انیس فاروقی

انیس فاروقی

قرون وسطی

    قرون وسطیٰ کی مصوری

    سلطنت کے دور کی مصوری

    پندرھویں صدی کے شروع ہوتے ہوتے عمومی طرزِ بیرون چشمی میں کافی تبدیلی نظر آنے لگی۔ سب سے بڑا فرق یہ آیا کہ تصاویر میں انسانی چہروں میں آنکھ کا باہر کی طرف نکلا ہوا دکھایا جانا قطعی ختم ہو گیا۔ اس سلسلے میں جو سب پہلی عینی شہادت ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے اس کا سہرا ڈاکٹر اٹنگھوسن کے سر ہے۔ انہوں نے فریر گیلری آف ارٹ۔ واشننگٹن کے مجموعہ میں محفوظ "دیوان امیر خسرو" کے نسخے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اندازہ لگایا ہے کہ یہ نسخہ پندرھویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں گجرات کے کسی مسلم حکمران کے دربار میں تیار کیا گیا۔ اس نسخہ میں مروجہ عوامی طرز بیرون چشمی سے ہٹ کر ایرانی اثرات کے تحت تنظیم کی گئی ہے۔ لیکن ان تصاویر کو کسی ایرانی اناڑی مصور نے بنایا ہے یا پھر کسی مقامی مسلم خطاط نے کسی ایرانی نسخے کو سامنے رکھ کر مرقع کیا ہے کیوں کہ یہ کسی ماہر مصور کا ہاتھ نہیں معلوم ہوا۔ چوں کہ یہ نسخہ دستخط اور تاریخ شدہ نہیں ہے لہٰذا یہ اندازہ لگانا کہ یہی نسخہ سلطنت دور کی مصوری کا اول ترین نسخہ ہے غالباً صحیح نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر اٹنگھوسن نے ایک دوسرا نسخہ "حمزہ نامہ" کی تلاش کی ہے جو سِٹنرگ پروسی چرکٹور بسٹنز تو بنجن (مغربی جرمنی) کے مجموعہ میں ہے۔ یہ نسخہ غالباً شمالی ہندوستان میں پندرھویں صدی کے آخری دور میں تیار کیا گیا۔ جہاں تک اس نسخہ کے طرز مصوری کا سوال ہے یہ "سکندر نامہ" کے طرز سے کافی ملتا جلتا ہے۔ لیکن یہاں بیرون چشمی صفت کا فقدان ہے۔ حالاں کہ اس میں ایک تصویر ایسی ہے جس میں حمزہ کو دجال کی آنکھ میں تیر مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور دجال کے چہرے پر ایک آنکھ باہر کو نکلی ہوئی دکھائی دیتی ہے اس طرح عوامی روایت بھی یہاں دیکھنے کو ملتی ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ چوں کہ دجال کی شخصیت کے متعلق پیشین گوئی یہ ہے کہ اُسے ایک آنکھ کا ہونا چاہیے۔ لہٰذا یہ   ہو سکتا ہے کہ مصور نے دجال کی آنکھ میں یہ نقص دکھانے کے لیے پُرانی روایت کا سہارا لیا ہو اور ایک آنکھ چہرے سے باہر نکلی ہوئی بنا دی ہو۔

    تیسرا اہم نسخہ جو تاریخ سلطنت مصوری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے "نعمت نامہ" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نسخہ انڈیا آفس لائبریری ، لندن میں محفوط ہے۔ یہ خط نسخ میں لکھا ہوا ہے اور اس میں50تصاویر ہیں۔ اس نسخہ میں سلطان غیاث الدین(1500۔1469) کے دسترخوان اور لذیز کھانوں کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے۔رابرٹ اسکلٹن نے اس نسخہ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ نسخہ کس نے تحریر کیا اور کن حالات میں تیار کیا گیا اس کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ملتا۔ لیکن ان کے مطالعہ کے مطابق یہ نسخہ غالباً16ویں صدی کی پہلی دہائی میں بنایا گیا اور جن مصوروں نے اسے مرقع کیا وہ بلا شبہ ہندوستانی تھے لیکن شیرازی طرزِ مصوری سے اچھی طرح واقفیت رکھتے تھے۔ ان تصاویر کے مطالعہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سلطان غیاث الدین کے درباری مصوروں نے ایرانی مصوری کی روایات کو ہندوستانی رنگ و مزاج میں ڈھالنے کی کوشش شروع کی۔ حالاں کہ یہاں ایرانی طرز جیسی نفاست تو نہیں ہے لیکن سادگی پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ نباتات کی زیادتی۔ دائرہ نما پہاڑیاں جن پر چھوٹے چھوٹے گُل دار پودے۔ پس منظر میں چینی طرز کے اُڑتے ہوئےبادل سبھی شیرازی طرز سے اخذ کیے گئے ہیں۔ جہاں تک ہندوستانی روایت کا سوال ہے وہ ہندوستانی عورتوں کی بناوٹ سے صاف نمایاں ہے۔ ان کی نوکیلی ناک، پتلے ہونٹ، چپٹی ٹھڈی اور مچھلی جیسی آنکھیں قابل ذکر ہیں۔ طرز پیراہن میں گھانگھرہ،شفاف اوڑھنی اور چولیاں عام طور سے دکھائی دیتی ہیں۔ بعض اوقات انہیں سانولے رنگ کا بھی دکھایا گیا ہے۔ لیکن یہ جذبات سے بالکل عاری ہیں۔

    "مفتاح الفضلاء" ایک فارسی فرہنگ ہے جسے شادی آبادی نے تحریر کیا تھا لیکن اسے مانڈو میں مرقع کیا گیا اور آج کل برٹش میوزیم لندن کے مجموعہ میں محفوط ہے۔ اس نسخہ میں بھی نعمت نامہ کی طرح شیرازی طرز مصوری کی تمام خصوصیات نظر آتی ہیں لہٰذا طرز اور بناوٹ کی بنا پر مورخوں نے اس نسخہ کو بھی1500۔1510کے درمیان مرقع کیا ہوا بتایا ہے۔

    مندرجہ بالا قلمی نسخوں کے علاوہ نیشنل میوزیم نئی دہلی میں محفوط "بوستان سعدی" کا ایک مرقع ہے جو خط نستعلیق میں خطاط شہسوار کا تحریر کیا ہوا ہے اور اسے حاجی محمود نے سلطان ناصر شاہ(1510۔1500)کے لیے مرقع کیا، اس میں43تصاویر ہیں جو کم و بیش ایک ہی طرز میں بنائی گئی ہیں اور ہراتی طرز سے مشابہ ہیں۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ حاجی محمود غالباً ایک ہرانی مصور تھا جو1507میں ہرات پرشیبانی خاں ازبک کے ہولناک حملہ کا شکار ہو کر ہندوستان چلا آیا اور مانڈو کے دربار میں پناہ لی۔ اس نسخہ کی تمام تصاویر میں چاہے وہ اندرون خانہ کا منظر ہو یا باہری قدرتی فضا کا ہر جگہ ایرانی اسلوب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ حالاں کہ انسانی شکلوں اور کپڑوں کی بناوٹ میں کسی حدتک مصور نے قدرتی پن لانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بے حس و حرکت ہیں اور ساکن نظر آتی ہیں۔ عام طور سے سرد اثرات والے رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے آسمان کو یا تو نیلا یا سونے کے رنگ کا دکھایا گیا ہے۔ بادلوں کو چینی طرز کا بنایا گیا ہے۔ پہاڑیاں بھینی   ہری اور نیلی رنگ میں روایتی ایرانی انداز میں بنائی گئی ہیں۔ اندرون خانہ کے مناظر میں سجاوٹ کے لیے مختلف ڈیزائن کا استعمال کیا گیا ہے لیکن ان میں اقلید یسی طرز تنظیم کچھ زیادہ ہی ہے۔ بہرحال اس نسخہ میں شاید ہی کوئی ایسی تصویر ہو جو ہندوستانی عوامی یا روایتی قدیم مصوری سے مشابہ کی جا سکتی ہو۔ ڈاکٹر اٹنگھوسن نے بجا طور پر مصور کی کمزوریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ "ایک تصویر میں سومناتھ کے مندر اور اُس کی مورتی کی بے ڈھنگی بناوٹ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مصور کو ہندو فن تعمیر اور مورتیوں کے طرز کا قطعی اندازہ نہیں تھا۔" لہٰذا اُن کے خیال میں یہ مصور قطعاً ہندوستانی نہیں تھا۔

    بہرحال ان مرقع نسخوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سُلطنت حکمرانوں نے فن مصوری کی سر پرستی جاری رکھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ ابھی تک اس دور کے نسخے زیادہ تعداد میں ہمیں حاصل نہیں ہو سکے۔ چند حوالے اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتہ لکھتا ہے کہ "سلطان بلبن ادب کا بڑا دلدادہ تھا۔ اُس کا دربار علماء سے بھرا تھا۔ اس کی خصوصی وجہ غالباً ہندوستان اور ملحقہ ملکوں کی سیاسی حالت تھی کیوں کہ اسی دوران چنگیز خاں نے خراسان اور دوسری ایرانی ریاستوں پر یلغار کر رکھی تھی لہٰذا تقریباً15مختلف ریاستوں کے ایرانی شہزادے بھاگ کر ہندوستان پہنچے اور دہلی دربار میں پناہ گزیں ہوئے۔ ان کے لیے حسب ضرورت اور معیار وظائف مقرر کیے گئے تھے۔ اس واقعہ کو بلبن فخریہ طور پر وقتاً فوقتاً دُہرایا کرتا تھا" لہٰذا قرین قیاس یہ ہے کہ چوں کہ ایرانی شہزادے ابتدا سے ہی فن مصوری کے دلدادہ تھے وہ اپنے ساتھ کچھ ایرانی مصور اور ایرانی قلمی مرقعے نسخے ضرور ہندوستان لائے ہوں گے۔

    فرشتہ نے آگے لکھا ہے کہ سلطان بلبن کے دوسرے لڑکے کرا خاں بغرانے ایک سوسائٹی بنائی تھی جس میں عامل ، موسیقار، رقاص اور قصہ گو ممبر تھے اور یہ فن کار بار ہا اس شہزادے کے دربار میں مجلس کیا کرتے تھے اور کچھ ہی دنوں میں نئی نئی مختلف سوسائٹیاں دہلی کے ہر نواح میں قائم کی گئیں۔" حالاں کہ مصوروں کا تزکرہ یہاں نہیں ملتا لیکن تاریخ فیروز شاہی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ بلبن کا بڑا لڑکا شہزادہ محمد اپنے خادموں سے "شاہ نامہ" "دیوان ثنائی" "دیوانِ خاقانی" اور "خمسہ نظامی" سُنا کرتا تھا۔ یہ نسخے خصوصاً ایران میں لکھے اور مرقع کیے گئے تھے لہٰذا قیاس یہ ہے کہ ان نسخوں کی کاپیاں بلبن کے دربار میں ضرور موجود ہوں گی ۔سراج شمسی میں عفیف لکھتا ہے کہ "سلطان فیروز تغلق سے پہلے مسلم حکمرانوں نے اپنی رہائش گاہوں کو تصاویر سے مرقع کر رکھا تھا لیکن فیروز شاہ نے مذہبی عقائد کی بنا پر یہ حکم دیا کہ اُس کے محل میں کہیں بھی انسانی شکل کی تصویر نہیں ہونی چاہیے لیکن باغات کے کے مناظر مصور کرنے میں کوئی پابندی نہیں عائد کی۔" لہٰذ اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کے دربار اور محلات میں فن مصوری مروج تھا۔ تاریخ فرشہ میں درج ہے کہ اسی سلطان کے دور عہد میں جو ہندو فارسی اور عربی میں مہارت حاصل کر لیتے تھے انہیں بڑے اہم عہد ے سے سرفراز کیا جاتا تھا۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی ہندوستانی زبانوں پر عبور حاصل کرنا شروع کیا۔ فرشتہ نے ایک واقعہ درج کیا ہے کہ ایک لڑائی میں فیروز شاہ نے ناگر کوٹ کے راجا کو شکست دے دی لیکن بعد میں اسے اس کی سلطنت واپس کردی۔ وہاں کے عوام نے فیروز شاہ کو بتایا کہ ناگر کوٹ کے مندر میں جو مورتی "جو ا لا مکھی" کے نام سے پوجی جاتی ہے، حقیقتاً سکندر اعظم کی بیوی نوشابہ کی تمثیل ہے جسے وہ یونان واپس جاتے ہوئے چھوڑ گیا تھا۔ اس مندر کے کتب خانے میں1300قلمی ہندو نسخے موجود تھے۔ فیروز شاہ نے کچھ ہندو اور مسلم علماء کو حکم دیا کہ ان کا فارسی میں ترجمہ کیا جائے۔ ان میں سے ایک کتاب کو خالد خانی نے فارسی میں ترجمہ کیا جس کا سلطان نے "دلائل فیروز شاہی" نام تجویز کیا۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قلمی نسخوں کے بنانے کا رواج سلطنت حکمرانوں کے دربار میں کافی پہلے سے ہی تھا۔

     

    چوراپنچکا گروپ

    لیکن فارسی نسخوں کے ساتھ ساتھ سنسکرت اور اودھی زبان میں بھی قلمی نسخے لکھے اور مرقع کیے گئے۔ یہ نسخے جینی نسخوں سے قدرے مختلف ہیں اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کی تصاویر میں بیرون چشمی صنعت کا فقدان ہے۔ ان نسخوں کے سلسلہ تاریخ کے بارے میں جدید مؤرخیں کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ایک نظریہ فکر یہ کہتا ہے کہ یہ تمام تصاویر راجستھانی قدیم طرز سے تعلق رکھتی ہیں جو مغل طرز سے پہلے مروج تھا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ تصاویر مغل مصوری کے شروع ہونے کے بعد راجستھانی علاقہ میں بنائی گئیں جو جینی طرز یا بیرون چشمی طرز سے قدرے بہتر طرز کی ہیں ان قلمی نسخوں میں مندرجہ ذیل خصوصا قابلِ زکر ہیں۔

    1۔       "چورا پنچکا" (بقول آرچر کے اس کے معنی ہیں ۵۴اشعار لیکن گرے کے بقول ایک چور کے پچاس اشعار ہیں) بہر حال یہ سنسکرت زبان کی ایک رومانی نظم ہے جو بارھویں صدی میں کشمیری شاعر بلہانا یا بلہن نے لکھی تھی۔ یہ این۔سی مہتا کلکشن بمبئی میں محفوظ ہے۔

    2۔       "گیت گوند" ایک سنسکرت نظم ہے جس میں رادھا اور کرشن بھگوان کے رومانی واقعات کا تذکرہ ہے۔ یہ بارھویں صدی میں بنگالی شعر جے دیو نے لکھی تھی۔ یہ نسخہ پرنس آف ویلز میوزیم بمبئی میں محفوظ ہے۔

    3۔       "بھگوت پُران۔" ایک سنسکرت نثر ہے جس میں کرشن بھگوان کی زندگی کے واقعات تحریر کیے گئے ہیں۔ اس نسخہ کے مختلف صفحات مختلف میوزیم کے کلکشن میں ہیں۔

    4۔       "لور چندا۔" یہ ایک اودھی رومانی جوڑی کی داستان ہے جو مولانا داؤد نے فیروز شاہ تغلق کے دربار میں لکھی تھی۔ فارسی زبان میں لکھی ہوئی ایک کاپی جان رولینڈ لائبریری مانچڑ اور دوسری پرنس آف ویلز میوزیم بمبئی میں محفوظ ہے۔

    5۔       "مرگادت" یہ بھی ایک اودھی عشقیہ داستان ہے جسے شاعر کتین نے 1501میں تصنیف کیا۔ یہ نسخہ جونپور میں مرقع کیا گیا اور اب بھارت کلا بھون،بنارس میں محفوظ ہے۔

    ان پانچوں مرقع نسخوں کو عام طور سے ہندوستانی مؤرخیں نے "کلاہ دار گروپ" کے نام سے موسوم کیا ہے۔ "کلاہ دار" نام رکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان نسخوں کی تصاویر میں عام طور سے مردوں کے سروں پر کلاہ دار پگڑی پہنے رکھایا گیا ہے۔ حالاں کہ کُلاہ دار پگڑی نعمت نامہ اور دیگر نسخوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

    6۔       "آدمی پُران" مورخہ1540بمقام پالم دہلی میں شیر شاہ کے دورِ حکومت میں کائستھ مصوروں کے ایک خاندان میں تحریر اور مرقع کیا گیا۔ یہ کلا بھون کے مرگاوت طرز سے کافی مشابہ ہے لہٰذا قیاس یہ ہے کہ گیر بیرون چشمی طرز کی ایک لہر شمالی ہندوستان میں جونپور سے دہلی تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسی بنا پر آئندہ کرشن نے مرگاوت کی تاریخ مرقع 1540تجویز کی ہے۔ ان قلمی نسخوں کی تاریخ متعین کرنے میں مورخوں نے کپڑوں میں خصوصاً چاک دار جامہ (جس میں چار سے چھ چاکدار کوے شامل ہیں اور جسے غالباً اکبر کے دور میں ٹکوچیہ کہتے تھے) اور کلاہ دار پگڑی کا سہارا لیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پوشاکیں مغل دور سے پہلے ہی ہندوستان میں مروج تھیں لہٰذا ان تصاویر میں ہم عصر کپڑوں کے فیشن کا نمایاں طور پر استعمال کیا جانا قدرتی بات تھی۔ گِرے کا نظریہ یہ ہے کہ "کلاہ دار گروپ" نسخے ہندو درباروں میں مرقع کیے گئے اور شمالی ہندوستان میں میواڑہی ایسی ریاست تھی جو فن مصوری کی سب سے بڑی سر پرست تھی لیکن 1568میں اکبر اعظم نے اس ریاست کو ختم کر کے وہاں کے مصوروں کو مغل دربار میں پناہ دے دی اور انہیں "داستان امیر حمزہ"کی ایک تصویر بنام "سوتا ہوا زمرد" کے اوپری دائیں کونے میں بنے ہوئے ایک دیہاتی منظر کا حوالہ دیا ہے جس میں دو عورتوں کو رجستھانی پوشاک میں ملبوس ایک کنویں سے پانی بھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اُن کا تما م تر حلیہ اور دیگر تفصیلات "چورا پنچکا" اور "لورچندا" کے مرقعوں سے مشابہ ہیں۔

    دوسرا نظریہ فکر یہ ہے کہ راجستھانی مصوری نہ تو مغل مصوری سے پہلے وجود میں تھی اور نہ ہی یہ مغل مصوری کے اولین دور کی ہم عصر تھی اگر کوئی طرز مصوری اس وقت ہندوستان میں مروج تھا تو وہ صرف قدیم بیرون چشمی طرز تھا جو بعد میں مغل مصوری سے متاثر ہو کر راجستھانی درباروں میں پروان چڑھا جسے راجستھانی یا راجپوت طرز سے موسوم کیا گیا۔ کارل کھنڈال دالا نے خصوصاً اسی نظریہ فکر کی وکالت کرتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ کسی بھی غیر مغل تصویر میں چاک دار جامہ کا وجود اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ وہ مغل طرز کے بعد کی تصویر ہے اور سولھویں صدی کے آخری دور سے پہلے کی نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلے میں انہوں نے نسخہ اُترادھیانا سُوتر (بتاریخ1596) کا حوالہ دیا ہے جس کی تصاویر میں چاک دار جامہ کا وجود نہیں ہے اور نہ ہی اس قسم کے جامہ کا طرز گجراتی کاٹھ کی مورتیوں میں 1600سے پہلے ملتا تھا۔ لہٰذا "کلاہ دار گروپ" جس میں چاک دار جامہ زیادتی کے ساتھ ہمیں دکھائی دیتا ہے 1600سے پہلے کا نہیں ہو سکتا۔ اُن کے خیال میں اس نظریہ میں کوئی وزن نہیں معلوم ہوتا کہ چاک دار جامہ راجپوت شہزادوں میں پہلے ہی سے مروج تھا اور مغلوں نے راجپوتوں سے اس پوشاک کو استعمال کرنا سیکھا۔ حالاں کہ دوسری صدی عیسوی کے کُشاں دور میں اسی قسم کے جامعہ کا طرز اُس دور کی کشک کی ایک مورتی میں نظر آتا ہے لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ طرز پوشاک دوسری صدی عیسوی سے سولھویں صدی عیسوی تک یعنی مغلوں کے حملہ کے وقت تک برابر ہندوستان میں رائج تھا۔

    کھنڈال والا کا یقین ہے کہ چاک دار جامہ کا فیشن مغلوں کے ذریع بخارا سے ہندوستان آیا کیوں کہ ایک یرانی قلمی نسخہ "گلستانِ سعدی" (بتاریخ1552جو برٹش میوزیم لندن کے کلکشن میں ہے) میں چاکدار جامہ نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ بخار ا کا "جامعہ" اکبری دور کے جامعے سے قدرے نیچا ہے حالاں کہ ٹپکے کے ڈیزائن دونوں میں ہی لمبے اور پتلے ہیں لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ مغل فیشن ہرات اور بخاراسے بہت متاثر تھا۔

    لیکن ان دونوں نظریہ فکر کے تضاد کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مغل طرز سے پہلے بیرون چشمی طرز کے علاوہ ایک ترقی پسند عوامی طرز جنم لے چکا تھا جس کی شہادت پالم کے نسخہ "آدمی پُران" اور "نسخہ" آرنکیہ پُرون (بتاریخ1516جو آگرہ کے نزدیک کچھا وا میں مرقع کیا گیا اور اب ایشیا ٹک سوسائٹی بمبئی میں محفوظ ہے) سے ملتی ہے۔ دونوں نسخے کا ئستھ مصوروں نے مرقع کیے اور یہ "چورا پنچکا" طرز مصوری سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ یوں تو لودھی دور سلطنت میں جامعہ اور کلاہ کا ایک عام فیشن تھا لہٰذا اگر ہم عصر قلمی مرعوں میں ان کا استعمال کیا گیا ہے تو اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے کیوں کہ طرز پوشاک سے اسلوب مصوری کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ تصویر کی ترتیب و تنظیم،رنگ آمیزی، انداز خطوط۔ خیالات کی برجستگی اور اسلوب بیان جیسے عناصر کا تجزیہ لازم ہوتا ہے۔ اسی پیمانہ کے نقطہ نظر سے گرے نےیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مغل مصوری کا پندرھویں صدی کی ہندوستانی عوامی مصوری سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ ہندوستانی مصور بذات خود ایک نئے اسلوب کے اختراع میں ہمہ تن مصروف تھے۔

    عام طور سے یہ   خیال کیا جاتا ہے کہ مغل حکمرانوں کی وساطت سے ایرانی اسلوب مصوری ہندوستان میں درآمد ہوا لیکن عینی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ دکن کی مسلم ریاستوں خصوصاً گولکنڈہ، بیجا پور، احمد نگر اور بَدر میں فن مصوری کو کافی حد تک سرپرستی ملی۔ دراصل ان چھوٹی چھوٹی حکومتوں کا قیام عظیم بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد ہوا۔ بہر حال ان ریاستوں میں جو بھی مصوری کی گئی اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دربار کے ماحول سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ اس دور میں ریاستی نظم و نسق عام طور سے وزیروں کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور والئی ریاست عموماً اپنے آپ کو پوری آزادی سے شراب، عورت اور سازو رقص میں محورکھتے تھے یہی نہیں بلکہ ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ وہ خوبصورت ترین عورتوں کے ساتھ شغلف رماتے ہوئے اپنی تصاویر بنواتے تھے اور خصوصاً ایسے نسخوں کو مرقع کرواتے تھے جس میں عشقیہ داستان ہو۔

    مؤرخیں کا خیال ہے کہ ان مسلم ریاستوں کے قیام سے پہلے دکن کی عظیم ہندو ریاست وجے نگر میں قلمی مرقع نسخوں کا رواج ضرور رہا ہو گا لیکن 1565میں جب اس کا زوال ہو گیا تو یہاں کے مصوروں نے مسلم درباروں میں روزگار حاصل کرنے کی کوشش کی ہو گی۔ بہرحال اس دور کا سب سے پُرانا قلمی مرقع "تعریف حسین شاہی" ہے جو احمد نگر کے سلطان حسین نظام شاہ اول کی وفات کے منصوبوں اور فن حرب سے وجے نگر کو شکست فاش ہوئی تھی۔ لیکن سلطان کی زندگی نے زیادہ وفا نہ کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کا کمسن لڑکا شہزادہ مرتضیٰ اول اور متولی ملکہ خانزادہ ہمایوں نے احمد نگر ریاست کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور غالباً سب سے پہلا یہ کام کیا کہ انہوں نے نظام شاہ کی یاد گار میں فارسی میں "تعریف حسین شاہی" کے نام سے قصیدہ لکھوا کر اسے مرقع کروایا۔ اس نسخہ کی تصاویر مالوہ کے "نعمت نامہ" کی تصاویر سے کافی مشابہ ہیں۔

    دوسرا قلمی مرقع نسخہ "نجم العلوم" غالباً بیجاپور دربار میں لکھا اور مرقع کیا گیا۔ یہ 1570کا تاریخ شدہ ہے اور اب چسٹربیٹی کلکشن   ڈبلن میں محفوظ ہے۔ ان تصاویر میں یوں تو ایرانی اثرات بدرجہ اَتم موجود ہیں لیکن زیورات کے ڈیزائن اور ساری کا استعمال مقامی انداز لیے ہوئے ہے۔

    بقول فرشتہ دکن کے سلاطین خصوصاً ایرانی اور تُرکی تہذیب کے بڑے دلدادہ تھے لہٰذا قیاس لگایا جاتا ہے کہ ان درباروں   میں ایرانی مرقع نسخے ضرور درآمد کیے گئے ہوں گے یا یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ ایرانی مصوروں کو دعوت نامے بھیج کر ان درباروں میں بُلایا گیا ہو یا وہ مصور بذاتِ خود شاہ ایران تہما سپ کی بے رُخی سے تنگ آ کر ہندوستان ہجرت کر آئے ہوں اور مسلم درباروں میں پناہ لے لی ہو۔ ایک نظریہ فکر یہ بھی ہے کہ غالباً کچھ مصور آگرہ دربار سے دکن چلے گئے ہوں گے جن کی وجہ سے کچھ خصوصی انداز کے ساتھ دکنی طرز مصوری “ کی بنیاد پڑی لیکن ا ٓخر الذکر مفروضہ میں زیادہ وزن نہین معلوم ہوتا۔ کیوں کہ اکبر نے فن مصوری کی جس فراخ دلی سے سر پرستی کی اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام ریاستوں سے اربات ہُنر کی ایک خاصی تعداد آگرہ اور سیکری پہنچ گئی۔ وہاں سے جانے کا سوال کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں بہترروزگار یا ثقافتی تبادلہ کےتحت ایسے امکانات ضرور ہو سکتے ہیں۔ بہرحال خدا بخش لائبریری، پٹنہ میں محفوظ ایک قلمی مرقع نسخہ شیریں و خسروجو 1571کا تاریخ شدہ ہے گولکنڈہ کے سلطان ابراہیم قطب شاہ کی ایما پر نقل اور مرقع کروایا گیا۔ اس کی تصاویر ایرانی مصوری سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور ان میں کسی قسم کے مقامی فنی اثرات نہیں پائے جاتے۔

