورما

    3۔       آر۔این۔چکرورتی

    4۔       بی۔بی۔ مُکرجی

    5۔       اے۔پی۔بنر جی

    6۔       ایم۔ بی۔گپتا

    7۔       وی۔ مسلوجی

    8۔       وی۔آر۔چترا

    9۔       رمیش باسومجدار

    10۔     ایچ۔دُگر

    11۔     ایس۔این۔ نہر جی

    12۔     پرما ٹیگور

    13۔     سوتیا ٹیگور

    14۔     سوکو حاری ڈیوی اور

    15۔     شریمتی ٹیگور

    اسیت کمار ہلدار جب گورنمنٹ اسکول آف آرٹ لکھنؤ کے پرنسپل بنے تو 1925سے 1845کے درمیان جن اشخاص نے فن مصوری کی تعلیم حاصل کی اور بنگال طرز کے روح رواں بنے اُن کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

    1۔       اے۔ڈی کفومس

    2۔       بی۔ایل۔شاہ

    3۔       نرائن جوشی

    4۔       ایچ۔ایل۔میڑھ

    5۔       سری رام ویش

    6۔       رادھے شیام بھٹناگر

    7۔       سوکمار بوس

    8۔       بی۔این۔ججا

    9۔       پی۔آر۔رائے

    10۔     ایس۔ایم۔اوباما

    11۔     کے۔ایم۔دھار

    12۔     ایس۔سی۔دوبے

    13۔     پی۔کرمکار

    14۔     ایس۔این۔رائے

    15۔     آر۔چٹر جی

    16۔     بالیشور ویال

    17۔     بی۔پی۔متل

    18۔     ٹی۔ڈی سنہا

    19۔     بی۔سی۔گوٹی

    20۔     ایس۔این۔نٹیال

    21۔     پی۔بنرجی

    22۔     لال موہن مپکر جی

    23۔     ہریش چندر

    24۔     سکھیر سنگھل

    25۔     رنبیر سکسینہ

    26۔     پُرتل بسواس

    27۔     جگدیپ سروپ گپتا

    28۔     مسز کملا راٹھور

    29۔     سوشیلا اور

    30۔     لیلا مہتا

    جے پور میں ایس۔این۔ ڈے کی رہنمائی میں ایس۔بی۔رائے، وجے ورگی، موہن لال، ایس۔این۔ مصرا، اے۔سی گو تم اور دیوکی نندن مصرا نے اس اسکول کو بڑی تقویت بخشی۔

    شارو اُکِل نے انفرادی طور سے جن اصحاب کو اس فن سے روشناس کرایا ان میں بارواآکلِ، رند اآکل سوشیل شنکر اور بی ور ما قابلِ تحریر ہیں۔

    جدید مصوری کی ابتدا

    تحریک انشاۃ ثانیہ جس برق رفتاری سے پھیلی اسی تیزی کے ساتھ اس کا زوال بھی شروع ہوا اور اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ جورا سنگھ گھرانے کے نہایت ہی معزز شخصیت عینی رابندرناتھ ٹیگور کی بنگالی طرز سے بیزاری تھی۔ وہ روایت کے حامی تو تھے لیکن قدیم ہندوستانی آرٹ کی گورانہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ ان کے اس ناداز فکر سے بنگال کے نوجوان مصوروں کو بڑی شہ ملی اور انہیں از سر نو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دھیرے دھیرے بنگالی اسکول کی لومدھم پڑتی گئی۔ یہاں تک کر بنگالی قلم کے بانی اوندرناتھ ٹیگور نے بھی اپنے آخری دور میں بنگال طرز کو خیر باد کہہ کر "دبستاں اظہاریت" پر کافی طبع آزمائی کی جس کی اچھی خاصی مثالیں نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ میں موجود ہیں۔ عام طور سے چار شخصیتوں کو جدید ہندوستانی مصوری کے بنیادی ستون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔

    "رابندرناتھ ٹیگور"(1941۔1861) تحقیقی مطالعہ سے پتہ چلتا ہےکہ رابندر ناتھ ٹیگور کا فنِ مصوری سے بچپن ہی کے زمانے سے گہرا تعلق تھا۔ وہ بذات خود اپنے بچپن کے واقعات تحریر کرتے وقت لکھتے ہیں کہ "جب میں 4 1/2بجے اسکول سے واپس آتا تھا اسی وقت جمنا سٹک ٹیچر آتا تھا اور میں تقریباً آدھ گھنٹے اس کی نگرانی میں "پرکل بار" پر مشق کرتا تھا۔ اُس ٹیچر کے جاتے ہی ڈرائنگ ماسٹر مجھے پڑھانے کے لئے آجاتا تھا۔ ایک اور حوالہ سے پتہ چلتا ہے کہ 1990میں جورا سنکو کے ایک کمرے میں اکیلے بیٹھ کر رابندر ناتھ نے ایک کاپی فقط خاکوں سے پُر کر دی تھی لیکن 19ویں صدی کے آخری دہائی تک ان کا زیادہ تر تخلیقی کام ادب و شاعری، موسیقی اور ڈرامہ پر مشتمل ہے۔ 17ستمبر1900کو مابندر ناتھ ٹیگور اپنے دوست سر جے۔سی۔ بوس کو جو لندن میں تھے ایک خط کے ذریعے اطلاع کرتے ہیں کہ "تمہیں یہ جان کر تعجب ہو گا میں ایک اسکیچ کاپی میں پینٹنگ کرتا رہا۔ ہوں۔ "شنانتی تیسیشن میں رہائش کے دوران مُکل ڈے نے لکھا ہے کہ اپریل1909کو با بندر ناتھ ٹیگور اپنے دوست سر جے۔سی۔بوس کو جو لندن میں   تھے ایک خط کے ذریعے اطلاع کرتے ہیں کہ "تمہیں یہ جان کو تعجب ہو گا کہ میں ایک اسکیچ کاپی میں پینٹنگ کرنا رہا ہوں۔ شانتی نکستن میں رہائش کے دوران مُکل ڈے نے لکھا ہے کہ اپریل 1909 کی ایک دوپر کے بعد ٹیگور نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ ذرا اوپر زینہ تک ان کے ساتھ آئیں۔ وہاں ایک کمرے کی ایک الماری کے کانے سے جلد شدہ ایک خوبصورت ڈرائنگ کاپی نکالی جس میں ٹیگور نے کچھ شبیہیں بنا رکھی تھیں۔ ان خاکود میں راہندر ناتھ ٹیگور کی بیوی کی بھی ایک تصویر تھی ۔ چار سال بعد مُکل ڈے کو ٹیگور کے ساتھ رام گڑھ پہاڑیوں پر جانے کا اتفاق ہوا جہاں ٹیگور نے اپنی بہو ااور خود کے کئی اسکیچ بنائے۔

    بیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران ٹیگور شانتی نکتین مدرسے کو سنوارتے اور مستحکم کرتے میں مصروف رہے۔ اسی دوران انہوں نے گیتا نجلی "تصنیف کی جس پر انہیں نوبل پرائز دیا گیا۔ اسی انعام کو لینے کے لئے13۔1912کے دوران وہ یوروپ کے دورے پر گئے۔1916میں وہ جاپان گئے اور 1977میں واپس آ گئے۔ اس وقت تک بنگال اسکول بڑے موثر طریقے سے اپنا قدم جماچکا تھا اور جیسا کہ پہلے تھریر کیا جا چکا ہے کہ شانتی نکیتن میں فنِ مصوری پڑھانے کا انتظام کیا گیا اور 1918میں نندلال بوس کو اس ادارے کا ناظمِ اعلیٰ بنا دیا گیا۔ رابندر ناتھ نے 1920میں شانتی لکیتن میں فنِ مصوری کا ایک مقابلہ منعقد کیا جس میں انہوں نے خود بھی تصویر بنائی۔ وہ اس مقابلے کے جوں میں سے ایک جج بھی تھے۔21۔1920میں وہ دوبارہ پوروپ اور امریکہ کے دورے پر گئے۔

    لیکن25۔1924کے دوران جب وہ جنوبی امریکہ کے ملک او جنشائنا کے شہر بونس ائرز جا رہے تھے تو ان کے جہاز"انیس۔ایس۔انڈیز" نے جیسے ہی شیزبرگ بندرگاہ سے11اکتوبر کو روانگی کی اور خطِ استوا کو پار کیا تو ٹیگور بیمار پڑ گئے۔ اس براری کے دوران انہیں اپنے کیبن میں ہی رہنا پڑا مگر انہوں نے بستر پر پڑے پڑے"پوروی" نامی مشہور نظموں کی تخلیق کی انہیں نظموں کے مسودہ کے غیر ضروری الفاظ کو کلم سے کاٹ کاٹ کر ان میں عجیب و غریب اشکال اور طرحیں بنائیں۔ حالاں کہ اس قسم کے چھلے ہوئے حرفوں کے نمونے ان کے پچھلے قلمی نسخوں کے مسودوں میں بھی ملتے ہیں۔ بہرحال جب ٹیگور بونس آئرز پہنچے توہواں ایک خاتون وکٹوریہ اوکیپو کے مہمان ہوئے۔ اُسے ایک دن ان چلے تحریری خاکوں کو دیکھنے کا موقع ملا اور وہ بہت محظوظ ہوئی۔ اس نے ان نمونوں کو جدید مصوری کے بہترین نمونے قرار دئیے۔ اس واقعہ کی اطلاع انہوں نے اپنی بہو پرتما ٹیگور کو خط کے ذریعہ کی تھی۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہیں پرٹیگور کو مصور کی حیثیت سے پہلی بار تسلیم کیا گیا۔ 1925میں ٹیگور ہندوستان واپس آ گئے۔27۔1926کے دوران وہ دوبارہ یوروپ اور جنوبی مشرقی ایشیا کے دورے پر گئے۔ 1928کے آخری ایام مین ٹیگور کے تھا حسن سے تبادلہ خیالات ہوئے اور تھا حسن کی ایماپر ٹیگور نے سنجیدگی کے ساتھ مصوری کرنا شروع کر دی۔1نومبر1925کو رانی مہالانویس کو ایک خط سے اطلاع کرتے ہیں کہ "مصوری آجکل میری روزمرہ کی خصوصہ مصروفیات میں سے ہے۔" اور آکر کاروکٹوریہ اوکیمپو کی ایماء پر ٹیگور کے خاکوں اور تصاویر کی نمائش کا مئی 1930میں گیلری پگالی، پیرس میں افتتاح کیا گیا۔

    سبزی بودھ نے جو فرانس کے ہم عصر مشہور نقاد تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی پیرس میں منعقد نمائش کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی خالص اور معصوم تصاویر پورے دور کے لئے باعثِ ہدایت نہیں۔ ہمارے نگار خانوں کی روائتوں سے غیر متاثر بالذات مخلصانہ یہ تصاویر کچھ کچھ مغربی مصوروں کی تخلیقات سے ملتی جلتی ہیں لیکن یہ نقل نہیں ہیں بلکہ جو ہر روحانی کا میل کلی ہے"۔

    پیرس کے بعد اس نمائش کو انگلینڈ، جرمنی، ڈنمارک، روس اور امریکہ میں منعقد کیا گیا۔1940کے آخر تک ٹیگور نے تقریباً دو ہزار سے اوپر خاکے اور تصاویر بنائیں۔ 26مئی1941کوٹیگور نے ایک جگہ قلم بند کیا ہے کہ میری تصاویر کو ویکھ کر فرانس میں لوگوں نے کہا کہ "آپ نے اس چیز کو حاصل کر لیا ہے جس کی ہمیں اب تک تلاش تھی جب میں نے پوچھا زدہ کیا چیز ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ کو وہ بتایا جا رہے تو کیا آپ سمجھ جائیں گے؟؟

    بعض مغربی نقادوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی مصوری کو مود گیلانی، پولے ونو ، منخ، نوالڈ، پال کلی، مور حسٹرن کو تین فبز مارک اور دوسری مصوروں سے متاثر بتایا ہے کچھ لوگوں نے کہا کہ ان تصاویر مین دورِ حاضرہ کی یکساں بنیادی روحانی قدروں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔" لیکن کحتیش رائے کا خیال ہے کہ ٹیور کی تصاویر کو کسی غیر ملکی یا ملکی فنی تحریکوں سے ہم سرشت کرنا قطعی غلط ہو گا۔ وہ ڈاکٹر کمار اسوامی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ ٹیگور کی یہ تصاویر قطعی خالص، جبلی طبع زاد، بے تصنع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بزرگ محترم شخص کی غیر فانی اور غیر معمولی قوتِ اختراع کی شہادت دیتی ہیں۔" ارچر نے ان کے فن کو "وجدانی اور غیر شعوری احساس کا آئینہ بتایا ہے لیکن   ،یہ 1930میں اپنی ایک نمائش کے کتابچہ کے پیش لفظ میں ٹیگور اپنی مصوری کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "میری تصاویر کو خطوط کی شاعری کہا جا سکتا ہے۔ اگر اتفاق سے ان کی قدر شناسی کی گئی تو اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی موزونی ہو سکتی ہے کیوں کہ میرے خیال میں کسی تخیل یا حقیقت کے اظہار کرنے سے کہیں زیادہ ترتیب اجزاء کی اہمیت ہے۔ بچپن ہی سے جو مجھے درس دیا گیا وہ موزونی کا درس تھا چاہے وہ خیالات کا ہو یا آواز کا ہو۔"

    گگنیندر ناتھ ٹیگور(1938۔1867)گگنیندر ناتھ ٹیگور اونیندر ناتھ کے حقیقی بھائی اور عمر میں اونیندر ناتھ سے چار سال بڑے تھے۔ خاندانی ماحول کا گگنیندر ناتھ پر بھی خاطر خواہ اثر پڑا۔ حالاں کہ انہوں نے فنِ مصوری کا باقاعدگی کے ساتھ کسی ادارے میں مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن وہ فنِ مصوری کے اصولوں سے بخوبی واقف تھے اور ان میں فنی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔ چوں کہ گگنیندر ناتھ ٹیگور کے والد کا ان کے بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا لہٰذا خاندان کی ساری ذمہ داری اور جائیداد کی دیکھ بھال گگنیندر ناتھ کے سر آن پڑی۔ اسی وجہ سے ان کا زیادہ تر وقت انہیں مصروفیات میں گذرتا تھا۔ اس کے باوجود ڈرامے، سیاسی اور سماجی مسئلوں سے بھی انہیں خاصی دلچستی تھی۔ اس کے علاوہ جب بھی تھوڑی سی فرصت ملتی بُرش اور رنگ لے کر بیٹھ جاتے اور نئے نئے تجربات کرتے۔ کارٹون کے فن میں شاید وہ پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے اس میدان میں بڑی سنجیدگی سے کام کیا۔ انہوں نے سماجی مسئلوں پر طنز کرتے ہوئے ایک نئے اسلوب کو جنم دیا۔ ابھی تک جو بھی ان کی تخلیقات دستیاب ہوئی ہیں ان میں رومانی مناظر، شبیہ کشی، کارٹون اور دبستان مکعب سے متعلق تجربات شامل ہیں۔

