انیس فاروقی

انیس فاروقی

قرون اولی

    قرونِ اولیٰ کی مصوری

    تمہید:

    مصوری قدیم ہندوستان میں خیالات کے اظہار کا ایک محبوب ترین ذریعہ تھی۔ اُس زمانے کے ادب اور تصانیف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فن جمالیاتی اور تیکنیکی نقطہ نظر سے اپنے عروج پر تھا ۔ مصوروں کو شاہی سرپرستی اور خصوصی مراعات حاصل تھیں ۔ انہیں شاہی محلات اور مندروں کی دیواروں کو مصور اور مزین کر نے کا کام سونپا جاتا تھا ۔ خصو صا شہزادوں ۔امراء اور ممتاز شہریوں کو فن مصوری کا مطالعہ کر نا ضروری تصورکیا جاتا تھا ۔ ہر شہر اور قصبے میں خاص موقعوں اور تیوہاروں پر گھر کی باہری دیواروں اور سڑکوں پر خوبصورت تصاویر لٹکاکرماحول کو خوبصورت ترین بنادیا جاتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ ایسی سازگار فضا میں اس فن لطیف نے خوب ترقی کی ہوگی اور یہ قیاس لگایا جاتا ہے کہ کافی تعداد میں تصاویر بنائی گئی ہوں کی مگر زمانے کے نشیب و فراز نے انہیں بر باد کر دیا اوراب بہت کم نشانات باقی رہ گئے ہیں ۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ لکڑی پر نقش بنانے یا پتھر تراشنے میں چوں کہ وقت کافی صرف ہوتا تھا ۔ لہٰذا اظہار خیال کے لیے مصوری زیادہ کارگر ثابت ہوئی کیوں کہ اس میں بت تراشی کی بہ نسبت بہت کم وقت لگتا ہے ۔ اس کی ابتداء غالبا   مندروں اور استوپ وغیرہ کے اندرونی دیواروںمیں مذہبی روایات کو مصور کر نے سےہوئی ۔ بعد ازاں راجاؤں نے اپنے محلات کو سجانے اور سنوارنے میں دیواری تصاویر سے کام لیا اور خصوصی نگار خانے بنوائے ۔ یہ نگار خانے عموما دوقسم کے ہوتے تھے ایک جو فقط حرم کی عورتوں کے لیے وقف ہوتے تھے ، دوسرے وہ جو بارہ دری یا باغات میں عوام اور خواص دونوں کے لیے ہوتے تھے ۔

    ہندوستانی روایت کے مطابق مصوری زندگی کے اعلیٰ مقاصد حاصل کر نے کا ایک ذریعہ ہے اور زندگی کا سب سے بڑا مقصد نجات حاصل کر نا ہے ۔ نجات حاصل کر نے لیے علماء نے مختلف طریق کار بتاتے ہیں ۔ عام طور سے زندگی کے تمام لوازمات سے علیٰحدگی اور بے تعلقی اختیار کر کے جنگلوں میں چلا جانا نجات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تصورکیا جاتا تھا لیکن اسے منفی نظریہ فکر کہا جاتا ہے ۔ مثبت نظریہ فکر کے تحت نجات کے معنی انسان کے شعور میں قادر مطلق اور اس کی عظمت کا احساس پیدا ہونا جو سماج میں رہ کر اسی اعلیٰ قدروں کو اپناکر اُجاگر کیا جاسکتا ہےدھرم یعنی ضابطہ حیات (زندگی کے فرائض کا صحیح ڈھنگ سے سر انجام دینا)دوسرا کام یعنی خواہشات (انسانی نسل کو برقرار رکھنا )اور تیسرا ارتھ یعنی ادعائے نجات (بنیادی ضروریات زندگی کے لیے روزگار کر نا )ہندوستانی فلسفہ زندگی کے اجزائے ترکیبی بتائے گئے ہیں۔ ہندوستانی فن مصوری اسی تصور کی نمائندگی کر تا ہے ۔ ہندوستانی مصوری میں جمالیات کا نظریہ بھی زندگی کی حقیقتوں اور انسانی برادری کی فلاح اور بہبود پر منحصر ہے یعنی ستیم (سچ)شوم (فلاح)اور سندرم (خوبصورتی)سندر یا خوبصورت وہی ہے جو سچ اور فلاح پر قائم ہو۔