    ان کے علاوہ جو نسخے دستیاب ہوئے ہیں وہ1580کے بعد کے ہیں جبکہ مغل مصوری اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی اور تمام قرب و جوار کے فنی اداروں کو متاثر کر رہی تھی۔

    دور مغلیہ کی مصوری

    مغل حملے سے پیشتر ہندوستان کی سیاسی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی۔ یوں تو کہنے کو ایک مرکزی حکومت تھی جس کی لودھی حکمران   قیادت کر رہے تھے لیکن ان کی حکومت دہلی ،آگرہ ،دو آب، جونپور اور بہار کے کچھ مشرقی حصے سے زیادہ آگے نہ تھی۔ سلطان ابراہیم حسین لودھی(26۔1517) کا اپنے امرا ء کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ تھا لہٰذا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ تقریباً سبھی صوبوں کے گورنروں نے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ دولت خاں نے پنجاب میں، بہادر خاں نے بہار میں اور ناصر خاں نے جونپور میں بغاوت کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ بنگال نے پہلے ہی سے خود مختار کا اعلان کر رکھا تھا۔ وسط ہندوستان میں مالوہ کے خلجی اور میواڑ کے رانا جو کئی نسلوں سے خود مختار تھے، آپس میں لڑتے رہتے تھے اور ایک دوسرے پر برتری جتانے کے لیے مستقل برسِر پیکار رہتے تھے لیکن ان میں میواڑ سب سے طاقتور ریاست تھی۔ اس طرح سندھ اور ملتان میں آرگھن، دکن میں بدر کی بہمنی، برار میں عماد شاہی،احمد نگر میں نظام شاہی، بیجاپور میں عادل شاہی، گولکنڈہ میں قطب شاہی اور خاندیش میں فاروقی خود مختار طور سے حکومت کر رہے تھے۔ اڑیہ اور وجے نگر میں ہندو حکمراں تھے لیکن شمالی ہندوستان کی سیاست پر ان کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جیسا کہ پہلے تزکرہ کیا جا چکا ہے وجے نگر کو بعد میں ماتحت بنا لیا گیا اور اس کی کود مختاری ختم کر دی گئی۔

    بہر حال ہندوستان کے اس سیاسی انتشار نے ایسی فضا پیدا کر دی کہ غیر ملکی حکمرانوں نے ہندوستان کو اپنا نشانہ بنانے کے لیے پرتولنے شروع کے۔ اُدھر پنجاب کے گورنر دولت خاں اور سلطان ابراہم لودی کے تعلقات کچھ اتنے زیادہ خراب ہو گئے کہ حالت بد سے بدتر ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت خاں نے بابر(30۔1526)کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔ شاید تاریخ ہند کے اوران میں یہ سب سے پہلی شہادت ہے کہ ایسے پُر آشوب موقعہ پر مسلم اور غیر مسلم ہندی حکمرانوں نے ایک غیر ملکی حملہ آور کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ لیکن بابر کی حربی مصلحتوں سے اس اتحادی مورچہ کو کامیابی نصیب نہ ہوئی اور ہندوستانی فوجوں کو گھنوا کے مقام پر شکست فاش ہوئی۔ آخر کار بابر نے مارچ1527میں دہلی پہنچ کر اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ بہرحال اس طرح ہندوستان کی سیاسی فضا میں قدرے ٹھہراؤ پیدا ہوا اور رعایا کو امن اور سکون نصیب ہوا۔

    دراصل جنگی ماحول اور سیاسی انتشار فن اور ثقافت کے ارتقا کے لیے انتہائی ناساز گار ہوتا ہے خصوصاً جاگیرداری نظام میں رعایا کی قسمت کا دارومدار والئی ریاست کےرحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اس کی ذاتی دلچسپی اور رضا پر ہی کسی فن کے پروان چڑھنے کا انحصار ہوتا ہے۔ بابر تیموری خاندان کا چھٹا حکمراں تھا اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح فن و ثقافت کا بڑا مداح تھا۔ اسے مصوری۔ شاعری اور فلسفہ سے   گہری   دلچسپی تھی اور ان موصوعات پر وہ کاطر خواہ تنقیدی نظر رکھتا تھا۔ اس نے اپنی سوانح حیات "تزک بابری" میں بہزاد کی مصوری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "بہزاد کا شبیہ سازی میں کوئی جواب نہیں لیکن وہ صرف داڑھی والی شبیہوں میں مہارت رکھتا ہے جب بھی اسے بے ریش والی شبیہیں بنانی پڑی ہیں اس نے ہمیشہ ٹھڈی کو لمبا بنایا ہے" اس طرح بابر نے شاہ مظفر کی مصوری کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "زلفوں کی آرائش و وضع کو پیش کرنے اور ناز کی کی قلم میں مظفر اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

    لیکن بابر کی زندگی زیادہ تر جنگ کرنے ہی میں گزری۔ فن و ثقافت کی طرف اپنا دھیان دینے پر اسے کوئی وقت ہی نہیں ملا۔ ادھر اپس کی عمر نے بھی زیادہ وفا نہ کی اور ہندوستان پر چار برس حکموت کرنے کے بعد ہی اُس کا انتقال ہو گیا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اگر بابر کچھ ور دن زندہ رہتا تو ہندوستانی فن و ثقافت کو بڑی تقویت ملتی۔

     

    دورِ ہمایوں 56۔1530

    بابر کے لڑکے ہمایوں نے مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور دسمبر1530 میں سنبھالی۔ ایسے بھی اپنے والد کی طرح فنون لطیفہ سے بڑی دلچسپی تھی۔ فن مصوری سے خصوصاً کچھ زیادہ ہی لگاؤ تھا۔ اس فن سے ہمایوں کی ذاتی دلچسپی کا اندازہ پس واقعہ سے ہوتا ہے جسے ہمایوں کے ذاتی خد متگار جوہر آفتا بچی نے اپنی کتاب "تزکرہ الواقعات" میں درج کیا ہے۔ جوہر1543کے واقعات قلم بند کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ شیر شاہ کی مسلسل پیش قدمی کی وجہ سے بادشاہ ہمایوں نے قلعہ امرکوٹ میں پناہ لے رکھی تھی۔ ایک دن بادشاہ نے ایک خوبصورت فاختہ کودیکھا اور اُس نے ایک خادم کو اسے پکڑنے کا حکم دیا۔ ہمایوں اس فاختہ کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے ایک مصور فوراً طلب کیا اور اس کی شبیہہ بنوائی۔ بعد میں فاختہ کو آزاد کر دیا گیا۔ جوہر نے لیکن ایسا کوئی حوالہ نہیں دیا جس سے یہ معلوم ہوتا کہ وہ مصور آیا کہ درباری ملازم تھا یا اسے عارضی طور پر ملازم کیا گیا تھا۔

    اکبر نامہ سے منقول ہے کہ کتابوں سے ہمایوں کو اس قدر شوق تھا کہ وہ میدان جنگ میں بھی ایک چھوٹا سا کتب خانہ اپنے ساتھ رکھتا تھا چنانچہ جب وہ کھمبایت کا محاصرہ کر رہا تھا تو اس کے ساتھ دوسری کتابوں کے علاوہ تاریخِ تیمور کا وہ نسخہ بھی تھا جسے بہزاد نے مرقع کیا تھا۔ اس محاصرہ میں ایک جنگی قبیلے نے شاہی خیمے پر شبخون مارا تو لوٹ کے مال میں یہ نادر نسخہ بھی جاتا رہا لیکن پھر فوراً واپس مل گیا۔

    تزکرہ ہمایوں و اکبر میں مولانا بیازید ببات1547کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بدخشاں فتح ہونے   کے بعد اور قلعہ مظفر کو الوداع کہتے وقت ہمایوں نے ایک فرمان ولد بیگ کے ذریعہ میر سید علی تبریزی اور مپلا عبدالصمد کے نام جاری کیے جن سے ہمایوں نے پہلے ہی اپنی تبریز کی سیر کے دوران ملاقاتیں کی تھیں۔ میر سید علی اور مپلا عبدالصمد اس شاہی فرمان کو پاتے ہی شاہی قدمبوسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ مُلا فخر مجلد اُن کے ہمراہ ہو لتے۔ یہ لوگ بلخ سے شاہی فوج کے لوٹنے کے چالیس دن بعد کابل پہنچ گئے جہاں انہیں شاہی قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا اور انہیں انعامات اور کرامات عطا کیے گئے۔ اس دور میں جیسا کہ بیازید آگے تحریر کرتا ہے "مُلا دوست فن مصوری میں بڑی ممتاز حیثیت کا مالک تھا جس شاہ تہماسپ کے دربار سے مستعفی ہو کر کابل میں مرزا کامران کی کدمت میں آ گیا تھا۔ جن صاحب علم کو فن مصوری سے لگؤ ہے اُن کا خیال ہے کہ وہ پہاڑوں اور پیڑوں کی عکاسی میں استاد مانی سے بہتر ہے" مگر ملا دوست کامران کی شکست کے بعد ہمایوں کی خدمت میں آ گیا تھا۔ اس درمیان میر سید علی مُلا عبدالصمد   اور مپلا فخر مُجلد نے مصوری کے اور جلد بندی کے چند نمونے تیار کئے جنہیں ہمایوں کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ہمایوں نے ان شاہکاروں کو بہت پسند کیا اور تحفہ کے طور پر انہیں کاشغر کے نواب رشید خاں کو ایک کط کے ساتھ ارسال کیا۔ یہ خط اتفاق سے مُلا عبدالصمد نے 1591میں بیازید کو دکھایا جس کی نقل اپس نے اپنی سرگزشت "تزکرہ ہمایوں و اکبر" میں پیش کی ہے لیکن یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خط آیا کہ اصلی تھا یا اپس خط کی نقل ہے جسے نواب رشید خاں کو بھیجا گیا تھا۔ اس خط کے بہرحال کچھ اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔

    ہمایوں لکھتا ہے کہ " اس دور کے مصوروں ور لاثانی شخصیتوں کا ایک گروہ جو عراق اور خراساں میں میری خدمت میں پیش ہوا تھا انہیں انعام و اکرام سے نوازا گیا تھا۔ یہ گروہ شوال 959ھ یعنی اکتوبر1552ء میں پھر میرے پاس ایا اور دوبارہ ان پر نوازش عطا کی گئیں۔ انہیں دربار میں جملہ ہم عصر لوگوں کی بہ نسبت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن میں سب سے مشہور ورلاثانی شخصیت کا مالک میر سید علی مصور ہے جو فن مصوری میں یکتا ہے۔ اُس نے ایک چوگان کھیل کے میدان کی تصویر بنائی ہے جس میں دو گھوڑ سوار دکھائے گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک سوار اپنا گھوڑا دوڑاتے ہوئے آتا ہے۔ دوسرے سرے پر دوسرا گھوڑا سوار کھڑا ہے۔ایک پیادہ اُس کے ہاتھ میں چوگان(پولو کھیلنے کی ہاکی) دیتا ہے۔ برنج کے ہر ایک سرے پر اپس نے دو چوگان کے کھمبے(گول کے کھمبوں کی طرح) بنائے اور برنج کے ہر کونے پر مندرجہ ذیل شعر لکھ دیا۔

    درون دانہ صد خرمن امد      جہانے در دل یک ارزن آمد

    (ترجمہ) ایک دانے کے بیتر سیکڑوں کھیلان نکالے اور پورا سنسار باجرہ کے ایک دانے کے قلب سے نکلا)

    دستخط العبد سید علی رجب959ھ (جون۔جولائی1552ٗ) "

    "دوسرا مصور مولانا عبدالصمد شیریں قلم ہے جو تمام ہم عصر لوگوں سے بازی لے گیا ہے۔ اس نے ایک لمبے چوڑے میدان کی تصویر بنائی ہے جس میں لوگوں کو چوگان کھیلتے دکھایا گیا ہے۔ میدان کے دونوں طرف دو کھمبے ہیں اور سات گھوڑ سوار گیند کھیل رہے ہیں۔ پیادے پیچھے پیچھے سواروں کو چوگان دیتے جاتے ہیں۔ میدان کے بیچ میں "قبق" کی لکڑی لگی ہے۔

    "ایک برنج پر اُس نے ایک بڑے خوبصورت تالار(کمرہ کی تصویر بنائی ہے۔ تالار کے اندر دو آدمیوں کو دکھایا گیا ہے جو حوض کے دوسری طرف اپنے سامنے انگیٹھی رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک مرغ کے کباب تیار کر رہا ہے۔ تالار کے پیچھے چار آدمی کھڑے اور چار آدمی بیتھے دکھائے گئے ہیں۔ دو اور کھڑے ہوئے آدمیوں کی تصویریں ہیں۔ اوپر کی طرف کوتھے پر جانے کا عجیب راستہ دکھایا گیا ہے۔ حوض کے اندر ایک نارنگی کا پیٹر دکھایا گیا ہے"

    "ایک پوستے کے دانے پر اپس نے ایک سوار کی تصویر بنائی ہے۔ دوسرے فن کا رول میں مولانا فخر صحاف ہے اُس نے پوستے کے دانے میں25سوراخ کیے اور لاجواب فنکار استاد اویس زرکش نے سونے چاندی کے ایسے باریک تار تیار کیے ہیں کہ مُلا فخر نے چاندی کے25 تار پوستے کے دانے کے سوراخوں میں پرودیے۔ ان فنکاروں کے کچھ نمونے بھیجے جا رہے ہیں۔"

    جب ہمایوں نے961ھ(نومبر1554ء) کے آکری ایام میں بیرم خاں کی مدد سے دو بارہ ہندوستان کا رخ کیا تو اس کے ساتھ مندرجہ بالا فن کار بھی تھے۔ بیازید بیات نے جن ممتاز شخصیتوں کی فہرست پیش کی ہے اُن کی تعداد 231ہے جن میں مولانا سید علی مولانا عبدالصمد اور مولانا دوست محمد مصور بالترتیب14، 20اور 21نمبر پر دکھائے گئے ہیں۔ خوش قسمتی سے ماچھی واڑہ اور سر ہند میں جون1555میں شاہ سکندر سور کو شکست فاش دے کر ہمایوں نے دہلی پہنچنے کا راستہ صاف کر لیا۔ اور وہ دوبارہ فاتح بن کر جولائی1555میں دہلی میں داخل ہوا۔ مختلف شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمایوں نے پرانے قلعہ (شیر شاہی قلعہ) میں دربار کیا اور وہیں مقیم ہوا۔ شیر شاہی قلعہ میں شیر منڈل نامی عمارت جوسہ منزلہ تھی اور شیر شاہ کے زمانے میں خانہ تفریح و طبیع کی طرح استعمال کی جاتی تھی اپس کی تیسری منزل پر ہمایوں نے اپنا کتب خانہ قائم کیا تھا۔ ہمایوں یہیں بیتھ کر اہل علم و قلم سے اکثر بحث و مباحثہ کیا کرتا تھا۔ اس شاہی کتب خانہ کا مہتم نظام المعروف باز بہادر تھا۔ عموماً تصویر خانہ کتب خانہ کا اہی ایک حصہ ہوا کرتا تھا لہٰذا مؤرخیں کا خیال ہے کہ ہمایوں نے اپنا نگارخانہ اسی شیر منڈل میں قئم کیا ہو گا جہاں میر سید علی۔ عبدالسمد۔ مُلا فخر۔ مُلا دوست۔ عویس زرکش۔ مولانا درویش محمد اور مولانا یوسف جیسے فن کار شاہی خدمت کے لیے مامور کیے گئے ہوں گے۔

    نگار خانے کے قیام کی سند بہر حال قبال نامہ اکبری اور تزک جہانگیری میں لکھے ہوئے ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔

    "جب ہمایوں دارالسلطنت دہلی میں سکندر سور کو شکست دے کر آیا تو باپ کے اشارے سے شہزادہ اکبر تصویر خانہ میں تسویر بنانے کی مشق کرتا تھا۔ میر سید علی مصور اس کو بدیع صنعت کی راہِ روشن بتلا تا تھا۔ اکبر ایک دن تصویر خانے میں بیتھا تھا۔ مرقعے کُھلے تھے۔ مصور حاضر تھے۔ ہر شخص اپنی دستکاری میں مصروف تھا۔ اکبر نے ایک تصویر کھینچی کہ گویا ایک شخص کا سر۔ ہاتھ پاؤں الگ الگ کٹے پڑے ہیں۔ کسی نے عرض کی کہ حضور یہ کس کی تصویر ہے؟ کہا   ہیموں۔" غالباً یہ واقعہ نومبر1555کا ہے۔

    ہمایوں کے دور کی ستند تصاویر بہت کمیاب ہیں لیکن میرے خیال میں دو تصاویر ایسی ہیں جن سے ہمایوں کے زمانے کی مصوری کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ شاہی کتب خانہ تہران کے مجموعہ میں دستخط شدہ (1551) مولانا عبدالصمد کی بنائی ہوئی ایک تصویر ہے جو داستان لیلیٰ مجنوں سے منسوب کی جا سکتی ہے۔ اس تصویر کے دراصل دو حصے ہیں۔ تصویر کی بالائی سطح پر ایک باغ کا منظر ہے جس میں سرد کے نزدیک دو نوجان بیٹھے دکھائے گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک ساز بجا رہا ہے۔ آسمان پر کئی چڑیوں کو پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے وسط میں ایک چشمہ بہہ رہا ہے۔ جنوبی سطح پر ایک پہاڑی کا منظر ہے جس میں مجنوں کو مختلف وحشی جانوروں کے درمیان بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ا س تصویر کی پوری ساخت ایرانی طرز پر ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس تسویر پر بعد میں کسی نے عبدالسمد کے دستخط کر دیے ہیں کیوں کہ یہ تصویر عبدالصمد کی بنائی ہوئی اس مستند تصویر سے جس میں اکبر کو اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر کو ہمایوں کو تدر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے قدرے مختلف ہے یہ دراصل ہمایوں کے نگارخانے کی تصویر ہے جو بڑے دلچسپ انداز مین مرقع کی گئی ہے۔ا س میں ایک دو منزلہ عمارت ہے جس کے ساتھ ایک چنار کے درخت پر مچان بنایا گیا ہے جہاں شہزادہ اکبر اپنی ایک تصویر ہمایوں کے نزر کر رہا ہے۔ دوسرے مصور اپنے کام میں مشغول دکھائے گئے ہیں۔ یہ تصویر بھی مکمل طور سے ایرانی وضع کی ہے۔ آرائشی انداز تفاصیل۔ باریکی خطوط۔ امتیازی۔ شوخ اور متضاد رنگوں کا استعمال۔ رسمی ایرانی خیا طانہ طرز۔ غرضیکہ سبھی اس تصویر میں ایرانی ہے۔ ان دو تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمایوں کے دور میں ہندوستانی مروجہ اسلوب کا اس نگارخانے میں دخل نہیں ہوا تھا۔

    بدقسمتی سے ہمایوں کی عمر نے زیادہ وفا نہ کی اور وہ اپنے اسی کتب خانہ "شیر منڈل" کی سیڑھیوں پر سے اترتے ہوئے پھسل کر جنوری1556کو انتقال کر گیا۔

    دورِ اکبر

    جب ہمایوں کی وفات ہوئی تو اکبر کلا نور ضلع گورداس پور میں سکندر سور کے خلاف جنگ کر رہا تھا۔ حالاں کہ اس خبر کو وہاں پہنچنے میں قدرے دیر ہوئی لیکن جیسے ہی سپہ سالار بیرم خاں کو اس کی اطلاع ہوئی اس نے کالا نور کے ایک باغ میں 14فروری1556ء کو ایک سادی سی تقریب میں14سالہ اکبر کو ہندوستان کا شہنشاہ بنا دیا۔ اُدھر ہمایوں نے سات مہینے پہلے جس شاہی اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی تھی اس کے تمام اراکین کی امیدوں پر پانی پڑ گیا تھا۔ کیوں کہ اس نگار خانے کے سبھی مصور اپنا وطن ایران چھوڑ کر ہندوستان آ گئے تھے اور اکبر جیسے کمسن بادشاہ   سے کسی قسم کی توقع رکھنا عقل سے بعید تھا۔ دوسرے بادشاہ بذاتِ خود سردار بیرم خاں کی سر پرستی میں تھا۔ اُدھر چاروں طرف سے مغلیہ حکومت کے تمام دشمن دتی کے تخت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ جیسا کہ مغل سرداروں کو پہلے سے ہی خدشہ تھا۔ ہیموں بقال نے چُنار سے طوفان کی طرح کوچ کیا اور راستے کے تمام علاقوں کو سر کرتا ہوا آخر کار ماہ اکتوبر1556میں دتی پہنچ کر اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ لیکن اکبر نے بیرم خاں کی مدد سے5نومبر1556کو ہیموں کو پانی پت کے میدان میں شکست فاش دے دی۔ اس کے بعد 6نومبر1556کو اکبر فاتح کی حیثیت سے دتی میں داخل ہوا جہاں اسے شاہی مغل تخت پر بٹھایا گیا۔ اس کے فوراً بعد ہی آگرہ پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ لیکن اکبر کو قدرے سکون نہ مل سکا، اسے بغاوت فرد کرنے کے لیے پھر پنجاب جانا پڑا۔ یہ مہم ختم کرنے کے بعد وہ پھر اپریل1558میں دلی آیا لیکن ایک روایت کے مطابق اس بار دلی آنا بدشگون ثابت ہوا کیوں کہ وہ ایکدفعہہلاک ہوتے ہوتے بچ گیا۔ لہٰذا امراء کی رائے یہ ہوئی کہ دارالخلافہ دلی کے بجائے آگرہ منتقل کر دیا جائے لہٰذا اسی فیصلہ کے تحت دربار مغلیہ معہ تمام شاہی اداروں کے دلی سے آگرہ منتقل ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ ان اداروں میں شاہی نگار خانہ بھی تھا۔

    اکبر کے زمانے کی مصوری سے متعلق جو بھی واقعات ملتے ہیں ان کے بنیادی ذرائع ابوالفضل ۔ بدایونی اور علاؤ الدولہ کامی کی تصنیفات ہیں۔ بہر حال سب سے زیادہ مواد اکبر نامہ کے دوسرے حصہ آئین اکبری کے آئین 34اور35میں شاہی نگار خانے کے متعلق ملتا ہے۔ جو چند صفحات پر مشتمل ہے اور جس کا ترجمہ مولوی فدا حسین کی زبان میں حسب ذیل ہے۔

    "شبیہ کشی جس کو حرف عام میں تصویر کہتے ہیں تفریح و حانقشانی کا بہترین نتیجہ ہے۔ جہاں پناہ کو اس فن لطیف سے ابتدائے عمر سے ذوق شوق ہے اور ہمیشہ اس امر پر توجہ فرماتے ہیں کہ اس فن کو روز افزوں ترقی ہو۔ قبلئہ عالم کی قدردانی و پرورش سے اس دلکشن جادو نگاری کو انتہائی ترقی ہوئی اور ایک گروہ کثیر اس فن کا یکتائے روزگار استاد بن گیا۔ معمول ہے کہ داروغہ و تگچی ہر ہفتے ہر شخص کا کام ملاحظہ عالی میں پیش کرتے ہیں اور ہر مصور کو اُس کے کام و کمال کے مطابق انعام و اضافہ تنخواہ سے سرفراز فرمایا جاتا ہے۔ قبلئہ عالم کے دست شفقت نے اہل عالم کی چشم بینش کو آگاہی کے سُرمہ سے روشن فرمایا اور تصاویر کی قدرو طلب کی گرم بازاری ہوئی۔ رنگ آمیزی کا فن معراجِ کمال کو پہنچا اور صفائی و لطافت کو روز افزوں ترقی نصیب ہوتی۔ جادونگار ہنر مند پیدا ہوئے جن کے کمال نے بہزاد کی نادرہ کا ری اور اہل فرنگ کی سحر پر درازی کے جو تمام عالم میں مشہور و معروف ہے۔ انبار کے انبار لگا دئیے۔

    "کام کی نزاکت اور نقش و نگار کی صفائی اور ہاتھ کی قوتِ کشید نے وہ مرتبہ حاصل کیا کہ ان کامل فن استادوں کی تصویر کشی نے جمادی اجسام کو مرتبہ حیوانیت عطا کر دیا اور بے جان اشیاء تصویر کے ذریعہ سے جیتی جاگتی صورتیں نظر آنے لگیں۔ سو سے زائد اس فن کے استاد پیدا ہو گئے جو گروہ کہ پایہ کمال کے قریب ہے یا وہ طبقہ جس نے ابھی نصف راہ طے کی ہے اندازہ حساب سے باہر ہیں۔ اہل ہند کا کیا ذکر کروں کہ کیسی حقیقت طرازی کی۔ ان باکمال استادوں نے ایسی تصویریں تیار کیں جن کا مثل خواب و خیال میں بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمام عالم میں اس جادو نگاری کا نشان کمتر مل سکے گا۔

    "باکمال استادوں میں ایک شخص میر سید علی تبریزی ہے۔ اس مصور نے اپنے باپ سے اس فن کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور قبلئہ عالم کے سایہ عاطفت میں کمال کو پہنچ کرنامور ہوا۔ اور ستارہ اقبال نے عروج پر آ کر مصور مذکور کو کامیاب و بامراد بنایا۔ اس فن کا دوسرا جادو نگار استاد خواجہ عبدالصمد شیریں قلم ہے۔ اس نامور شخس نے اگرچہ اس فن کو ابتدائے ملازمت سے پیشتری ہی سیکھ لیا تھا لیکن ملازمت کے بعد قبلہ عالم کی تعلیم و حضرت کی نکتہ آموزی کی برکت سے پایہ تکمیل کو پنچا۔ شیریں قلم نے بیشتر شاگردوں کو استاد زمانہ بنا دیا۔

    "وسونت۔ یہ شخص قوم کا کہار ہے۔ اس کارخانے میں ملازم تھا درو دیوار پر نقش و تصویر بنایا کرتا تھا ایک روز جہاں پناہ کی نگاہ پڑی اور حضرت نے اپنی دور بینی سے اس کے ابتدائی نقوش سے جو ہر طبیعت کا اندازہ کر کے اسے کواجہ عبدالصمد کے سپرد کیا۔ شیریں قلم کی تعلیم سے رسونت قلیل مدت میں یکتائے زمانہ ہو کر باکمال مصور ہو گیا۔

    "بساون۔ طرح افگنی۔ چہرہ کشی و رنگ آمیزی و مانند نگاری و نیزاس فن کی دیگر صنعتوں میں یگانہ زمانہ ہوا۔ بعض ماہرین فن اس کو دسونت پر ترجیح دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ کیسر و لعل و مکند و مشکین و فرخ فلمان و مادھو د جگن و مہیش وکھیم کرن و تارا و سانولہ وہربنس اور رام جو اس فن کے طلبا تھے بدشاہ رعیت نوازو ہنر مند و باکمال استادوں کی شفقت سے اپنے فن میں نامور مشہور ہوئے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مجاز اور صورت گری کی گرم بازاری نے جو دراصل اس سے پیشتر خوابِ غفلت کا دل خوش کُن نظارہ ہے حقیقت و آگاہی کے جسم میں جان ڈال دی اور ناشناسائی کے مریض دوائے درد پا کر صحت یاب ہوئے۔ تقلید پرست و تصویر دشمن افرا د کی چشم بصیرت دا ہوئی اور ہر فردوبشر کو مجاز میں حقیقت کا جلوہ نظر آنے لگا۔