    گگیندر ناتھ ٹیگور نے کافی تعداد میں بُرش ڈرائنگ بنائیں جو زیادہ تر یکچشمی ہیں۔ تفاصیل سے گُریز کر کے نہایت ہی سادگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مشابہت پیدا کر دینا گگنیندر کی کداداد فنی صلاحیت تھی۔ آج چالیس برس بعد بھی ان کی آبی رنگوں کی شبیہیں اتنی   تروتازہ ہیں جیسے کہ ابھی ابھی ان پر رنگ لگائے گئے ہوں۔ گگنیدر ناتھ نے مناظر کشی کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ شاید وہ پہلے ہندوستانی مصور تھے جنہوں نے ماحول کی منظر کشی پر خصوصی توجہ دی۔ موسم کی خصوصیات، بدلتے ہوئے اوقات اور ان کا اثر ماحول پر کس طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ گگنیندر کے تخلیقی مناظر میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتا ہے مثلاً گھنگھور بارش میں پُل کا منظر جس پر بجلی کی بتیاں ٹمٹما رہی ہوتی ہیں یا پہاری ڈھالوں پر بادل اور دھویں سے ملبوس چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں دکھانا وغیرہ گگنیدر کے قلم کی واحد خصوصیت ہے۔

    گگنیدر ناتھ نے اپنے آخری دور میں دبستاں مکعب اور نیم تحریری تصاویر پر اختراع کیں۔ ان کے موضوعات عام طور پر سے مکان کے اندرونی حصے تھے جہاں سکونت اور خامشی کا گہرا سایہ دکھایا جاتا ہے۔ ان میں کالے یا بھوری ہیئت لئے خاموش سائے بڑی پُر اسرار کیفیت پیدا کرتے ہیں کسی کو نے سے روشنی کی ایک دکھا کر اس ماحول کو اور بھی دلچسپ بنا دیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے مزید تجربات کر کے انہوں نے اشکال کو اقلید سانچے میں ڈھال کر ایک نئی ہیئت پیدا کرنے کی کوشش کی جسے "مکعب ستان" سے قریب تر کہا جا سکتا ہے۔ عموماً یہ تنظیمیں کالے اور سفید رنگوں میں ترتیب دی گئی ہیں لیکن جہاں رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے اُن میں رنگوں کے ذریعہ ایک حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو یوروپی فیوچرسٹ تحریک کی عام خصوصیت ہے۔ یہ تمام تجربات حالاں کہ انہوں نے 1958سے پہلے ہی گئے تھے لیکن ان کانئی پود پر کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔

    جامنی رائے (1972۔1887) جامتی رائے 1887 میں پیدا ہوئے اور دہی ماحول میں پرورش پائی لیکن فنِ مصوری کی تعلیم گورنمنٹ اسکول آف آرٹ کلکتہ میں حاصل کی۔ خصوصاً مغربی طرز مصوری میں کافی مہارت حاصل کی اور اس دور کے جامنی رائے کے بتائے ہوئے مناظر بہت مقبول ہوئے۔ بعدازاں جب انہیں ہندوستانی کلاسیکی طرز سے رغبت پیدا ہوئی تو کلکتہ اسکول کے ہندوستانی فنی شعبے میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران انہوں نے ہنگامی طرزِ مصوری میں چند خوبصورت تصاویر کی تخلیق کی لیکن بنیادی طور سے وہ اس طرزِ مصوری سے مطمئن نہیں تھے ۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ جگالی اسکول اور راجا روی ورما کے بنیادی اسلوب میں کوئی فرق نہیں تھا۔ روی ورما نے ہندوستانی مذہبی روایات پر مشتمل موضوعات کو فقط روگنی رنگوں سے مصور کیا جبکہ بنگال اسکول نے کم و بیش جاپانی معاش تکنیک میں دونوں ہی طرز غیر ملکی روایات سے اخذ کئے گئے۔ جامنی رائے کے خیال میں ہندوستانی عوامی مصوری میں زیادہ جبلی اور پائیدار قدریں پائی جاتی ہیں لہٰذا ہندوستانی جدید مصور کو انہیں قدروں کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔

    انہیں خیالات کے تحت جامنی رائے نے 1917کے لگ بھگ اپنے فن کو نئے راستے پر موڑنے کا بیڑا اُٹھایا انہوں نے جنگالی عوامی فنِ مصوری کا گہرا مطالعہ کیا اور اس سے فیضان حاصل کر کے کام کرنا شروع کیا۔ انہیں خصوصاً کالی گھاٹ کی عوامی مصوری اور بٹکورا ضلع کے دیہی علاقوں میں   بتائے جانے ولاے چھوٹے چھوٹے لکڑی کے رنگے ہوئے کھلونوں میں روایتی اقدار کے ساتھ ساتھ جدت بھی نظر آئی۔ لہٰذا انہیں کھلونوں کو دیکھ کر انہوں نے خاکے بنانا شروع کئے۔ بعد ازاں انہیں خاکوں کو ترمیم اور تنسیخ کے ساتھ انتہائی سادگی سے سپاٹ رنگوں سے تصاویر بنانا شروع کیں۔ رنگوں میں خصوصاً پیلی مٹی، بھورا، لال اور نیلا استعمال کیا گیا۔ خطوطِ ہندوستانی روائتی میں تیکھے مگر موٹے رکھے گئے۔ موضوعات میں عموماصنف نازک کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ اس کے علاوہ پالتو جانور مثلا گھوڑے، بلی وغیرہ بھی بڑے خوبصورت انداز میں مصور کئے گئے۔ ترتیب بڑی موزوں اور سلیس رکھی گئی لیکن بعد ازاں سبع نگاری کو بدرجہ اتم بڑھا دیا گیا اور اعضائے جسمانی میں غُلو پیدا کر کے ڈیزائن کا روپ دیا گیا۔

    حیا پا ساسی کا خیال ہے کہ جامنی رائے کا یہ طرز خصوصی زیادہ جبلی تصور نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ دوسرے مصور بھی مثلاً نند لال بوس اور سنیانی دیوی نے بھی اپنے فن میں عوامی طرز مصوری کو اپنایا۔ لیکن میرے خیال میں ان مصوروں نے جو بھی تجربات کئے وہ قطعی مختلف ڈھنگ کے ہیں اور ان میں جامنی رائے کی صفت ترتیب نہیں ملتی۔ ہاں میں اس خیال سے ضرور متفق ہوں کہ ہندوستانی جدید مصوری اور اس کے ارتقاء میں جامنی رائے کے عوامی طرز نے کوئی تاثر نہیں چھوڑا۔

    اُمرتا شیر گل "یہ 30جنوری 1813میں بوڈاپسٹ (ہنگری) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سردار اُمراؤ سنگھ سکھ تھے اور ماں ہنگری کی ایک خاتون تھیں چوں کہ یورپ میں اس وقت جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے لہٰذا اپریل 1921میں سردار امراؤ سنگھ معہ اہل و عیال ہنگری سے ہندوستان واپس آ گئے اور شملہ میں قیام کیا۔ امرتا کو کمسنی ہی نے فنِ مصوری سے بڑا لگاؤ تھا اور 11برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے امرتا کی فنی صلاحیت کے سبھی کاندان کے افراد قائل ہو چکے تھے۔ لہٰذا 924میں امرتا کو اسکول آف سانتا اننسیاٹا، فلورٹس بھیج دیا گیا۔ لیکن 6 ماہ بعد جون کے مہینے میں یہ ہندوستان واپس لوٹ آئیں۔ اس واپسی کے متعلق ناقدین کے مختلف نظریات ہیں۔ ایک نظریہ فکر یہ ہے کہ امرتا کو چوں کہ اتلی کے فنی اداروں میں یونانی مادلوں کی کاپیاں کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ لہٰذا انہوں نے اتلی میں زیادہ وقت صرف کرنا مناسب سمجھا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امرتا کو چوں کہ برہنہ تصاویر سے زیادہ دلچسپی تھی۔ لہٰذا فلورنس کے متعلقہ اساتزہ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور نتیجہ کے طور پر امرتا کو اسکول سے برطرف کر دیا گیا۔ بہرحال امرتا مختلف فنی تجربات میں مشغول رہیں اور آخر کار انہیں اپریل1929میں(یعنی16برس کی عمر میں) فنِ مصوری کے مطالعہ کے لئے پیرس بھیددیا گیا۔ وہاں انہوں نے پائر ویلاں کی شاگردی میں گرانڈ شوئیر اکاڈمی میں داخلہ لیا۔ لیکن بعد میں اس کاڈمی کو بھی چھوڑ دیا۔ بعد ازاں ایکول نیشنل ڈی بورڈ میں پروفیسر لوسیاں سائمن کی شاگرد بنیں۔ اسی قومی اکاڈمی سے امرتا نے فنِ مصوری میں فضیلت حاصل کی۔1932میں امرتا کی "تبادلہ خیالات نامی تصویر کو گرانڈ سیلون نمائش میں پہلا انعام دیا گیا اور انہیں سیلون کے رفیق کی حیثیت سے نامزد کیا گیا۔ (یہ تصویر آج کل نیشنل گینری آف ماڈرن آرٹ نئی دہلی کے مجموعہ مین محفوظ ے۔) 1934میں اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کر کے امرتا ہندوستان واپس ا گئیں۔ 38۔1935 کے دوران انہوں نے تقریباً سارے ہندوستان کی سیاحت کی اور مختلف موضوعات اور تکنیک سے متاثر ہو کر تصاویر اختراع کیں۔ بلاشبہ یہ سیاحت امرتا کے فنی ارتقاء میں بہت ہی اثر انگیز ثابت ہوئی۔

    جون1938میں امرتا دوبارہ ہنگری گئیں۔ جہاں انہوں نے اپنے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر وکٹر ایگن سے شادی کی۔ ہنگری میں رہائش کے دوران انہوں نے کئی تصاویر بنائیں۔ جولائی 1939میں امرتا اپنےش وہر کے ہمراہ پھر ہندوستان واپس آ گئیں اور یوپی صوبہ کے ضلع گھور کھ پور کے ایک موضوع 'سراپا' میں قیام کیا۔ کیوں کہ سراپا میں امرتا کے چچا سندر سنگھ مجیتھیا کی شکر کی مل جہاں امرتا کے شوہر کو میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے تقرری دی گئی تھی۔ ستمبر1941مین غالباً کسی بہتر معاش کی فکر میں ڈاکٹر ایجن کو امرتا کے ساتھ لاہور جانا پڑا، جہاں امرتا3سمبر1941کو اچانک بیمار ہوئیں اور 5دسمبر کی رات میں 26برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

    امرتا کی نیشنل گیلری آف اڈرن آرٹ نئی دہلی میں 96 تصاویر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مسز دیوان چمن لال، اقبال سنگھ بدر الدین طیب جی، مرحوم چالس ڈابری، وِدن سٹندروم ، وکٹر ایگن اور ہنگری کے مختلف مجموعوں میں امرتا کی تصاویر موجود ہیں۔

    امرتا شیر گل اس وقت ہندوستان آئیں جبکہ بنگال کی فنی تحریک احیاء انے شباب پر پہنچ    چکی تھی۔ اور اس کا سارے ہندوستان میں بڑا زور شور تھا۔ ایسے کلاسیکی ماحول میں امرتا شیر گل کا ایک نئے مغربی مزاج کے ساتھ داخل ہونا ظاہر ہے۔ زیادہ پسندیدگی سے نہیں دیکھا گیا کیوں کہ ان کی ابتدائی روگنی تصاویر میں مغربی اثرات بدرجہ اتم موجود تھے۔ بلکہ ناقدرین کا خیال ہے کہ وہ انتہائی اوسط درجے کی مغربی طرز کی تصاویر ہیں لیکن ہندوستانی سر زمین اور اس کے فنون کا جائزہ لینے کے بعد امرتا نے جس طرز کی بنیاد ڈالی اسے گنگا جمنی طرز کہا جا ئے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے طرز عمل میں پیرس کے دبستاں ما بعد اثریت ہندوستانی روایتی دیواری تصاویر اور مینا تور مصوری کا امتزاج شروع ہوا۔ اس تجربہ میں ان کے فن نے نہایت سادہ لوحی مگر پُرزور رنگوں کی شوخی کا مظاہرہ کیا جو بلاشبہ انفرادیت کی سمت ایک جامع قدم تھا۔ ان کی تصاویر میں خطوط کی بہ نسبت رنگوں کی بڑی اہمیت تھی۔ وہ کینوس کے مختلف رتبوں کو کم و بیش سپات شوخ بنیادی رنگوں میں ترتیب دیتی تھیں جن کی ہم آہنگی ذہن پر ایک پُر سکون تاثر چھوڑتی ہے۔ اسی وجہ سے ناقدین نے کہا کہ امرتا بنیادی طور پر ایک کلرسٹ تھین اور ان کے رنگ کنوس کی سطح پر ڈرامائی ادا کے ساتھ رقص کرتے نظر آتے ہیں۔

    1938میں جب امرتا دوبارہ ہنگری گئیں تو وہاں کے مقامی موضوعات کے علاوہ ہنگری کے فنی اسلوب نے بھی امرتا کو متاثر کیا۔ لہٰذا پوڈاپست میں تیار کئے گئے امرتا کے کینو سوں کو اک الگ اسکول قرار دیا جاتا ہے جو غالباً 1941کے آخری دنوں تک ان کے فن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ غرضیکہ 1934سے 1941تک کا سات سال کا یہ مختصر عرصہ شیر گل کے فن کا ایک ایسا ہنگامی دور تھا جو مختلف تجربات سے بھر ماور کہا جا سکتا ہے لیکن ان تمام تصاویر میں جذبات کے نقطئہ نظر سے کم و بیش فقط ایک ہی عنصر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اور وہ ہے زندگی کا تاریک پہلو یعنی اداسی، مایوسی، تھکن، خاموشی، تکٹکی لگائے ہوئے گھورتی منتظر اور سوالیہ آنکھیں لیکن یہ سب کیوں جے؟ کیا یہ امرتا کی زندگی کا عکس ہے یا ایک غلام ملک کی تصویر۔ بہرحال صحیح اندازہ لگانا تو مشکل ہے کیوں کہ ہر فرد انے طریقے سے اس کے مختلف معنی پہناسکتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اامرتا شیر گل کا زیادہ ر وقت چوں کہ موضع سراپا میں گذرا لہٰذا موضع کے دہی عوام امرتا کے کینوسوں کے موضوع بنے۔ یو۔ی کے کسی گاؤں کی زندگی کا خصوصاً آزادی سے پہلے جبکہ زمیندارانہ اور تعلق دارانہ راج تھا ۔ صرف وہی لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں جنہوں نے بذات خود اس کا ملاحظہ کیا ہو۔ گاؤں کے غریب اور نچلے طبقے کے مردوں اور عورتوں سے دن بھر زمینداروں کے یہاں بیگارلیا جاتا تھا اور اس کے عوض سوائے چند جھوٹے لقموں کے ان کی قسمت میں کچھ نہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ امرتا کے حساس دل و دماغ میں اس سماجی نا انصافی کے خلاف ضرور آواز اُبھری ہو گی اور جس کے اظہر کے لئے انہوں نے اسی پسماندی طبقے کو اپنی کنوسوں کا رازدار بنایا۔ لیکن اسی قسم کے تاثرات لئے ہوئے کنوس پیرس میں بھی امرتانے پہلے بنائے تھے۔ مثلاً "پیشہ ور ماڈل" نامی تصویر میں ماڈل کے چہرے کی تھکاوٹ۔ اس کے اعضائے جسمانی کے ڈھلتے ہوئے نقوش اس کی پیشہ ورانہ زندگی کی آئینہ دار ہیں۔ اس طرح یہ واضح ہے کہ امرتا کی تمامتر روغنی کینوس عوامی زندگی سے بالواسطہ اخذ کئے گئے ہیں۔ بذاتِ خود ان کی اپنی تصاویر میں بھی اداسی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ دو ایک تصاویر بہر حال ایسی ہیں جن میں امرتا نے خود کو ہنستے ہوئے دکھایا ہو سکتا ہے کہ امرتا کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آئے ہوں جو پُر اُمید مستقبل کی نشاندہی کرتے ہوں کیوں کہ یہ تصاویر عموماً دوران تعلیم کی ہیں۔