    ہندوستانی مصوری در اصل ہندوستانی زندگی ، رہن سہن اور مذہبی عقیدے کی ترجمان ہے ۔ چوں کہ ہندوستانی عوام نے عام طور سے اپنی زندگی کو ہمیشہ مذہبی نظم و ضبط میں رکھا لہٰذا سماج کے ایک نمائندے کی حیثیت سے ہندوستانی مصور نے بھی مذہبی عقائد کو اپنے جمالیاتی کار میں فوقیت دی ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستانی مصوروں نے قدرت کی بیش بہا حقیقتوں سے اپنی آنکھیں بند رکھیں ۔ ہندوستانی مصور سادھو نہیں تھے کہ وہ دنیاسے اپنامنہ موڑ کر الگ تھلگ بیٹھ جاتے بلکہ وہ صوفی ،فلسفی اور مجدد تھے جنہوں نے اپنے تخیل اور جمالیاتی حسن سے قدت کے اسراروں کو عیاں کر نے کی کوشش کی ۔ انہوں نے قدرت کے خارجی حسن کو لغوی طور سے قلم بند نہیں کیا ۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ ہر شے میں داخلی حسن کو تلاش کریں اور اس کے نئے معنی پہنائیں اسی جمالیاتی فلسفہ کے تحت ہندوستانی مصوروں نے انسانی جسم کو اپنے شاہکاروں میں پیش کر تے وقت اس کی تمام تفصیلات سے گریز کر تے ہوئے انتہائی سادگی سے جسم کے خصوصی خط و خال کو نمایاں کیا ہے کیوں کہ ان کا بنیادی مقصد فقط انسانی جسم کی تفصیلی نمائش نہیں بلکہ اُ ن روحانی قدروں کو پیش کر نا رہا ہے جو انسانی شعور کا سرمایہ ہیں ۔ اسی لیے ہندوستانی روایتی مصوری بنیادی طور سے عارفانہ ، تصوری ،اشارتی ، علامتی اور ماورائی سمجھی جاتی ہے ۔

    روایتی اور ادبی شہادتیں:

    ہندوستانی مصور دراصل ایک مکمل فنکار ہوتا ہے اور بیک وقت تمام فنون لطیفہ میں ماہر تصور کیا جاتا ہے ۔ دشنو دھر موترا ،حصہ سوم میں ایک راجہ اور ایک عارف کے درمیان مندرجہ ذیل گفتگو کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اس نظریہ کی سند مل جاتی ہے ۔

    راجہ: آپ برائے کرم مجھے فن بت تراشی کے طریقے سکھلائیں۔

    عارف: جسے فن مصوری کے قوانین کا علم نہیں وہ فن بت تراشی کے قوانین نہیں سمجھ سکتا ۔

    راجہ: تب آپ مجھے پہلے مصوری کے قوانین سے روشناس کروائیں۔

    عارف : لیکن مصوری کے قوانین کو سمجھنا بڑا مشکل ہے جب تک کہ رقص کی تکنیک معلوم نہ ہو۔ ۔

    راجہ: تب مجھے پہلے فن رقص سکھائیے ۔

    عارف: لیکن ساز کی موسیقی کے قوانین کو اس سے پیشتر جاننا ضروری ہے ورنہ رقص کونہیں سمجھا جاسکتا ۔

    راجہ: تب مجھے پہلے ساز کی موسیقی سکھائیے ۔

    عارف: لیکن ساز کی موسیقی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک کہ آپ ناطق موسیقی سے واقف نہ ہوں۔

    راجہ: اگر ناطق موسیقی ہی ہمارے فنون کی بنیاد ہے تو مجھے ناطق موسیقی پہلے سکھائیے ۔

    اسی طرح فن مصوری کے جنم اور اس کے ارتقاء کے متعلق بہت سی ادبی شہادتیں ملتی ہیں ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔

    سنسکرت میں لکھے ہوئے قدیمی قلمی نسخوںمیں ایک نسخہ مان سار ہے جس کے مطابق برہما کے چار چہروں سے چار اولادیں پیدا ہوئیں جن کے نام ہیں۔(1)وشو کر تا(2)مٹئے (3) توشٹا اور (4)منو۔ توشٹا کی شادی ویشرون سُتاسے ہوئی جسے دردھکی نامی اولاد پیدا ہوئی چوں کہ اچاریہ دردھکی کا دائرہ کار مصوری تھا لہٰذا ہندوستانی روایت کے اعتبار سے فن مصوری کا سلسلہ اچاریہ دردھکی سے شروع ہوا۔ ایک دوسرانسخہ برہم دیورت پُران میں دشو کر ما (جو سب سے بڑے شلپ کار مانے جاتے تھے )کے 9لڑکے بتائے گئے ہیں جس میں آٹھویں لڑکے نام چتر کار تھا ۔ فن مصوری کے موضوع پر تفصیل کے ساتھ جن ہندوستانی قدیم نسخوں میں روشنی ڈالی گئی ہے ان میں دشنو، ھرموتم ، پران (اس نسخہ میں مصوری اور بُت سازی کو الگ الگ فن سے منسوب کیا گیا ہے)رپارنی کی آشٹا دھیائی (تقریبا 500قبل مسیح )آچاریہ کوٹلیہ کا ارتھ شاستر (تقریبا 400قبل مسیح )آچاریہ دراہ مہر کی درہت سہنتیا (تقریبا 500)اور دوسرے نسخے مثلا وشو کرم پرکاش مے مت چتر سوتر (تقریبا700-600)چتر لکشن (700-630)چتر کرم شلپ شاستر راجہ بھوج کا لکھا ہوا سمرانگن سوتر دھار (1955-1010)کلاولاس کلیانکے چالکیہ راجہ دکرمادت ثانی کے لڑکے سومیشور کا مان سولاس (تقریبا1131 )ورتانت پرکرن اور شلپ کلادلیپکا قابل ذکر ہیں ۔

    تقریبا دوسری صدی عیسویں میں لکھے گئے للت دِستر نامی نسخہ میں شہزادہ سدھارتھ کو 89فنون کا ماہر بتایا گیا ہے جن میں فن مصوری بھی شامل ہے ۔ اس نسخہ میں ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ ملتا ہے ۔ راجہ شدورھن کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کے فرزند شہزادہ سدھارتھ کو ایک شلپ کا رونڈ پانی شخص کی لڑکی یشودھرا پسند ہے تو اس کے یہاں ماجہ نے شادی کا پیغام بھجوایا لیکن ونڈ پانی نے اس اعتراض کےساتھ کہ شہزادہ سدھارتھ کو چوں کہ فنون سے کوئی واقفیت نہیں ہے اس رشتے کو ٹھکرادیا ۔ راجہ مشدددھن اس طرح صاف جواب پاکر بہت غمگین ہوئے لیکن اس واقعہ کا جب شہزادہ سدھارتھ کو علم ہوا تو اس نے راجہ سے کہا کہ وہ سارے راج میں منادی کرادیں کہ شہزادہ سدھارتھ تمام ملک کےفن کاروں سے مقابلہ کے لیے تیار ہے ۔ چنانچہ حسب پروگرام مقابلہ منعقد ہوا جس میں شہزادہ سدھارتھ کو 89فنون میں ممتاز قرار دیا گیا ۔