    "ایک روز قبلہ عالم نے خلوت کدہ میں جہاں صرف مریدانِ سعاد تمند کا مجمع تھا فرمایا کہ ایک گردہ فن تصویر کشی کا دشمن ہے اور اس پیشے کے معائب بیان کرتا ہے لیکن اُن کے اقوال و دلائل کو دل قبول نہیں کرتا بلکہ قرین قیاس و عقل یہ ہے کہ مصور اکثر طبقات انسانی سے زیادہ خدا شناس ہو سکتا ہے اس لیے کہ یہ شخص جانور کی تصویر اُتارنے میں اُس کے ہر عضو کی شبیہہ کھینچتا ہے اور تصویر کو تمام کر کے جب یہ دیکھتا ہے کہ بوجود اس ظاہری سحر نگاری کے وہ اس میں روح پھونکنے سے عاجز ہے تو اس کو خالق مطلق کی قدرت کا ملہ کا اندازہ ہو جاتا ہے اور صانع با کمال کے آگے سر بسجدہ ہو جاتا ہے۔

    "جس طرح کہ فن تصویر کشی معراج کمال کو پہنچا اس طرح فن مذکور نےعجیب و غریب نمونے و کارنامے بھی اپنی یاد گار چھوڑے جنہوں نے اہلِ عالم کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ فارسی نثرو نظم کی کتابیں تصویر و نقوش سے آراستہ کی گئیں اور ان کے دلچسپ بیانات و واقعات کے اوراق و فضول میں سحر نگاری سے کام لیا گیا۔ داستانِ امیر حمزہ بارہ جلدوں میں تقسیم کی گئی اور اس کتاب میں ایک عزار چار سو حیرت انگیز تصویریں بنائی گئیں جن سے ناظرین استعجاب میں مبتلا ہو گئے۔

    "چنگیز نامہ۔ ظفر نامہ۔ اکبر نامہ۔ رزم نامہ۔ رامائن ونل دمن۔ کلیلہ و دمنہ و عیاردانش وغیرہ کتابیں بہترین نقوش و تصاویر سے آراستہ ومزین کی گئیں۔ قاعدہ یہ تھا کہ قبلئہ عالم خود جائے تصویر پر نشان بنا دیتے تھے اور ہنر مند استاد اس مقام پر سحری کاری کرتے تھے۔

    "حضرت کے حکم سے ملازمینِ بار گاہ کی تصویریں بھی کھینچی گئیں اور ان مختلف تصاویر کے مجموعے سے ایک بہت بڑی کتاب تیار ہوئی۔ اس کتاب نے مُردوں کو حیات تازہ اور زندوں کو زندگی جاوید عطا کی۔ جس طرح کہ عہد معدلت میں مصوروں کی قدروقیمت میں صد چند اضافہ ہوا اسی طرح نقاش و مذہب و جدد ول آراو جلد بند وغیرہ کی بھی گرم بازاری ہوئی اور ہر چہار گروہ عطیات   وانعام و ماہانہ سے سرفراز و شاد کام ہوا ہ۔ بے شمار منصب دار۔ واحدی و سوار اس سر رشتے کی خدمت پر مامور ہو کر ممتاز و معزز ہوئے پیادوں کی تنخواہ ایک ہزار دو سو دام سے زیادہ اور چھ سو دام سے کم نہیں ہے۔"

    اس مختصر تذکرہ کے علاوہ پیدائش رنگ اور خطاطی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ فن خطاطی کو فن تصویر سے کہیں زیادہ بلند اور عالی   مرتبہ سمجھا جاتا تھا۔ ابو الفضل نے خط کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ "(خط) قدیم استادوں کے تجربات سے آگاہ کرتا ہے اور اس واقفیت سے عقل و فہم میں ترقی نصیب ہوتی ہے۔۔۔خط حسن پرستوں کی نگاہ میں ایک مفید و محدود جلوہ گاہ نور ہے اور دور بین حضرات کی رائے میں جام جہاں نما ہے جس میں عالم کی سیر آسانی سے ممکن ہے۔ خط قلم آفرنیش کا ایک روحانی نقطہ اور دست تقدیر کے ہاتھ کے نوشتہ سے آسمانی کتابیہ ہے خط سخن کا راز دار اور قلم ہاتھ کی زبان ہے؟ وغیرہ وغیرہ

    بہرحال ابوالفضل نے شاہی نگار خانے کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ تصویر کے کیا معنی سمجھے جاتے تھے۔ کس طرح اس فن کو دربار میں ترقی حاصل ہوئی۔ مصوروں کی تعدادکیا تھی۔ اکبر کا بذاتِ خود فن مصوری کے متعلق کیا نظریہ تھا۔ کون کون سی کتابیں مرقع کی گئیں۔ مصوروں کی سماجی حیثیت کیا تھی اور انہیں کتنی تنخواہیں ملا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال ان حوالوں سے دورِ حاضرہ کے ناقدین کو مزید تحقیق کرنے میں بڑی مدد ملی ہے جس کا سلسلہ جاری ہے۔

    راقم الحروف کی تحریر کے نقطہ نظر سے اکبری مصوری کے تین خاص دور ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ چوتھا دور بہت مختصر تھا جس میں جہانگیری اثرات ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    (ا)       آگرہ اسٹوڈیو(1572۔1558)

    قلمی مرقع نسخے اور تاریخ مرقع

    1۔       داستان امیر حمزہ(غالباً 1573۔1558)

    2۔       طلسم اور منسطقہ: لبروج (غالباً1570۔1567)

    3۔       دیول دیوی خضر خاں (بتاریخ 1568)

    4۔       طوطی نامہ(غالباً 1568۔1560)

    5۔       انوار سہیل (بتاریخ 1570)

    (ب)    فتح پور سیکری اسٹودیو(1585۔1573)

    قلمی مرقع نسخے اور دیگر تصاویر اور تاریخ مرقع

    1۔       تاریک کاندان تیموریہ (غالباً1580۔1573)

    2۔       دیواری تصاویر(غالباً1582۔1573)

    3۔       گلستانِ سعدی (بتاریخ 1581)

    4۔       تاریخ الفی (غالباً 1590۔1582)

    5۔       رام نامہ (غالباً 1589۔1582)

    6۔       داراب نامہ (غالباً 1585)

    (ج)     لاہور اسٹودیو(1601۔1585)

    قلمی مرقعے نسخے اور تاریخ مرقع

    1۔       دیوان انوری (بتاریخ 1588)        

    2۔       رامائن (بتاریخ1589)

    3۔       دیوان حافظ (غالباً1590 کی دہائی میں)

    4۔       دیوانِ شاہی (غالباً1595)

    5۔       بہار ستانِ جامہ (غالباً1595)

    6۔       جامع التواریخ (غالباً1596)

    7۔       خمسئہ امیر خسرو (غالباً1597۔1596)

    8۔       بابر نامہ (1597)

    9۔       جوگ وشسٹ (1598۔1597)

    10۔     عجائب المخلوقات (غالباً1600)

    11۔     عیار دانش (غالباً1600)

    12۔     اکبر نامہ (1601۔1589)

    (د)       آگرہ اسٹودیو(1605۔1603)

    قلمی مرقع نسخے اور تاریخ مرقع

    1۔       نغمات الانس (بتاریخ 1603)

    آگرہ اسٹوڈیو:

    داستانِ امیر حمزہ

    حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت محمد ﷺ کے چچا تھے جنہوں نے اسلام قبول کر کے اسے تبلیغ کرنے کے سلسلے میں بڑے بڑے جنگی کارنامے انجام دیتے ان تمام داستانوں میں ایرانی شہزادی کے ساتھ اُن کی عشقیہ داستان بھی شامل ہے۔ ابھی تک مؤرخین کا خیال تھا کہ ہمایوں نے ایرانی مصوروں یعنی میر سید علی اور خواجہ عبدالصمد کو اپنے دربار میں تقرر کر کے داستان امیر حمزہ کو مرقع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس قیاس آرائی میں بڑے بڑے مورک جیسے ونسنٹ اسمتھ۔ پرسی بماؤن اور لارنس بنیان بھی شامل تھے لیکن رائے کرشن داس غالباً پہلے مُورخ تھے جنہوں نے اپنی تحقیق کے مطابق اس قیاس کو بے سند قرار دیا کیوں کہ ہمایوں کے ہم عصر مؤرخیں نے مذکورہ دعوے کی کوئی سند نہیں پیش کی ہے حالاں کہ ہمایوں کے دور سلطنت کے بہت سے تاریخی دستاویز ابھی تک موجود ہیں جن میں "تذکرہ ہمایوں و اکبر"۔ "ہمایوں نامہ" اور "تاریخ ہمایوں شاہی" قابل ذکر ہیں۔

    رائے کرشن داس نے مپلا بدایونی کو سندِ مان کر اپنی دلیل اس طرح پیش کی ہے کہ "بدایونی نے 1582کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "حمزہ نامہ" اور "شاہ نامہ" کا کام ختم ہو جانے پر جس میں 15 برس کا عرصہ لگا، مہا بھارت پر کام شروع کیا گیا۔لہٰذا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حمزہ نامہ کا کام 1567 سے 1582تک ہوا۔" لیکن اگر اس دعوے کو مان بھی لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حمزہ نامہ 1567 یعنی اکبر کے بارھویں سنہ جلوس میں شروع ہوا تو آخری شروع کے ان بارہ سالوں میں شاہی اسٹوڈیو میں کیا ہوتا رہا۔ اس پر مزید تحقیق کرنا ضروری ہے کیوں کہ یہ یقین کرنا قطعی مشکل ہے کہ ایک دہائی تک اس اسٹوڈیو میں کوئی کام ہی نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ تاریخ شہادت کے سلسلے میں فقط بدایونی کو مستند نہیں تصور کیا جا سکتا جبکہ بدایونی نے بذات خود دوسرے ہم عصر مورخوں کی تصانیف کا سہارا لیا ہے۔

    اس سلسلے میں ایک حوالہ دلچسپی سے کالی نہیں ہو گا جس میں ایس۔سی۔ویلش جونیر نے (غالباً رائے کرشن داس کی تھیوری کے جواب میں) اپنے مقالہ "اولین دور کی مغل مصوری" "آرس اور فیٹلس" میں ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کے ایک مضمون "میر سید علی تبریزی" کا حوالہ دیا جو پاکستان کوارترلی۔ جلد5 نمبر4 کراچی 1954 صفحات 26-25 میں شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر چغتائی نے اس مضمون میں مُلا علاء الدولہ کامی قزولیٰ کے نسخہ نفائس الاماثر کے صفحہ 52 ب پر لکھے ہوئے لفظ "حضرت اعلیٰ" سے مراد ہمایوں لیا ہے جس میں داستان امیر حمزہ کی مرقع نگاری کا حوالہ ملتا ہے اور اس طرح دیلش اور چغتائی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ "داستان امیر حمزہ" کو ہمایوں کے حم سے مرقع کیا گیا لیکن کام پورا نہیں ہوا اور وہ اکبر کے دور میں جا کر ختم ہوا۔ لیکن اس سلسلے میں غالباً چغتائی نے کچھ جلد بازی سے کام لیا تھا کیوں کہ علا ؤ الدولہ کامی نے اپنے دیباچہ میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ "حضرت اعلیٰ" سے مراد محمد جلال الدین اکبر ہے اور جُنت آشیانی' سے مراد ہمایوں اور 'فردوس مکانی' سے مراد بابر بادشاہ ہے۔ ملاحظہ کے لیے کامی کے حوالے حسب ذیل ہیں۔

    "مُدّت   ہفت سال است کہ میر مذکور(امیر سیّدعلی) حسب الحکم "حجرت اعلیٰ" درکتاب خانہ علی تبزئین و ٹصویر مجالس قصّہ امیر حمزہ مشغول است و در تمام آں کتاب بدائع انتساب کہ از محشر عات خاطر وقار حضرت اعلیٰ ست اہتمام مینا مُدو الحق آن کتابی ست کہ تا اورراق سپھر منیا گوں از تصویر کو اکب ثواقب زیب و آمسائش یافتہ نظیر آن ہیچ دیدہ و رندیدہ و تا اطباق سفینہ گردوں از چہرہ کشائی ماہ و خورشید زینت و نمائش گرفتہ دست تقدیر ہمچناں نسخہ ہر لوح خیال نکشیدہ۔۔۔۔" (صفحہ 52'ب' نفائس الاماثر ۔ آزاد لائبریری علی گڑھ)

    دیباچہ کے متعلقہ اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔

    "در طی ایں روایات مراد از حضرت اعلیٰ نواب کامیاب گردوں۔ جناب حضرت جلال الدین محمد اکبر بادشاہ غازی ست خلد اللہ ملکہ و سلطانہ کہ غرض اصلی بلکہ ملت غائی ازیں جمع و تالیف بیان از شمئہ فتوحات و محامدذات و شرذمہ از توفیقات و مکارم صفات انحصرت است ۔ بمئولفہ۔

    "پیش از رخت حکایت خومان فسانہ الیت مقصود ذکر تست و دگر ہا بہانہ ایست داز حضرت "جنت آشیانی" مقصود عالی حضرت بادشاہ غفران پناہ و غفران دستگاہ نصیر الدین ہمایوں بادشاہ غازی داز حضرت "فردوس مکانی"غرض اعلیٰ حضرت بادشاہ جمجاہ حقائق و معارف دستگاۃ ظہیر لدین محمد بابر بادشاہ غازی ست امار اللہ برھا نھما"

    بہر حال میرے خیال میں کامی کانفائس الاماثر" ایک ایسا نسخہ ہے جس سے کسی حد تک " دستان امیر حمزہ" کی تاریخ متعین کی جا سکتی ہے۔ علاو الدولہ نے لکھا ہے کہ وہ 1564 میں قزوین میں تھا اور 1566 میں لاہور آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقریباً1525 میں ہندوستان میں داخل ہو چکا تھا اور اس نے اپنی یادداشت کے لیے ہندوستان کے حالات قلم بند کرنا شروع کر دیے تھے اور جب وہ آگرہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ "سات سال کا عرسہ ہو چکا تھا کہ حسبِ الحکم حضرت العیٰ (اکبر) میر سید علی تبریزی شاہی کتب خانہ میں قصہ امیر حمزہ کو تزئین کرنے کا کام پورا کرنے میں مصروف ہیں۔" اس حساب سے مرقع داستان امیر حمزہ 1558 میں شروع ہوا اور 15برس کے عرسہ کے بعد یعنی 1573 میں ختم ہوا۔ اس طرح 12سال کا خالی وقفہ جو رائے کرشن داس کی متعینہ تاریخ سے پیدا ہوتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔

    شاہنواز خاں ماثر الامراء میں لکھتے ہیں کہ اکبر کو امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داستان جو 360 کہانیوں پر مشتمل ہے بہت محبوب تھی اور وہ اپنے حرم میں ایک کہانی سنانے والے کی طرح اس داستان کو بیان کیا کرتا تھا۔ اس نے اس داستان کو 12جلدوں میں منقسم کر کے شروع سے آخیر تک مرقع کروائی۔ ہر جلد میں سو ورق تھے اور ہر ورق تقریباً آدھ گز لمبا تھا۔ ہر ورق میں دو تصاویر تھیں اور ہر تصویر کے سامنے خواجہ عطا ء اللہ منشی قزونی نے متعلقہ داستان اپنے خوبصوت قلم سے تھریر کی ہے۔ بہزاد جیسے فنی استعداد رکھنے والے 50 مصوروں کو پہلے نادرا لملک ہمایوں شاہی سید علی جدائی تبریزی کی قیادت میں یہ کام سونپا گیا لیکن بعد میں خواجہ عبدالصمد شیرازی شیریں قلم نے اسے پورا کروایا۔ کسی بھی بادشاہ کے دور حکومت میں ایسا نایاب مرقع نہیں ملتا۔ اس طرح اس نسخہ میں کل 2400تصاویر تھیں لیکن دنیا کے مختلف اداروں میں اس نسخہ کی تقریباً141 تصاویر اب بھی محفوظ ہین بقیہ اوراق یا تو برباد ہو چکے ہیں یا ابھی ہمیں ان کا علم نہیں ہوا ہے کیوں کہ اکثر لوگ ایسے نسخوں کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انہیں چھپائے رکھتے ہیں۔ بہر حال جن مجموعوں کا ہمیں علم ہے وہ حسب ذیل ہیں۔

    فتز ولیم میوزیم۔ کیمبرج                 2اوراق            میٹرو پالیٹن میوزیم آف آرٹ۔ امریکہ           5اوراق

    حیدر آباد میوزیم۔ حیدر آباد             1اوراق            بوسٹن میوزیم۔ امریکہ                           2اوراق

    اے۔سی۔ اروشیر کلکشن۔ بمبئی         1اوراق            بُرکلین میوزیم۔ امریکہ                           4اوراق

    چسٹربیٹی کلکشن۔ ڈبلن                  2اوراق            بھارت کلا بھون۔ بنارس                          3اوراق

    میوزیم فار آرٹ اینڈ انڈسٹری۔ ویانا      61اوراق          کاؤس جی جہانگیر کلکشن۔ بمبئی                              1اوراق

    ساوتھ کنیگسیٹن میوزیم۔ لندن        25اوراق          بڑودہ پکچر گیلری                                 1اوراق

    کٹوریہ البرٹ میوزیم۔ لندن            28اوراق          برٹش میوزیم۔ لندن                             5اوراق

                                                             چنڈی گڑھ میوزیم                                1اوراق

    یہ تصاویر بہت عمدہ باریک کپڑے پر بنی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ اس نسخہ کی تیاری کے لیے50مصوروں کو لگایا گیا تھا لیکن شاہنواز خاں نے ان کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی ان تصاویر پر کہیں نام تحریر کیے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نسخہ کی تکمیل کے لیے مقامی مصوروں کی مدد لی گئی ہو گی۔ کیوں کہ بعض تصاویر میں ہندوستانی ہم عصر مصوری کے نشانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً ایک تصویر بنام "سوتا ہوا دیوز مرد" میں اوپری دائیں جانب ایک گاؤں کی منظر ہے جس میں دو عورتیں جو بالکل ہندوستانی وضع   میں ملبوس ہیں کنویں سے پانی بھر رہی ہیں۔ پاس ہی کچھ بھینسیں اور ایک چرواہا ہے۔ ایک آدمی بھینس سے دودھ دوھ رہا ہے اور کچھ چھپر کے گھرد کھائے گئے ہیں۔ بظاہر اس حصے کا تصویر کے موضوع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ دراصل مصور نے جگہ کو پُر کرنے کی عرض سے غالباً یہ منظر وہاں پر دکھادیا لیکن جس مصور نے یہ تصیر بنائی ہے اس کا ہندوستانی دیہی سماج سے گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے کیوں کہ تصویر کے اس حصے میں بغیر کسی تصنع کے بڑی سادگی کے ساتھ دیہی ماحوال کی عکاسی کی گئی ہے لیکن تصویر کے دوسرے حصوں میں ایرانی اثرات جلوہ گر ہیں یعنی خصوصی انداز کی ایرانی پوشاکیں آرائشی طرز میں پھول دار جڑی بوٹیاں۔ پیر پودے۔ سپاٹ رنگ آمیزی۔ باریک خطوط اؤ مسجع نگاری سبھی ایرانی ہراتی اسلوب پر مبنی ہین۔ اس طرح نسخہ امیر حمزہ کی تصاویر میں مختلف مقامی اثرات اور ایرانی روایات یکجا کام کرتے نظر آتے ہیں۔

     

     

    طلسم و منتطقہ البروج

    یہ مرقع نسخہ رضا لائبریری رام پور کے کلکشن میں ہے۔ اس کے 16 اوراق (سائز 13”x18” ) کے دونوں صفحات پر تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ یہ تصاویر کاغذ پر بنا کر نفیس کپڑے پر چپکا دی گئی ہیں۔ ان تصاویر پر نہ ہی کسی مصور کے دستخط ہیں اور نہ ہی کہیں ایسی عبارت ملتی ہے جس سے یہ اندازہ لگ سکے کہ یہ نسخہ کس کی ایماء پر تیار کیا گیا لیکن تصاویر کا طرز "داستان امیر حمزہ" کے فنی اسلوب سے بہت ملتا جلتا ہے لہٰذا یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ نسخہ "داستان امیر حمزہ" کا ہم عصر ہے اور غالباً اکبر کی یماء پر تیار ہوا۔ اس نسخہ میں سلسمات کے موضوع پر تصاویر بنائی گئی ہیں جو بڑی دلچسپ ہیں۔ بناوت میں قدرتی عنصر زیادہ ہے خصوصاً تصاویر کے پشی منظر میں جو قدرتی مناظر پیش کیے گئے ہیں ان کی اپنی ہی انفرادیت ہے۔ یہاں تصاویر میں رمزیت سے کام لیا گیا ہے جس سے استعجابیت پیدا ہو گئی ہے۔

    دیول دیوی خضرخاں

    یہ نسخہ راجہ انہل پور کی لڑکی دیول دیوی اور سلطان علاؤ الدین خلجی کے بڑے لڑکے شہزادہ خضر خاں کے عشق کی داستان ہے جسے خواجہ امیر خسرو نے مثنوی کی صورت میں لکھا تھا۔ اس نسخہ کی ایک نقل خط نستعلیق میں لکھی ہوئی اور 1568کی تاریخ شدہ نیشنل میوزیم دہلی کے کلکشن میں محفوظ ہے۔ اس نسخہ میں فقط دو تصاویر ہیں۔ ایک تسویر میں شہزادہ موسیقی اور رقص سے محظوظ ہو رہا ہے اور دوسری تسویر میں شہزادہ ایک بگڑے ہوئے گھوڑے کو دیکھ رہا ہے جسے سدھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اول الذکر تصویر ایرانی طرز میں بنی ہوئی ہے لیکن دوسری تسویر میں ہندوستانی عنصر بدرجہ اتم موجود ہے، خصوصاً چورا پنچکا طرز کے بعض عناصر مثلاً تعمیرانی تنظیم اور ڈیزائن و ہرائے گئے ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر کے دربار میں مختلف ممقامی مصوروں نے اپنی ہندوستانی روایات اور ایرانی قلم کے امتزاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ حالاں کہ یہاں ایرانی قلم کی طرح رنگوں میں چمک نہیں ہے بلکہ خشکی پن زیادہ ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ہر رنگ میں سفید رنگ کی مقدار زیادہ سہے لیکن نیلے رنگ کی ترتیب بہت عمدہ ہے۔ خطوط کی روانی میں حمزہ اسلوب کی جھلک ہے جس میں تونائی ہے۔ ماحول کے مطابق اشکال میں جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ ہم عصر مغل خیا طانہ فیشن کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ سایہ اور روشنی کے ذریعہ بدن کی گولائی۔ کپڑوں کی شکنیں بہت ہی قدرتی انداز میں ہیں۔

    طوطی نامہ

    یہ ایک طوطے کی رومانی داستان ہے جو ضیاء الدین نے چودھویں صدی کے اولین حصے میں لکھی تھی۔ لیکن اس نسخہ کی ایک نقل سولھویں صدی کی چھٹی دہائی میں اکبر کے دربار میں تیار کی گئی اور اسے مرقع کیا گیا۔ اس نسخے کی بہرحال تین کاپیاں ہیں جو کلیو لینڈ میوزیم۔ چسٹربیٹی کلکشن اور بیران۔ ای۔ایس فولے ڈی کونچ کلکشن میں ہیں۔ جو نسخہ کلیو لینڈ میوزیم میں ہے اُس میں "چورا پنچکا گروپ" کے اثرات بہت زیادہ ملتے ہیں۔ اس میں ایک تسویر اکبر کے دربار کے مشہور مصور بساون کی بنائی ہوئی ہے جس میں ایک بہیلیا(چری مار) طوطے کی خصوصیات بیان کر رہا ہے اس تصویر میں بساون کی روایتی ہندوستانی طرز سے اُنسیدت صاف دکھائی دیتی ہے۔

    انوار سہیلی

    اس نسخہ کی ایک نقل اسکول آف اورینٹل ایند فریقن اسٹڈیز۔ لندن یونیورستی کے کلکشن میں ہے یہ ابتدائی مغل مصوری کا ایسا واحد نسخہ ہے جو تاریخ شدہ ہے۔ یہ نسخہ ہندوستانی صحیفہ پنچ تنستر کا فارسی ترجمہ ہے جسے مولانا نصر اللہ مصطفی اور مپلا حسین واعظ کاشفی نے عربی ترجمہ کلیلہ دو منہ" سے کیا تھا۔ اس نسخہ میں نصیحت آمیز کہانیاں ملتی ہیں جسے مصوروں نے بہت خوبصورت طریقے سے مرقع کیا ہے۔ جانوروں کو خصوصاً زندگی سے بھرپور بنا دیا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح بڑے ڈرامائی انداز میں کہانی کے کردار سے انصاف کرتے دکھائی دیتے ہیں ان میں زبردست نقل و حرکت ہے۔ سایہ اور روشنی   کے امتزاج سے اُن میں قدرتی رنگ بھرا گیا ہے۔ پس منظر میں زیادہ تر برگد۔ آم اور تاڑ کے درخت دکھائے گئے ہیں۔ پانی کے چشمے ایرانی اسلوب سے کافی مشابہ ہیں۔

    14ویں سنہ جلوس میں یعنی 1569میں شہزادہ سلیم کی پیدائش کے بعد اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا دارالخلافہ آگرہ سے فتح پور سیکری منتقل کرے گا جہاں حضرت شیخ سلیم چشیؒ کی درگاہ ہے اور جن کے فیض سے اکبر کو اولاد نرینہ نصیب ہوئی تھی لہٰذا فتح پور سیکری کے محلات بنانے کا کام شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے فقط چار سال کے عرسہ میں کم و بیش کام پورا ہو گیا لیکن مزید ایوان اور متعلقہ ادارے حسب جرورت بعد میں بھی بنتے رہے۔ شاہی مکتب خانہ کے ہال کی لمبائی 44فٹ 6انچ اور چوڑائی 28فٹ6انچ تھی۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ یہی جگہ خطاطوں۔ ترجمہ نگاروں اور مصوروں کے روزمرہ کے کام کے لیے مخصوص تھی جو بادشاہ کے زیر نگرانی کام کرتے تھے۔ مندرجہ ذیل مرقع نسخے غالباً سیکری اسٹودیومیں تیار کیے گئے۔