    امرتا شیر گل کی بہرحال تقلید کرنے والوں میں بمبئی صوبہ کے مصوروں نے پہل کی لیکن منظم طریقے سے کلکتہ میں ترقی پسند مصوری کا انعقاد ہوا۔ پی۔ٹی۔ریڈی کے مطابق انہوں نے بمبئی میں پہلا فنی گرو" ہم عصر ہندوستانی مصوروں" کے نام سے 1941میں قائم کیا لیکن 1942میں انہوں نے اس گروپ سے استعفیٰ دے دیا۔" چوتھی دہائی کی ترقی پسند مصوری، جنگالی تحریک احیا کے ساتھ ساتھ کچھ ترقی پسند عناصر جیسے رابندر ناتھ ٹیگور، گگیندر نات ٹیگور امرتا شیر گل اور جامنی رائے نے ہندوستانی فنِ مصوری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا تھا اور انفرادیت کا دور دورہ ہو گیا تھا لیکن 1941تک اول الزکرتینوں مصوروں کی فوت ہو گئی۔فقط جامنی رائے باقی رہے جن کا انتقال ساتویں دھائی میں ہوا۔

    رابندر نات ٹیگور اور امرتا شیر گل نے اعلانیہ طور سے بنگال اسکول کی مخالفت کی تھی لیکن ان کے انتقال کے بعد بنگال اسکول کے علمبرداروں نے اپنی فنی اجارہ داری کو پھر مضبوط کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ بدقسمتی سے 1943 کا یہ دور بنگال کے لئے بحر ظلمات سے کم نہ تھا، سارے صوبے کو بھیانک قحط نے اپنے لپیٹ میں لے رکھا تھالوگوں کا ایمان دیوی دیوتاؤں کے وجود سے اُتھ چکا تھا۔ ہر طرف موت کا سایہ منڈلا تا رہتا تھا اور ہزاروں گھر برباد ہو چکے تھے۔ ایسے پُر آشوب دور میں مصوروں اور2 بت ترشوں نے عوام کی اس ناگفتہ بہ حالت سے متاثر ہو کر تمام روایتوں سے بغاوت کر دی۔ انہوں نے وقتِ جدید اور اس کے مزاج سے عوام کو روشناس کرانے کا عہد کیا۔ یہ سرپھرے روزانہ شام کو یکجا ہوتے بحثیں ہوتیں۔ اسکیس بنائی جاتیں اور لان مرتب کئے جاتے ۔ کبھی کبھی فن کے موضوع پر تقریروں کا بھی اہتمام کیا جاتا۔ جس میں مشہور انگلش ناولسٹ ای۔ایم۔فورسٹر اور مشہور فن کا ر اور بُت ساز فریڈرک میک ولیم کو مدعو کیا جاتا۔آخر کارِ اس نتیجہ پر سب متفق ہوئے کہ فن میں بین الاقوامیت ہونی چاہیے۔ ہمارا فن اس وقت تک ترقی نہیں کرے گا جب تک ہم اپنی پُرانی روایات سے منسلک رہیں گے بلکہ ہمیں چاہئے کہ جہاں کہیں بھی جو چیز ہمیں متاثر کرتی ہو اُسے ہم اخذ کریں اور ایک نئے فنی مزاج کی تعمیر کریں۔ یہی ماحول اور وقت جدید کا تقاضا ہے۔ اس انجمن کا نام "کلکتہ گروپ" رکھا گیا اور اس گروپ کے ممبران تھے۔ پرودوش داس گپتا(پیدائش1912) پران کرشن پال(پیدائش 1918) کملا داس گپتا(پیدائش 1915) گودردھم ایش(پیدائش1967اور ہیمت مصرا(پیدائش 1917) بعد میں سوبھوٹیگور، گوپال کرشن، رھن مترا، رام کنکر اور آبنی سین بھی اس گروپ میں شامل ہو گئے۔ لیکن ان مصوروں نے 5ویں دھائی میں "کلکتہ گروپ" سے ناتا توڑ لیا تھا اور انفرادی طور سے اپنی شخصیت کو مستحکم کرنے میں مصروف تر ہو رہے۔

    دراصل اس گروپ کو بھی بنگالی اسکول کی طرح فرنگیوں کی سر پرستی حاصل ہوئی۔ متذکرہ بالا دو جید فرنگی شخصیتیں یعنی فور سٹر اور میک ولیم اس قدر کلکتہ گروی کے فنکاروں سے مرعوب تھیں   کہ جب فورسٹر لندن واپس پہنچے تو انہوں نے ہندوستان فن پر بی بی سی لندن سے تقریر کرتے ہوئے کلکتہ گروپ کا خصوصی تذکرہ کیا اور اس کی بڑی تعریف کی۔1944میں بنگال کے گورنر کی ہیوی لیڈی یا کیسی سے اس گروپ کے ممبروں کا تعارف ہوا۔ بلاشبہ یہ خاتون بڑی فن شناس تھی اور انہوں نے اس گروپ کی ہر طرح امداد کی۔1944میں لیڈی کیسی کی سرپرستی میں 5 اے۔ایس۔آر۔ راس روڈ کلکتہ میں اس گروپ کی پہلی غیر رسمی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ یہ اتنی موثر ثابت ہوئی کہ اس نمائش کے فوراً بعد ہی سروسز آرٹ کلب کے زیر اہتمام ایک رسمی پبلک نمائش لگائی گئی۔ نتیجہ کے طور پر کلکتہ کے فنی حلقوں میں خاصی سنسنی پیدا ہو گئی۔ کچھ مقامی ناقدین نے کلکتہ گروپ کی فنی کاوشوں کو خاطر خواہ سراہا لیکن بعض لوگوں نے زبردست تنقید کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ کلکتہ گروپ کے ممبران بیش ہا قومی روائتی فن کو برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔" اس تخریبی تنقید کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس نمائش میں کوئی بھی تصویر یا بُت کی فروخت نہ ہو سکی۔ تمام متعلقہ اخراجات سبھی ممبروں کو برداشت کرنے پڑے لیکن ان ممبران نے اپنی تخلیقات کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے نئے نئے تجربات کئے۔ رنگ اور تیکنکیک سے خارجی اشکال کو نئے روپ بخشے گئے۔ بہر حال   ان کاوشوں کا نتیجہ 1918میں سامنے آیا جبکہ عوام نے اس گروپ کے فنکاروں کی تصاویر اور بُت خرید نے شروع کئے۔ بیرون ممالک میں بھی ان فنکاروں کو سراہا جانے لگا۔ جن غیر ملکی شخصیتوں نے اس گروپ کی دائے درمے اور سخنے امداد کی تھی ان کے اسمائے گرامی ہیں امریکہ کے پروفیسر اور مسز ڈیوڈسن، جرمنی کے ڈاکٹر فِسٹر اور فرانس کے جین نودا اور کلادے رنودا۔

    ہندوستانی فنی تاریخ کے اس نئے موڑ سے دوسرے صوبوں میں بھی ترقی پسند عناصر کو تقویت ملی۔ ایف۔ این سونا اپنے ایک کیڈلاگ میں لکھتے ہیں کہ "بمبئی پروگریسو گروپ: کے نام سے 1947میں بمبئی میں ترقی پسند فنکاروں پر مشتمل ایک انجمن کا انعقاد ہوا۔ جس کے وہ بانی تھے۔ لیکن بقول پردوش داس گپتا وہ اور ان کے کلکتہ گروپ کے دو اور ساتھیوں کو دسمبر1987میں بمبئی کے مشہور نقاد اور فن شناس روڈی و ان لیڈن نے ایک کانفرنس میں مدعو کیا تا کہ کلکتہ گروپ کی طرح بمبئی میں بھی ایک ترقی پسند گروپ کی بنیاد ڈالی جا سکے۔ لہٰذا 1948 کے ابتدائی ایام میں بمبئی پروگریسو گروپ کا رسمی اففتاح کیا گیا۔ جس میں آرا رائیا، موٹن سوزا، رضا، گاڈے، ھسین اور باکر کے صبر بنے۔ بعد میں کچھ اور مقامی فن کاروں نے اس گروپ کی ممبری لے لی۔ اپریل 1950میں کلکتہ گروپ اور بمبئی ترقی پسند گروپ نے با ہم مل کر کلکتہ میں ایک نمائش منعقد کی جسے بہت سراہا گیا۔

    پردوش واس گپتا نے 'ہندوستانی' مصوری کے ایک تعارف میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ بمبئی سے پہلے 1946 میں کشمیر میں تربوک کول کو قیادت میں کشمیر ترقی پسند گروپ   بن چکا تھا۔ اس کے علاوہ چوتھی دہائی کے آخری سالوں میں دو اور ترقی پسند گروپ دہی اور مدراس میں قائم کئے گئے اور اس کے بعد مختلف سوسائیٹیوں اور انجمنوں کا دور شروع ہوا اور غالباً ہر صوبہ میں اس قسم کے ادارے وجود میں آ گئے۔ لیکن یہ تمام ادارے یا گروپس کلکتہ گروپ سے مختلف کوئی خاص بات پیدا کرنے سے قاصر رہے اور نہ ہی کوئی مختلف فنی نظریہ فکر پیش کر سکے۔ فقط مختلف مغربی جدید اسلیب فن پر منحصر انفرادی طور سے تخلیقی کوششیں جاری رہیں۔ لیکن خاص اسلوب جو ہندوستانی مصوروں کے لئے راہنما ثابت ہوا وہ تھا دبستاں اظہاریت یہ اس وقت کے ہندوستانی ماحول کے لئے نہایت موزوں اسلوب تھا۔

    "پانچویں دہائی کی ترقی پسند مصوری اس دس سالہ دور میں عموماً دو باتیں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مصوروں نے عام طور سے اپنے موضوعات روزمرہ زندگی سے منتخب کرنا شروع کئے خصوصاً ایسے موضوع جو ریاست   سے قریب تر ہوں۔ دوسری بات یہ کہ جو کچھ بھی فنی کار گزاریاں ہوئیں اس میں قومیت اور ہندوستانیت کی جھلک بدرجہ اتم ملتی ہے۔ اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ایک لمبے عرصے کے بعد سیاسی آزادی حاصل کی تھی اور اس سیاسی جدوجہد کے دوران ہم نے گاندھی جی کی قیادت میں اپنا دائرہ عمل کسی حد تک محدود کر لیا تھا یعنی ہم زندگی کے ہر دائرے میں ہندوستانی رہن سہن اس کے قدیم فلسفے اس کی روایتوں اور قدروں کو فوقیت دینے لگے تھے اس کے علاوہ دیہی سماج سے تعلق اور ان کے مسائل اور صعو بتوں سے ہم گونا گوں دلچسپی لینے لگے تھے اور یہی نہیں بلکہ ان کو نئی زندگی دینے کے پلان مرتب کر رہے تھے۔   لہٰذا مصوروں اور فنکاروں نے اسی نصب العین کو سامنے رکھ کر ہندوستانی قدروں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک جدید اسلوب فن کے اختراع کی کوششیں شروع کیں۔ ان سبھی فنکاروں میں حسین مقبول فدا حسین بیندرے اور کے کے ہیبر نے خصوصی انفرادیت حاصل کی۔

    ابھی تک ہندوستان میں صرف ایک فنی ادارہ ایسا تھا جو ملک میں زمانہ حال کی مصوری اور بُت سازی کے ارتقاء کے لئے کوشاں تھا۔ یہ فنی مرکز عام طور سے "آئی فیکس" کے نام سے مشہور ہے۔ بار وا اُکل اپنے دو حقیقی بھائیوں سارو اُکل   اور رندااپکل اور جی۔سی۔ سنگھ کے تعاون سے اس ادارہ کی بنیاد 1928 میں ڈالی جس کے پہلے صدر سر کے این بیکسر تھے ۔ اس کا بنیادی مقصد تھا ہندوستانی فن و صنعت کو حتی الامکان فروگ دینا۔ 1931میں اس کا دوبارہ دستور العل بنایا گیا۔ بعد ازاں 1938میں اسے انڈین سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کر دیا گیا اور سرمورس گائر اس سوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1947میں آزادی کے بعد جب ڈاکٹر مہندر سنگھ رندھاوا اس ادارہ کے چیئرمین ہے تو انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے سوسائٹی کی عمارت کیت عمیر کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا اور یکم جنوری 1951کو ڈاکٹر راجندر پرشاد سابق صدر جمہوریہ ہند نے اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جو 1984میں تیار ہو گئی۔

    اس ادارہ نے بلاشبہ ہندوستانی فنانو کو فروغ دینے اور غیر ممالک میں اسے نمائش کے طور پر پیش کرنے میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ اس سوسائٹی کے سابق سکریٹری مرحوم بار دا اُکل ہندوستانی آرت کی پہلی نمائش 1981میں لندن اور پیرس لے گئے۔ 1933میں لندن 35۔1934میں برلنگٹن ہائوس لندن 1949 میں کابل 1951 میں ثقافتی وفد کے ساتھ مصر، ترکی او رعراق۔1952میں ثقافتی وفد کے ساتھ چین ، جاپان اور اسٹریلیا 1950میں روس"پولینڈ" اور جرمنی 1950 میں ہلگیریا، لوگو سنوویا اور گریس اور 1963میں دوبارہ یلگیریا میں آئی فیکس کے زیر اہتمام اہم فنی نمائشیں منعقد کی گئیں۔