    تاریخ خاندان تیموریہ

    خدا بخش لائبریری پٹنہ میں محفوظ اس نسخہ میں 113 تصاویر ہیں۔ اس نسخہ کے ایک صفحہ پر تحریر ہے کہ اس کو پورا کرنے میں 8000روپیہ خرچ ہوئے۔ نسخہ کے شروع میں بقلم بادشاہ شاہجہاں تحریر ہے کہ اس تاریخ میں تیمور صاحبقراں سے لیکر اکبر کے 22ویں سنہ جلوس تک کے واقعات قلم بند کیے گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں اکبر کے 19ویں سنہ جلوس تک کے واقعات درج ہیں۔ 20ویں۔ 21ویں اور 22ویں سنہ جلوس کے واقعات نہیں ہیں۔ دراصل 19ویں سنہ جلوس میں ابو الغفل کے دربار میں پہنچنے   کے بعد ہی ایسا لگتا ہے کہ اس نسخہ کو یہیں تک چھوڑ دیا گیا۔ غالباً یہ طے پایا ہو گا کہ از سرِ نو اکبری تاریخ لکھی جائے جو اکبر نامہ کی صورت میں ابو الفضل نے بعد میں تیار کر کے اکبر کی خدمت میں پیش کیا۔ اس نسخہ کا نام کیا ہے اور اسے کس نے تحریر کیا ہے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ لیکن اس کے ایک صفحہ پر "تاریخِ خاندان تیموریہ" درج ہونے کی وجہ سے مؤرخیں نے اسے اسی نام سے موسوم کر دیا ہے۔ کسی جلد نگار نے اس نسخہ کی جلد بندی کے وقت کافی لا پرواہی برتی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حاشیہ میں لکھے ہوئے بہت سے مصوروں کے نام کٹ گئے ہیں۔ جو باقی بچے ہیں ان میں سے 53مصوروں کے نام حسبِ ذیل ہیں۔

    دسونت۔ بساون۔ مادھو کلاں۔ کیسو۔ اننت۔ ساہو۔ سور جو گجراتی۔ دیوجی گھبراتی۔ پریم جیو گجراتی۔ ناما۔ مینہ بہزاد۔ سادھو کورد۔ لال۔ مُکند کھیم۔ جگن ناتھ۔ سنولہ۔ رام داس۔ سرون۔ نہتا۔ تُلسی کلاں۔ تپلسی خورد۔ نند گوالیاری۔ دھنو۔ بھورہ۔ دھرم داس۔ کنک۔ جگجیون۔ اسی۔ بھگوان۔ مورجن۔ سورد اس ولد ایسر۔ بھیم جیو گجراتی۔ سنکر۔ جگن۔ نارائن۔ کنہیا۔ کھیمن۔ سنگتراش۔ متوہرا۔ پارس۔ کھیم کرن۔ منوہر۔ لوہنگا۔ مُلاشاہ محمد۔ حسین نقاش، محمد کشمیری۔ حیدر کشمیری۔ کمال کشمیری۔ مخلص۔ فرخ مسکین اور علی ولد مخلص

    میرا خیال ہے کہ مندرجہ بالا مصور اکبر کے سنہ جلوس کی پہلی دو دہائیوں میں ہی دربار میں ملازم ہو گئے تھے اور غالباً انہیں مصوروں نے حمزہ نامہ کی تکمیل میں حصہ لیا ہو گا۔ اسی نسخہ میں ہمیں اس بات کی بھی شہادت ملتی ہے کہ مصوروں نے مل جل کر ایک نسخہ کی مرقع نگاری میں کام کرنا شروع کیا یعنی ایک ہی تصویر میں کاکہ یا طرح کسی نے تیار کی ۔ شبیہہ کسی دوسرے نے اورنگ آمیزی تیسرے نے کی لیکن جہاں تک اس نسخہ کیتصاویر کا تعلق ہے وہ انتہائی شائستہ۔ نازک و سُبک اور غیر معمولی نپدرت کی حامل ہیں اور واقعات کو بڑی مشاقی سے مرقع کیا گیا ہے۔

    دیواری تصاویر

    مؤرخیں کا خیال ہے کہ فتح پور سیکری کے محلات کی دیواریں کسی وقت تصاویر سے مزین رہی ہوں گی کیوں کہ کہیں کہیں اب بھی ان تصاویر کے نشانات باقی رہ گئے ہیں۔ 1894میں ای۔ ڈبلیو۔ اسمتھ اپنی تسنیف مغل ارکیتکچر آف فتح پور سیکری میں لکھتے ہیں کہ مریم زمانی کے محل کی دیواروں اور محل خاص کی خوابطہ میں تصویروں کے نشانات باقی ہیں۔ اسمتھ نے ان نشانات کے جو خاکے پیش کیے ہیں اُن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو ایرانی اسلوب پر مبنی ہیں اور دوسرے ہو جو ہندوستانی طرز میں ہندوستانی موضوعات لیے ہوئے مرقع کیے گئے ہیں۔ ایرانی طرز کی تصاویر میں محل خاص کے خابگاہ کے مشرقی دروازے کے اوپر کھڑکی کیایک جانب ایک منظر پیش کیا گیا ہے جس میں گہرے نیلے رنگ سے آسمان دکھایا گیا ہے اور مرکزی حصے میں ایک فرشتہ ایک نوزائیدہ بچے کو ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ غالباً یہاں شہزادہ سلیم کی پیشائش کا ایک تخلیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ چاروں طرف پہاڑیاں ہیں اور پہاڑی کی ایک چوٹی پر ایک مور بیٹھا ہے۔

    مریم زمانی کے محل کی شمالی دیوار پر ایک خوبصورت باغ کا منظر ہے جس میں چنار اور سرد کے درختوں کے درمیان مورناچتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اسی دیوار پر دوسری تصویر ہے جس میں ایک چنار کے پیڑ پر چڑیوں کو پھدکتے اور چہچہاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک دوسری تصویر میں ایک ہاتھی نے ایک جنگلی سور کو اپنی سونڈ میں اٹھائے ہوئے دکھایا ہے اور ایک گھوڑ سوار اپنے خنجر سے سور کو مار رہا ہے اور پیچھے سے ایک شیر کو حملہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ شمالی مشرقی کونے کے پاس ایک مندر کی تصویربنائی گئی ہے جو مریم زمانی کے مذہبی احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔

    محل خاص کی خوابگاہ کے برآمدے میں بیلوں کی لرائی کا ایک منظر ہے۔ ان کے خطوط اور بناوٹ میں اجنتا طرز مصوری کی جھلک ملتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی دیواری تصاویر کی روایات اس وقت زندہ تھیں اور اس کے ماہرین فن اس وقت موجود تھے۔ اسی خوابگاہ کے شمالی دروازے کے قریب کچھ اس قسم کی تسویر ہے جیسے کسی ہندوستانی مندر کی دیواروں میں بُت کُھدے ہوئے ہوں۔ ان کی بنوٹ سے کسی ہندو مذہبی موضوع کا گمان ہوتا ہے لیکن تصویر اس قدر خستہ حالت میں ہے کہ موضوع کلیتاً واضع نہیں ہو پاتا۔ اسی کمرے کی شمالی دیوار پر ایک کشتی میں سوار کچھ مسافر دکھائے گئے ہیں۔ پس منظر میں کچھ مکانوں کو افق کے پاس دکھایا گیا ہے۔ ان خاکوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مصوروں نے تفصیلات سے گریز کیا ہے اور اصل موضوع پر زیادہ توجہ برتی گئی ہے۔ تنظیم بڑی کشادہ ہے مگر ان کی رنگ آمیزی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ اس کے مستند حوالے نہیں ملتے۔

    گلستانِ سعدی

    مرقع گلستانِ سعدی رائل ایشیا ٹک سوسائٹی آف گریٹ برٹین اینڈ آترلینڈ لندن کے کلکشن میں محفوظ ہے۔ اس نسخہ کے آخری صفحہ پر تحریر ہے کہ اسے1581میں محمد ھسین کشمیری زریں قلم نے فتح پور سیکری میں پورا کیا۔ یہ نسخہ130اوراق پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ انتہائی مزین ہے۔ جگہ جگہ چرندوں۔ پرندوں۔ پھولوں اور پتیوں سے اس کی آرائش میں اضافہ کیا گیا ہے۔ آخری صفحہ پر دو اشخاص کی شبیہیں ہیں ایک کی عمر 40/45 کے قریب ہے جو ایک کاغذ پر لکھتا ہوا دکھایا گیا ہے جس پر تحریر ہے" اللہ اکبر۔ شبیہہ زریں قلم" اسی طرح سامنے دوسرا شخص ہے جس کی عمر 16برس کے لگ بھگ ہوئ گئی۔ یہ بھی کاغذ اور قلم لیے ہے اور کاغذ پر لکھا ہے؟ عمل منوہر ولد بساون"۔ پاس ہی ایک خادم کو کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ہندوستانی فن مصوری کی تاریخ میں فن شبیہہ کشی کو جتنا مغل دور میں عروج حاصل ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے کیوں کہ مغل بادشاہوں اور اُمراٗ کو اس فن سے بڑی گہری دلچشپی تھی۔ خصوصاًاکبر اپنی شبیہہ بنوانے کے لیے کود بیٹھتا تھا اور حکم عام تھا کہ اس کی سلطنت کے تمام امراٗ کی شبیہیں تیار کی جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بڑا نادر شخصی تصاویر کا البم تیار ہو گیا۔ ابو الفضل نے لکھا ہے کہ اس البم کے وجود سے جو لوگ گذر گئے ہیں اُنہیں نئی زندگی ملی ہے اور جو ابھی حیات ہیں انہیں حیاتِ ابدی مل گئی ہے۔

    تاریک الفی

    1582میں اکبر نے حکم دیا کہ حضرت محمدﷺ کی ہجرت کی تاریخ کو اب ایک ہزار سال کا وقفہ ہو چکا ہے اور ابھی تک تاریخیں ہجرت کے دن سے ہی لکھی جاتی رہی ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مسلم دور کی ایک ہزار سالہ تاریخ لکھی جائے جسے ـ تاریخِالفی ـ کہاجائے اور آئندہ تاریخی حساب بجائے ہجرت کی تاریخ کے وفات کی تاریخ سے رکھا جائے۔ اس کام کے لیے سات اصحات نقیب خاں۔ شاہ فتح اللہ۔ حکیم حمام۔ حکیم علی۔ حاجی ابراہیم سرہندی۔ مرزا نظام الدین احمد اور عبدالقادر بدایونی کو منٹخب کیا گیا اور یہ فرمائش کی گئی کہ حضرت محمد ﷺ کی وفات کے دن سے 1592تک کے واقعاتِ اسلامیہ درج کیے جائیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام پورا نہیں ہوا کیوں کہ اس نسخہ میں 1590کے ٓگے کے اقعات قلم بند نہیں ہیں حالاں کہ 95۔1594میں اس نسخہ کی نظرچانی کا حکم ملا تھا اس نسخہ کے اوراق برٹش میوزیم۔ کلیو لینڈ میوزیم اور فریر گیلری میں منقسم بتائے جاتے ہیں۔

    اس نسخہ کی تصاویر کی ترتیب و تنظیم قدرے مختلف ہے۔ غالباً مغل نسخوں کی تاریخ میں پہلی بار تصویر صفحہ کے ایک پہلو پربنائی جانے لگی اور یہ حاشیہ سے ملی ہوئی ہوتی ہے جبکہ دوسرے نسخوں میں عموماً صفحہ کے مرکزی حصہ میں یا پھر پورے صفحہ پر تصاویر ہوتی تھیں۔ بعض جگہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصاویر پہلے بنائی گئیں اور مسودہ بعد میں لکھا گیا کیوں کہ حسب ضرورت مسودہ کی جگہ کو نکالنے کے لیے بعض دفعہ تصویر کے کسی حصے کو مٹایا ہوا لگتا ہے۔ اس طرح کہیں ٓدمیوں کے سرمسودہ کے اوپر دکھائی دیتے ہیں اور دھڑ مسودہ کے نیچے عموماً مؤرخیں کا خیال ہے کہ یہ مغل مصوری کی انتہائی کامیاب اور نادر نمونے ہیں لیکن گرے کا کہنا ہے کہ ان تصاویر میں انسانی شکلیں جذبات سے عاری ہیں۔ میرے خیال میں ان تصاویر کی تنظیم بڑی انفرادی حیثیت کی حامل ہے اور بڑی جدت سے کام کیا گیا ہے۔

    رزم نامہ

    1582کے واقعات قلم بند کرتے ہوئے بدایونی اپنی منتخب التواریخ میں لکھتا ہے کہ اس سال ہندووں کی مشہور کتاب مہا بھارت کے ترجمے کا کام شروع ہوا جس میں طرح طرح کے قصے۔ اخلاقی باتیں اور ہداَمتیں ملتی ہیں۔ ہندو مذہب   علوم و فنان اور عبارت کے طریقے بتائے گئے ہیں یہ ایک تاریخی جنگ ہے جو دو جماعتوں کو رد اور پانڈو کے درمیان چار ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ8 ہزار سال پہلے کا ہے۔ اس کتاب کا فارسی ترجمہ نقیب خاں۔ عبدالقادر بدایونی اور شیخ سلطان تھانیسری نے مل کر1589میں پورا کیا۔ اس مرقع نسخے کی اصل کاپی جے پور پیلس میوزیم کے کلکشن میں ہے اس کتاب کو مرقع کرنے کے لیے4لاکھ روپیہ مصوروں پر صوف کیا گیا۔ اس نسخہ میں 169پورے صفحہ کی سائز کی تصاویر ہیں اور جن مصوروں نے تصاویر بنائی ہیں ان کے نام حاشیہ پر درج ہیں۔ یہ تصاویر تنظیم اور ترتیب کے لحاظ سے بہت زیادہ گنجان ہیں لیکن رنگ بہت چٹکیلے ہیں۔ خاکے اور خطوط ہندوستانی روایتی طرز پر ہیں۔ چوں کہ موضوع قعی ہندوستانی ہے لہٰذا پرانی ہندو تہذیب و تمدن کا بہترین عکس ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

    کچھ سیاسی اور قدرتی اسباب کی بناء پر اکبر نے اپنا دارالخلافہ سیکری سے لاہور منتقل کرنے کے لیے 1582 میں حکم دیا لیکن اکبر بذات خود 1585میں لاہور پہنچا اور 1601تک یہیں مقیم رہا۔ لیکن اسی درمیان شہزادہ سلیم نے بغاوت کر دی جس کی وجہ سے اکبر کو آگرہ واپس آنا پڑا جہاں اُس کی17اکتوبر 1605 کو وفات ہو گئی۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ دارالسلطنت کے منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ تمام شاہی کارخانے۔ کتب خانہ اور نگار خانہ سبھی لاہور منتقل ہو گیا ہو گا کیوں کہ مندرجہ ذیل نسخے لاہور اسٹوڈیو میں مرقع کیے گئے۔

    دیوانِ انوری

    اس دیوان کو 1588میں لاہور میں مرقع کیا گیا اور اب فاگ آرٹ میوزیم کے مجموعہ میں محفوظ ہے۔ یہ نسخہ اکبری مصوری کی ایک ایسی مثال ہے جس میں عنائیت اور مرصع نگاری کی بُہتات دکھائی دیتی ہے۔ یہ نسخہ اتنا چھوٹا ہے کہ آسانی سے جیب میں رکھا جا سکتا ہے اور اتنے باریک کاغذ پر لکھا گیا ہے جیسے کہ تتلی کے پَر ہوں۔ اس نسخے میں 15 تصاویر ہیں جو نہایت ہی سُبک اور خوبصورت ہیں۔ بساون۔ کھیم کرن۔ ننہا اور مسکین جیسے با کمال مصوروں نے اس نسخے کو مرقع کیا ہے۔

    رائن

    مُلا بدایونی لکھتے ہیں کہ 1585 میں ختم ہو گیا۔ اس نسخہ میں 120 جُز ہیں اور 25،000اشلوک ہیں اور ہر اشلوک میں 65الفاظ ہیں۔ بقول ابوالفضل اس نسخہ کو بہت خوبصورت طریقے سے مرقع کیا گیا تھا لیکن شاہی نسخہ کہیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مؤرخیں کا خیال ہے کہ یہ غالباً برباد ہو گیا ہو گا۔ بہر حال اس نسخہ کی ایک کاپی جو عبدالرحیم خانخاناں کے لیے تیار کی گئی تھی فریر گیلری واشنگٹن میں محفوظ ہے اس میں ۱۳۰ تصاویر ایسی ہیں جن میں ۱۲مندرجہ ذیل مصوروں کے نام درج ہیں۔ فاضل۔ کالے بہار۔ کامل۔ موہن۔ مشفق۔ ندیم۔ نادر۔ قاسم۔ سعدی۔ شیام سندر۔ یوسف علی اور زین العابدین خانخاناں نے اس نسخے کے ایک صفحہ پر تحریر کیا ہے کہ یہ نسخہ مُلا شکابی امامی کی دیکھ ریکھ میں پورا ہوا۔ ان تصاویر میں رزم نامہ کی روایات کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔

     

     

    دیوانِ حافظ

    سولھویں صدی کی نویں دہائی میں مرقع دیوانِ حافظ لاہور اسٹودیو میں تیار کیا گیا۔ اس نسخے کی تین کاپیاں دستیاب ہو چکی ہیں۔ ایک کاپی کے کچھ اوراق برٹش میوزیم اور کچھ چسٹربیٹی کے کلکشن میں محفوظ ہیں۔ دوسری کاپی چسٹربیٹی اور تیسری کاپی رام پور اسٹیٹ لائبریری میں ہے جس میں ۱۱اکبری اسٹوڈیو کے مشہور مصوروں کی تصاویر ہیں۔ ان تصاویر میں رمزیت اور استعجابی کیفیت بدرجہ اتم ملتی ہے۔

    دیوانِ شاہی

    ۱۵ویں صدری میں ٓغا ملک شاہی ایران کے مشہور شاعروں میں سے ایک تھے۔ ان کے دیوان کی ایک مرقع کاپی شاہی کتب خانہ کے لیے غالباً 1595میں لاہور میں تیار کی گئی اور اب ببلیو تھکے نشیلے۔ پیرس کے مجموعہ میں محفوط ہے۔ اس میں بھی ـ دیوان حافظ ـ کی طرح نازکی قلم کا مظاہرہ اور رمزیت کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔

    بہار ستانِ جامی

    محمد حسین کشمیری زریں قلم نے مولانا جامی کی تصنیف ـ بہار ستان ـ شاہی کتب خانہ کے لیے لکھی جو اَب بودلین لائبریری۔ ٓکسفورڈ کے کلکشن میں ہے۔ اس نسخہ میں کل چھ تصاویر ہیں جنہیں بساون۔ نرسنگھ۔ مسکین۔ سرون اور منصورنے بنائی ہیں۔ اس نسخہ کی تصاویر دیوان حافظ سے کافی متاثر معلوم ہوتی ہیں۔ ان تصاویر میں رمزیت کے علاوہ مصوروں نے حقیقت نگاری پر بہت زور دیا ہے۔

    جامع التواریخ

    تیرھویں صدی میں ایران کے مشہور مورخ مولانا رشید الدین فضل اللہ نے جامع التواریخ کے نام سے چنگیز خاں کے خاندان کی تاریخ لکھی تھی۔ لاہور اسٹوڈیو میں اس نسخہ کو نقل کرا کے مرقع کروایا گیا۔ غالباً نادر شاہ نے اپنے حملے کے دوران اس نسخہ کو اپنے ذاتی کلکشن میں لے لیا اور اب امپیریل لائبریری۔ تہران میں محفوظ ہے۔ اس نسخہ میں درج ہے کہ کاتب نے۲۷رمضان 1004ھ کو یعنی 41ویں سنہ جلوس میں ختم کی اس نسخہ میں 304اوراق ہیں اور 98پورے صفحہ کے برابر تصاویر ہیں۔ ان تصاویر میں جن خصوصی مصوروں نے کام کیا ہے اُن کے اسمائے گرامی ہیں۔ بساون۔ لعل۔ مسکین۔ فرخ۔ مادھو۔ مُکند۔ کھیم کرن۔ دھرم داس۔ سانولہ۔ کیسو کلاں۔ دھنو۔ سورداس اور مجھیم گجراتی۔ اس نسخہ میں بھی مصوروں نے شرکتِ محنت کے اصول کو اپنایا ہے یعنی ایک نے طرح بنائی دوسرے نے رنگ آمیزی کی تو تیسرے نے شبیہہ کے نوک پلک درست کیے "خمسئہ امیر خسرو" امیر خسرو(1325۔1253)صوفی بزرگ فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ ان کے کلام کی مٹھاس اور بلیغ انداز بیان کی وجہ سے انہیں "طوطی ہند" کہا گیا ہے۔ ان کا ایک دیوان جو "خمسئہ امیر خسرو" کے نام سے مشہور ہے محمدﷺ حسین زریں قلم نے اکبر کے 42 ویں سنہ جلوس میں تیار کیا اور یہ نسخہ اب والٹر آرٹ گیلری۔ بالٹی مور میں محفوط ہے۔ اس نسخہ میں 21تصاویر ہیں اور لعل۔ سانولہ۔ منوہر علی قُلی۔ دھرم داس۔ نرسنگھ۔ جگن ناتھ۔ سورداس گجراتی مسکین اور فرخ بیگ جیسے نامور فنکاروں نے مرقع کیا ہے۔

    بابر نامہ:

    بادشاہ بابر کی48سالہ زندگی کے واقعات بابر نے خود ہی تُرکی زبان میں "تزک بابری" کے نام سے قلم بند کیے تھے۔ اکبر نے عدبالرحیم خانخاناں کو حکم دیا کہ اس نسخہ کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا جائے۔ حسب الحکم خانخاناں نے ترجمہ کی ایک کاپی نومبر1589کو پیش کر دی۔ بابر نامہ کی مختلف کاپیاں اور کچھ منتشر اوراق دنیا کے مختلف میوزیم میں موجود ہیں۔ مثلاً بادلیں لائبریری۔ آکسفورد۔ برٹش میوزیم۔ لندن۔ وکٹوریہ البرٹ میوزیم۔ لندن۔ لُووَر میوزیم۔ پیرس۔ اسٹیٹ میوزیم آف ایسٹرن کلچر   ماسکو اور نیشنل میوزیم۔ نئی دہلی۔ ناقدین کا قیاس ہے کہ پیرس۔ ماسکو اور آکسفورڈ میں محفوظ اوراق ایک ہی نسخہ کے اوراق معلوم ہوتے ہیں۔ برٹش میوزیم کی کاپی میں 68 تصاویر ہیں جو دستخط شدہ ہیں۔(یعنی اُن پر نام لکھے ہوئے ہیں) وکٹوریہ البرٹ کی کاپی ادھوری ہے جس میں بشن داس۔ مکند۔ لعل۔ پارس۔ رام داس۔ دیوجی۔ اسمعیل اور یعقوب کشمیری کی بنائی ہوئی صرف17تصاویر ہیں لیکن ماسکو کی کاپی میں کسی مصور کا نام درج نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے مؤرخیں اس نسخہ سے متعلق کوئی جامع رائے نہیں قائم کر سکے۔

    نیشنل میوزیم ۔ نئی دہلی کے نسخہ کے 116ویں ورق پر مصور کھیم کی بنائی ہوئی تسویر ہے جس کے ایک جانب درج ہے کہ یہ نسخہ اکبر کے 42 ویں سنہ جلوس میں مصور کیا گیا۔ چوں کہ اس نسخہ پر شہنشاہ شاہجہاں کے دستخط ہیں لہٰذا قیاس یہ ہے کہ یہی شاہی نسخہ ہے۔ اس میں کل 183تصاویر ہیں جن میں مندرجہ ذیل مصوروں کے نام حاشیوں پر تحریر ہیں۔

    اننت۔ آسی۔ آسی کہار۔ مسکین۔ جمشید۔ دولت۔ دھنو۔ محمد کشمیری۔ نقی خانہ زاد۔ نرسنگھ۔ پارس۔ مہیش۔ حضرا۔ ابراہیم کہار۔ کھیم۔ گوبند۔ سنکر۔ جمال۔ دولت خانزادان۔ دھرم داس۔ شیو داس۔ نند کلاں۔ ننھا۔ پریم۔ لچھمن۔ فرخ چیلا۔ کیسو کہار۔ کھیم کرن۔ منگرا۔ جگن ناتھ۔ تُلسی۔ دھن راج۔ منصور۔ حسین چیلا۔ نند کنور۔ پیاگ۔ مادھو۔ بھگوان۔ فتو۔ سرون۔ بندی۔ بنواری خرد۔ بہاگ۔ بھیم گجراتی۔ لمگا۔ بھوانی۔ بھورہ ۔ اور سورداس۔

    اس نسخہ کی تمام تصاویر میں بڑی نفاست۔ مشاق دستکاری۔ قوت تخیل۔ شوخ رنگ آمیزی اور با اثر تمثیل ملتی ہے۔

     

    جوگ وشسٹ

    چسٹربیٹی کلکشن میں محفوظ یہ نسخہ رشی بالمیکی کا لکھا ہوا بیان کیا جاتا ہے جس کا سنسکرت سے فارسی زبان میں فارمولی نے ترجمہ کیا تھا۔ اس نسخہ میں ہندو روحانی اسراری کیفیتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اکبر نے اس نسخہ کے ترجمہ کا حکام1597میں دیا تھا جو دسمبر 1602میں پورا ہوا۔ اس نسخہ کے آخری صفحہ پر مختلف دروغہ کتب خانہ اور شہنشاہ جہانگیر اور شاہجہاں کے دستخط ہیں۔ یہ نسخہ بہت ہی خوبصورت خطِ نستعلیق میں تحریر کیا ہوا ہے اور اس میں 41تصاویر ہیں جو پورے صفحہ کے سائز کی ہیں۔ جلد ساز کی لاپرواہی کی وجہ سے مصوروں کے نام حاشیہ پر سے کٹ گئے۔ بہر حال ہربنس۔ نریا۔ بشن داس اور کیسو کے نام پڑھے جاتے ہیں۔ اس نسخہ کی تصاویر کا انداز تشریح قدرے مختلف ہے اور کلاسیکی ہندوستانی فنی روایات پر زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

    عجائب المخلوقات

    نسخہ عجائب المخلوقات کو عربی نسل کے ایک عالم ذکریا قیزونی(83۔1203) نے لکھا تھا۔ اکبر کے حکم سے اس نسخہ کی نقل تیار کی گئی اور مرقع کیا گیا۔ اس نسخہ کے چھ مرقع اوراق جس میں بھگوان۔ ابراہیم کہار۔ کیسو خورد ۔ مہیش بھورہ۔ کنہیا۔ منی اور مسکین کے نام تحریر ہیں، چسٹر بیٹی مجموعہ میں محفوط ہیں۔ بقیہ صفحات کا پتہ ابھی تک نہیں لگ سکا ہے۔ اس کی تاریخ مرقع کے بارے میں زیادہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال مؤرخیں کا خیال ہے کہ یہ نسخہ 17ویں صدی کے اوّلین ایّام میں تیار کیا گیا۔

     

    عیار دانش

    ابوالفضل نے نسخہ کلیہ و د منہ کا فارسی ترجمہ 10جولائی 1588کو پورا کیا اور اس کا نام عیار دانش رکھا۔ لیکن شاہی لائبریری میں اندراج کی تاریخ تحریر نہیں کی گئی۔ ناقدین اسے سبھی "عجائب المخلوقات" کا ہم عصر تسور کرتے ہیں۔ چسٹربیٹی کلکشن میں محفوظ اس نسخہ میں 164تصاویر تھیں لیکن اب صرف96موجود ہیں جن میں مندرجہ ذیل مصوروں کے نام حاشیوں پر تحریر ہیں۔

    اننت، بنواری کلاں، دولت، ابراہیم، کیسو گجراتی، منگرا، نند، سانولہ، شیو داس، سُرجن، ہامتر، تُریا، آسی، بنواری خور، دھنو، کمالی چیلہ، کھیم خورد، منی، لپاگ، سنکر، شیوراج گجراتی، تھرپال، جگن ناتھ، بندی کلاں، بھیم گجراتی، دھرمداس توندہ، کییسو خورد، مادھو کلاں، ننہا، پارس، شنکر گجراتی، شیام، تلسی اور سورداس۔

    اس نسخہ کے خاص کردار چڑیاں اور جانور ہیں جو کہانی کے اعتبار سے انسانوں کی طرح حرکت کرتے اور باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مسودہ کو بغیر پڑھے ان تصاویر ہی سے ساری کہانی کا ماحصل سمجھا جا سکتا ہے۔

    اکبر نامہ

    اکبر نامہ یعنی سوانحِ حیات اکبر ابوالفضل کی بڑی جامع اور معرکتہ الآرا تصنیف ہے جس میں اکبری عہد کے 1601 تک کے واقعات درج ہیں۔ اس نسخہ کی دو مرقع کاپیاں وکٹوریہ البرٹ میوزیم لندن اور چسٹربیٹی لائبریری میں موجود ہیں۔ ناقدین کا قیاس ہے کہ اس نسخہ کی گئی مرقع کاپیاں تیار کی گئی ہونگی وکٹوریہ البرٹ میوزیم کے نسخہ میں 117تصاویر ہیں جبکہ چسٹر بیٹی نسخہ میں 61 ہیں۔ اس نسخہ کے 12 مشہور مصوروں کے نام تصاویر لے حاشیوں پر تحریر ہیں ان کے اسمائے گرامی ہیں:۔ احمد، بالچند، دھن راج، فرخ، عنایت، لعل، منوہر مکند، پدارتھ، سنکر، اننت، دولت، دھرم داس، گوردھن، کھیم کرن، مادھو، میر تقی، نرسنگھ، سانولہ، اور سورداس گلستان لائبریری کے نسخہ میں شنکر، بھیم اور بساون کے نام ملتے ہیں۔

    نفحات الاُنس

    مولانا جامی کی یہ تصنیف نثر میں ہے جس کی ایک نقل اکبر کے لئے 1603میں تیار کی گئی۔ یہ نسخہ برٹش میوزیم لندن کے مجموعہ میں محفوط ہے اس میں 17تصاویر ہیں جو پورے صفحہ کے برابر کی ہیں۔ انہیں ابوالحسن، محمد رضا مرید، مرزا غلام، اننت اور آقارضائے مرقع کیا ہے ان میں کچھ تصاویر صرف ہلکے خاکے کی صورت میں ہیں جنہیں غالباً پورا کرنا باقی رہ گیا تھا۔ ان تصاویر میں مغربی اسلوب زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ تختی رنگ محدود ہے مگر شوخ رنگ کا استعمال زیادہ ہے۔

    1573میں اکبر کو سورت جانا پڑا جس کی خصوصی وجہ وہاں کی بغاوت کو فرد کرنا تھا۔ اسی درمیان پُر گالیوں کی ایک جماعت نے اکبر سے ملاقات کی جس کےلیڈر انٹو نیو کبرال تھے۔ یہی جماعت بعد ازاں غالباً اکبر کی ایماء پر1578میں فتح پور سیکری پہنچی۔1587میں ہی ایک پُرتگالی سوداگر تاورد اور ایک راہب گیلیانو پر یر ابھی اکبر کے دربار میں آئے۔ 1579میں راہب روڈ ولف اکواد الوا اور 1580میں راہب انتھونی مانسوریٹ اکبر کے دربار میں پہنچے اور انہوں نے پلانٹائن کی 8 جلدوں میں چھاپی گئی انجیل جو 73۔1569میں بادشاہ فلپ ثانی کے لئے تیار کی گئی تھی۔ اکبر کو تحفہ میں پیش کی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی تصاویر بھی اکبر کے نذر کیں۔ مندرجہ بالا انجیل میں فقط سرورق کو ہی مرقع کیا گیا تھا۔ جو جان واٹر کس نے چھپائی کے ذریعہ بنایا تھا۔1582میں ولائتی پردے اکبر کے محل میں لگائے گئے اور اسی سال حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی شبیہ بھی بنائی گئیں۔ تیسرا عیسائی مشن راہب جیرم ایکزیویر کی قیادت میں 1595میں لاہور پہنچا۔

    مغربی اثرات لئے ہوئے جو بھی مغل تصاویر اب تک دستیاب ہوئی ہیں ان کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں عیسائی مشنریوں کی وساطت سے اکبر کے درباری مصوروں کو مغربی طرزِ مصوری سے گوناگوں واقفیت ہوئی۔ بہرحال انہیں بہت سے مصور اور ڈچ مصوروں مثلاً ڈیورر، بہام مارٹن وان، ہمسکرک، جے سیڈلر، پیٹروان ڈر ہیڈن کے فنی کارناموں سے واقفیت تھی۔ کیوں کہ ان مصوروں کے شاہکاروں سے اخذ کی ہوئی یا ان کی نقل کی ہوئی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ گرے کے مطابق 1587کی تاریخ شدہ مصور کیسو کی نقل کی ہوئی ایک تصویر بادلین لائبریری میں موجود ہے۔ یہ دراصل ہمسکلرک کی ایک اِنیگر یونگ ہے۔ اس مصور کی دو اور نقلیں کیسو داس نے بھی بنائی ہیں۔ جے۔ سیڈلر کی ایک اینگریونگ کی جو اس نے 1576میں بنائی تھی۔ ایک خاتون مصور نادرہ بانو نےہوبہو نقل کی۔1600میں ابوالھسن نے ڈیور رکی۔1511کی ایک اینگر یونگ"صلیب" کو نقل کیا۔

    جیسا کہ ابوالفضل نے تھریر کیا ہے کہ اکبر کے دور میں مصوروں کی تعداد سیکڑوں تھی۔ لہٰذا اب تک مختلف حوالوں سے جو فہرست مصوروں کی بنائی گئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔

    عبداللہ، عبدالصمد، آقا رضا، اننت، احمد، احمد کشمیری، انوپ چھتر، ابوالحسن، آسنی کہار، آسی، اسی قلی، اللہ قُلی، امیر بیگ، علی ولد مخلص، انیس، آنند، عالم، باقر، بالچند، بساون، بھورہ، بابو، بانو نقاش، بالو اپستاد، بندی، بشن داس، بھگوتی، بھیم گجراتی یا بھیم جیو گجراتی، برجس گجراتی، بھوانی کلاں، بھوانی،   بنواری، بنواری کلاں، بنواری خورد، بہمان، بُلاقی، بھوگ بہزاد، بھگوان، بلال، بنوالی خورد، بنوالی کلاں، بندی ولد کرم چند، چتر بھوج، چھتیش، چُتر، چُترمُنی، چہتر، چہتر من، چترا، دھرمداس، دولت یا دولت خانہ زاد، دھن راج، دھنو، دھرم داس توندہ، دھرم داس نندہ، دیوجی یاد یوجی گجراتی، داؤد، درگا، دارا، فرخ یا فرخ بیگ، فرخ خورد،فرخ کلاں، فرخ چیلا، فتو، فاضل، فتح چند، فیروز، گوردھن، گوبند گنگا سنگھ، گوبرداس، غلام علی، غلام نبی، حسن علی، حبشی، ہربنس، حسین چیلا، حسین نقاش، حضرا، حیدر کشمیری، ہاشم، حازی، حُسین، ہارس، حسین خاں اسمٰعیل،عنایت خانہ زاد، اقبال، عماد، ایشر، ابراہیم نقاش، ابراہیم لاہوری، اخلاص، امام قلی، ابراہیم کہار، اقبال نقاش، جمشید، جسونت یاد سونت، جگجیون جمال، جگن یا جگن ناتھ، جگجیون کلاں، خواجہ عبدالصمد، کھیم کرن یا کھیم، کنہا، کیسو کلاں، کیسو خورد، کرمداد، کمالی چیلہ، کیسو کہار، کالے بہار، کمال یا کمال کشمیری، خسرو قلی، کیشوداس، کیوسو، کلام داس، کیسو، کلام داس، کالو لاہوری، کیشو خورد، کیشو کہار، کیشو گجراتی، کنک سنگھ چیلہ، کھیمن یا کھیمن سنگتراش، کشن داس، خضر، لومنکا، لالو، لالی، لُنگا یا کوہنگاء لچھمن، لیکھراج، مادھو، میر سید علی، مسکین، میر تقی، مکند، منوہر، مادھو کلاں، میر چند، مکیش نر، مادھو خورد، مہیش، منصور، مُنی، مرزا غلام، میراخذ، موہن ولد بنواری، محمد رضا کشمیری، ماہ محمد، محمد شریف، محمد کشمیری، منگرایا مکرا مشفق، محمد پنڈت، مخلص، متھرایا متوہرا، ملاشاہ مھمد، منیر، مانو، میر حسن، محمد، محمد گجراتی، محمد عابد، مولانا یوسف، نرسنگھ، نند گوالیاری، نرائن، ناما یا نمن نند ولد رام داس، نند کلاں، نند کشور، نین سنگھ، ننہا، نقی خانزاد، ندیم، نادر، ننوا، نند کمار، پریم، پنا داس، پدارتھ، پریم گجراتی یا پریم جیو گجراتی، پارس، پیاگ، پاک یا پاگ، پارس کہار، قاسم، قبول چند، قبول احمد، قبول رام داس، رام، رحمان، صادق، سعدی، ور داس، سنکر، سنکر گجراتی، سرون شیوداس، سائیں داس، سپر جن، سوریہ گجراتی، سورج، سانولہ، سُور، سور گجراتی، شیام، سپرجن، سُر جو گجراتی، سُرجو، شیوراج، سلمان، سلیم، ساہو، شیام سندر، شیرو، شنکرن، سکھجیون، تالک، تلوک، تُلسی، نتارا، تھرپال، تریا، تپلسی خورد، تلسی کلاں، تارا چند، یوسف علی، یعقوب کشمیری اور زین العابدین۔

    مندرجہ بالا مصوروں میں ان کے کام کے اعتبار سے انہین منسب اور عہدے عطا کئے گئےتھے۔ پیادوں کی تنخواہیں 1200سے600دام تھیں۔ اھادی کی500روپیہ ماہانہ اور منصب داروں کی700روپیہ ماہوار ہوتی تھیں "دام" تانبے کا سکہ ہوتا تھ اور چالیس داموں کا ایک چاندی کا روپیہ ہوتا تھا۔ یہ عہدے فوجی ہوتے تھے اور لڑائی کے موقعوں پر انہیں فوجی خدمات انجام دینی پڑتی تھیں۔

    دورِ جہانگیر

    (27۔1205) اکبر اگرچہ ایک غیر ملکی شہزادہ تھا لیکن اس نے دانسہ طور پر ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا۔ لیکن اس کا لڑکا جہانگیر ایک پیدائشی ہندوستانی شہزادہ تصور کیا جا سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ راجپوت ماں کے بطن سے تھا۔ ماحول اور موروثی نقطہ نظر سے وہ ہندوستانی روایات کا حامی تھا۔ مگر ذاتی رجحانات بالکل اپنے پردادا بابر پر تھے۔ دونوں ہی قدرتی مناظر، باغات، پھولوں، چڑیوں، جانوروں اور کھیل کود سے شوق رکھتے تھے۔ دونوں کو شراب بڑی عزیز تھی، دونوں کو لکھنے میں مہارت حاصل تھی کیوں کہ اکبر   نے جہانگیر کو تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی کسر باقی نہ رکھی تھی۔ اسے مخصوصاً فنِ مصوری سے قدرتی لگاؤ تھا۔ بچپن ہی سے شاہی اسٹودیو میں جانے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ فتح پور سیکری نکے محلوں میں دیوار پر بنے مرقع دیکھے ہی تھے۔ اکبر کے زمانے میں ولیعہد شہزادہ سلیم کا صدر مقام الہٰ آباد تھا۔ لہٰذا مؤرخیں کا خیال ہے کہ جہانگیر نے اپنے دورِ ولیعہد میں ہی الہٰ آباد استوڈیو کی بنیاد رکھی ہو گی کیوں کہ چند سال پہلے دو ایسے قلمی مرقع نسخے دستیاب ہوئے ہیں جو اس بات کی سند پیش کرتے ہیں۔ اول نسخہ دیوان امیر نظیر الدین حسن دہلوی جو الٰہ آباد خاص میں 8۔1602میں نقل اور مرقع کیا گیا اور اب والٹر س آرٹ گیلری، بالٹی مور میں محفوط ہے۔ دوسرا نسخہ چسٹربیٹی لائبریری میں محفوظ "داستان رجا کنور" ہے جو 1604میں الہٰ آباد میں مرقع کیا گیا۔ ان دونوں نسخوں میں روائتی اکبری طرز سے مختلف کچھ ایسی باتیں ملتی ہیں جن سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہانگیر مصوری میں زیادہ سے زیادہ قدرتی پن لانے کی ترغیب دیتا تھا۔ کم سے کم ہلکے رنگوں کا بڑے احتیاط کے ساتھ ہم آہنگی لئے ہوئے استعمال کرناپرندوں کا قدرتی انداز میں اُڑنا، مغربی تناظر کا استعمال، خاکوں کی تنظیم و ترتیب میں جدّت اور سادگی پیدا کرنا ایسی باتیں ہیں جو ایک نئے فکر کو جنم دیتی ہیں۔

    جہانگیر نے تخت سنبھالتے ہی شاہی اسٹودیو پر اپنی نظر مرکوز کی اور بجائے مقدار کے معیار کو اعلیٰ بنانے پر زور دیا اور اس کی دیکھ ریکھ کے لئے مکتوب خاں کو اپنے شاہی کتب خانہ اور پکچر گیلری کا مہتمم مقرر کیا۔ غالباً عبدالصمد شیریں قلم اور میر سید علی جُدائی کا دور ختم ہو چکا تھا اور فرخ بیگ نے شاہی اسٹوڈیو کی باگ اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ کئی اور مصوروں کے ساتھ محمد مراد اور محمد نادر سمر قندی مصور بھی آ چکے تھے۔ آقا رضا ہراتی 1589میں پہلے ہی صفوی دربار کو چھوڑ کر اکبر کے دربار میں آ چکا تھا۔ حالاں کہ آقا رضا کا فن ایرانی اسلوب کا حامل تھا لیکن اس کا لڑکا ابوالحسن جو خانہ زاد تھا جہانگیر کے فنی معیار پر پورا اُترا تھا لہٰذا اس نے ابو الحسن کے فن سے متاثر ہو کر اُسے نادرالزماں کا خطاب عطا کیا تھا۔ نسخہ انوار سہیلی کی ایک کاپی جو برٹش میوزیم میں ہے جس کے ایک ورق پر 1605کی تاریخ درج ہے آقا رضا، ابوالحسن، بشن داس، مادھو اور اننت نے مرقع کیا تھا۔ ان مرقعوں میں خصوصاً ابوالحسن نے مناظر کو زیادہ سے زیادہ قدرتی بنانے کی کوشش کی ہے۔ برٹش میوزیم لندن میں محفوظ نسخہ "دیوان حافظ" کی ایک جدل جو تقریباً 1610 میں بنائی گئی۔ مغربی اثرات لئے ہوئے ہے۔ اس کے مرقعے گرے کی نظر میں مسیحی اینگر یونگس سے اخذ کئے ہوئے معلوم پڑتے ہیں۔ جہانگیر کو فقراء اور صوفی درویشوں پر کافی اعتقاد تھا۔ خصوصاً اسے فالِ دیوان حافظ پر بڑا ایمان تھا جس جلد سے وہ فال نکالا کرتا تھا وہ پٹنہ لائبریری میں اب بھی محفوظ ہے۔

    جہانگیر بھی اکبر کی طرح اپنے ساتھ سفر، شکاریا کسی اور مہیم پر جاتے وقت مصوروں کو ساتھ لے جاتا تھا۔ مثلاً جہانگیر جب کشمیر گیا تو وہ اپنے ساتھ منصور مصور کو بھی ساتھ لے گیا تھا جہاں منصور نے جہانگیر کی ایماء پر تقریباً   سو مختلف پھولوں سے مرتب مرقعے تیار کئے تھے۔ جہانگیر کو اپنی شبیہہ بنوانے کا بھی کافی شوق تھا جس کی شہادت اس کے ہر قسم کے مستند شبیہوں سے ملتی ہے۔ جہانگیر نے اپنے ایک سفیر کے ہمراہ بشن داس مصور کو ایران کے شہنشاہ شاہ عباس کے دربار میں بھیجا تھا۔1607میں راہب جیرم، ایکزیویر نے فارسی کا ایک مرقع نسخہ داستانِ احوال جو اریان " جہانگیر کو تحٖہ میں پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جیرم بائیس سالتک مغل دربار میں رہا۔ 1608میں اسی نسخہ سے اخذ کر کے جہانگیر نے اپنے محل کی دیواروں اور چھتوں پر تصاویر بنوائیں اور ان کو رنگنے کے وقت جیرم سے مشورہ لیا جاتا رہا۔ 1616میں جہانگیر کو کچھ غیر مزہبی موضوعات پر اٹلی اور انگلیند کے مصوروں کی بنائی ہوئی تصاویر دیکھنے کا موقع ملا۔ بادشاہ جیمس اول کے سفیر سرتھا مس رُد نے یورپ کے اس دور کے سب سے مشہور منے چر مصور آئزک اولیور کی بنائی ہوئی ایک شبیہہ جہانگیر کو تحٖہ کے طور پر دی۔ جہانگیر نے اپنے درباری مصوروں سے اس تصیر کی نقل بنوا کر سر تھامس رد سے اصلی اور نقلی پہچاننے کے لئے کہا۔ اس طرح اپنے درباری مصوروں کی تیکنیکی استعداد اور ان کی مہارت کا دوسروں پر سکہ جمانا اور سرتھامس رو سے فنِ مصوری پر لمبی بحچیں کرنا ایسی شہادتیں ہیں جن سے جہانگیر کی اس فن سے گہری دلچسپی جذباتی لگاؤ کی سند ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اکبر کی لائبریری کے قلمی مرقع غیر مرقع نسخوں پر اپنی دستخط کرنا ان کی تفاصیل درج کرنا اور اپنی مُہر ثبت کرنا ایسے واقعات ہیں جس سے جہانگیر کی اس فن سے ذاتی دلچسپی اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ ان قلمہ نسخوں کے علاوہ جہانگیر نے اپنی لائبریری کو اور بھی زیادہ وسیع کرنے کے لئے بہت سے نسخے ایران اور مصوری کے دیگر اور نمونے وسط ایشیا اور یورپ سے حاصل کئے تھے۔ جہانگیر نے بڑے فخریہ انداز میں اس طرح دعویٰ کیا ہے کہ اگر اس کے سامنے کسی بھی مصور کا شاہکار لایا جائے، چاہے وہ مصور وفات ہی کیوں نہ پا چکا ہو بغیر کسی کے بتائے ہوئے وہ بآسانی بتا سکتا ہے کہ فلاں مصور کا بنایا ہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کسی تصویر میں کئی شبیہہ ہوں اور الگ الگ شبیہوں میں مختلف مصوروں نے کام کیا ہو تو وہ بتا سکتا ہے کہ وہ مختلف شبیہیں کس کس کی بنائی ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی مصور نے اپنا بُرش آنکھیں یا بھنویں بنانے میں لگایا ہو تو بھی وہ بتا سکتا ہے کہ یہ کس کا ہاتھ ہے۔ اس طرح یہ پتہ چلتا ہے کہ جہانگیر کے زمانے میں بھی ایک تصویر کے باننے میں کئی کئی ہاتھ لگتے تھے۔

    18تصویروں پر مشمل ایک "شاہی البم جن کے صفحات پر مختلف تاریخیں درج ہیں۔ 1925میں چسٹربیٹی کلکشن کے لئے خریدا گیا۔ ان تاریخوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس البم کے مرقع جہانگیر سے لے کر شاہجہاں کے دور یعنی 1605سے 1658تک بنائے گئے۔ اسی البم کے21مرقع صفحات وکٹوریہ البرٹ میوزیم، ساؤتھ کنیگسٹن میں بھی اسی وقت خریدے گئے۔ ہر مرقع صفحہ کے پیچھے مشہور شاہی خطاط میر علی کے لکھے ہوئے اشعار درج ہیں۔ ہر تصویر کے چاروں طرف حاشیہ میں کافی مسجع نگاری کی گئی ہے۔ پھول، پودے، چرند و پرند سبھی کو مصوروں نے اپنا موضوع بنایا ہے اور بڑے قدرتی انداز میں پیش کیا ہے۔چسٹربیٹی البم کے صفحات مین جن مصوروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے ان کے نام ہیں پدارتھ، عبدالکریم، ابوالحسن، بالچند، بچتر، فرخ بیگ، گوردھن اور ہاشم۔ ان تصاویر میں خوصاً پدارتھ کی بنائی ہوئی "بڑے بالوں والی پہاڑی سفید بھیر" گوردھن کی تصاویر"ایک شہزاد ے کا اپنی بیوی کے ساتھ شراب پیتے ہوئے" "صاحقراں تیمور کی شبیہ" "باغ میں شراب پیتے ہوئے ایک جماعت" بچتر کی بنائی ہوئی "جہانگیر" اور "شاہجہاں" کی شبیہہ۔ محمد رضا کشمیر کی "شاہ دولت" اور متلف شاہی اُمراء کی تصاویر۔ ہاشم کی "شاہنوازخاں" کی شبیہہ۔ فرخ بیگ کا بنایا ہوا ایک باغ کا منظر" اور ابوالحسن کی شبیہہ جہانگیر قابلِ زکر ہیں۔ اس شاہی البم کا سائز 3807 x 2705   سینٹی میٹر ہے۔

    چسٹر بیٹی کلکشن میں ایک دوسرا البم ہے جس کا سائز 3805 x 2609 سینٹی میٹر ہے۔ اس میں کل19تصاویر ہیں جن میں بچتر، دیورت، دیورتھ، دیورت ، پاک، لعل چند، جلال قلی، ہونہار اور ہاشم مصور کی بنائی ہوئی مختلف ہم عصر شاہی امراء کی تصاویر ہیں۔

    جہانگیرکے دور میں فنِ مصوری نے ایک نیا رُخ لے لیا تھا۔ عموماً کمپوزیشن میں استعجابی کیفیت اور رمزیت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس سلسلسے میں ایرانی موٹف کے بجائے یوروپی موٹف استعمال کئے جانے لگے۔ جہانگیر کے کسی پورٹریٹ کچھ اسی قسم کے ہیں۔

    دورِ شاہ جہاں

    (1658۔1628)1627میں جہانگیر کی وفات کے بعد شاہجہاں تختِ مغلیہ پر بیٹھے۔ شاہجہاں کے دور میں بہت سے سیاح یورپ سے آئے۔ جن میں خاص طور سے دو فرانسیسی سیاح، ڈاکٹر فرانکوائے برنیر اور دوسرا جوہرہ جین بیپٹسٹ ٹے ورینر اور ایک اطالوی نکو لاؤ مانو کی قابلِ ذکر ہیں۔ ان سیاحوں نے جو اپنے سفر نامے لکھے ہیں ان کے ذریعہ اس دور کے ہندوستان کی بے لاگ تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ شاہ جہاں ولی عہد شہزادے کے روپ میں محل کی چہار دیواری کے اندر اور باہر عوام میں یکساں عزیز تھے۔ یہ ایک اچھے حاکم اور جنگجو تھے۔ اپنی قابلیت اور جواں مردی کا سکہ انہوں نے اپنی گورنری کے ایام اور مختلف معرکہ ارائی میں بٹھا دیا تھا۔ فنونِ لطیفہ سے بھی ساتھ ساتھ اچھا خاصا لگاؤ رکھتے تھے۔ سرتھا مس رو اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں کہ شہزادے کو فنِ مصوری سے بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ جب اس نے شہزادہ خرم کو چاندی کی ایک چھوٹی سی گھڑی تحفہ کے طور پر نزر کی تو شہزادے نے قبول تو کر لی لیکن جو اباً فرمایا کہ کل جو تصویریں آپ نے والد صاحب "جہانگر" کو دکھائی تھیں اگر ان میں سے کچھ تحفتہً   دی جائیں تو اس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔"

    شاہ جہاں نے اپنے دور میں موسیقی، فارسی اور ہندی شاعری کی بڑی سر پرستی کی۔ سُندرداس جس نے "سندرشرنگار" لکھی۔ چنتا منی جس نے رامائن کا ترجمہ کیا۔ دیو دت جس نے ڈرامے لکھے اور ایک وشنو برہمن جگن ناتھ جس نے "رس گنگا دھر" نامہ شہوت بھری نطم لکھی تھی۔ شاہ جہاں کے محبوب شاعر تھے۔ دراصل جگن ناتھ کا ایک مسلم لڑکی سے عشق ہو گیا تھا اور تمام مخالفت کے باوجود اس نے اس لڑکی سے شادی کی۔ اسی کی محبت کے دوران جگن ناتھ نے اپنی یہ نظم تخلیق کی۔

    دراصل شاہ جہاں کا دور فن تعمیرات کا دور تھا۔ مگر اس کے باوجود شاہجہاں نے فنِ مصوری کی سر پرستی اور اس کے ارتقاء میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔ برنیز اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ "فن مختصر تصویر کشی ہندوستان میں پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی۔ اگر شہنشاہ اور اس کے خصوصی امراء اپنے درباروں میں مصوروں کو ملازم نہ رکھتے۔ وہ ان کے محلوں میں کام کرتے اور ان کے بچوں کو فن کی تعلیم بھی دیتے۔ شاید اس اُمید میں کہ انہیں کبھی نہ کبھی اس خدمت کا خاطر خواہ صلہ ضرور ملے گا۔" وہ مزید لکھتا ہے کہ "مصوروں کے دو طبقے ہیں۔ پہلے وہ جو کچھ ممتاز اور چُنے ہوئے تصور کئے جاتے ہیں اور وہ شاہی دربار میں باقاعدہ ملازم ہیں۔ دوسرے وہ جو قدرے کمتر ہیں اور وہ نوابوں، اُمراء، اور وزیروں کے یہاں ملازم ہیں۔ جہانگیر کے زمانے میں مصوروں کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی تھی کہ ان سبھی کو دربار میں ملازم رکھنا قطعی ممکن نہ تھا۔ لہٰذا بہت سے مصوروں نے بازاروں میں اپنی دوکانیں کھول لی تھیں۔ لہٰذا فنِ مصوری نے شاہی اجارہ داری سے نکل کر تجارتی موڑ اختیار کر لیا تھا۔ شاہ جہاں کے آخری دور میں سماجی، سیاسی اور معاشی انتشار کے باعث مصوروں پر بہت اثر پڑا اور افلاس کا شکار ہونے لگے۔ لہٰذا اس پیشے میں بڑا فرق آنے لگا۔ بازار میں کام کرنے والے مصوروں پر بہت اثر پڑا اور افلاس کا شکار ہونے لگے۔ لہٰذا اس پیشے میں بڑا فرق آنے لگا۔ بازار میں کام کرنے والے مصوروں نے اپنی گذر اوقات کے لئے پیشہ مصوری کو جس طرح چاہا استعمال کیا۔ زیادہ تر وہ پُرانے چربوں سے گھٹیا قسم کی کاپیاں بناتے تھے اور سستے داموں میں بیچتے تھے۔