    سوسائٹی نے 1946میں جدید فنونِ لطیفہ کی پہلی بین الاقوامی نمائش ہندوستان میں منعقد کی۔1947 مین ایشیائی فنون لطیفہ کی نمائش 1948 میں بیلجیم و 1940میں فرناس و 1950 میں انڈونیشیا، فن لینڈ اور چین و 1951مین دوبارہ چین اور 1952 میں روس کے آرٹ کی نمائشیں سوسائٹی زیر اہتمام دہلی میں منعقد کی گئیں۔ 1953 میں دہلی میں دوسری فنونِ لطیفہ کی بین الاقوامی نمائش ہوئی جس میں 22 ممالک نے نمائندگی کی۔ اس نمائش کو بعد ازاں امر تسر، بمبئی، کلکتہ، کانپور اور پٹنہ میں بھی دکھایا گیا۔ بہر حال 1954سے 1966 تک ہندوستان کے مختلف مراکز میں سوسائٹی نے غیر ملکی آرٹ کی تقریباً 30 نمائشیں منعقد کیں۔ جس میں امریکہ، چین و روس، کناڈا، جرمنی، ہنگر، عراق، ہلگیریا، انگلینڈ، رومانیہ، پولینڈ، چیکو سلواکیا ڈچ، منگولیا، یوگر سلویا، چلی آور نیوزی لینڈ ممالک کے آرٹ کی نمائشیں قابل ذکر ہیں۔

    اس ادارہ نے 1929 میں اپنا اشاعتی پروگرام شروع کیا اور "روپ لکھا" نامی جریدہ کی اشاعت شروع کی جس کا داریہ کے۔ایچ۔وکیل (بمبئی) اجیت گھوش(کلکتہ)   مکندی لال (یو۔پی) جی۔ ونیکیتیا چلم(جنوبی ہند) شر بمبئی ایلس۔ ای۔ اویا ر (مدراس) شریمتی کملا دیوی چٹو پار دھیا ئے اور بارد اُکل جیسے نامی گرامی اشخاص پر مشتمل تھا۔ آج کل اس کی اوارت ڈاکٹر رندھاوا اور کرشن چیتن کر رہے ہیں "روپ لیکھا" کے علاوہ "ارٹ نیوز" ماہوار بلیٹن بھی نکلتا ہے جس میں ہندوستان کی مختلف فنکارانہ سرگرمیوں کی رپورٹ دی جاتی ہے "آی فیکس" عام طور سے فنکاروں کو اپنی نمائشوں کے لئے گیلریاں کرایہ پر دینے کے علاوہ ایک سالانہ نمائش کا بھی اہتمام کرتی ہے جس میں فنکاروں کو انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ سوسائٹی نے اور بھی مختلف طریقوں سے فنکاروں کو کافی امداد دی ہے۔ لیکن اس ادارہ کا دائرکار کچھ حلقوں تک ہی محدود رہا جس کی وجہ سے قومی سطح پر اس کی اہمیت قدرے کم ہو گی۔

    لہٰذا ہم عصر فنکاروں کی مسلسل فرمائش اور قومی تقاضے کے تحت مرکزی سرکار کی ایماء پر ایک خود مختار ادارہ کی حیثیت سے نیشنل لت کلا اکادی قائم کی گئی جس کا افتتاح سابق وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد نے 15 اگست 1954کو جے پور ہاؤس نئی دہلی میں کیا تھا۔اس کی اپنی بلڈنگ ہے اور رابندر بھون میں اس کا آفس ہے اس ادارہ کے سب سے اہم مقاصد میں سالانہ قومی فنی نمائش کا اہتمام کرنا تھا جس سے قومی سطح پر فنِ مصوری اور بُت سازی کے معیار کا تعین کیا جا سکے۔ لہٰذا اس ادارہ کے زیر اہتمام 1955 میں پہلی سالانہ قومی نمائش منعقد کی گئی۔ اس نمائش میں گیارہ قومی انعامات دئیے گئے جس میں صدر جمہوریہ کا پہلا انعام مبلغ ایک ہزار روپے نقد کا اہم۔ایف۔ حسین کو ان کی روغنی تصویر"زمین" کو دیا گیا۔ یہ تصویر آج کل نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ نئی دہلی کے مجموعہ میں ہے۔ دوسرا انعام این۔ایس۔ نیندرے کو ان کی "کانٹا" نامی تصویر کو مبلغ پانچ سو روپے دئیے گئے۔ یہ بھی تصویر نیشنل گیلری کے مجموعہ میں ہے۔ ان کے علاوہ بقیہ تصاویر اور بتوں کو مبلغ250روپے فی حد و انعامات دئیے گئے۔ ان تمام تصاویر کی ہئیت اور موضوعات کو دیکھنے سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ اس وقت ہمارے نوجوان اور عمر رسیدہ فنکاروں نے اس بات کو تسلیم کر لیا تھا کہ تصویر کا موضوع ہندوستانی ہونا چاہئے ہاں میڈیم اور طرز میں مصور کو آزادی حاصل ہونی چاہئے تا کہ وہ اپنے موضوع کو زیادہ سے زیادہ پُر اثر بنا سکے۔

    دراصل 1952میں این۔ایس۔ بیندرے کی قیادت میں بڑودہ یونیورسٹی   میں جو فائن آرٹس فیکلٹ بنی وہاں ہندوستان کے نامور ترقی پسند مصوروں اور بُت سازوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اساتذہ کی صورت میں جمع ہو گئی تھی۔ کم و بیش یہی لوگ للت کلا اکاڈی کے ممبران بھی تھے۔ لہٰذا یہ لوگ آزاد ہندوستان میں قومی سطح پر فنی پالیسی مرتب کرنا چاہتے تھے اور کوشش یہ کر رہے تھے کہ جدید فن مصوری کو ہندوستانی سیاق و سباق میں اس طرح ڈھالا جائے کہ اس میں جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہندوستانیت برقرار رہے۔ لہٰذا اگر 1955سے 1959تک کی منعقد سالانہ قومی نمائشوں کے انعامات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ صرف انہیں تصاویر کو معیاری تصور کیا گیا جن میں ہندوستانی پہلو کو بدرجہ اتم اُجاگر کیا گیا۔ صرف ستیش گجرال ایسے مصور تھے جنہوں نے تکنیک کے لحاظ سے میکسکو دیواری تصاویر سے براہِ راست فیجان حاصل کیا لیکن ایسے موضوعات منتخب کئے جن میں کُلیت ہو اور انسانی بقا سے ان کا براہِ ریاست تعلق ہو۔

    سالانہ فہرت انعاماتِ للت کلا اکاڈی ملاحظہ ہو (اس میں بُت شامل نہیں ہیں)جو ان دس سالوں میں بہترین تصاویر قرار دی گئیں۔

    سال               نام فنکار                      عنوانِ تصویر                 رقمِ انعام

    1956           ایم۔ایف۔حسین             زمین                         مبلغ ایک ہزار روپیہ(انعام صدر جمہوریہ)

    1955           این۔ایس ۔ بیندرے          کانٹا                                    مبلغ500روپیہ

    1955           اوناش چندر                   پیڑ                                    مبلغ250روپیہ

    1955           نرملا کیل ڈیسائی               شاہی ذریعہ تفریح                      مبلغ250روپیہ   

    1955           جی۔ایم۔ہزارنس             سمندری فصل                          مبلغ250روپیہ

    1955           ڈی۔جی۔جوشی               ایک طرح                             مبلغ250روپیہ

    1955           کے۔ایس۔کلکرنی            گھڑے لئے ہوئے لڑکیاں              مبلغ250روپیہ

    1955           کھتیندر ناتھ مجدار            کیکئی اور دشرتھ                        مبلغ250روپیہ

    1955           آر۔ڈی۔راول               کھیلتے ہوئے گھوڑے                    مبلغ250روپیہ

    1956           جیوتی ایم۔بھٹ               کرشن لیلا                              مبلغ1000روپیہ(سونے کا تمغہ)

    1956           ستیش گجرال                  نا اُمیدی                               مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           شانتی دوے                            بکریاں                       مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           موہن ۔بی۔سامنت                    پالکی میں رومانس              مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           اروپ داس                            حضرت عیسیٰ                  مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           اے۔اے۔ المیلکر                     عشقِ حقیقی                   مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           بمل داس گپتا                          لا انتہا نیلا                      مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1956           کے۔کے۔ہیبر                         لے                          مبلغ ایک ہزار روپیہ          

    1957           ودیا بھوشن                             وینس کی ایک سڑک           مبلغ ایک ہزار روپیہ اور سون کا تمغہ

    1957           شانتی دوے                            زندگی                        مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           ستیش گجرال                           ملامت کیا ہوا                 مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           کے۔کے۔بیبر                         نغمئہ کھلیان                   مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           بی۔پارمارکھودی داس                   سورا شٹر کی ایک شادی        مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           جیرم پٹیل                              رسک پر یہ                   مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           رام کمار                                اُداس شہر                     مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           اے۔پی۔ سنتھنا راج                  جنگل کے بیچ                  مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1957           جی۔آر۔سنتوش                        امن                         مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1958           بیرن ڈے                             وہی صورت                  مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1958           کے۔کے۔ بیبر                         ماہم درگاہ                     مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1958           رام کمار                                عورت                       مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1958           ریبا داس گپتا                           چڑیا کا پنجرہ                   مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1958           شانتی دوے                            دریا کا کنارہ                   مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1959           محمد یٰسین                               برات کا جلوس                مبلغ ایک ہزار روپیہ اور سونے کا تحفہ    

    1959           اے۔ایس۔ جگنا تھن                   موت

    1959           سنیل کمار داس                         تین گھوڑے                           مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1959           پی کھیم راج                            قدرت میں کھویا ہوا                     مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1959           بھگون کپور                             سندھی بہو رانی                         مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1959           بہاری بربھیا                           کرشن رادھا کے انتظار میں               مبلغ ایک ہزار روپیہ

    1959           دیپک بنر جی                            اسپات کا بیرون حصہ                    مبلغ ایک ہزار روپیہ

     

    9اکتوبر1960 کے السٹرٹیڈو بجلی آف انڈیا   میں اس وقت کے ایڈیٹر اے۔ایس۔ رمن نے 25 ویں دہائی کہ ہندوستانی جدید مصوری کو "سوشل ریلزم" (سماجی حقیقت نگاری، سے منسوب کیا تھا۔ ان کے مطابق کسی جمالیاتی کار میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا کہ مصور یا فن کار اپنے میڈیم کے دائرے میں انے تجربات کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نظریہ فکر ازم فارمولے تکنیک وگیرہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی مصور میں اول الذکر صلاحیت نہیں ہے تو اسے نام نہاد مصور ہی کہنا چاہیے" بہر حال جو کچھ بھی ہور من کی اس بات سے ہم ضرور متفق ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے 5 ویں دہائی کہ ہندوستانی مصوری کا صحیح تخمینہ لگاتے ہوئے ایک نہایت موزوں نام تجویز کیا تھا اور مصوروں کے بھی اندازِ اظہار خیال اور سامعین کے مطالبہ اور پسندیدگی میں زیادہ اختلاف رائے نہیں ملتا۔ غالباً یہ وہ فنی راہ تھی جو میکسیکو ، روس اور اشترا کی ممالک میں اپنائی گئی تھی۔

    "چھٹی دہائی کی ترقی پسند مصوری خصوصی طور سے چھٹی دہائی کو تجریدیت کا زور کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ وہ مصور جو 5ویں دہائی تک ہندوستانی "سوشل ریلزم" پر یقین رکھتے تھے اور فن میں ہندوستانیت یا قومیت پیدا کرنے کی تبلیغ کیا کرتے تھے انہیں اس نعرہ میں کوئی خاص دلچسپی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ شاید وہ ہندوستانی سماج کو پسماندہ زندگی کو پیش کرتے کرتے اُکتا گئے تھے۔

    1960کے اولین دور میں ہمارے کچھ نوجوان مصوروں کو اسٹوونٹ آرٹ لیگ ، نیو یارک میں کام کرنے کے لئے وظیفے ملے۔ ان مصوروں کا نیو یارک سے لوٹنا تھا کہ ہندوستانی فنِ مصوری کے نقشہ میں تبدیلی ہونا شروع ہو گئی۔ حالاں کہ تجریدی فنِ ادب ہندوستان میں کافی تعداد میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن ہمارے نوجوان مصور انے فنی تجربات میں تجریدیت لانے میں کافی جھبکتے تھے۔ لیکن لوگوں کے ذہن بدلنا شروع ہوئے اور ہر خاص و عام فنِ مصوری کا طالب علم تجریئت کو فنِ مصوری کی معراج سمجھنے لگا اور نتیجہ یہ نکلا کہ طرح طرح کے تجربات ہونے لگے۔ این۔ایس۔ بیندرے جیسے مصور ہندوستانی موضوعات چھوڑ کر تجریدی کنوس کی تخلیق کرنے لگے۔ 1960کے ایک فنی مذاکرہ میں اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے اپنے مقالے میں لکھا کہ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری دہائی میں رابندر ناتھ ٹیگور، امرتا شیر گل اور جامنی رائے نے فن میں ہندوستانیت" اور "قومیت" کی زنجیروں سے تنگ آ کر بین الاقوامی فنی تحریکوں سے اپنے آپ کو منسلک کرنیکی کوششیں کیں لیکن شیر گل اور جامنی رائے قومیت کے دائرے کو پار کرنے سے قاصر رہے۔ فقط ٹیگور نے کچھ حد تک اس   اس تنگ نظری کے خلاف آواز بلند کر کے فنی ھد بندیوں کو تور نے کی کوشش کی۔ آج یہ وقت آ گیا ہے کہ ہندوستانی مصور اپنے وجود کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لئے پر تول رہا ہے۔ حالاں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی مصور تیکنیکی اعتبار سے بڑے ماہرین اور آنے میڈیم کے استعمال میں کسی بھی غیر ملکی فنکار سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے وہ فنِ مصوری کے تمام جدید سے جدید اسالیب سے واقف ہیں لیکن انہیں ابھی بہت دُور آگے جانا ہے۔"

    جن مصوروں نے بیندرے کے خیال کی تائید کی اور تجریدیت کو اپنا ایمان بنایا اُن کے اسمائے گرامی ہیں۔ وی۔ایس۔ گیتنورے، بیرن ڈے، رام کمار، ایس۔ایچ۔رضا، کشن گھنہ، شانتی دوے، جی۔آر۔ سنتوش، امباداس، کے۔سی۔ایس پائیکر، جیرم ٹپیل، جیوتش بھٹا چار جی، ایس۔ار۔ بھوشن، بشمبر کھنہ، نرین ناتھ، نسرین محمدی، جینت پریکھ، آر۔این۔پشر چا، ہنسی پریمو، پربھا کر باروے، سوریہ بند کاش، سوہن قادری، ایل۔ایس۔راجوت، آر۔ایس۔ بھشت، پیرا جی سگارا، ادم پرکاش، بھانو شاہ، وی۔ وشوانا دھن، جی۔ایس۔ وسودیو، ایرک بوون، ایرک حکیم اور سکانتا باسو۔

    لیکن للت کلا اکادی کی چھٹی دہائی کی سالانہ نمائشوں مین مندرجہ بالا نئے فلسفے کو زیادہ سختی سے نہیں اپنایا گیا بلکہ کسی حد تک فراخ دلی کا رویہ اختیار کیا گیا اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ ہر سال ممتحن بدلتے رہتے تھے اور ان میں اختلاف رائے ہونا یقینی بات ہے۔ لہٰذا مندرجہ ذیل فہرست میں جن تصاویر کو قومی انعامات سے سرفراز کیا گیا ان میں "سوشل ہیلزم" اور "تجریدیت" دونوں طرح کی تصاویر ملتی ہیں۔"

    سال                         نام                                    عنوانِ تصویر                 رقم انعام          

    1960                     سومناتھ ہور                           ساتھی                       مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1960                     ہمت لال ڈی شاہ                       غیر ذی روح اشیاء             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1961                     سی۔جے۔ انتھونی ڈاس                  سمندری زندگی               مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1961                     گو تم بھائی وکھیلا                         پیلی ندی                      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1961                     ونو رائے پٹیل                          چڑیا فروخت کرنے والا        مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1961                     ترلوک کول                            تنظیم                        مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1961                     ارون بوس                             نواح شہر                      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1962                     ہمت شاہ                               مائی پلے زیرو                 مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1962           ارون بوس                             ایک آدمی اور دیواری تصویر             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1962           ایم۔ریڈیا نائیڈو                        سانپ جانوروں کے ساتھ               مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1962           اے۔اے۔رائبا                       پیڑ                                    مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1962           غلام محمد شیخ                             تعاقب                                مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1962           اے۔پی۔ سنتھنا راج                  برندا بن کی ایک روایت                 مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1962           اکبرید مسی                             جو ہو                                   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           جیوتی بھٹ                             اندھیرا منظر                            مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           جیوتش بھٹا چار جی                      چاند                                   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           کے۔ایس۔ کلکرنی                      ایک نغمہ کی موت                      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1963           لچھن پے                              گرہن                                 مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           جیرم پٹیل                              خاموشی میں مطالعہ                     مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           پیرا جی سگارا                            خاموش کھڑکیاں                       مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1963           گو تم وگھیلا                             شبنم                                   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1964           وسو دیو۔بی۔اسمارٹ                    بادار                                   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1964           مدن لال ناگر                          ایک پُرانا شہر                           مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1964           ڈی۔جی۔سانگوائی                      ریما                                    مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1964           ایم۔ایس۔جوشی                       بھوری صبح                             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1964           جی۔آر۔سنتوش                        خدا کے قریب تر(تجریدی تصویر)       مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1964           بیرن ڈے                             مرتا ہوا دیو (تجریدی تصویر)             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           جیون اڈلجا                    اندھیری دیوار(کم و بیش تجریدی تصویر)    مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           بدرجی نرائن                            فیملی                                   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           رمینک بھوسار                          تصویر نمبر2(تجریدی تصویر)           مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           آر۔ایس۔ بھشٹ                      شہر کا منظر3(تجریدی تصویر)           مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           بال چھابڈا                              لطافت (تجریدی تصویر)                مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1965           کشن گھنہ                              جارے میں کھڑکی                      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           طیب مہتہ                              ایک عورت کی شکل                     مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1965           کے ۔جی۔سبرا منین                    اسٹودیو(کم و بیش تجریدی تصویر)        مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1966           پرکاش کرمکار                          جذبات کاٹٹولنا                          مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           جے۔سلطان علی                       کونڈا پلی                               مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           امباداس                               گرم ہوا کا میرے اندر چلنا(تجریدی تصویر) مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           ڈی۔کے۔داس گپتا                    گاما گاؤں(کم و بیش تجریدی تصویر)       مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           بال چھابڈا                              اپنے پروسی سے محبت کرو (تجریدی تصویر) مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

                                                    کیوں کہ کدا نے ایسا ہی کہا ہے نہ کہ پڑوسی نے مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام           

    1966           موریہ پرکاش                           نغمہ نگاری نمبر4(تجریدی تصویر)       مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           رام سنگھ باوا                            مصیبت زدہ                            مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           ایم۔کے۔برھن                       روھانی تکلیف ووجد                     مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1966           کے۔ایس۔کلکرنی                      فرسودگی(کم و بیش تجریدی تصویر)      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1967           ایم۔سوریہ۔مورتھی                   نقش چوبی                              مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1967           کے۔سی۔ایس۔پائیکر                  الفاظ و نشانات(کم و بیش تجریدی تصویر)   مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1967           ایس۔کے۔راجا ولو                     رستھ بان                               مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1967           ڈی۔جی۔کلکرنی                        بیضئہ حیات                            مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1967           ایس۔جی۔وسودیو                      دلوس (کم و بیش تجریدی تصویر)         مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1967           آنند موہن ناٹک                       جنوں کا اُڑتا ہوا جُنڈ(تحریری تصویر)      مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1968           بھانو شاہ                                تصویر نمبر16(تجریدی تصویر)         مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1968           ایل۔منو سوامی                         تنظیم اے                             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1968           پی۔داس۔ گپتا                         تنظیم                                  مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1968سوہن قادری                          اشیاء دھات(تجریدی تصویر)            مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام              

    1968وی وشونا دھن                         لال تصویر(تجریدی تصویر)             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1969ہال کرشن پٹیل                         تصویر کلر                              مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1969پی۔کھیم راج                          ہم آہنگی                                مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1969اوم پرکاش                             بھیروں (تجریدی تصویر)               مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    1969اے۔ داما چند رن                       بیان تمثیل                             مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1969ونود شاہ                                تنظیم "اے"                          مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام

    1969ونو درائے پٹیل                         ٹورسٹ "ڈی"                        مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام     

    چھٹی دہائی کی سالانہ قومی نمائشوں میں انعام حاصل کرنے والے مصوروں کی مندرجہ فہرست میں شانتی دوے اور وی۔ایس۔ گیتوندے کا نام تو نہیں ملتا لیکن دو ایسے سنجیدہ مصور ہیں جو تجریدی انداز میں برابر کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گیتو ندے کو بلاشبہ اس طرز کا پیش رومانا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تصویروں میں انسانی ڈھانچے کو اقلید ی انداز میں ترتیب دینے کی جدت کی اور رنگوں کو محدود طریقے سے استعمال کیا۔ نیز سُرخ رنگ ان کا محبوب ترین رنگ کہا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں گیتو ندے نے آزادانہ طور سے سختی رنگ کی کنی سے برق رفتاری سے رنگوں کو کنوس پر بکھیرنا شروع کر دیا جس سے اُن کا مدعا وقت کی رفتار کا ظاہر کرتا تھا لیکن عمر کی رفتار کے ساتھ ان کے کنوس کی تیزی بھی مدھم اور سپست پڑتی گئی۔ اب ان کے کنوس پر ایک لا متنا ہی سکون اور ٹہراؤ دکھائی دیتا ہے۔ جیسے کہ ایک خاموش جھیل ہو جو وقت کے مختلف رنگوں میں جھملا رہی ہو۔ سفید اور پیلے رنگ اب ان کے خصوصی رنگ ہیں۔

    شانتی دو ے نے تجریدی طرز کے اپنے ابتدائی دور میں رنگوں کی موٹی تہوں سے کینوس پر ترتیب دینا شروع کیا تھا جیسے کہ کوئی ہوائی جہاز سے نیچے زمین کی طرف دیکھ رہا ہو۔ بعد میں کچھ عرصہ کے لئے ان موٹی تہوں میں ڈھالے ہوئے دیونا گری کے حروف بھی استعمال کئے لیکن اب وہ لکڑی کےکُھدے ہوئے تھپوں سے اپنے کنوس پر مخصوص تارو پود پیدا کرتے ہیں جو ان کی انفرادیت ہے۔ شانتی دو ے کو رنگوں کے استعامل اور ان کی ہم آہنگی میں بڑی مشاقی ہے لہٰذا ان کی تصویریں غیر موضوع ہوتے ہوئے بھی بڑی جازب نظر لگتی ہیں۔

    تنستر سنسکرت لفظ " تان" سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی بڑھنے یا پھیلنے کے ہیں۔ لہٰذا تنتر کے معنی ہیں علم بڑھانا دراصل تنتر نہ کوئی مذہب سے اور نہ ہی یہ زندگی کا کوئی کاص متصوفانہ پہلو پیش کرتا ہے۔ بلکہ یہ ایک طریق عمل ہےے جس سے روھانی طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔ تنتر غالباً آریوں کے دور سے ہی شروع ہوا اور اس کے بعد سے کسی نہ کسی شکل میں یہ ہر مذہبی دائرے میں موجود رہا۔ یہاں تک کہ مسلم دورِ حکومت میں بھی صوفی فلسفہ کی تحریک میں تنتر کے اصولوں کا شبائبہ ملتا ہے۔ تنتر کے اصولوں کو سمجھنے کے لئے ایک اُستاد ہاصفت کی لازمی ضرورت ہوتی ہے جو قدم قدم پر صحیح رہنمائی کر سکے بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ایک فرنگی سرجان ووڈ ووف نے تنتر کا مطالعہ کیا۔ یہ کلکتہ ہائی کورٹ کے بیچ بھی تھے ۔ انہوں نے اپنے بنگالی اُستاد شیو چندر بھٹا چار یہ کی مدد سے تنتر کے قوانین کے نام سے ایک کتاب شائع کی جو دراصل "تنتر تتو" کا ترجمہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جس سے تنتر کے متعلق لوگوں کو خاصی جانکاری حاصل ہوئی۔

    تنتر کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ وہ انسان کو موجودہ زندگی سے دور نہیں لے جاتا بلکہ اُسے وہ زندگی کے ساتھ اپنے آپ کو بھرپور حوالے کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تنتر کے مطابق جس چیز سے انسان کو زوال ہوتا ہے اسی سے وہ کمال بھی حاصل کر سکتا ہے۔ لہٰذا تنتر اپنے خصوصی طریق عمل سے(روحانیت اور مادیت کے امتزاج سے )انسان کو پوری روحانی اور مادی غذا فراہم کرتا ہے۔ دنیا سے منہ موڑ لینا یا جوگی بن جانا تنتر کے اصول کے خلاف ہے بلکہ اپنی خواہشات اور احساات کے ساتھ زندگی سے پورا پورا فادہ حاصل کرنا اس طریق عمل کا خصوصی مقصد ہے۔ تنتر اس دنیاوی نظام کو "پرش پرکرتی" جوہری مادی، کا تہوانی عمل تصور کرتا ہے۔ اسی وجہ سے شہت کا تنتر میں بڑا اہم پارٹ ہوتا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے تنتر یوگیوں نے تنتر کے کچھ تجریدی علامات مقرر کئے تھے جن سے دنیاوی نظام کے مطالعہ میں مدد ملتی ہے۔ انہیں تجریدی اطلاعات انہیں تجریدی علامات سے محفوظ ہو کر ہمارے ہندوستانی جدید مصوروں نے تنتر آرٹ پر طبع آزمائی شروع کی ہے۔ یوں تو بہت سے مصور اس میدان میں کام کر رہے ہیں لیکن بیرن ڈے اور غلام رسول سنتوش ان میں قابلِ ذکر ہیں۔

    بیرن ڈے ایک پورٹریٹ مصور کی حیثیت سے بیرن ڈے نے میدانِ مصوری میں قدم رکھا اور چند ہی سالوں میں مخصوص مقام حاصل کر لیا حالاں کہ یہ ان کے پورٹرٹیس بنیادی طور سے سیزان کے پورٹیس سے کافی متاثر ہیں لیکن ان میں برجستگی کے ساتھ ساتھ طریق، عمل میں کافی آزادی ہے۔ شبیہ کشی کے ساتھ ساتھ بیرن ڈے نے مختلف ہندوستانی یہی موضوعات پر کمپوزیشن بھی بنائے جن میں مچھروں کی زندگی کے لمحات بڑے پُر اثر طریقے سے مرقع کئے گئے ہیں۔ لیکن نیو یارک میں کچھ عرصہ رہنے کی وجہ سے فنِ مصوری میں بڑھتے ہوئے تجریدی رجحان سے متاثر ہو ئے۔ انہوں نے شروع   میں یعنی 1968میں روگنی رنگوں سے اپنی تجریدی تصاویر منظرِ عام پر یش کیں۔ بعد ازاں انسانی اعضائے تولد اور دیگر تنتر کی علامتوں ک امتزاج سے تصاویر بنانا شروع کیں۔ ان میں خصوصاً شوخ بنیادی رنگوں کا استعمال کیا گیا، لال، پیلے اور نیلے رنگوں میں ان کے کمپوزیشن بڑے دلفریب ہوتے ہیں اور ان شوخ رنگوں سے مصور کے شدید جذباتی ہیجان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جن اشخاص کو بیرن ڈے کی ذاتی زندگی کا علم ہے انہیں ان کے کنوموں میں بلاشبہ المیہ علامات کا گمان ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ان تصاویر میں بلاکی کشش ہوتی ہے اور یہ ہندوستانی تجریدی مصوری کی خصوصی نمائندگی کرتی ہیں۔ کہیں کہیں ان میں تکیہ قلم ضرور ملتا ہے لیکن اسے بیرن ڈے کی انفرادیت سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔

    رام کمار عموماً بھورے رنگوں سے اپنے کینوسوں کو ترتیب دیتے ہیں جن میں کہیں کہیں سفید اور نیلے رنگ سے بھورے رنگ کی یکسانیت کو توڑنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔کشن گھنہ نے کوئی خاص اسلوب نہیں اپنایا، وہ تقریباً ہر دو سال بعد اپنا طرز مصوری دل دیتے ہیں کبھی وہ غیر تمثیلی کنوس بناتے ہیں تو کبھی تمچیلی۔ لیکن جو بھی کرتے ہیں اس میں جدت ضرور پیدا کرتے ہیں۔ امباداس میں تکنیکی مہارت ہے وہ روغنی رنگوں کو آبی رنگوں کی طرح استعمال کرتے ہیں اور ان کے کنوس پر بُرش اٹھکیلیاں و رقص کرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ کے۔سی۔ایس۔ پانیکر جو کبھی ایک زبردست اظہار پرست مصور تھے۔ تجریدی مصور کی ھیثیت سے چھٹی دہائی میں ہمارے سامنے آئے۔ وہ تامل رسم الخط اور جنوبی مذہبی علامات کو اپنا مولف بنا کر اپنے کینوس کی ترتیب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کوشش کی ہے کہ ان کے فن میں تجریدیت کے ساتھ ساتھ ہندوستانیت جرور برقرار رہے اور اس میں بلا شک کامیاب سمجھے جا سکتے ہیں۔ جیرم پتیل نے لکڑی کو"بلو لیمپ" سے جلا کر تجریدی تجربے کئے ہیں جو ان کی انفرادیت بن چکی ہے۔ سوہن قادری بڑے خوبصورت انداز میں   یک رنگی تارو پود والے کنوس کا اختراع کرتے ہیں جبکہ اوم پرکاش اقلید لیسی انداز میں ترتیب دیتے ہیں۔

    لیکن جو تنتر کے علامتوں سے کم و بیش فیضان حاصل کرتے ہیں ان میں بمل داس گپتا اور وی وشونا دھن کے نام قابلِ زکر ہیں۔ سنتوش نے تو تنتر سے محفوظ ہو کر اپنا تخلیقی دائرہ ہی بدل دیا۔