    شاہ جہاں کے دور میں مغل مصوری میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ ہاں شبیہ کشی مصوروں کا ایک محبوب مغلہ بن گیا۔ استاد فقیر اللہ خاں اس دور کا سب سے ممتاز مصور کہا جاتا ہے جو شاہی اسٹودیو کا مہتمم بھی تھا۔ اس کی نگرانی میں کرنے والے مصوروں میں میر ہاشم، بچتر، ہونہار، انوپ چہتر، چترمن، منوہر اور محمد نادر سمر قندی قابلِ زکر ہیں۔ ان کے شاہکاروں کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ فن نے چربہ تصویر کشی اپنی انتہائی کو پہنچ چکا تھا۔ مصوری کے موضوعات میں عام طور سے دوشیزاؤں کے سنگار ان کی روزمرہ کی مصروفیات، شہزادوں کا شکار کھیلنا، درباری محفلوں کے مناظر، خوبصورت چہرے والی دوشیزائیں اور جانوروں کے مرقعے شامل ہیں۔ منوہر کا بنایا ہوا شہزادہ داراشکوہ کا گھوڑا"دل پسند" کافی مشہور شاہکار ہے۔ کچھ نسخے بھی مرقع کئے گئے جن میں "لیلیٰ مجنوں" "باز بہادر اور روپ متی" (پنجاب میوزیم، چنڈی گڑھ) خسرو و شیریں" اور "کام روپ اور کامتیا کام لتا" قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے چہرہ کُشائی قدرے زیادہ کی گئی۔ عام لوگوں نے بھی اس جانب زیادہ دلچسپی دکھائی۔ آخری دور میں نیم برہنہ دو شیزاؤں کے بھی مرقعے بنائے گئے۔ جن میں مغربی اثرات بدرجہ اتم ملتے ہیں۔ اس دور میں طلائی کام بہت ہوا۔

    ملکہ شاہ جہاں ممتاز محل کی وفات کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہجہاں کو فنونِ لطیفہ سے زیادہ رغبت نہ رہی اس کا زیادہ تر وقت اپنی مرحوم ملکہ کی دائمی یادگار تاج محل کو بنوانے میں صَرف ہوتا تھا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ تمام شاہی لوازمات شاہ جہاں نے شہزادہ داراشکوہ کے سپرد کر دیا تھا جو شاہ جہاں کے پاس ہی رہتا تھا لہٰذا شاہ جہانی دور کا فن مصوری دراصل داراشکوہ کی ذاتی سر پرستی میں پھلا پھولا کیوں کہ دارا شکوہ میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو اکبر میں تھیں لیکن وہ ایک اچھا جنگجو اور سیاست دان نہیں تھا۔ دارا شکوہ نے علم غنا سطیت میں لال سوامی سے فضیلت حاصل کی تھی اور میاں میر مجذوب کے مُرید تھے۔ لہٰذا داراشکوہ کی سرپرستی میں تصوف پر اچھی خاصی تعداد میں تصاویر بنائی گئیں۔ دار شکوہ نے ہی غالباً شاہ جہاں نامہ مرتب کروایا جو اس وقت ونڈسر کیسل کےشاہی مجموعہ میں محفوظ ہے۔ 1657کا تاریخ شدہ ہے۔ اس نسخہ کی تصاویر دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاہی اسٹوڈیو کا فنی معیار بالکل اسی طرح برقرار تھا جیسا کہ اکبر کے عہد میں تھا۔ داراشکوہ کو ایک ہندو رقاصہ رعنا دل سے عشق ہو گیا تھا اور اس ے شادی بھی کر لی تھی۔ داراشکوہ اور عنادل پر مبنی ایک تصویرجے پور میوزیم کے کلکشن میں اب بھی موجود ہے۔

    چالیس نادر فنی نمونوں پر مشکل ایک البم دارا شکوہ نے بنوایا تھا۔ سی۔سیل۔البرن نے اس مرقع پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا ہےکہ یہ مرقع اٹلی کے دور نشاۃ ثانیہ کے و آساریز کی یاددلاتا ہےجس نے اپنے زمانے کے تمام مصوروں کے شاہکاروں کو یکجا   کیا تھا۔ اس مرقع میں سبھی تصاویر اعلیٰ پیمانے کی ہیں جس سے شہزادے کے ذمہ علم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

    دورِ اورنگ زیب

    1707۔1658اورنگ زیب کے دورِ حکومت میں شاہی اسٹودیو کو وہ سر پرستی حاصل نہ ہوئی جو کہ اورنگ زیب کے آباؤ اجداد نے کی تھی لیکن جو کچھ بھی تصاویر اس دور کی دستیاب ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زیب کے آباؤ اجداد نے کی تھی لیکن جو کچھ بھی تصاویر اس دور کی دستیاب ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زیب فقط چہرہ کشائی، دربار کے مناظر، جنگ کے مناظر یا اتفاقیہ شکار کے مناظر میں ہی دلچسپی لیتا تھا۔

    اورنگ زیب کے فنون لطیفہ کی سر پرستی سے ہاتھ کھینچ لینےکی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں مثلاً اس کے والد اور والدہ دونوں ہی مسلم تھے جبکہ والد اور دادا کی مائیں راجپوت خاندان سے تھیں۔ اس لئے اورنگ زیب فطرتاً دوسرے مذہبی نقطہ نظر کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا اور ضبط سے کام نہیں لیتا تھا۔ دوسرے اس نےد ربار کے کٹر سُنی گروپ کے خیالات کا احترام کرنا ضروری تھا۔ اورنگ زیب جب فتح دکن کے سلسلہ میں بیجاپور گیا تو آثارِ محل کی دیواروں پر تصویریں دیکھیں اور اُنہیں مٹا دینے کا حکم دیا۔ کچھ مؤرخیں کا خیال ہے کہ اس نے خود ہی مٹا دیں۔ لیکن یہ قرینِ قیاس نہیں ہے کیوں کہ بادشاہ کو اتنی فرصت ہونا کہ وہ خود تصوریں مٹائے بعید از قیاس ہے۔

    منو کی سیاح نے اپنی یادداشت سفر میں لکھا ہے کہ جب اورنگ زیب اکبر   مقبرہ سکندر پر   گیا تو حکم دیا کہ دیواروں پر جو انسانی شکلیں بنائی گئی ہیں ان پر سفید رنگ لگا کر مٹا دیا جائے۔ اسی طرح موسیقی وغیرہ پر بھی اس نے پابندی لگا دی۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اورنگ زیب کی بذاتِ خود شبیہیں اب تک ملتی ہیں۔ کہیں شکار کرتے ہوئے، کہیں سفر کرتے ہوئے، کہیں پڑھتے ہوئے اور کہیں اپنی فوج کو للکارتے ہوئے تصاویر ملتی ہیں۔ ان تصاویر میں کہیں کہیں وہ کافی بوڑھا نظر آتا ہے یہاں تک کہ کسی کسی میں وہ اپنی عمر سے دوگنا دکھایا گیا ہے۔ کچھ اس قسم کی شہادتیں ملتی ہیں کہ اورنگ زیب نے مصوروں کو کبھی کبھی اپنی رضا کے مطابق ملازم رکھا اور ان سے حسبِ منشا کام لیا۔مثلاً اس کا سب سے بڑا لڑکا محمد سلطان باغی ہو گیا تو اورنگ زیب نے اُسے پکڑوا کر گوالیار کے قلعہ میں بند کر دیا۔ لیکن اورنگ زیب اپنی اس اولاد کو بہت چاہتا تھا لہٰذا وقتاً فوقتاً وہ مصوروں سے شہزادہ سلطان کی پوری شبیہہ بنواتا تھا تا کہ اسے شہزادہ کی صحت کے متعلق برابر جانکاری حاصل رہے۔

    اورنگ زیب کے دور حکومت میں جو بھی تصاویر بنائی گئیں ان کا جائزہ لینے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور کی فنی کلاسیکی رویات مدھم پڑنا شروع ہو گئی تھیں۔ خصوصی طور سے ان تصاویر میں دو باتیں عام طور سے دیکھی جا سکتی ہیں یعنی شکلیں لمبی ہونے لگیں اور زمین عموماً ہلکی ہرے رنگ کی دکھائی جانے لگی۔

    آخری دورِ مغلیہ

    1707میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد بہادر شاہ اوّل(12۔1707) جب تخت مغلیہ پر جلوہ افروز ہوئے تو ان کی دریادلی، فن شناسی نے ایک بار پھر فن مصوری کو تازگی و تقویت بخشی۔ یہ کشمیر کی ریاست رجوڑی کے راجہ راجو کی لڑکی نواب بائی (لقب رحمت النساء) کے بطن سے تھے ان میں چوں کہ راجپوتی خون تھا لہٰذا یہ اورنگزیب جیسی کٹر مزہبی خُوبُو کے مالک نہ تھے اور ہندو ومسلم دونوں عوام میں بہت مقبول تھے۔ انہوں نے قانونِ جزیہ میں بڑی رعایت کر دی تھی۔ ان کے مختصر سے دورِ حکومت میں فن مصوری کو ابھرنے کا موقع ملا۔ مصوروں نے اپنی ہُنر مندی کے بڑے جوہر دکھائے۔ ڈاکٹر زید جاوا کے بقول نسخہ"شاہ جہاں نامہ" جو آج کل ملکہ انگلستان ایلز یبتھ دوئم کے مجموعہ کی زینت ہے، بہادر شاہ کے دربار میں مرقع کیا گیا۔ لیکن میرے خیال میں یہ وہی نسخہ ہےجو1657میں شاہ جہاں کے دور میں مرقع کیا گیا۔ جہاں دار شاہ(13۔1712) نے جب تخت سنبھالا تو اس کی انتہائی مختصر سیاسی زندگی عیاشی کی نذر ہو گئی۔ اس کی محبوب داشتہ لال کور کی ایماء پر غالباً کچھ مصور پھر دربار میں بُلائے گئے اور ان کی تصویروں کے موضوعات حسبِ فرمائش زیادہ تر معاشقہ، موسیقی اور رقص کے مناظر ہونے لگے۔ حرم میں بادشاہ کی مصروفیات کو خصوصی طور سے مُرقع کیا جانے لگا۔ بہرحال یہ سلسلہ کم و بیش مغل مصوری میں اٹھارویں صدی کے آخری دور تک دیکھنے کو ملتا ہے۔

    فرخ سیر(19۔1713) آخری مغل بادشاہ تھا جس نے ریاست جودھ پور کے مہاراجہ اجیت سنگھ کی لڑکی اِمذرکنور سے شادی کی تھی۔ لیکن یہ حکمران سیاسی طور پر بہت کمزور ثابت ہوا اور اپنی کمزوری کی بناء پر اپنے ہی وزیروں کے ہاتھوں 6 سال کے اندر ہی اسے تخت سے برطرف کر کے قتل کر دیا گیا۔ بہرحال فنِ مصوری کے کچھ بہترین نمونے فرخ سیر کے دورِ حکومت میں بھی بنائے گئے جس کی ایک مثال سرکاوس جی جہانگیر بمبئی کے مجموعہ میں محفوظ ہے حالاں کہ اس تصویر میں بھی شکلوں میں لمبوترا پن ملتا ہے۔ فرخ سیر کو بہترین اور نئے خوبصورت کپڑوں کے استعمال میں بے حد دلچسپی تھی۔ اس نے جامہ کے خیاطانہ طرز کو ٹخنوں تک بڑھا دیا تھا۔ اورنگ زیب کے دور میں یہ جامہ پنڈلیوں تک ہوتا تھا۔ شاہ جہاں کے زمانے میں یہ گھٹنوں سے نیچے اور جہانگیر اور اکبر کے دور میں یہ گھٹنوں کے اوپر تھا۔ دورِ وسطی کی مصوری سے ہمیں اس وقت کو مروج پوشاک، رہن سہن، زیورات، موسیقی کے سازوسامان، لڑائی کے ہتھیار اور مختلف اشیاء کے ڈیزائن اور استعمال کی کافی جانکاری ملتی ہے۔

    محمد شاہ (48۔1719) کے دور حکومت میں خیاطانہ فیشن میں مزید تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ جامے کی لمبائی اتنی ہو گئی کہ زمین سے چھونے لگا۔ کولہے پر زیادہ وسیع اور گھیرادار ہو گیا۔ محمد شاہ عیش و عشرت اور شان و شوکت کا دلدادہ تھا لہٰذا اس کی ذاتی پسندیدگی اس کے دور کی مصوری میں نمایاں ہے۔ تصاویر میں بھورے رنگ کے پتھروں کی عمارتوں کا دکھایا جانا اور خوبصورت عورتوں کے جمگھٹ جن کے بدن کی رنگت کچھ بھوری اور کچھ گلابی ہوتی ہے۔ عام موضوع بن گیا تصویروں کا سائز بھی کافی بڑا ہونے لگا۔ اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ 1739میں ایران کے نادر شاہ نے حملہ کیا اور اس دوران نادر شاہ کے حکم سے دہلی میں تقریباً بیس ہزار آدمیوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ لوٹتے وقت نادر شاہ اپنے ہمراہ تقریباً پندرہ کروڑ روپے کا لُوٹ کا سامان ایران لے گیا۔ مؤرخیں کا گمان یہ ہے کہ یہ مرقع نسخوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اپنے ساتھ ایران لے گیا ہو گا۔

    شاہ عالم(1802۔1759) کے دورمیں بھی محمد شاہی طرز مصوری دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہاں ایک خاص تبدیلی یہ ہوئی کہ تصاویر میں خصوصی طور سے سایہ اور روشنی کی امتزاجی کیفیت کو پیدا کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ یہ صفت چہرے اور گلے میں گہرے رنگ سے نقطوں کے ذریعہ گہرائی دے کر پیدا کی جانے لگی۔ دوسری خصوصیت یہ تھی کہ رُخساریا کبھی کبھی پورے چہرے پر ہلکے گلابی رنگ سے ایک ہلکی سی تہہ دے دی جاتی تھی۔ شاہ عالم اور بہادر شاہ ظفر کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ پُرانی تصاویر کو نقل کرنے کا کافی کام کیا گیا۔ اس کی دو وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ کچھ17ویں صدی کے نسخوں اور البم سے کچھ تصاویر غائب یا خراب ہو گئی ہوں گی۔ لہٰذا نہیں دوبارہ بنا کر وہاں رکھا جانا تھا۔ دوئم یہ کہ جہانگیر اور شاہجہاں کے دور کی مصوری کے معیار کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے ۔ بعض اوقات یہ نقلیں بہت ہی لاجواب بن جاتی تھیں مگر ارباب فن ان کے فرق کو محسوس کر سکتے ہیں کیوں کہ ان میں سر نسبتاً بقیہ دھڑ سے عموماً کچھ بڑا ہوتا تھا اور چہرے میں گلابی جھلک نمایاں رہتی تھی۔ ان کے علاوہ ڈرائنگ میں قدرے کمزوری، پس منظر اور کپڑوں میں تفصیلات کا فقدان تجربہ کار آنکھوں سے چھپی نہیں رہ سکتیں بہادر شاہ ظفر کے دور میں دہلی میں مرع کئے گئے دو نسخے "تشریخ الاقوام" اور "صحیفہ گلشن التواریخ" اب بھی موجود ہیں جو 19ویں صدی میں مغل فنِ مصوری کی شاندار روایت کے ضامن ہیں۔ بقول سر سید احمد اس دور کے مشہور مصوروں میں غلام علی خاں، فیض علی خاں، مرزا شاہ رُخ بیگ، محمد عالم اور علی خاں قابلِ ذکر ہیں۔

    راجپوت مصوری

    مسلم مؤرخیں نے راجپوت لفظ کے معنی راج پُتر یعنی "بادشاہوں کے لڑکے" بتایا ہے لیکن راجپوت بذات خود اپنے آپ کو سورج دیوتا اور چاند دیوی کی اولاد مانتے ہیں۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ راجپوت نسل کو ہ آبو کے اَگنی کُنڈ سے نمودار ہوئے۔ ایک نظریہ فکر یہ بھی ہے کہ راجپوت بنیادی طور پر غیر ملکی ہیں اور ان کی نسل ہپونس۔سی۔تھین اور ہندوستانی خون سے ملکر وجود میں آئی ہے لیکن عام نظریہ یہ ہے کہ یہ لوگ ویدک چھتری ہیں اور آریہ نسل کے جنگجو طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

    جے پور طرز

    مغل سلطنت کے قیام کے اولین دور میں راجستھانی علاقہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اور وہاں کے حکمران خود مختار تھے۔ اکبر سے پہلے تقریباً جتنے طاقتور مسلم حکمران ہوئے، حسب موقع راجستھانی ریاستوں کو محکوم کرنےکے لیے حتی الامکان کوشش کرتے رہے حالاں کہ اس معرکہ آرائی سے انہیں کوئی معاشی فائدہ نہیں تھا۔ صرف اپنے وقار اور عزت کی خاطر وہ ان ریاستوں کے حکمرانوں سے وقتاً فوقتاً جھوجھتے رہتے تھے۔ اسی احساس کے تحت شیر شاہ سوری نے صحیح کہاتھا کہ "فقط مٹھی بھر جوار کی خاطر اس نے جودھ پور پر فوج کشی کی"۔ بہرحال اکبر نے سیاسی نقطہ نظر سے کہے یا اس احساس سے کہ بغیر راجپوتوں کی مدد کے وہ چین کی زندگی نہیں بسر کر سکتا۔ صلح کل کی پالیسی اپنائی اور ان ریاستوں سے برادرانہ تعلقات پیدا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔1562میں اجمیر میں راجہ امیر بہاری مل(75۔1548) نے اکبر کا شاندار استقبال کیا اور اپنی بڑی لڑکی کا اکبر سے عقد کر دیا۔ اکبر نے اسے مریم زمانی کے لقب سے سرفراز کیا۔ یہی شہزادی ولی عہد جہانگر کی ماں بنی۔ اس ازدواجی رشتہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکبر اور راجپوں کے درمیان بڑے گہرے تعلقات پیدا ہو گئے اور راجپوت شہزادے مغلیہ حکومت کے نظم و نسق میں برابر کے شریک ہو گئے۔ راجہ بہاری مل کے جانشین راجہ بھگوان داس (92۔1575)(جنہوں نے سارنال کی جنگ میں اکبر کو جاں بحق ہونے سے بچایا تھا۔) اور ان کے لڑکے راجہ مان سنگھ مغل شاہی فوج کے دائیں بازو بن گئے۔ راجہ بھگوان داس نے اپنی ایک لڑکی کی شادی شہزادہ سلیم سے کر دی تھی۔ دھیرے دھیرے بوندی، بیکانیر ،جیسلمبر اور جودھپور ریاستوں نے بھی اکبر کو اپنا شہنشاہ تصور کر لیا اور اپنی شہزادیوں کو شاہی مغلیہ حرم میں داخل کر دیا۔ ان قریبی ازدواجی رشتوں سے دربار مغلیہ اور دربار جے پور کے دوسرے شعبوں میں بھی ایک دوسرے پر بڑا زبردست اثر پڑا۔ فن مصوری میں بھی جے پور دربار میں مغل طرز کی چھاپ پڑی۔ مغل طرز میں یہاں اتنی عمدہ تصاویر اختراع کی گئیں کہ انہیں عام طور سے مغل دربار سے وابستہ کیا جاتا رہا ہے کیوں کہ موضوعات اور ساخت میں یہ مغل طرز سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر رندھاوا کا خیال ہے کہ جے پور مصوری میں خصوصی تبدیلیاں راجہ پرتاپ سنگھ1803۔1779کے دور سے نمودار ہوئیں۔ یہ راجہ شاعر، عالم اور مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بھگوان کرشن کا بہت بھگت تھا۔ بھگوان کرشن کے کپڑے پہن کر راج محل کی اپنی تمام لونڈیوں کو ساتھ لے کر گوپیوں کی طرح کُھلے عام چراگاہ میں جا کر رقص میں کھو جانا اس راجہ کا محبوب مشغلہ تھا جے پور میوزیم میں اسی قسم کی ایک تصویر ہے جس میں بھگوان کرشن کے روپ میں راجہ پرتاب سنگھ کو گوپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

    راجہ جگت سنگھ ثانی(18۔1803) کے زمانے میں بھی فنِ مصوری کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ رس کا فور نامی ایک مسلم لونڈی کے حُسن سے راجہ جگت سنگھ اس قدر متاثر ہوا کہ اپسے اپنی رانی بنا کر نصف ریاست امبر اس کے نام لکھ دی۔ اپنے شاہی سکوں پر بھی اس کا نام کندہ کروا دیا۔ دوسرے سرداروں نے بھی اس روائت کو اپنایا لہٰذا ان کا زیادہ تر وقت موسیقی اور رقاصاؤں کے جُھرمت میں گزرنے لگا۔ راجہ جگت سنگھ کی اپنی محبوب رانی کے ساتھ شغل کرتے ہوئے موضوعات پر چند تصاویر جے پور میوزیم میں موجود ہیں۔ راجہ جے سنگھ(35۔1618)کے دور میں بھی کم و بیش یہی فنی روایت دکھائی دیتی ہے۔ لیکن راجہ مادھو سنگھ(80۔1834) کے دور میں انگریزی دباؤ بڑھ جانے کی وجہ سے کافی سیاسی تبدیلیاں ہونے لگیں۔ ریاست میں غیر یقینی حالات پیدا ہو گئے جس سے جے پور روائتی مصوری کا خاتمہ ہو گیا۔

     

    میواڑ طرز

    لاما سیاح ناراناتھ کا قول ہے کہ قدیم ہندوستانی طرز مصوری کا جنم 7ویں صدی عیسوی میں سرنگا دھرانامہ مصور نے کیا تھا جو مارودیسا(جدید میواڑ) کا رہنے والا تھا۔ اس دور کے دو قدیم نسخے ہیں(1) نسخہ "سوا گاپدی کامان سوتا چُنی" جو 1260میں قلعہ اگھاٹا(جدید اَہر نزد اودے پور) میں راجہ گُو ہیلا تیجا سمہا کے دور سلطنت میں بنایا گیا۔(2) نسخہ "سُپاسنا ہا چریم" 23۔1422) میں رانا مُوکالا کے دور میں دیوا کُلا واٹکا شہر میں مرقع کیا گیا۔ اس میں 37 تصاویر ہیں۔ ان میں کئی ایسی ہین جو پورے صفحہ پر بنی ہوئی ہیں۔ ان تصاویر کی وہی خصوصیات ہیں جن کا تزکرہ بیرون چشمی طرز کے باب میں کیا جا چکا ہے۔

    1540 کا تاریخ شدہ پالم کا نسخہ "آدمی پُران" (جس کا تزکرہ پہلے کیا جا چکا ہے) کے دستیاب ہو جانے سے مؤرخیں کی ایک جماعت نے اسے راجستھانی مصوری کی شروعات قرار دی ہے کیوں کہ اس نسخہ کی تصاویر میں عمومی بیرون چشمی طرز کا فقدان ہے اور قدرے بہتر اور انفرادی طریقے سے مرقع نگاری کی گئی ہے لیکن کیا یہ تبدیلی اسلوب راجستھانی علاقے میں ہوئی؟ یہ فی الحال ثابت کرنا مشکل ہے کیوں کہ جو بھی نسخے اس طرز کے اب تک دستیاب ہوے ہیں وہ یو۔پی اور دہلی کے قرب و جوار کے ہیں نہ کہ راجستھان کے۔

    جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے قیام کے بعد مغل دربار کی سرپرستی میں 1458میں ہندوستانی اور ایرانی مصوری کے امتزاج سے مصوری کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے اثرات ملحقہ علاقوں میں پھیلنا شروع ہوئے لہٰذا راجپوت درباروں میں بھی مغل اسلوب سرائیت کر گیا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں یہ اثرات قدرے محدود طریقے سے آئے اور راجپوتی دربار کے مصوروں ننے مغل اسلوب سے فقط حسبِ ضرورت ہی استفادہ حاصل کیا تا کہ راجپوتی اسکول کی انفرادیت برقرار   رہے اور اس انفرادیت میں میواڑ بلاشبہ سب سے آگے رہا ہے۔ جہاں تک میواڑ کے مختصر تاریخی پس منظر کا تعلق ہے۔ میواڑ کے حکمران مہارانہ کہلاتے تھے۔ انہیں راجپوت حکمرانوں کی تاریخ میں اعلیٰ مقام دیا گیا ہے کیوں کہ مسلم حملہ آوروں کے خلاف جدو جہد کرنے میں میواڑ کے حکمرانوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا اور انہوں نےآزادی حاصل کرنے میں بہت بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ میواڑ کے حکمران اپنے آپ کو بھگوان رام کے چھوٹے لڑکے کُش کی اولاد بتاتے ہیں۔

    رانا رتن سنگھ کے دورِ حکومت میں(1303) سلطان علاؤ الدین نے میواڑ ریاست کے مشہور قلعہ چتوڑ کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن کچھ شرطوں کے ساتھ ایک عہد نامہ ہو گیا۔ بعد ازاں رانا اور اس کی خوبصورت بیوی پد منی کی شاطرانہ چالوں سے برانگیختہ ہو کر سلطان علاؤ الدین نے اس قلعہ کو بڑی "بے رحمی" سے تباہ کر ڈالا اور آخر کار رانا رتن سنگھ کی شکست کی خبر پا کر پدمنی کو اپنی تمام حرم کی مسمات کے ساتھ سَتی ہو جانا پڑا تھا۔ مشہور ہندی شاعر ملک محمد جائسی نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر 1540میں ایک لمبی نظم "پدموتی" لکھی جسے بقول ڈاکٹر رندھاوا میواڑ کے دربار میں مرقع کیا گیا۔

    رانا کُبھا (68۔1433) سے لے کر رانا پرتاب(97۔1572) تک چتوڑ کی تاریخ بڑی پُر آشوب رہی۔ لہٰذا اس دور کی مصوری کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

    دراصل راجستھانی طرزِ مصوری کی شروعات گوپی کرشن کتوریہ کے مجموعہ میں محفوظ ایک "راگ مالا" سیٹسے مانی جاتی ہے جو رانا پرتاپ کے لڑکے راجہ امر سنگھ اول کے دورِ سلطنت میں اس کے دارالخلافہ "چواند" (اودے پور کے جنوب مغرب میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے) میں نثارادی (یا نثار الدین) نے 1605میں مرقع کیا۔ اس نسخہ کے بارے میں کنوریہ نے بڑی تفصیل سے تزکرہ کیا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے یہ چورا پچسکا گروپ خصوصاً گیت گووند اور بھگوت پُر ان سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا تاریخ شدہ نسخہ "راگ مالا"1628میں مرقع کیا گیا۔ جسے صاحب دین نے اودے پور میں مصور کی   اور اب موتی چند خزانچی بیکانیر کے ذاتی مجموعہ میں ہے۔ یہ نسخہ نثار پوری کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ راجہ کرن سنگھ دویم(28۔1620)جو شہزادہ خرم کا دوست تھا۔ فن مصوری کا دلدادہ تھا۔ مغل طرز میں بنائی ہوئی شاہ جہاں کے ساتھ، راجہ کرن سنگھ کی شبیہہ اب بھی ملتی ہے۔