    غلام رسول سنتوش(پیدائش 1929) مسوری کے ساتھ ساتھ کشمیری زبان میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ 1954سے1956تک سرکاری وظیفہ پر بڑودہ یونیورسٹی میں پروفیسر این۔ایس۔ بیندرے کی شاگردی کی۔ اس کے بعد زیادہ تر قیام دہلی میں ہی رہا۔ اردو میں پہلی ناول"سمندر پیاسا ہے" کے نام سے 1963 میں کمار گیلری دہلی سے شائع ہوئی اس دور میں سنتوش کمار گیلری سے منسلک تھے۔

    5ویں دہائی کے آخر تک پروفیسر بیندرے کی رہنمائی میں ہندوستانی موضوعات پر مشتمل تصویر بناتے رہے اور ان پر انعامات بھی حاصل کئے۔ لیکن 1960کے بعد تجریدیت کی جانب راغب ہوئے۔ رنگ کی موٹی نہیں اور عربی رسم الخط کو تکیہ قلم بنا کر کام کرنا شروع کیا۔ اس طرز پر تکنیکی مہارت پیدا کی اور قومی انعام بھی حاصل کیا۔ اس دوران اجیت مکرجی کی کتاب منتر آرٹ "شائع ہوئی۔ اس کتاب نے خصوصاً دلی کی فنی فجا میں ایک نئی لہر پیدا کر دی۔ ہمارے مصوروں نے ہندوستانی تنتر کے تجریدی علامات کو فیضانِ غیب سمجھ لیا۔ اور نتیجہ کے طور پر دہلی کے مصوروں کا ایک اچھا خاصہ طبقہ تنتر علامات پر منحصر تجریدی کینوسوں کا اختراع کرنے لگا۔ اس رجحان کی سب سے بری ایک وجہ یہ تھی کہ اس طرز کی تجریدیت کو مغربی تجریدیت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جدید تقاضوں کے لحاظ سے بھی یہ طرز زیادہ موزوں تھا۔ سنتوش بھی انہیں مصوروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تنتر کو اپنا بنیادی سر چشمہ بنا کر تجربے کرنا شروع کئے۔

    سنتوش نے اپنی ایک نمائش کے تعارفی خاکہ میں اپنے فن کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے فن میں وقتاً فوقتاً جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ بیک وقت نہیں آئیں بلکہ انہوں نے سیکروں کی تعداد مین خاکے بنا بنا کر مختلف تجربات کئے۔ لیکن ان تجربات میں قدرت کے خارجی اجزا اور انسانی جسم کو یکجا ہونے کی کوشش کی گئی تی۔ لیکن 1965 سے جو تبدیلی آئی اس کی سب سے بڑی وجہ غالباً بین الاقوامی سطح پر فنی اقدار کی تبدیلیاں تھیں۔ ان بدلے ہوئے اقدار نے مجبور کر دیا کہ فنی اخترامی مسئلوں پر نظر ثانی کی جائے۔

    ان کا خیال ہے کہ ہر انسان خوشی کی تمنا کرتا ہے لیکن یہ خوشی مادی ذرائع سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا ہمیں کوئی روحانی ذریعہ تلاش کرنا پڑتا ہے کیوں کہ روحانیت ہی میں ابدی مسرت کا راز پنہاں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روحانی مسرت کا شہوت سے گہرا تعلق ہے۔ ان مسرتوں کو حاصل کرنے کے عموماً دوراستے خیال کئے جاتے ہیں یعنی یا تو ہم دنیا کو خیرباد کہہ کر ہمالیہ کی گپھاؤں میں چلے جائیں یا پھر سماج میں رہ کر زندگی اور مایا جال سے تجربہ حاصل کیا جائے۔ یہی تنتر کا ایک ایسا اصول ہے جس کو لے کر سنتوش نے اپنے فنی دھارے کے رُخ کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ جنسی لذت حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عطیہ ہے اور زندگی کا ایک لازمی عمل ہے۔ جس کا سلسلسہ دنیا کے وجود سے چلا آ رہا ہے۔ اس عمل میں واصل بخود ہونے کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے کنوس میں جنسی عمل کو علامتی طریقوں سے پیش کیا گیا ہے جو خالص سرور حاصل کرنے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔

    7ویں دہائی کی ترقی پسند مصوری 7 ویں دہائی میں عام طور سے ہندوستانی مصوروں کا رُک تجریدی اسلوب پر ہر مرکوز رہا لیکن کچھ مصوروں نے خصوصاً اپنے فن میں استعجابت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالاں کہ چھٹی دہائی میں کلکتہ گروپ کے ہیمنت مصرا کلکتہ نوجوان مصوروں کی انجمن کے کار تک چندر پائن، دہلی کے جے سلطان علی اور مدراس گروپ کے کے۔سی۔ایس۔ پانیکر جیسے مصوروں نے پہلے ہی اس اندازِ فکر کو اپنی تخلیقات میں پیش کرنا شروع کر دیا تھا لیکن ان تصاویر کی استعجابی کیفیت مغربی دبستاں سُر ریلزم کی طرح نہیں ہے لیکن مجازاً کسی حد تک مابہت دیکھی جا سکتی ہے۔ دراصل سُرریلزم اسلوب فن مصور اینڈرے برٹن نے 1924میں پیرس میں شروع کیا تھا جس کے تحت اس دنیا کی تصویر کشی کی گئی جو انسان کے تحت الشعور میں آباد ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ دنیا جس کا ہم خواب کی حالت میں نظارہ کرتے ہیں۔ اس اسلوب میں کام کرنے ولاے مغربی مصوروں میں میکس آرنسٹ ہانس آرپ جان نیرو سلوارڈ ار ڈالی ۔ اینڈرے میساں، ٹنگوی، ڈی کر کو، مارک شگال قابل ذکر ہیں۔ اس اسلوب نے دراصل مصوری کے دھارے کا رُخ تجریدیت سے ہٹا کر پھر اشکالی بنا دیا۔ فرق اتنا جوا کہ واقعیت یا حقیقت نگاری سے ہٹ کو استعجابیت اور انوکھی وضع کو بدرجہ اتم یش کیا جانے لگا۔ عموماً سے ہٹ کر استعجابیت اور انوکھی وضع کو بدرجہ اتم پیش کیا جانے لگا۔ عموماً یہ صورت مبالغہ اور غلوکی مدد سے پیدا کی گئی لیکن مصوراہ تکنیک میں ان مغربی مصوروں کو اتنی مہارت تھی کہ ان کا مقابلہ یوروپ کے دورِ نشاۃ ثانیہ کے مصوروں سے کیا جا سکتا ہے۔

    بہر حال اس اندازِ فکر مین خصوصی طور سے ہندوستان میں کام کرنے والوں میں سردار جسونت سنگھ(پیدائش 1911) کا نام لیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ انہوں نے بھی چھٹی دہائی سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ خصوصاً ڈاکٹر چارلس فابری(جو روزنامہ اسٹیس مین کے نقاد فن تھے۔ ان کے بڑے مداح تھے۔ جسونت سنگھ کی تصاویر اسپین کے مشہور مصور ڈالی سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ لیکن تکنیکی اعتبار سے ابھی بُرن میں ڈالی جیسی استعداد پیدا نہیں ہو سکی ہے۔1975کے ابتدائی ایام میں انہوں نے پنجرہ کو ایک خصوصی اکائی مان کر جو نمائش دہلی میں پیش کی اس میں زندگی کی بیشتر تلخ حقیقتوں کو محسوس کیا جا سکتا تھا اس طرح جسونت سنگھ کے فن میں اظہارِ تخیل کی پختگی تو ضرور ملتی ہے لیکن نازکی قلم اور مصورانہ چابک دستی جاپانی مصور کا زو تو موفو جینو(پیدائش1940) کی طرح ہو تو جسونت سنگھ اس اسلوب کے ایک اچھے فنکار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    انل کر نچے(پیدائش 1940) نے فریبِ نظر اور وہم جیسے غیر حقیقی عناصر کو بنیاد بنا کر تجربے کرنا شروع کئے خصوصاً اُڑتے ہوئے بادلوں میں انسانی تخیل کی پرواز اور ان میں مختلف اشکال کا رونما ہونا بڑی استعجابی کیفیت پیدا کرتا ہے حالاں کہ یہ تنظیم بری پُر اسرار اور بھیانک انداز لئے ہوئے ہوتی ہے۔ ان کی تصاویر میں ڈوبتی اُبھرتی مسخ شدہ انسانی شکلیں اور ان کے مختلف اعضاء جانوروں اور پرندوں کے ایلنتھے ہوئے جسم دماغ پر زبردست بوجھ ڈالے بنا نہیں رہتے۔ حالاں کہ انہیں اس اسلوب کے اختراع کے لئے للت اکاڈمی کے سالانہ انعام سے نوازا جا چکا ہے لیکن تکنیکی نقطہ نظر سے رنگوں کے امتزاج اور تنظیمی کیفیت میں اس پختگی کی ضرورت ہے جو ہمیں جاپانی فنکار ریوی ہاشی موتو (پیدائش1928) کے فنکاروں میں دکھائی دیتی ہے۔ بکاش بھٹا چارجی(پیدائش 1940) نے "کولاج" (خارجی اشیاءکو چپکا کر تکلیقی مطلب بر آری کرنا کی مدد سے اپنی تصاویر میں استعجابی کیفیت لانے کی کوشش کی ہے اور اس مین کوئی شک نہیں کہ وہ اس تکنیک میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی تصاویر میں ایک زبردست ڈرامہ نظر آتا ہے جو کسی خواب کی تعبیر سے مشابہ کیا جا سکتا ہے۔ اُلو ان کا محبوب ترین موضوع ہے۔ مسخ شدہ انسانی جسم ان کی تصاویر یں بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن چوں کہ تیکنیک میں انہیں اچھی خاصی مہارت حاصل لٰذا دیکھنے ولاے کا ذہن تیکنیک کی رنگینی میں کھو جاتا ہے اس کے علاوہ مزید کچھ دوسرے استعجابی عناصر کا استعمال دل و دماغ کو جھنجھوڑے بنا نہیں رہتے۔ بھٹا چار جی سے کافی توقعی ہے کہ وہ استعجابی، اسلوب کے دائرے میں نئی شمعیں روشن کرتے رہیں گے۔ انہیں بھی رات کلا اکاڈی کا قومی اعزاز پانے کا شرف حاصل ہے۔

    ایشور سگارا(پیدائش1942) کو بھی میں اسی گروپ میں شمار کرتا ہوں۔ حالاں کہ ان کی تصاویر میں استعجابی عناصر کے علاوہ جو ماحول دکھایا جاتا ہے وہ   ہندوستانی ہوتا ہے۔ یہاں کسی شکل کو مسخ کئے بغیر پورے کنوس کے ماحول کو فقط ایک"ہُو" کے عالم میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ تصویر کو تاریکی سے روشنی کی طرف اُبھارا جاتا ہے اور ان میں ایسے عناصر استعمال کئے جاتے ہیں جن کا آپس میں ایک دوسرے سے تال میل بھی ہوتا ہےاور با معنی بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی "بھوکی روحیں" نامی تصویر(طلمت کلا اکاڈمی اعزاز1971) تاریک رات میں ایک سرک کا منظر پیش کرتی ہے۔ سڑک پر ایک بڑا سام تو کھڑا ہے۔ دونوں طرف ہندوستانی طرز کے پُرانے قسم کے مکانات ہیں اور ایک عورت ایک دروازے سے جھانک رہی ہے۔ آسمان میں چاند کی تولائی کے اندر ایک سنہرا ہرن دکھایا گیا ہے اس کے علاوہ ایک انسانی جسم فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اتنی پُر اثر تصویر ہے کہ خوف اور حیرت کے ملے جلے تاثر کے پیدا ہونے کے باوجود یہ بڑی کشش کا باعث ہے اور ہر دیکھنے والا اس تصویر کے مختلف معنی بھی پہنچا سکتا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے بھی ایشور سگار اکانی مہارت رکھتے ہیں اور وہ اپنے موضوع کو بخوبی پیش کرنا جانتے ہیں۔ رنگوں کے استعمال اور تنظیم و ترتیب میں اپنے ہم عمر تمام فنکاروں سے سبقت لے جا چکے ہیں۔ انہیں 1971کے دہلی بین الاقوامی ٹرنالے میں بھی انعام دیا جا چکا ہے۔

    استعجابی رنگ لئے ہوئے ایک دوسرا گروپ ہے جو گنگا جمنی طرز پر غالباً یقین کرتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل قابلِ ذکر ہیں جسے سوامی۔ ناتھن(پیدائش 1928) نے چھتی دہائی سے لے کر اب تک کئی رنگ بدلے ہیں لیکن جو رنگ 7ویں دہائی میں ہمارے سامنے آیا ہے اُسے اگر استعجابی مثبت تمثیلی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے ابتدائی دور میں سانپ ان کا محبوب ترین موضوع تھا۔ کسی نہ کسی روپ میں یہ کنوس کی سطح پر ضرور موجود ہوتا۔ لیکن بعد میں پانی، پتھر، چٹانیں، چریاں، مکڑی، خورد پودے ان کی علامتیں بن گئیں ۔ مثلاً پتھریلی چٹانیں، ان کا کچھ حصہ ابھرا ہوا اور کچھ حصہ شفاف پانی میں ڈوا ہوا ، ان پر کہیں رینگتی ہوئی مکڑی اور کہیں چٹان پر بیٹھی یا اُڑتی ہوئی چڑیا کنویں میں بڑی پُر اسرار کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ چٹانوں اور پتھروں کی بناوت میں ایک خاص قسم کی کھردری سطح دکھائی جاتی ہے جسے ایک طرح سے ان کا تکیہ قلم بن گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں کسی حد تک اسے انکی انفرادیت کہہ سکتے ہیں۔ یہ روغنی رنگوں کو آبی رنگوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ سوامی ناتھن تنقیدی نگاری بھی کرتے تھے ۔ انہیں راجستھانی عوامی فن پر تحقیق کرنے کے سلسلے میں جواہر لال نہرو فیلو شپ بھی مل چکا ہے۔ بھپین کھکھر (پیدائش1934)ویسے پیشہ کے لحاظ سے چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہیں لیکن فنِ مسوری میں مستند نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تصویر میوزیم آف ماڈرن آرٹ نیو یارک کے مجموعہ میں بھی ہے جس سے ان کی فنی انفرادیت کی سند ملتی ہے۔ 1964سے ہی انہوں نے استعجابی اسلوب پر کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ ایک تجرباتی دور تھا جس میں مختلف اثرات نمایاں تھے مثلاً فرانس کے ہنری روسو راجستھانی مصوری اور کہین مغل فنِ تعمیر کے مخلوط اثرات نظر آتے تھے۔ لیکن ان کی 7ویں دہائی کی تصویروں میں افرادیت کے ساتھ ساتھ ساہد لوحی بھی ہے اور عوامی مصوری کی جھلک ملتی ہے۔

    پُریمیت سنگھ(پیدائش1935) کی تصاویر میں سکوت اور خاموشی کے ماحول کے ساتھ ساتھ ایک یا کئی پتھروں کو مختلف انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کنوس پر ایک خاص جانب سے روشنی کا آنا۔ پتھروں کو مختلف انداز میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ پتھروں اور ویران عمارتوں کے سائے بری پُر اسرار کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ پتھر فضا میں معلق بھی دکھائے جاتے ہیں جس سے اور بھی استعجاب بڑھ جاتا ہے۔ ان کی تصاویر کی تنظیم بڑی سادہ مگر خالص تیز رنگوں سے بنی ہوئی ہوت ہیں لہٰذا جاذبِ نظر ہوتی ہیں۔ دراصل اس قسم کی تصاویر ستیش گجرال 5 ویں دہائی کے آکری سالوں میں پہلے ہی تخلیق کر چکے ہیں لیکن پتھر کا زائد استعمال پر مجیت کی انفرادیت کہی جا سکتی ہے۔

    راما چندرن(پیدائش 1935) نے اپنے ابتدائی دور میں دیواری طرز کی بڑی بڑی تصاویر میں بغیر سر کے انسانی جسم اور اس کے مختلف اعضاء کو ترتیب دے کر اپنے کینوس پر استعجابیت پید ا کرنے کی کوشش کی۔ زیادہ تر لال سفید، کالے اور بھورے رنگ کا استعمال کیا۔ ان کے طرز میں بھی انسانی اعضائی کو مسخ کرنے کا یقین ملتا ہے۔ ان تصاویر میں گرب و بیچنی، ملال و فکر اور نفسانفسی کی علامتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے یہاں بھی میکسیکو کے فنکار اسکرا اور اورینکو کے اثرات بدرجہ اتم ملتے ہیں۔ ان کی حالیہ تصاویر میں کوئی زیادہ تبدیلی نظر آتی لیکن رنگوں میں پابندی نہیں رہی ہے۔

    غلام محمد شیخ(پیدائش 1927) بڑودہ یونیورستی میں شعبہ تاریخ فن میں لیکچرار ہیں۔ فن میں استعجابیت کے حامی اور علمبردار کہے جاتے ہیں۔ 1974میں دہلی کے ایک گروپ شو میں ان کے کچھ کنوس ناقدین کی کشش کا باعث بنے جو بنیادی طور پر امتزاجی کیفیت کے حال تھے۔ مثلا ً لمبی غیر حاضری کے بعد واپسی" نامی ایک ان کی تصویر میں پیش نظر کی جانب ایک بوڑھی عورت کا بالائی حصہ دکھایا گیا ہے جو غالباً کسی خاتونِ خصوصی کی شبیہہ ہے۔ اس کے اوپر وسط میں خالی مکانوں کی قطار ہے جن کے درمیان کچھ آرائشی قسم کے درخت ہیں جن میں ایرانی چنار بھی دکھائے گئے ہیں۔ اوپر آسمان میں کچھ فرشتے اُڑتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ جن میں سب سے آگے بُراق پر غالباً کسی پیغمبر کو اُڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تمام اشکال تُرکی کلکشن میں محفوظ قلی نسخوں سے اخذ کی گئی ہیں۔ تصویر کا جو بھی مرکزی خیال ہو اس سے قطع نظر رنگ برے محدود اور قرینے سے استعمال کئے گئے ہیں۔ بہرحال ایرانی روائتی علامتوں کو کنوس میں استعمال کرنے کی جدت کا خیر مقدم کرنا چاہئے لیکن یہ لگوی استعمال ہے۔ گنیش پائن (پیدائش 1937) نے ٹیمپرا یعنی غیر شفاف آبی رنگوں سے بڑی جازب تصاویر بنائی ہیں جنہیں غیر ممالک میں بڑی داد تحسین ملی ہے۔ خوبی یہ ہے کہ ان کا اندازِ یان قلعی ہندوستانی ہے۔ تصاویر کی تمام علامتیں ہندوستانی سر زمین سے وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن ترتیب و تنظیم میں وہ کواب کی دنیا سے ضرور منسلک دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی تصویر میں کہیں تصنع کہیں غلو اور کہیں تجریدیت سے کام لیا ہے۔ کہیں فقط رنگ سے ہی جدت پیدا کر دی جاتی ہے۔ نیشنل گیلری کے مجموعہ میں "ماں اور بچہ" نامی تصویر اس دور کی ان کی تمام تصاویر میں سب سے اہم اور خوبصورت ہے۔ حالاں کہ اس میں بنگال کی عوامی مصوری کی جھلک تو جرور ملتی ہے لیکن اندازِ تنظیم اچھوتا ہے۔

    اس کے علاوہ استعجابی طرز پر جوادر مصور کام کر رہے ہیں ان کے اسمائے گرامی ہیں جگن چودھری، پرکاش کرمکار کو تم وھیلا، دھیراج چوھری، آر۔ ایس۔گِل اور منو پا رکھ۔

    جگن چودھری نے قلم اور روشنائی اور چند منتخب رنگوں سے قدرتی عناصر اور جمودی اشیاء کو مولف کے طور پر لے کر ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ نباتات، پھول پورے، انسانی اعضاء مچھلیاں اور روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء مثلا برتن و چائے کی پیالی وغیرہ کو ایک سطح پر ترتیب دے کر استعجابیت پیدا کر نے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بظاہر ان کی تصویر میں ان تمام مختلف اشیائی کا ایک دوسرے سے کوئی تال میل نظر نہیں آتا۔ لیکن جمودی کیفیت لئے ہوے انداز ترتیب بہت حسین ہوتا ہے۔ پرکاش کر مکار یو۔ وپی گوتھک گرجوں کے اسٹین گلاس کے طرز میں کنوس کی فضا مین اُڑتی ہوئی اشکال کی ترتیب ایک خصوصی کشش پیدا کرتی ہے۔ رنگ چمکدار اور جاذب نظر ہوتے ہیں۔

    گو تم وگھیلا دیوی اور دیوتاؤں کو روائتی انداز میں خصوصی ترتیب دے کر کمپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ پُر کشش اور پُر اسرار بنانے میں یقین کرتے ہیں وہ استعجابیت کے ساتھ ساتھ کنوس پر ہندوستانیت برقرار رکھنے کے قائل ہیں۔ لہٰذا وہ اپنے کنوس کے لئے ہندوستانی موضوعات ہی منتخت کرتے ہیں اور رنگ بھرنے کے انداز میں بھی روائتی سپاٹ طریقہ ہی استعمال میں لاتے ہیں۔ دھیراج چودھری، آر۔ایس۔گل اور منو پارکھ ابھی تجرباتی دور سے گذر رہے ہیں۔

    7وین دہائی میں جن تصاویر کو للت کلاکی سالانہ نمائشوں میں بہترین قرار دیا گیا ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

    سال               فن کار                       عنوان                                           رقم انعام

    1970           جنیت پریکھہ                  پردے کے پیچھے                        مبلغ ایک ہزار روپے

    1970           ایشورسگارا                    بھوکی روحیں                           مبلغ ایک ہزار روپے

    1970           دلیپ داس گپتا                علامات                                مبلغ ایک ہزار روپے

    1970           پر مجیت سنگھ                  دیوار پر پتھر(استعجابی تصویر)            مبلغ ایک ہزار روپے

    1970           پریم ناتھ                     بارش کا منظر                           مبلغ ایک ہزار روپے

    1971           بکا بھٹا چا رجی                  ٹوٹم(استعجابی تصویر)                             مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           بکاش بھٹا چار جی               جھولا جھولتے ہوئے آدمی(استعجابی تصویر)         مبلغ ایک ہزار روپے          

    1972           کوشک چکرورتی              وجد نمبر1                                       مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           ایرچ حکیم                    لے۔آواز اور بوندیں                             مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           انل کرنجے                   جار حانہ ضمیر کی بیداری(استعجابی تصویر)مبلغ ایک ہزار روپے          

    1972           لچھمن پے                    سہ المیہ                                          مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           ایم۔کے۔شرما                کائناتی بلور                                       مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           موہن شرما                   تصویر نمبر1                                     مبلغ ایک ہزار روپے

    1972           جی۔آر۔سنتوش              تصویر نمبر1                                     مبلغ پانچ ہزار روپے

    1972           اے۔راما چندرن             کالی پوجا                                          مبلغ پانچ ہزار روپے

    1972           جیرم پٹیل                    کالا نمبر5                                        مبلغ پانچ ہزار روپے

    (1974مین انڈیا ٹرنا لے نئی دہلی منعقد کیا گیا لہٰذا قومی سلانہ نمائش نہیں منعقد کی گئی۔ اس نمائش میں شانتی دَوے کو گولڈ میڈل دیا گیا۔ 1975میں للت کلا کے جنرل الیکشن کا اہتمام ہو رہا ہے۔ لہٰذا ابھی تک قومی نمائش نہیں منعقد کی جا سکی۔

    فن مصوری میں بین الاقوامی انعامات حاصل کرنے والے ہندوستانی مصوروں کی فہرست۔

    اسمائے فن کار                          انعام کی تفصیل                                                      سال

    ایس۔جی۔ ٹھاکر سنگھ                   پونڈ کا نقد انعام بنام تصویر"غسل کے بعد" سیکنڈ پرائز                  1924

                                          برٹش امپائر اگزیبیشن ، پیرس بنام تصویر

    امرتا شیر گل                           پہلا انعام گرانڈ سیلون اگزیبیشن، پیرس، بنام تصویر                   1933

                                          "تبادلہ خیالات"

    سمائے فن کار                           "کانس کا میڈل"انٹرنیشنل اگزیبیشن لندن                          1947

    شانتی دوے                            1۔ ساؤتھ ایسٹ ایشین آرٹ اگزیبیشن منیلا "خصوصی انعام"        1957

                                          2۔ انڈیا ٹرنالے، نئی دہلی                                             1974

    ودیا بھوشن                             انعام انٹرنیشنل اکگزیبیشن ۔ ماسکو                                    1957

    ایف۔این۔ سوزا                       گگتھائم انٹرنیشنل ایوارڈ۔ پنٹنگ ایوارڈ                                 1958          

    ایم۔ایف۔حسین                      انٹرنیشنل بنیا لے ایوارڈ، ٹوکیو                                         1959

    بال۔ چھابڈا                            ٹوکیو گورنرس ایوارڈ۔ ٹوکیو بنیا لے                                    1961

    رام کمار                                "آنر نیشن" ساؤ پالو بنیا لے                                           1961

    کے۔جی۔ سُبرا مَنین                    "آنرنیشن" ساؤ پالو بینا لے                                           1961

    جینت پاریکھ                           "کانس کا میڈل" انٹرنیشنل اگزیبیشن سیگون                          1962

    پربھاکر۔ باروے                       "یو میورل ایوارڈ" فورتھ انٹرنیشنل ینگ آرٹسٹس اگزیبیشن ٹوکیو      1969

    ایشو رسگارا                             "گولڈ میڈل" سکنڈ ٹرنالے، نئی دھلی                                1971

    اس فہرست میں وہ نام شامل نہیں ہیں جنہیں گرافکس ہیں انعامات مل چکے ہیں۔)

    (مندرجہ بالا فہرست کے علاوہ کئی نام ایسے ہیں جنہیں بین الاقوامی انعامات مل چکے ہیں لیکن تفاصیل دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔)

    مثلاً ایچ۔ ایس۔ رضا، اوناش چندر ۔ لیکن ان انعامات سے ہم کسی مثبت نعیجہ پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہمارے جدید فنکاروں کو ابھی وہ مقام نہیں ملا ہے جن کی ان سے توقع کی جاتی ہے ان کی بہت سی وجوہات ہیں جنہیں آگے ملاحظہ کیجئے۔

    وجوہات ہیں جنہیں آگے ملاحظہ کیجئے۔

    ہندوستانی جدید مصوری کا بین الاقوامی سطح پر جائزہ

    جدید مصوری کم و بیش سماج کے بدلتے ہوئے ڈھانچہ اور اقعار کی دین سمجھی جاتی ہے۔ کیمرے کی ایجاد، سائنس کی ترقی، فاصلہ کی کمی، رفتار کی دن بدن تیزی، سیاسی بندشوں سے بغاوت، آزاد پسندی، ذہنی انفرادیت، روائتی اقدار سے نفرت ، معاشی آسودگی وغیرہ چند ایسے اسباب ہیں جن کے گونا گوں اثرات سے مغربی ممالک میں جدید فن مصوری کو پہننے کا موقع ملا۔ دورِ حاضرہ کا مصور چوں کہ اس بدلتے ہوئے سماج کا فرد ہے اس کے دل و دماغ پر موجود تیز رفتار زندگی کے نشیب و فراز کا بھی گہرا نقش ہے لہٰذا وہ وقت کے تیز بہتے ہوئے دھارے کا معاون بن کر اپنی جمالیاتی جس کے تحت نئی فنی حدوں کی تلاش کرتا ہے۔

    جدید تاریخی شہادتوں کی بنا پر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فنی قدریں زندگی کی عام قدروں کے ساتھ وہاں بدلتی ہیں جہاں معاشی خوشحالی ہوتی ہے۔ معاشی آسودگی سے   انسان کے سوچنے سمجھنے کے طریقے بھی بدل جاتے۔ مثال کے طور پر امریکی جدید فنی قدروں پر نگاہ ڈالتے، حالاں کہ تاریخی اعتبار سے امریکہ کی کوئی بذاتِ خود فنی روایت ہیں جو کچھ بھی وہاں پچھلے سو سال سے ہوا وہ فقط یوروپ کے مرہونِ منت ہے کیوں کہ امریکہ یوروپی قوموں کی نو آبادی کی صورت میں وجود میں آیا تھا۔ لیکن بیسویں صدی ہیں جب امریکہ کو یوروپ کی بہ نسبت معاشی فوقیت حاصل ہو گئی تو وہاں کے معاشرے نے اپنے معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کے لئے نئے نئے تجربات کرنا شروع کئے۔ اپنی عظمت کی نشاندہی کے لئے آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں بننا شروع ہوئیں۔ مصوروں نے بھی اپنے فنی میدان مین "وسعت" کے فلسفہ کو اپنایا۔ ہر چیز کو بڑے پیمانے پر اختراع کرنے کی کوشش ہونے لگی زیادہ سے زیادہ آزاد روش اور انتہا پسندی کو لبیک کہا گیا۔ معاشرے سے بھی خاطرخواہ سر پرستی حاصل ہوئی۔ آزادی اظہار خیال کے تحت، رنگ وکنوس کے علاوہ دیگر میڈیم تن، پلاسٹک، لکڑی، فنی، ریت غرض یہ کہ ہر طرح سے مصور کو آزادی دے دی گئی ۔ کسی نے انتہا پسندی کا راستہ اختیار کر کے کنوس کو چاک کر دیا اور کسی نے اُسے جلا کر اپنی جدت کا ثبوت دیا۔ حتیٰ کہ کسی مصور یا فن کار کے فقط "ارادے" اور اُس کی "منتخب شدہ شے" کو بھی فنی تخلیق تصور کیا جانے لگا۔ مثلاً نیو یارک کے"دادا" تحریک کے تحت مصور مارشل دُشاں نے 1913میں سائیکل کے ایک غیر استعمال شدہ پہیے کو اور 1917میں پیشاب کرنے کے کمود کو حسب خواہش منتخب کر کے فن کے دائرے کو تمام روائتی اخلاقی حدود سے مستثنیٰ کر دیا۔ بے شمار تصانیف و تالیف کے ذریعہ ان نظریات کی دنیا کے ہر گوشہ میں پبلستی کی گئی اور آخر کار امریکی سماج نے نئے نئے امریکی فنی معیار کو جنم دے دیا۔