    اس کے بعد سے1680تک میواڑ ایک بڑا زبردست فنی مرکز رہا۔ جہاں بھگوان کرشن کی زندگی۔ ہم عصر ہندی شاعری کے کردار، رامائن، بھگوت پر ان، راگ راگنیاں، بارہ موسموں عشقیہ اور مباشرت کے موضوعات پر مبنی تصویروں کی ایک اچھی خاصی تعداد ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے ان تصاویر میں چہرے یک چشمی اور آنکھیں بڑی کشادہ دکھائی گئی ہیں۔ نُکیلی ناک اور دُہری ٹھڈی خصوصی انداز میں بنائی گئی ہیں۔ خطوط بڑے تیکھے اور واضح ہیں۔ رنگ حالاں کہ محدود ہیں لیکن بڑے شوخ اور چمکدار ہیں۔ میواڑ طرزِ مصوری خصوصا راجہ کرن سنگھ کے جانشین، راجہ جگت سنگھ(1653-1628) کے عہد میں اپنے عروج میں تھا۔ اس دور کے کچھ مشہور نسخے مندرجہ ذیل ہیں۔

    1        "بھگوت پُران" بتاریخ 1648۔ عمل صاحب دی یا صاحبِ دین۔ مجموعہ بھنڈار کر اورنٹیل ریسرچ انسٹیٹیوٹ پونہ۔

    2        "چھیتر مہاتمایا" بتاریخ 1655عمل صاحب دی یا صاحب دین، مجموعہ سرسوتی بھون لائبریری، اودے پور۔

    3        "رامائن" بتاریخ 1649عمل منوہر بمقام اودے پور۔ مجموعہ پرنس آف ویلز میوزیم، بمبئی اور مجموعہ سرکاوس جی جہانگیر،

              بمبئی۔

    (اس نسخہ کے شروع میں یہ تحریر ہے کہ اس نسخہ کو آچاریہ جسونتھ کے لئے مُنی ہیر انند نے نقل کیا اور منوہر نے اسے اودے پور میں مرقع کیا۔)

    4        "راگ مالا"۔ مجموعہ نیشنل میوزیم، نئی دہلی۔

    5        "رسک پر یہ" مجموعہ گوپی کرشن کنوریہ۔

    6        "سورساگر، مجموعہ گوپی کرشن کنوریہ۔

    جگت سنگھ کے بعد راجہ راج سنگھ(81۔652) نے بھی ادب اور مصوری کی خاصی سر پرستی کی۔ اس کے دور حکومت میں مہابھارت، بھگوت پُران کا چھٹا باب۔ چاند برداٹی کی لکھی ہوئی "پرتھوی راج رسو" (راجہ پرتھوی راج کی کتھا) بان بھٹ کی کدا مبری اور پنچ تنتر نامی نسخے مرقع کئے گئے۔

    راجہ جے سنگھ اور راجہ امر سنگھ دوئم کے دور میں زیادہ تر فنِ تعمیر کی سر پرستی ہوئی لیکن راجہ سنگرام سنگھ دوئم(34۔1710) کے دور میں میواڑ مصوری دوبارہ ابھری۔ مصوری کا خاص موضوع بھگوان کرشن اور ان کی لیلا رہا۔ 1723میں گپت گووند کے دو نسخے مرقع کئے گئے۔1725میں جگن ناتھ مصور نے شاعر سُندر داس کی "سندر شرنگار" نامی نظم کو مرقع کیا۔ وکٹوریہ ہال میوزیم، اودے پور کے کلکشن میں محفوظ115تصاویر جس میں بھگوت پُران کے دسویں باب کو مرقع کیا گیا ہے۔ اسی دور کی بیان کی جاتی ہیں۔ 1762کے لگ بھلگ رانا اری سنگھ کے دور میں تھی، مصوری کی گئی۔ اس رانا کی شبیہہ اپنی محبوب رانیوں کے ساتھ ملتی ہے۔

    مارواڑ طرز:

    ریاست جودھپور جسے مارواڑ بھی کہتے ہیں۔ راجستھان کی سب سے بڑی ریاست تھی۔مارواڑ کے معنی ہیں "موت کا علاقہ" جہاں دُور دُور تک سوائے ریت کے اور کچھ نہیں ہے۔ کہیں کہیں کچھ ہرے علاقے نظر آتے ہیں۔ جودھپور کے حکمراں راجپوتوں کے راٹھور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے آپ کو بھگوان رام کے شجرہ نسب کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بارھویں صدی میں یہ خاندان وسطی مشرقی ہندوستان میں حکومت کرتا تھا جس کا دارالخلافہ تنوج تھا۔ جے چند اس خاندان کا آخری راجہ تھا۔ اس کا بھتیجا سیاہ جی اپنے دو سو ساتھیوں کے ساتھ1194میں راجستھان کے مارواڑ علاقے کو کوچ کر گیا جہاں اس نے 1212میں ریاست مارواڑ کی بنیاد ڈالی۔

    1459میں اسی خاندان کے راجہ راؤ جودھا(88-1444) نے 1459میں شہر جودھپور کو بسایا جس کے نام پر ریاست جودھپور کہلائی۔ راجہ جودھا نے سطح سر زمین سے چار سو فٹ کی بلندی پر اپنا قلعہ تعمیر کروایا جس کی فصیل سے بہت دور تک دیکھا جا سکتا ہے اس قلعہ کے دامن میں شہر جودھپور واقع ہے۔ یہاں ایک عام دربار ہال تعمیر کروایا تھا جس میں راجہ اپنا دربار کیا کرتا تھا اور رقص وغیرہ کی محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔ 1581میں راجہ اودے سنگھ کے زمانے میں مغل سلطنت سے اچھے تعلقات ہو گئے اور ازدواجی رشتے بھی قائم ہو گئے۔ اس طرح جودھپور میں بھی مغل اثرات پھیلے لیکن جودھپور میں خصوصی طور سے فن شبیہ کشی پر بدرجہ اتم زور دیا گیا جس کا انداز کم و بیش مغل اسلوب پر مبنی ہے۔ لیکن 1623کا تاریخ شدہ"راگ مالا" کا ایک نسخہ دستیاب ہوا ہے جسے ویر جی نامی مصور نے پالی مقام پر مرقع کیا ہے۔ اس نسخہ میں مغل اثرات کا فقدان ہے۔ بڑی سادگی ہے۔ اور ہندوستانی عوامی طرز کی جھلک ملتی ہے۔

    خصوصی مغل طرز و ادا میں جودھپور میں جو مصوری کی گئی اس کے سر پرست تھے راجہ جسونت سنگھ(169۔1638) راجہ اجیت سنگھ(24۔707) اور راجہ ابھے سنگھ(50۔1724) لیکن راجہ وجے سنگھ کے دور میں(93۔1753) مغل طرز قدرے دھند لاپڑ گیا اور راجپوتی ادا ابھرنے لگی۔ چوں کہ اس راجہ کے دور حکومت میں مارواڑ علاقے میں کافی امن و چین رہا لہٰذا اس دور کی تصاویر کی ایک اچھی خاصی تعداد جودھپور محل کے کلکشن میں موجود ہے۔ راجہ بھیم سنگھ(1803۔1793) کا دورِ حکومت بہت مختصر رہا لیکن اس نے بھی جودھپور مصوری کی سرپرستی جاری رکھی۔ اس کے جانشین راجہ مان سنگھ(43۔1803) نے خصوصاً جودھپور مصوری کو پروان چڑھایا۔ چوں کہ 1818میں ریاست جودھپور انگریزوں کے نظم و نسق میں آ گئی ۔ لہٰذا راجہ مان سنگھ نے اپنا زیادہ تر وقت ادب اور مصوری کی سر پرستی میں صرف کیا۔ یہ بذات خود ایک اچھا شاعر تھا۔ اس نے ایک لمبی نظم "کرشنا دلاس" لکھی۔ اس کی دورانیاں بھی شاعرہ تھیں۔ لہٰذا اس دور میں جودھپور فن و ادب کا اچھا خاصا مرکز بن گیا۔ اسی دوران بقول ڈاکٹر رندھاوا شیو پُران، ناتھ چرتر، دُرگا چرتر، بنچ تنتر، راگ مالا، کام سوتر جیسے نسخے مرقع کئے گئے۔ امرداس، شیوداس بھٹی، جالا، دانا، مہیش، دھیرے، بُلاقی، اودے رام اور موتی رام راجہ مان سنگھ کے دربار کے خصوصی مصورتھے۔ مندرجہ بالا کلاسیکی مرقع نسخوں کے علاؤہ کچھ ایسی تصاویر بھی دستیاب ہوئی ہیں جن میں راجہ مان سنگھ اپنے حرم کی عورتوں کے ساتھ جھولا جھولتے ہوئے، نہاتے ہوئے اور کہیں موسیقی سے محظوظ ہوتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ان تمام تصاویر میں سپنہرے اور بھڑ کیلئے رنگوں خصوصاً نیلے پیلے اور ہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ راجہ تخت سنگھ(73۔1843) کے دور میں جودھپور مصوری کا خاتمہ ہو گیا کیوں کہ اس راجہ کا بیشتر وقت حرم کی چہار دیواری میں گذرتا تھا۔

    بیکانیر طرز

    جودھپور کے شمال میں راجا راؤ جودھا کے لڑکے بیکار اٹھور نے ریاست بیکانیز کی بنیاد ڈالی۔30ستمبر1465میں شہزادہ بیکا نے جودھپور سے کوچ کیا۔ ریگستان کے اندرونی علاقوں کو سر کرنے کے بعد 1488میں اس نے بیکا نیر شہر کو تعمیر کروایا۔1570میں راجہ کلیان سنگھ نے اپنی(71۔1542) ایک لڑکی کی شادی اکبر سے کر دی لہٰذا راجہ کلیان سنگھ کا لڑکا راجہ رائے سنگھ(1612۔1571) اکبر کے دربار میں منصب داری کے عہدے پر فائز ہوا اس طرح بیکانیر مین بھی مغل تہزیب و تمدن کا بول بالا ہوا۔ اس نے 1594میں بیکانیر کا قلعہ تعمیر کروایا۔ راجہ کرن سنگھ(69۔1631)کے دور میں کئی مغل درباری مصوروں کا خاندان بیکانیر میں جا کر آباد ہو گیا ہو گا کیوں کہ بیکانیر کے مصور رکن الدین(بتاریخ 1666) اور اس کے لڑکے مصور شاہ دین کے شاہکار دستیاب ہو چکے ہیں۔ رکن الدین کے مرقع لال گڈھ محل، بیکانیر کے مجموعے میں اور شاہ دین کی بنائی ہوئی ایک بہت ہی خوبصورت تصویر برٹش میوزیم لندن میں محفوظ ہے۔ اس تصویر میں بھگوان کرشن کو کوہ گوردھن کو اپنی ایک انگلی پر اُٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس پہاڑی کے نیچے ان کی گوپیاں اور گائیں موجود ہیں اور پس منظر میں اندر دیوتا نے آندھی اور بارش کا طوفان پیدا کر رکھا ہے۔ اس تصویر میں رنگ آمیزی، تفاصیل اور ناز کی قلم کا ایک ایسا اچھا مظاہرہ ہے کہ اس تصویر کو کسی مغل شاہکار کے مقابل رکھا جا سکتا ہے۔ بقول ڈاکٹر رندھاوا ایک مغل مصور علی رضا بھی 1650میں راجہ کرن سنگھ کے دربار میں کام کرتے ہوئے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اُستاد عیسیٰ محمد اور بھی دیگر مصوروں کے کام ملتے ہیں۔ راجہ انوپ سنگھ(98۔1669) کے دور میں بھی بقول رندھاوا بہت سے اورنگ زیب کے درباری مصور بیکانیر آ گئے تھے۔ چوں کہ انوپ سنگھ نے اورنگ زیب کے ساتھ گولکنڈہ کے محاصرہ میں حصہ لیا تھا لہٰذا اس کے عوض میں اسے اورنگ آباد کی گورنری عطا کی گئی تھی۔ اس کے بعد راجہ سبحان سنگھ(36۔1700) کے دربار میں بھی مصور نوری اور عیسیٰ محمد کے ہوئے ملتے ہیں۔ راجہ گنج سنگھ(87۔1745) کے عہد میں بیکا نیر طرز میں خصوصی تبدیلی پیدا ہوئی اور جودھپور طرز کی روایات کو اپنایا گیا۔1809کی اُستاد قاسم کی دستخط شدہ راجہ صورت سنگھ(1828۔1757) کی ایک شبیہہ ملتی ہے جو کم و بیش جودھپور طرز سے مشابہ ہے۔ لیکن بعد ازاں اس طرز میں مصورانہ صفات کا خاتمہ ہو گیا۔

    کشن گڈھ طرز

    جودھپور کے راجہ اودے سنگھ کے لڑکے اور راجہ منور سنگھ کے چھوٹے بھائی راجہ کشن سنگھ نے 17ویں صدی کی دوسری دہائی میں ریاست کشن گڈھ کی بنیاد ڈالی۔ دراصل راؤکشن سنگھ کو اپنے بڑے بھائی سے کچھ تنازعات کی بنا پر جودھپور چھوڑ کر اجمیر   جانا پڑا جہاں اس کی ملاقات شہنشاہ اکبر سے ہوئی اکبر نے اجمیر کا کچھ علاقہ اس کے سپرد کر دیا۔ لہٰذا راجہ کشن سنگھ نے گنوالاؤ جھیل کے کنارے 1611میں ایک چھوٹا سا شہر آباد کیا جسے کشن گڑھ کہتے ہین۔ راجہ کشن سنگھ کے شہنشاہ جہانگیر سے برے اچھے مراسم تھے۔ اور اس کی فوجی خدمات کی بنا پر اسے مہاراجہ کے لقب سے نوازا۔ لیکن اس دور کی کشن گڑھ کی مصوری کے متعلق ابھی تک کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔ اٹھارویں صدی میں راجہ ساونت(64۔1748) کے دور کی بیکانیر مصوری کی شہادتیں ضرور ملتی ہیں۔ ساونت نے بیس سال کی عمر میں نگری داس کے نام سے شاعری شروع کی جو دینی اور عشقِ حقیقی پر مبنی تھی۔ یہ عالموں اور مصوروں کا بڑا سر پرست تھا۔ 35سال کی عمر میں اتفاق سے راجہ ساونت کو ایک خوبصورت مغینہ( جو راجہ کی سوتیلی ماں کی ایک نوکرانی تھی) سے عشق ہو گیا۔ اس حسینہ کا اصلی نام نہیں معلوم۔ لیکن ساونت نے اپنی شاعری میں اسے "بنی ٹھنی" کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ عورت نہایت خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ہندی ادب پراچھی خاصی نظر رکھتی تھی۔ چوں کہ یہ راجہ کی محبوب رانی تھی لہٰذا کشن گڑھ کے مصوروں کا بھی یہ محبوب موضوع بن گئی۔ اسی حسینہ "بنی تھنی" کے موضوع پر کشن گڈھ کی مصوری کے شاہکار دستیاب ہوئے ہیں۔ راجہ ساونت کے دربار میں نہال چند نامی ایک بہت اچھا مصور تھا جس کی شبیہہ اب تک موجود ہے۔ نہال چند نے خصوصاً ساونت کی شاعری کو مرقع کرنے کے ساتھ ساتھ بنی ٹھنی کی بہت تصاویر بنائی ہیں۔ بے سل گرے کا خیال یہ ہے کہ کشن گڈھ مصوری میں مصوروں نے راجہ ساونت اور بنی ٹھنی کی جوڑی کو رادھا اور کرشن کے روپ میں اپنی تصاویر میں دکھایا ہے۔ کشن گڑھ کے طرز مصوری میں انسانی چہروں میں آنکھوں کی ایک خاص بناوٹ ہے جسے "کھنجن نین" کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ بنی ٹھنی کی نہایت چنچل اور شوخ آنکھوں کا ایک حسین مظاہرہ ہے جو کشن گڈھ مصوری میں ایک عام تکیہ قلم بن گیا۔ عموماً یہ چہرے یکچشمی دکھائے گئے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ راجہ ساونت سنگھ بنی ٹھنی کے عشق میں اس قدر مبتلا ہوا کہ وہ ریاست کے نظم و نسق سے لاپرواہی کرنے لگا اور آخر کار اس موقعہ کا فائدہ اُٹھا کر اس کے چھوٹے بھائی بہادر سنگھ نے اسے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے راجہ ساونت سنگھ نے اپنی ریاست کا آدھا حصہ اور شہر کشن گڑھ بہادر سنگھ کےحوالے کر دیا اور بذاتِ خود بقیہ مختصر سی جاگر روپ نگر اپنا دارالخلافہ بنا کر حکومت کرنے لگا۔ لیکن 1757میں ساونت سنگھ نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دیا اور اپنی محبوب رانی بنی ٹھنی کو ساتھ لے کر بندرابن چلا گیا۔ جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور 1764میں اس کی وفات ہو گئی اور بنی ٹھنی کی وفات ایک سال بعد ہوئی۔

    راجہ ساونت سنگھ کا لڑکا سردار سنگھ چوں کہ کمسن تھا لہٰذا وہ اپنی ریاست کو سنبھالنے سے قاصر رہا۔ اس لئے اس کے چچا بہادر سنگھ نے 1781تک اس علاقے پر حکمرانی کی۔

    کشن گڈھ مصوری راجہ کلیان سنگھ(1838۔1798) کے دور میں بھی ہوئی جیسا کہ 1820کا تاریخ شدہ گیت گوند کا ایک نسخہ کشن گڑھ طرز میں ملتا ہے۔

    بوندی طرز:

    میواڑسے ملی ہوئی بوندی اور کوٹہ پر مشتمل ہراوتی ریاست تھی جس کی بنیاد راؤدیوا نے1542میں ڈالی جہاں چوہان راجپوت حکمرانی کرتے تھے۔ چوہان حکمران اپنے آپ کو راجہ پرتھوی راج چوہان (جس نے 1192میں محمد غوری سے ٹکر لی تھی) کا خاندانی تصور کرتے تھے۔ میواڑ ریاست سے ان کے ازدواجی رشتے تھے اور جب کبھی ضرورت پڑتی تھی تو چوہان ہر طریقے سے میواڑ کا ساتھ دیا کرتے تھے۔1552میں راجہ راؤ سرجن نے تخت پر بیٹھتے ہی میواڑ سے تعلقات توڑ لئے اور حلقہ زنتھور کو فتح کر لیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد اکبر نے راجہ بھگوان داس اور راجہ مان سنگھ کی مدد سے بوندی کو مغل سلطنت کا ہمنوا بنا لیا۔ لہٰذا راجہ سُر جن نے 1969میں زنتھمبور کا قلعہ اکبر کے حوالے کر دیا اور مغل شہنشاہیت قبول کر لی۔ اس کے جانشین راجہ راؤ رتن نے بھی دربار جہانگیری کی خدمات کیں۔ راجہ راؤ رتن کی وفات کے بعد اس کی ریاست اس کے دو لڑکوں راجہ گوپی ناتھ اور راجہ مادھو سنگھ کے درمیان تقسیم کر دی گئی۔ بوندی کا علاقہ گوپی ناتھ کے قبضہ میں آیا اور کوٹہ مادھو سنگھ کی وراثت میں آیا۔ اس کے بعد کے سبھی راجہ مغل سلطنت کے وفادار رہے۔ بوندی کا تیسرا راجہ راؤ چھتر وسال 591۔1613شاہ جہاں کے زمانہ میں دہلی کا گورنر بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ چھتر وسال نے 32جنگیں لڑیں اور کامیابی حاصل کی۔ اس کی بہادری اور جنگ جوئی کا اس دور میں بڑا چرچا تھا۔ دربار مغلیہ سے بوندی کے اتنے قریبی تعلقات کی بنا پر ناقدین کا خیال ہے کہ مغل مصوروں کا بھی بوندی مصوروں سے گہرا تعلق رہا ہو گا اور مصوروں کی آمدورفت رہی ہو گی اور غالباً اسی وجہ سے بوندی طرز مصوری پر شاہ جہانی مغل مصوری کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔

    بوندی کی طرز کی غالباً سب سے پہلی 1689کی تاریخ شدہ تصویر پرنس آف ریلیز میوزیم بمبئی کے مجموعہ میں ہے جس میں دو پریمیوں کو ایک باغ میں دکھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر چاند کو بوندی طرز میں خصوصی انداز میں پیش کیا گیا ہے اور چاند کے چاروں طرف ہالہ دکھایا جاتا ہے جیسا کہ اکثر چاندنی راتوں میں ہوتا ہے۔ اس تصویر میں خاصی انفرادیت ہے اور مغل اثرات کی کمی ہے۔ اسی قسم کی اور بھی تصاویر مختلف مجموعوں میں موجود ہیں جن کے متعلق یہ قیاس لگایا جاتا ہے کہ وہ بوندی طرز کی ہیں۔ راگ دیپک، مجموعہ   بھارت کلا بھون، بنارس اور راگ بھیروی۔ مجموعہ میونسپل میوزیم الہٰ آباد اس طرز کی ابتدائی تصاویر بنائی جاتی ہیں۔ ان تصویروں میں اکبری مصوری کے آخری دور کے اثرات واضح ہیں۔ بوندی طرز میں انسانی چہروں کو گول دکھایا گیا ہے۔ رخسارں پر اور تاک کے پاس اور آنکھوں کے نیچے ہلکا سا سایہ دکھا کر چہرے کو گول ظاہر کیا گیا ہے۔ بند کے اعضاء گلابی رنگت لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح بوندی مصوروں نے نسوانی خوبصورتی کا ایک ایک معیار پیش کیا ہے۔ پانی کو مغل طرز کی طرح گہرے میٹھے نیلے رنگ پر سفید رنگ کے خطوط سے دکھایا گیا ہے جابجا چھوٹے چھوٹے پھولدار خود رو پودے دکھا کر پس منظر کو بھرا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ خطوط کی نفاست اور عمل میں رمزیت اور شاعرانہ مزاج بوندی طرز کے خصوصی پہلو ہیں۔ چھتر وسال کی حکومت کے بعد مختلف حکمرانوں خصوصاً راجہ بھاؤ سنگھ۔ راجہ آئی رودمد سنگھ اور راجہ بُدھ سنگھ کے دورِ حکومت میں بھی مصوری کو خاطر1771 میں اس نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دیااور تنہائی میں زندگی گزارتے ہوئے1804میں اس کی وفات ہو گئی۔ راجہ اُمید سنگھ کے جانشین راجہ بشن سنگھ(1821۔1771) نے بھی مصوری کی سر پرستی کی۔ اسے شکار سے بہت دلچسپی تھی۔ لہٰذا اس کے دور کی تصاویر میں شکار کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آخری تاجدار راجہ رام سنگھ(1909۔1821) کے دور میں بوندی محل کی دیواریں تصاویر سے مرقع کی گئیں جس میں خصوصی موضوعات شاہی جلوس، شکار اور کرشن لیلا کے مناظر تھے۔ ڈاکٹر رندھا وا کے مطابق بوندی مصوری کی بہترین شال آلور میوزیم کی راگ مالا تصاویر ہیں۔

    کوٹہ طرز:

    سترھویں صدی میں کوٹہ طرز مصوری نے بھی اپنے جداگانہ انداز میں ابھرنا شروع کیا اور یہ 19ویں صدی تک قائم رہا۔ یہاں زیادہ شکار کے مناظر بنائے گئے۔ قلم میں بڑی صفائی ہے۔ ہر شے کو بڑی تفصیل کے ساتھ مرقع کیا گیا ہے۔ مغل مصوری کے مانند یہاں بھی چھوٹی سی محدود جگہ میں مرکزی کردار کے علاوہ پہاڑ، ٹیلے، جنگل، جھاڑیاں اور جنگلی جانور دور اُفق تک بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تصویر راجہ رام سنگھ ثانی کے دور کی گوپی کرشن کنوریہ کے مجموعے میں ہے جس میں راجہ رام سنگھ کو ایک جنگل میں شیر کا شکار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تصویر ہے اور بلاشبہ مصور کی فنکارانہ صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے اس میں مغل جیسا قدرتی پن کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے۔ کہیں کہیں روائتی انداز بھی ہے جو غیر شعوری طور سے تکیہ قلم کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔

    مالوہ طرز:

    جدید تحقیقی مطالعہ کے تحت راجستھانی مصوری کی ایک شاخ مالوہ طرز مانا گیا ہے کیوں کہ جنوبی راجستھانی میں مالوہ اور بُند بکھنڈ کے علاقے میں کچھ تصاویر خصوصی انداز کے ساتھ بنائی گئیں حالاں کہ ان کی ساخت میواڑ طرز اور چورا پنسکا گروپ سے بہت ملتی جلتی ہے۔ اس سے پیشتر مالوہ عمومی بیرونی چشمی طرز کا ایک اہم مرکز تھا لیکن بعد میں مالوہ طرز مصوری میں کافی تبدیلیاں ہوئیں اور بیرون چشم کا فقدان ہو گیا۔ ہندوستانی اور ایرانی اسالیب کے امتزاج کا سلسلہ شروع ہوا اور جو طرز مصوری سلطنت حکمرانوں کی سر رستی میں وجود میں آیا اُسے مختلف ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے جس کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے لیکن 17ویں صدی میں مالوہ مصوری پر میواڑ طرز کی چھاپ پڑنے سے جو اسلوب ابھرا اس کی اپنی انفرادیت ہے۔ اس طرز کی سب سے اچھی مثال راگ مالا کا ایک سیٹ ہے جو بھارت کلابھون   بنارس الہٰ آباد میوزیم، الٰہ آباد اور نیشنل میوزیم نئی دہلی کے درمیان منتسم بنایا جاتا ہے۔ اس سیٹ میں ایک جگہ تحریر ہے کہ یہ نسخہ بمقام نرسینگا سہار میں مادھو داس نامی مصور نے 1650 میں مرقع کیا۔94تصاویر پر مشتمل ایک دوسرا راگ مالا کا سٹ ہے جو 1652میں نصرت گڑھ میں مرقع کیا گیا اور اب پرنس آف ویلز میوزیم بمبئی کے مجموعے میں محفوظ ہے۔ مالودہ طرز میں خصوصی عمارتی ترتیب مدھم، سپاٹ رنگ اور مسجع نگاری کے علاوہ بدن کے تناسب سے یکچشمی چہرے کا عموماً چھوٹا ہونا اور لمبوترے دھڑ کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو اسے دوسرے راجستھانی طرزوں سے منفرد کرتے ہیں۔

    پہاڑی مصوری:

    ابھی تک بعض مؤرخیں کا خیال ہے کہ اورنگ زیب کے کٹر مذہبی خیالات اور تین مصوری سے بے رخی اور محمد خاں کے ہڈ کرس زمانہ میں ہندو مصور جو دلی یا لاہور میں کام کرتے تھے اپنے وطن کو واپس لوٹ گئے۔ کی وجہ سے مغل مصور مغل دربار کو الوداع کہہ کر پنجاب کی پہاڑی ریاستوں میں چلے گئے جہاں انہوں نے مقامی اثرات کا ایک استراجی اسلوب پیدا کیا جسے ہندوستانی مصوری میں پہاڑی طرز کہا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قیاس آرائی کسی حد تک درست ہو لیکن جدید تحقیقات سے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں ان سے اس مفروضہ خیال کو تقویت نہیں ملتی۔ پنجاب میوزیم پندی ، چندی گڑھ کے مجموعہ میں ایک شبیہہ کا خاکہ ہے جس پر"پنڈت سیو مصور" تحریر ہے۔ چوں کہ پہاڑی طرز میں کام کرنے والے مصوروں میں پنڈت سیو کا خاندان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ایم۔ایس رندھاوا نے پہاڑی مصوروں کے بزرگوں کے متعلق بنیادی تحقیقات کی۔ اور یہ معلوم کیا کہ میسور نین سکھ کا خاندان موضع راجول ضلع کانگڑہ میں اب تک بھی موجود ہے۔ ان میں سے لچھمن داس 1915میں بھی مصوری کرتا تھا۔ ڈاکٹر بی۔این۔ گو سوامی نے ان شجرہ لوکیوشن کے متعلق جو ڈاکٹر رندھاوا نے حاصل کئے تھے۔ تفصیل کے ساتھ تحقیقات کی اور لہٰذا ہر دور کے پروہتوں اور پنڈتوں کے 1736اور 1703کے "بہی" دستاویزوں سے پتہ لگایا ہے کہ پنڈت سیو بڑھئی کے ساتھ ساتھ ایک مصور بھی تھا اور اس کے دو لڑکے تھے۔ نین سُکھ اور مائکو(یا مانک) اور یہ لوگ گولیر کے رہنے والے تھے۔ انہیں "بہی" کے دستاویزوں سے ڈاکٹر گو سوامی نے پنڈت سیو کا جو خاندانی شجرہ مرتب کیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔:

     

    لیکن ان پرہتوں کے کسی بھی "بہی" سے اس بات کو کوئی سند نہیں ملتی کہ پنڈت سیو کے آبا ؤ اجداد بھی مصوری کرتے تھے انہیں بہرحال ایک پروہت کے 1827کے دستاویز سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پنڈت سیو کے لڑکے نین سُکھ کا خاندان بسوہلی نے راجہ امرت پال کی ایما پر بسوہلی ہجرت کر گیا جہاں انہیں زمین وغیرہ دے کر بسا دیا گیا۔ بلاشبہ   اسی خاندان کے ہاتھوں کانگرو طرز کا بھی جنم ہوا اور ارتقاء ہوا۔ انہیں دستاویز سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گُر سہامے کا لڑکا دیوی دِتا پٹیالہ چلا گیا اور چھبو کا ایک لڑکا سود گر ٹہری کو اور دوسرا لڑکا جواہر گڑھوال چلا گیا۔

    بسوہلی طرز

    ناقدین کا خیال ہے کہ پہاڑی مصوری کی ابتدا سب سے پہلے غالباً 17ویں صدی میں بسوہلی مقام پر ہوئی جہاں سے یہ مختلف پہاڑی، ریاستوں مثلاً مانکوٹ،نورپور، کُلو، منڈی، سُکیت، بلاس پور نالا گڈھ چمبا، گلیر اور کاگڑہ میں پھیلی۔ بقول ڈاکٹر رندھاوا ریاست بسوہلی صرف74گاؤں پر مشتمل تھی جسے راجہ بوگ پال نے 765میں قائم کی تھی۔ بکو راس ریاست کا دارالخلافہ تھا۔ 1590میں بسوہلی کے راجہ کرشن تال اکبر کے دربار میں حاضر ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بسوہلی کے راجاؤں کا مغل دربار سے بڑا گہرا تعلق ہو گیا۔ اسی خاندان کے ایک فر راجہ سبوپت پال(1635۔1598) نے جو شہنشاہ کا ہم عصر تھا اپنا دارالسلطنت   بلور سے بسوہلی منتقل کر دیا۔ راجہ بھوپت پال نہایت ہی لحیم شمیم شخصیت کا مال تھا۔ اس علاقہ میں ریاستوں کے درمیان بڑی رقابت رہتی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ راجہ جگت سنگھ نے جو ریاست نور پور کا حکمران تھا۔ بھوپت پال کو تید کروا کر بسوہی پر قبضہ کر لیا تھا۔ چودہ سال قید میں رہنے کے بعد جب پھوپت پال کو رہائی ملی تو اُس نے بسوہلی کو پھر دوبارہ آزاد کروا لیا۔ لیکن راجہ جگت سنگھ نے 1635میں بھوپت لال کو دہلی میں کسی طرح قتل کروا دیا۔

    راجہ بھوپت پال کی وفات کے بعد اس کا لڑکا سنگرام پال(73۔1635) گدی پر بیٹھا، اس شہزادے کی مردانہ خوبصورتی کا دور دور تک چرچا تھا۔ جب سنگرام پال کو دہلی میں حاضری کے لئے بلایا گیا تو اس کی خوبصورتی کی خبر حرمِ خاص میں بھی پھیلی۔ لہٰذا شاہ جہاں کی بیگم نے اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ لہٰذا جب اسے حسب فرمائش حرم میں لایا گیا تو اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی لیکن حرم کی بیگمات کے یہ کہنے پر کہ مرد کی خوبصورتی اس کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ پٹی کھول دی گئی۔ بیگمات اس شہزادے کی خوبصورتی سے بہت محظوظ ہوئیں اور اسے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ بسوہلی واپس   پہو نچے پر اس نے اپنے دورانِ حکومت 22لڑائیاں جیتیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے 22 رانیاں بھی تھیں لیکن بدقسمتی سے یہ تا عمر لا اولاد ہی رہا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا چھوٹا بھائی ہندل پال گدی پر بیٹھا۔

    عام طور سے مؤرخیں کا خیال ہے کہ راجہ سنگرام پال کے دور میں سوہلی مصوری پروان چڑھی لیکن اس کی ابھی تک کوئی سند نہیں مل سکی۔ لیکن اسی خاندان کے ایک راجہ کرپال پال (93۔1673)کو مصوری سے بے حد لگاؤ تھا جسے بسوہلی قلم کا سر پرست قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ فقط 15برس برسرِ اقتدار رہا۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا دھیرج پال(1725۔1695) اور پوتا میدلی پال(36۔1775) تخت نشین ہوا۔ دونوں ہی فن مصوری کے دلدادہ تھے۔ اور انہوں نے اپنے درباروں میں مصوروں کی خاطر خواہ سر پرستی کی۔

    بسوہلی طرز مصوری میں اتنی انفرادیت ہے کہ اسے بآسانی پہنچانا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ اس میں وہ نفاست اور تازگی نہیں ہے لیکن اس کی سادگی، توانائی اور برجستگی کا کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ ان تصاویر کی حاشیہ عموما ً گہرے لال رنگ سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی پیلے رنگ سے بھی بنائی گئی ہے۔ بعض تصاویر میں ٹکری رسم الخط میں تصاویر کے موضوعات باتفصیل دئیے ہوئے ہیں لیکن تصویر میں تفصیلات سے گریز کیا گیا ہے بلکہ بسوہلی طرزرنگوں کے بالواسطہ استعمال سے اپنی انفرادی فوقیت رکھتا ہے۔ تیز لال اور پیلے رنگ آنکھوں میں سرائیت کر جاتے ہیں۔ پیلا خصوصاً بہار کا رنگ ہے اور رومانی جوڑوں کے جذبات کا آئینہ دار ہے۔ لال محبت کے دیوتا کا رنگ ہے جو بسوہلی مصوری کے جذباتی موضوعات سے بھرپور موزونیت رکھتا ہے۔ نیلا گوشن بھگوان کا رنگ ہے اور ساتھ ساتھ ان گہرے بادلوں کا بھی جن کے برسنے سے زمین زرخیز ہوتی ہے۔انہیں بنیادی رنگوں کے بالواسطہ استعمال سے بسوہلی طرز کی تصاویر میں غضب کی کش پائی جاتی ہے حالاں کہ یہ سپاٹ، آرائشی اور دو جہتی خصوصیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ان بنیادی رنگوں کے علاوہ کپروں کے ڈیزائن میں ہرا، بھورا، سلیٹی اور سونے کے رنگوں کا استعمال ملتا ہے۔ تصاویر کی ترتیب قطعی خیالی اور فرضی ہوتی ہے۔ پس منظر میں گروپ سے متاثر نظر آتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ روائتی ہندوستانی اسلوب جو مغل مصوری کے قیام سے پہلے ہندوستان میں رائج تھا۔ اٹھارویں صدی تک زندہ تھا۔ ہاں بدلتے ہوئے زمانے اور مقامی اثرات کی بنا پر اس کی ہیت بدل گئی تھی۔ تصویروں کے موضوعات روائتی ہیں۔ مثلاً کرشن لیلا ، رس منجری ("رس سنجری" بہار کے شاعر بھانوات نامی میتھلی برہمن نے 14 ویں صدی میں لکھی تھی۔ یہ اس کے موضوع پر ہے جس میں نائک اور نائیکا کے تزکرے ہیں۔) درس منجری کا ایک نسخہ جسے مصور دیوی دال نے غالباً1694میں مرقع کیا تھا غیر مکمل شدہ حالت میں ملتا ہے۔ اس کے کچھ صفحات بھارت کلابھون بنارس میں موجود ہیں۔ اسی نسخہ کی ایک دوسری نقل جو بسوہلی طرز میں ہے۔ میوزیم آف فائن آرٹ، بوسٹن اور وکٹوریہ البرٹ میوزیم۔ لندن کے کلکشن میں موجود ہے۔ بھگوت پُران، گیت گووند، ماراماسا د(بارہ مہینے) راگ مال ہیں کچھ شبیہیں بھی ملی ہیں۔ مثلاً راجہ کرپال پال اور راجہ دھیراج پال کی شبیہیں جو غا لباً1690 اور 1693کے درمیان بنائی گئیں۔ چنڈی گڑھ میوزیم کے کلکشن میں موجود ہیں۔

    گڑھوال طرز

    گڑھوال طرز مصوری 17ویں صدی میں ریاست گڑھوال کی سرپرستی میں شروع ہوئی۔ عام طور سے یہی روایت ہے۔ کچھ مصور مغلی دربار سے ہجرت کر کے گڑھوال پہنچے جن کے ذریعہ گڑھوال مصوری کی بنیاد پڑی۔ الکھنداندی کے بائیں کنارے پر بسا سری نگر جو اس وقت ریاست گڑھوال کا دارالخلافہ تھا گڑھوال   طنہِ مصوری کا خاص مرکز تھا۔ راجہ پر تھی پت شاہ (60۔1625) کے دربار میں غالباً پہلی بار دو مصور شام داس اور اس کا لڑکا ہر داس آئے تھے۔ دراصل اورنگ زیب کی فوجی پیش قدمی کی وجہ سے دا را شکوہ کے لڑکے شہزادہ سلیمان شکوہ   کے ہمراہ مئی 1658میں یہ مصور بھاگ کر گڑھوال پہنچے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ یہ دو مصور دارا کے خصوصی درباری مصور تھے اور انہیں کی چوتھی نسل سے گڑھوال میں مشہور مولا رام (1833۔1743) پیدا ہوا جس کا تاریخی اعتبار سے خاصا چرچا رہا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی توشتہ میں اپنے کو مصور کے بجائے شاعر کہتا ہے۔ ہاں مولا رام نے اپنی تصنیف "تاریخ گڑھوال راج" میں دو مصوروں کا تزکرہ کیا ہے جنہیں دربار میں وزیروں کا درجہ دیا گیا تھا اور ان کے لئے باقاعدہ شاہی اسٹوڈیو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ 1763میں مولا رام نے کانگڑہ کا سفر کیا تھا اور وہاں کے ہم عصر مصوروں سے ملاقاتیں کی تھیں اور بطور یاد گار کچھ کانگڑہ طرز کی تصاویر اپنے ساتھ سری نگر لایا تھا جو گڑھوال طرز کے لئے فیضان ثابت ہوئی۔ خصوصاً مولا رام کے جتنے شاہکار ملتے ہیں وہ کانگڑہ طرز سے بنیادی طور سے مختلف نہیں ہیں۔ مولا رام کی تصاویر میں سب سے بڑی کمی رنگوں کے استعمال میں ہے۔ وہ اپنی تصاویر میں کانگڑہ طرز کے رنگوں کی تازگی پیدا کرنے سے قاصر رہا۔ لہٰذا گڑھوال طرز مصوری کانگرہ کے قریب تر ہے لیکن اس میں کانگڑہ کی نفاست اور رنگوں کی موزونیت نہیں دکھائی دیتی۔ صنف نازک کی شکلیں جہاں سہ چشمی دکھائی گئی ہیں، بڑی بھونڈی نظر آتی ہیں۔ یکچشمی صورتیں قدر سے غنیمت ہیں لیکن کانگڑہ کی تصاویر میں جس سڈول بدن کا مظاہرہ ملتا ہے اس کا گڑھوال مصوری میں فقدان ہے۔ رنگ پھیکے ہیں۔ لال رنگ کچھ بھورا پن لئے ہوئے ہے بلکہ ہر   رنگ میں کچھ سیاہی مائل رنگت دکھائی پڑتی ہے۔ گرھوال مصوری میں خصوصاً مولا رام کا ہی خاندان مشہور ہے اس کے بڑے لڑکے جوالا رام (1848۔1785) اور دوسرے لڑکے شیب رام (1855۔1790) کے کچھ فنی شاہکار اب بھی مختلف مجموعوں میں موجود ہیں۔ اس خاندان کے علاوہ دو اور مصور چیتو اور مائک کی بھی دستخط شدہ تصاویر ملتی ہیں۔ گڑھوال تصاویر میں جو موضوعات ملتے ہیں ان میں مائکا بھیدا یعنی عورتوں کے مختلف انداز وا طوار جو خصوصاً 10قسم کے بتائے گئے ہیں مثلاً1سنگار کر کے محبوب کا انتظار کرنا،2ہجر سے پریشان ہونا۔ 3اپنے محبوب پر حاوی ہونا4۔ محبوب سے جھگڑ کر کے الگ ہونا۔ 5۔ محبوب سے خفا ہونا۔ 6 محبوب کا کسی رقیب کے پاس تلاش میں جانا۔ 7 جس کا شوہر جنگ پر گیا ہو۔8 محبوب سے ملتے جانا۔9 جس کا شوہر سفر کرنے کا ارادہ کر رہا ہو اور 10جس کا شوہر بہت دنوں بعد کسی غیر ملک سے واپس آ رہا ہو۔ایسے تاثرات ہیں جن کی مرقع نگاری کی گئی ہے، مذہبی روایتیں کرشن لیلا   ، رُکمنی منگل، شبیہہ کٹی، مناظر، چرند اور پرند کی عکاسی قابل ذکر ہیں۔

    کانگڑہ طرز

    یہ طرز تمام پہاڑی طرزوں میں فوقیت رکھتا ہے لیکن اس کی تاریخ غالباً سب سے بعد کی ہے۔ کانگڑہ مصوری کے تین خاص مرکز گلیئر، خورپور اور تیرا سبحان پور اور تارون تھے۔ نظیر کی فن مصوری کی روایات قدرے پرانی ہیں۔ ریاست گُلبر کی بنیاد کانگڑہ وادی کے راجہ ہری چند نے 1405میں رکھی تھی۔ روایت یہ ہے کہ ایک بار، راجہ ہری چند شکار کھیلتے کھیلتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور جب اندھیرا ہو چلا تو وہ ایک تاریک کنویں میں گر پڑے۔ کئی دن بعد جب ایک سوداگر کا   ا ُدھر سے گزر ہوا تو اس نے راجہ کو کنویں سے نکالا۔ راجہ کی اس غیر حاضری سے محل میں ماتم بچھ گیا اور رانیوں نے مستی کی رسم کے مطابق اپنے کو زندہ جلا دیا۔ بعد ازاں ہری چند کے چھوٹے بھائی نے گدی سنبھال لی تھی آخر کار راجہ ہری چند نے مایات سے مجبور ہو کر موجودہ مقام ہری پور کی جانب رخ کیا جہاں اُس نے ایک قطعہ کی تعمیر کی اور ریاست گُلبر کو جنم دیا۔

    1620میں جہانگیر نے کانگڑہ کے قلعہ کو فتح کر لیا اور راجہ گلیر سلطنت مغلیہ کے تابعداد ہو گئے۔ نادر شاہ نے 1759 میں   جب دہلی پر حملہ کیا تو اُس وقت راجہ دلیپ سنگھ(1744۔169) مخیر پر حکمرانی کر رہا تھا۔ ڈاکٹر رندھاوا کے مطابق ان   پُرآشوب اور غیر مطمئن حالات کے مد نظر وہ مصور جو مغل طرز پر مہارت رکھتے تھے پنجاب کے پہاڑی علاقوں میں ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے کانگڑہ طرز مصوری کی بنیاد ڈالی۔ ان مصوروں میں پنڈت میو کے دو لڑکوں کے نام کافی شہرت رکھتے ہیں۔ اول مانک جس نے ریاست گلبر میں رہائش اختیار کی۔ ووئم نین سنگھ جس نے ریاست جموں کو اپنا مسکن بنایا۔ جن کا شجرہ پہلے دیا جا چکا ہے۔

    راجہ دلیپ سنگھ کے بڑے لڑکے راجہ بشن سنگھ کی بہت سی شبیہیں کانگڑہ طرز میں بنی ہوئی دستیاب ہوئی ہیں لیکن بشن سنگھ کا اپنے والد راجہ دلیپ سنگھ کے زمانے میں ہی انتقال ہو گیا۔ لہٰذا اُس کا چھوٹا بھائی گرو ردھن چند1744میں گدی پر بیٹھا۔ راجہ گوورو دھن چند کو فن مصوری سے بڑا لگاؤ تھا۔ لہٰذا اس کے دور میں سب سے زیادہ تصاویر بنائی گئیں۔ ڈاکٹر رندھاوا نے گورو دھن چند اور اس کے اعزا کی بہت سی شبیہیں دستیاب کی ہیں۔ یہ تصاویر اب پنجاب میوزیم چنڈی گڑھ کی زینت ہیں۔ 1773میں گورو دھن چند کا لڑکا پرکاش چند تخت پر بیٹھا لیکن اس نے 1790میں اپنے لڑکے بھوپ سنگھ کو اپنا تخت سونپ دیا۔

    اسی دوران ان خاص ریاست کانگڑہ میں سنسار چند نامی حکمران نے کافی شہرت حاصل کر لی تھی۔ دس برس کی عمر میں یعنی 1775میں یہ کانگڑہ کے تخت پر بیٹھا 1775میں اس نے قلعہ کانگڑہ کو فتح کرنے کے بعد ملحقہ ریاستوں کو بھی سر کر لیا۔ لہٰذا اسے اس علاقہ کا سب سے طاقتور حکمران تسلیم کر لیا گیا۔ اسے فنون لطیفہ سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ لہٰذا مصور اور دیگر فنکار سنسار چند کے دربار میں آنے لگے۔ ڈاکٹر رندھاوا کا خیال ہے کہ جو مصور ریاست گُلیر اور ٹیر سُبحان پور میں کام کر رہے تھے سنسار چند کے دربار میں آ گئے تھے۔ کانگڑہ داری میں فن مصوری کے ارتقا کا یہ سنہرا دور کہا جاتا ہے۔

    1803میں نیپال کےگزگھاؤں نے کانگرہ قلعہ پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ تقریباً تین سال تک بڑی افرا تفری کا علم رہا۔ آخر کار راجہ سنسار چند کو اپنے رقیب راجہ رنجیت سنگھ کی مدد لینا پڑی اور 1804مین سکھ نوچ نے گزر گاؤں پر حملہ کر کے دریائے ستلج کے پار بھگا دیا۔ لیکن راجہ سنسار چند کو اس کے لیے کافی قیمت ادا کرنی پڑی۔ انہیں کانگرہ کے قلعہ کو راجہ رنجیت سنگھ کے حوالے کر دینا پڑی اور ان کی محکومیت قبول کرنا پڑی۔

    1810کے بعد راجہ سنسار چند نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنی تین رانیوں کے ساتھ ناروں اور عالم پور میں گذارے۔ جہاں وہ عموماً پوجا پاٹ، موسیقی، رقص، شطرنج اور مصوری سے دل بہلا یا کرتا تھا۔ اسی دوران دھولا دھر پہاڑیوں پر شکار کھیلتے وقت   ایک گڈریے کی لڑکی پراس کی نظر پڑی جس سے اُس نے شادی کر لی لیکن آخری ایام اس نے جمالو نامی رقاصہ کے ساتھ نادوں عمل میں گزارے اور اُس نے عوام سے ملنا بند کر دیا تھا۔ 1820میں انگریز سیاح ولیم مور گرافٹ اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ اس نے راجہ سنسار چند کو عالم پور میں دیکھا جو   اب بھی   رقص کا بڑا دلدادہ تھا اور بہت سے مصور اُس کے دربار میں موجود تھے اُس کے خزانے میں تصاویر کا کافی زخیرہ تھا۔

    راجہ سنسار چند کی وفات کے بعد کچھ مصور راجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں چلے گئے جہاں انہوں نے سکھ حکمران اور اس کے درباریوں کی شبیہیں تیار کیں اس طرح سکھ قلم کی بنیاد پڑی۔

    عام طور پر کانگڑہ وادی کی مصوری میں مذہبی موضوعات پر تصاویر بنائی گئی ہیں۔ مثلاً کرشن لیلا اور اس کی رومانی اور رمزیاتی کیفیات،رامائن اور بھگوت پُران کے مرقعے کافی تعداد میں ملتے ہیں۔ شبیہہ سازی بھی محبوب ترین موضوع رہا ہے لیکن بقول کمار سوامی "خواہ چھ موسموں کا بیان ہو یا موسیقی کی مختلف کیفیات کا ذکر، رادھا کرشن کی تصویر ہو یا شیو پاروتی کی کانگڑہ کے مصوروں کا مستقل موضوع مرد کی عورت سے محبت اور عورت کی مرد سے محبت ہے۔ کانگڑہ کی مصوری کے لیے عورت کے جسم کا حسن سب سے ملتزم ہے اور باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں "اس فطری کیفیت کا کہیں نہ کہیں کسی طرح مصور اظہار کرنے سے نہیں چوکتا۔ غالباً محل سے لے کر عوام کی روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں تک حُسن و عشق کا یہ حسین پہلو، اس داری کی رومانی فضا، خوبصورت پہاڑوں، جھلملاتے چشموں اور لہلہاتے سبزہ زاروں کی مرہونِ منت ہے۔ کانگڑہ وادی کا مصور فقط محطوت کی چار دیواری کے اندر رہ کر ہی نہیں کام کرتا بلکہ وہ کُھلی فضا میں اپنے جذبات کے ساتھ ساتھ فطرت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ وہ عوام سے اس قدر قریب ہے کہ وہ عوامی زندگی کے تمام حسین لمحات کو زندہ جاوید بنا دینا چاہتا ہے۔ مثلا کے طور پر چند کانگڑہ کی تصاویر کا لفظی خاکہ ملاحظہ فرمائیے۔

    پرسی براؤن نے اپنی تصنیف "ہندوستانی مصوری" میں کانگڑہ طرز کی اٹھارہویں صدی کی ایک تصویر بنام" سڑک کے کنارے پڑاؤ کا ایک منظر" پیش کیا ہے۔ اس تصویر کے اوپری حصے میں ایک برگد کا درخت ہے جس کے ساتھ ہی پکی اینٹوں کا اونچا چبوترہ بنایا گیا ہے چبوترے کے نیچے اردگرد کچھ لوگ آرام فرما ہیں۔ چبوترے پر بیٹھی ہوئی ایک خوبصورت عورت اپنے لوٹے سے ایک راہگیر کو پانی پلاتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ راہ گیر چبوترے سے پانی پیتے ہوئے عورت کے خوبصورت چہرے پر اپنی نظر جمائے ہوئے ہے اور پانی نیچے گرتا جاتا ہے۔ اس رومانی لمحہ کو بلاشبہ مصور نے بڑی مطاقت سے مرقع کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک طرف ایک شخص حُقہ پی رہا ہے اور اس کا شکاری کُتا پاس ہی بیٹھا ہے۔ ساتھ ہی ایک نوکر غالباً اپنے لیے چلم بھرتا دکھایا گیا ہے دائیں جانب ایک اور صاحب آرام فرما ہیں اُن کے پہلو میں دو حسین عورتیں بیٹھی ہیں اُن میں سے ایک ان صاحب کے پیر دبا رہی ہے اور وہ اُسے انتہائی عشقیہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس تصویر کو اتنے قدرتی انداز میں مرقع کیا گیا ہے کہ اس بات کا یقیناً گمان ہوتا ہے کہ مصور اس قافلے کے ساتھ ضرور رہا ہو گا جس نے اس پڑاؤ کے تمام پہلوؤں کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا۔ حالاں کہ یہ تصویر مینا توڑ پیمانے پر بنی ہوئی ہے لیکن خوبی کی بات یہ ہے کہ اگر اس تصویر کو دیوار پر پروجیکٹ کیا جائے تو یہ ایک انتہائی خوبصورت دیواری تصویر معلوم ہوتی ہے اور صرف اسی وقت اس تصویر کی حقیقت نگاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    اس طرح پر می براؤن نے "الاؤ کے گرد" نامی ایک   دوسری تصویر پیش کی ہے۔ یہ جاڑے کی ایک رات کا منظر ہے۔ لوگ حلقہ بجائے بیٹھے ہیں۔ بیچ میں آگ روشن ہے کچھ لوگوں کے ہاتھ میں حقہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی موضوع پر بحث ہو رہی ہے۔ پس منظر میں زنان خانے سے ایک خوبصورت عورت کان لگائے کھڑی ہے۔ آسمان میں تارے جھلملا رہے ہیں۔ آنگن میں دو پڑ ہیں جن پر الاؤ کی روشنی پڑ رہی ہے۔ یہ تصویر اتنی جاذبِ نظر اور اپنے آپ میں جامع ہے کہ مغربی طرز کی تصاویر میں روشنی اور سایہ کا جو اظہار کیا جاتا ہے اس سے اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ جس فطری انداز اور احساس قلم سے اس تصویر کی اختراع کی گئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

    اسی قسم کی سماجی موضوعات پر کانگڑہ طرز میں بہت سی تصاویر ملتی ہیں۔ ساون میں جھولے پر چنگیں مارتے ہوئے، پیروں میں چھندی لگائے ہوئے، آرام کرتے ہوئے۔،پنکھا جھولتے ہوئے، محبت اور رومانس کے لمحات، ہو لی   کے پُر کیف مناظر،گھنگھور بادلوں سے محفوظ ہوتے ہوئے،آنگن میں غسل کرتے ہوئے، فرصت کے اوقات میں ساز بجاتے ہوئے حسین عورتوں کے مرقع سیکڑوں سے اوپر ہوں گے جو دنیا کے مختلف میوزیم کے زینت بنے ہوئے ہیں۔ لارنس بنیان نے بلاشبہ صحیح کہا ہے کہ "کانگڑہ مصوری میں بڑی صاف گوئی اور انتہائی برجستگی ہے جو ہمارے دلوں کی گہرائیوں کو چھو لیتی ہے۔"