    دوسری طرف سماجی اخلاقی نظریہ کے تحت روس کی مثال سامنے ہے۔ جہاں تک معیار کاتعلق ہے وہ خاطر خواہ بلند ہے اور وہاں کا معاشرہ نئی قدروں سے سرشار ہے مگر وہاں کے کچھ بنیادی سماجی عقیدے یا اخلاقی اصول ہیں جو فن میں نے لگام تجربات کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ قومی سطح پر فنِ مصوری قدروں کی تعمیر اشتراکیت کے اصول پر کی گئی ہے۔ لہٰذا مصور کو صرف معاشرے کی یہودی کے لئے اپنی قوت متخیلہ کو استعمال کرنے کی اجازت ہے کوینکہ سماج کے ایک فرد ہونے کی وجہ سے مصور پر کچھ سماجی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اُن ذمہ داریوں کو پورا کرنا اس کا فرض ہے۔ لیکن خودی آزاد پسندی اور آزاد خیالی حضرت انسان کا بنیادی حق ہے لہٰذا آزاد ملش مصوروں اور اشتراکی اصولوں میں اکثر تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ انہیں بنیادی اختلافات کی بنا پر مصوروں کو ملک بدر بھی ہونا پڑا اور طرح طرح کی اذیتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

    مگر ہندوستان میں حصول آزادی کے بعد سرکاری وظائف کے وسیلے جو ہندوستانی طلباء، اتلی، فرانس، جرمنی انگلینڈ اور امریکہ فنِ مصوری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ان میں زیادہ تر تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن میں تکنیکی صلاحیت تو قدر سے تھی لیکن علمی قابلیت کی خاطر خواہ کمی تھی۔ وہ تاریخ مصوری اور تنقید سے بلاشبہ نابلد تھے کیوں کہ ہندوستانی آرٹ اسکولوں میں یا آرٹ سوسائیٹیوں میں تیکنیکی تعلیم تو دی جاتی تھی لیکن تاریخ و فلسفہ تنقید فن پر کوئی درس نہیں دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے طلباء اُن عمیق فنی مسئلوں اور گہرائیوں سے روشناس نہیں ہو سکے جن کے لئے انہیں باہر بھیجا گیا تھا۔ فقط انہوں نے غالبا یہی محسوس کیا کہ ہندوستانی جس طرح صنعتی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اسی طرح فنِ مصوری کی دوڑ میں تقریباً 50 سال پیچھے ہیں۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم عصر یوروپی اور امریکی مصوری کی تقلید کر کے اس فنی دوڑ میں کسی نہ کسی طرح کوئی مقام حاصل کیا جائے۔ اس طرح کسی نے اظہاریت کسی نے تجریدیت اور کسی نے استعجابیت پر ہندوستان میں یونیورسٹی سطح پر تاریخ مصوری و تنقید کی اعلیٰ تعلیم اس وقت شروع کی گئی جبکہ ملک کے مصوروں کی ایک نسل ایک سطحی معیار قائم کر چکی تھی اور مرکزی قومی ادارہ للت کلا اکادی کے ذریعہ ان کی فنی استعداد کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لہٰذا فنِ مصوری بڑی مستعدی سے مغربی تقلید کی طرح کسی بھی ذہنی کشمکش کا شکار نہیں ہونا پڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ہندوستانی فنِ مصوری بڑی مستعدی سے مغربی تقلید کی راہ ر گامزن ہو گئی۔ لیکن جب ان مصوروں کی چرچا کی جانے لگی ان کے نام نہاد شاہکار اخباروں اور رسائل کی زینت بننے لگے تو کم از کم پڑھے لکھے اور حساس طبقہ کو یہ احساس ہونے لگا کہ جدید ہندوستانی مصوری مغرب کی بغیر سوچے سمجھے تقلید کر رہی ہے۔ لہٰذا مصوروں کو مقالوں اور مضمونوں کے ذریعہ وقتاً فوقتاً یہ مشورہ دیا جانے لگا کہ وہ مغرب کو رانہ تقلید چھوڑ کر ایسے اقدام کریں کہ ان کے فن میں مشرقی عنصر مزاج اور سماجی بدلتی اقدار کی کشمکش کا کچھ نہ کچھ عکس ہو جس سے کم از کم قومی فنی انفرادیت کا تصور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں السٹرٹیڈ ویکلی آف انڈیا بمبئی نے بڑا زبردست رول ادا کیا۔ اس احتجاج کا تھوڑا بہت اثر ضرور ہوا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

    جدید ہندوستانی مصوری دو قسم کے رہنماؤں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ جو قدرے عمر رسیدہ ہیں اور جوان طبقے کی بہ نسبت زیادہ جرات مندر اور تکنیکی مہارت رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ یہ تعلیم یافتہ مزدور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ ان میں جرات ہے اور نہ ہی تخیل کو کسی انفرادی روپ میں پیش کرنے کا سلیقہ یا صلاحیت، نظر ہمیشہ تقلید پر رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سخت محنت سے گریز کرتے ہیں اور ریڈی میڈ فارمولا کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

    بہرحال اول الذکر مصوروں میں بلاشبہ حسین نے ایک فنی معیار قائم کیا ہے حالاں کہ نوجوان طبقہ اُنہیں پسند نہیں کرتا کیوں کہ وہ قدرے خاموش طبع انسان ہیں۔ وہ ایک اوسط درجے کے خاندان میں شولا پور میں 17ستمبر1915 کو پیدا ہوئے۔ بدقسمتی سے یہ صرف تین مہینے کے تھے کہ ان کی والدہ محترم انہیں عالم و حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے۔ لہٰذا ان کو مدرسہ حستامیہ،بڑودہ بھیج دیایہاں دیگر مذہبی تعلیم کے ساتھ فقہ کا بھی درس لیا۔ اس دوران بڑودہ کے اُردو شاعر ضیا صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان کی شاگردی میں حیا تخلص رکھ کر شعر کہنا شروع کیا۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ایک مجموعے میں سو شعر ہجو کے سُنا ئے۔ برودہ میں R 1/2 کے قیام کے بعد واپس اندور چلے گئے۔ کچھ عرسہ تک ایک ٹیلرنگ شاپ پر کام کیا لیکن وہاں بھی دل نہ لگا تو انہیں سنیو گتا گنج ہائی اسکول اندور میں داخلہ دلا دیا گیا۔ یہاں ادب اور فنِ مصوری سے کافی لگاؤ پیدا ہو گیا مگر رجحان مصوری پر ہی۔ ریاضی کا مضمون کوفت کا باعث بنا ہوا تھا۔ لہٰذا تعلیم درجہ نہم سے زیادہ آگے نہ بڑھ سکی اور پڑھائی چھوڑ دی۔ تھوڑے عرصہ کے لئے ا ندور کے ایک آرٹ اسکول میں بھی داخلہ لیا لیکن وہاں بھی کوئی خاص بات سیکھنے کی نظر نہ آئی لہٰذا اسے بھی چھوڑ دیا۔ اس دوران وہ رامبرانٹ کی شخصی تصاویر کو نقل کرتے رہے جس سے فنی تکنیکی طریقے خود بخود سمجھ میں آتے چلے گئے۔1933میں جب یہ 16برس کے تھے، مہاراجہ یشونت راؤ ہُلکر کی ایماء پر اندور میں فنِ مصوری کا ایک مقابلہ ہوا۔ اس نمائش میں انہیں مہاراجہ ہُلکر کا پہلا انعام ملا۔ اس طرح ان کے ارادے کو کافی تقویت ملی اور ان کا مصور بننے کا عزم پختہ ہو گیا۔

    1905ء میں تلاش روزگار مین بمبئی پہنچنے اور شباب نامی سینما پنیر کے یہاں کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں جناب بھیرے صاحب سے ملاقات ہوئی اور وہاں سینما کے ہورڈنگ بناتے رہے۔ ان کے انتقال کے بعد بڑی کوششوں سے نیو تھیٹر کمپنی کے قلم کے ہوردنگ بنانے کے کنٹریکٹ ملے۔ یہ کام1940تک چلتا رہا۔ مارچ1941میں مسلم خاتون فضیلہ سے شادی کی اور اسی سال جناب فخرالدین صاحب نے حسین کو اپنی فرم "فینٹسی" بمبئی میں ڈیزائنر کی حیثیت سے سو روپیہ ماہ وار ر ملازم رکھ لیا۔ 1941میں جب شیر گل نے بمبئی میں اپنی تصاویر کی نمائش کی تو حُسین اس سے بہت متاثر ہوئے۔ اسی دوران جارج کیٹ نے بھی نمائش بمبئی میں کی۔ ان دونوں نمائشوں نے حپسین کے اندر چُھپے ہوئے فنکار کو ھر سے بیدار کر دا۔ اور تبھی سے اپنا زیادہ تر وقت یہ مصوری پر صرف کرنے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بمبئی میں کے۔کے ہیبر، شیاد کس چاوڈا، اے۔ا۔۔۔مجید اور پی۔ٹی۔ریڈی اپنے فنی عروج پر پہنچے ہوئے تھے بہرحال دھیرے دھیرے حسین کی فنی دھاک جمنے لگی۔ آزوی لیڈن اور ای شلنجران کے مداحوں میں سے ہو گئے۔1947میں بمبئی آرٹ سوسائٹی کی سلانہ نمائش میں جب انعام حُسین کو ملا تو انہیں اور بھی تقویت ملی اور اس کے بعد سے ان کا فنی کیریئر بڑھتا ہی گیا۔1953میں س سے بڑا موڑ ان کی زندگی می بدری و شال پرتی کی ملاقات سے ہوا یہ حیدر آباد کے ایک مارڈاڑی ہیں جو اسلامی تہذیب کے انتہائی دلدادہ اور خیر خواہ ہیں۔ انہوں نے حُسین کی تمام تصویریں اپنے کلکشن کے لئے خریدنا شروع کیا اور اسی سال اپنے خرچ پر حسین کو یوروپ کے دور پر بھیجا۔ وہ یوروپ میں پال کلی کے فن سے متاثر ہوئے۔ یوروپ میں قیام کے دوران تصویریں بنائیں اور روم، زیورخ میں نمائشیں کیں اس کے بعد نمائشوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ خصوصاً مشرقی یوروپی ممالک میں حُسین کا نام بڑی قدر سے لیا جاتا ہے۔ دہلی، کلکتہ اور بمبئی کے علاوہ ٹوکیو، پراگ، برازیل، فرینک فرٹ، نیو یارک، لندن، بغداد کا بل جینیوا وغیرہ میں اپنی تصاویر کی نمائشیں منعقد کر چکے ہیں۔1966میں ان کی فنی خدمات کی بنا پر "پدم شری" کا خطاب دیا گیا۔

    حُسین نے اپنی ابتدائی تصاویر میں بمبئی جیسے صنعتی شہر میں رہتے وہئے دیہی زندگی، عوامی فن اور صنعت کاری کو اپنا لائحہ عمل اور موضوع بنایا۔ بعد ازاں فلسفہ، رمزاور حقیقت کو امتزاجی شکل دے کر ایک انفرادی طرز کو جنم دیا۔ جہاں برجستگی اور اُستادانہ چابک دستی کے علاوہ نفس مضمون بھی ہے اور جدید جمالیاتی قدروں کی تشکیل بھی اکثر نوجوان طبقہ حُسین کے فن ہیں تکئہ قلم کا الزام دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تکیہ قلم فرانس کے ہر مصور کے یہاں بدرجہ اتم دکھائی دیتا ہے۔ را یقین ہے کہ جب بھی ہندوستانی جدید مصوری کا بین الاقوامی سطح پر موازنہ کیا جائے گا حُسین کا نام صفحہ فہرست میں اول رکھا جائے گا کیوں کہ غالباً دو ہزار جدید مصوروں کی لمبی فہرست میں آزادی ہند کے بعد جس مستعدی سے حُسین نے اس فنِ مصوری کی خدمات کی ہیں وہ اپنی مثلا آپ ہے۔

    دوسرے قابلِ ذکر مصور کے۔سی۔ایس پانیکر ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصے تک مدارس اسکول آف آرٹ میں پرنسپل کی حیثیت سے قیادت کی ہے۔ انہوں نے جدید تقاضوں کے ساتھ پرانی ہندوستانی قدروں، خاص طور سے جنوبی ہند کے عوامی اور روایتی علامتوں کو بنیاد بنا کر قابلِ قدر تجربے کئے ہیں اور وہ بلاشبہ جدید ہندوستانی مصوری میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا مکتبِ فن صداقت اور مقصدیت پر یقین رکھتا ہے۔ انفرادی حیثیت سے سلطان علی نے اظہار پرستی میں استعجابی کیفیت پیدا کر کے ہندوستانی قبائلی مصوری کی روایات سے دنیا کو روشناس کرایا ہے۔ رام کمار، کے۔ایس۔ کلکرنی بڑے استقلال سے تجریدی طرز پر تجربے کر رہے ہیں اور یہی کیفیت ستیش گجرال کی ہے۔ لیکن اب ستیش گجرال کا زیادہ تر وقت بڑے بڑے میورل بنانے اور بت سازی میں صَرف ہوتا ہے۔

    اگر حقیقت نظر انداز نہ کی جائے تو یہ بات شاہد ہے کہ ہمارے نوجوان مصور کسی نہ کسی مغربی اسلوب یا مغربی مصور کے تجربات سے براہ راست فیض حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے فنی تجربات کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی ٹھوس بنیاد پر قائم نہیں ہیں۔ غالباً یہ مصور اپنے گرزِ عمل کے تحفظ میں اس مقولے پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلوبِ فن یا طریقِ اظہار کسی فرد، حلقہ یا جغافیائی حدود کی میراث نہیں ہے۔ انہیں ہر طرح سے مستفید ہونے کا بنیادی حق ہے۔ دراصل یہ کیفیت ان کے ذہنی کشمکش اور انتشار کی آئینہ دار ہے۔ اس کشمکش کا اظہار خاص طور سے ان مصوروں کے کم و بیش ہر سال بدلتے ہوئے تقلیدی فنی کردار میں ملتا ہے جس میں غصہ جھنجھلاہٹ اور بے یقینی دکھائی نہ دیتی ہے اسی وجہ سے جدید ترقی پسند مصوری کا مستقبل ہندوستان میں زیادہ پُر امید نہیں کیا جا سکتا۔