    ہندوستانی فن مصوری کی تاریخ میں جس نسخہ کا بار بار تذکرہ کیا جاتا ہے وہ رشی واتسائن کا کام سونر (300-200)ہے اس میں 64طرح کے فنون بتائے گئے ہیں جن میں فنون لطیفہ کے ساتھ ساتھ فنون صنعت و حرفت شامل ہیں ۔ ان فنون کے نام ہیں ناطق موسیقی ، سازوالی موسیقی ، رقص ، مصوری ، پتیوں سے مختلف قسم کی شکلیں بنانا یا تلک وغیرہ کے لیے خصوصی سانچے تیار کر نا ، پوجا کے وقت مختلف قسم کے جو یا چاول کے دانوں سے یا پھول سے سجانا ۔ دانت ، کپڑے اور بدن کے دوسرے حصوں کو رنگنا ، گھر کے فرش کو قیمتی پتھروں اور موتیوں سے جڑنا ، بستر کو سجانا ، پانی میں ڈھولک کی آواز نکالنا ، پانی کی چوٹ مارنا یا پچکاری چھوڑنا ، دشمن کو ختم کر نے کے لیے طرح طرح کے عمل کر نا ، پہننے یا چڑھاواچڑھانے کے لیے پھولوں کی مالائیں بنانا ۔ سر اور پگڑی میں لگانے والے زیوروں کو صحیح جگہ پر پہننا ، اپنے بدن کو سجانا اور پھولوں سے آویزاں کر نا ، شنکھ ، ہاتھی دانت وغیرہ سے کان میں پہننے کے لیے زیورات بنانا۔ خوشبو دار اشیا ء مثلا اگر بتی وغیرہ بنانا ۔ زیورات پہننے کا فن جاننا ، جادو کا کھیل دکھا کر نظر بندی کر نا ، طاقت بڑھانے کے لیے دوائیں بنانا ، ہاتھ کی صفائی دکھانا، مختلف قسم کے کھانے ، رس اور مٹھائی وغیرہ بنانا ، مختلف قسم کے پینے کے لیے شربت بنانا، سوئی کے کام میں مہارت پیدا کر نا ، سوت میں کر تب دکھا نا ، وینا اور ڈمرو سجانا ، پہلیاں بجھانا، دوہا اور اشلوک وغیرہ پڑھنا ،مشکل الفاظ کے تلفظ اور معنی جاننا ، خوبصورت آوازوں میں گرنتھوں کا پڑھنا، ناٹکوں اور ناولوں میں ماہر ہونا، کسی مسئلے کو سلجھانا ، چھوٹے چھوٹے روزگاروں میں ماہر ہونا ، لکڑی اور دھا ت کی چیزیں بنانا ،بڑھئی کے کام میں ماہر ہونا   ،فن تعمیر ،سکوں ،ہیروں اور جواہرات کو پہچاننا اور جانچنا ۔ دھاتوں کو ملانے اور اسے صاف کر نے کا فن ،موتیوں اور شفاف سنگ مر مر اور کانچ وغیرہ رنگنے کا کام ،کھیتی باڑی کر نے کا علم ، مینڈھے ،مرغ اور تیتروں کی لڑائی پر کھنے کا فن ،طوطا اور مینا کو سکھانا اور ان کے ذریعہ پیغام پہنچانا ، ہاتھ پیر سے بدن دبانا ، بالوں کو ملنا اور ان کا میل دور کر نا اور ان میں تیل اور خوشبو وغیرہ لگانا ۔ الفاظ کو ملانا اور ان سے معنی نکالنا ،اشاریہ جملوں کو بنانا، مختلف ملکوں کی زبانوں کو جاننا ، اچھے شگون کا علم ہونا،پھولوں کی گاڑی بنانا ، چلانے کی مشین اور پانی نکالنے کے اوزار وغیرہ بنانا ،یادداشت کو تیز کرنے کا فن ،یادداشت اور دھیان سے متعلق فن ،دل و دماغ سے اشلوکوں اور اشعار کو پورا کر نا، شاعری کر نا ، لغت اور شعر کا علم ،شاعری اور ادبی رنگینیت کا علم ،شکل اور بولی چھپانے کا علم ، بدن کی خفیہ جگہوں کو کپڑے سے چھپانے کا علم ، ایک خاص قسم کا جوا کھیلنا،پاسوں کا کھیل کھیلنا ، بچوں کے کھیل کا علم ، اپنے اور پرائے کے ساتھ بہت ادب اور تمیز سے پیش آنے کا علم ، شاستروں کا علم ، کسرت اور شکار وغیرہ کا علم ۔

    اس فہرست کو دیکھنے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ با مہذب زندگی کے لیے وہ تمام فنون جو سماج میں رہ کر ایک انسان کوآنے چاہئیں وہ سب اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ شہزادہ سدھارتھ جن 89فنون میں ماہر تھے ان میں مندرجہ بالا 64فنون شامل تھے ۔

    ہندوستانی مصوری کے بنیادی ارکان اور رس:

    رشی واتسائن کی کام سوتر کی پہلی جلد کے تیسرے باب میں یشو دھر پنڈت نے جوجے پور ریاست کے راجہ سنگھ اول کے درباری جید عالم تھے تبصرہ کر تے ہوئے فن مصوری کے چھ بنیادی ارکان کا تذکرہ کیا ہے جس تصویر میں ان بنیادی چھ اصولوں   کی پابندی نہیں کی گئی وہ معیاری تصویر کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی ۔ یہ اشلوک اس طرح ہے ۔

    روپ بھیدہ ،پر مارانی ،بھا ؤ لاون یوجنم

    سادرشم وارنکا بھنگ اتی چترن شد انگم

    ۱۔ روپ بھیدہ (شبیہوںمیں فرق )۲۔ پرمارانی (تناسب و تناظر )۳۔ بھاؤ(جذبات)۴۔ لاون (حسن)۵۔ سادرشیم(مشابہت)اور ۶۔ دارنکا بھنگ (رنگ آمیزش )کی تشریح درج ذیل ہے ۔

    ۱۔ روپ بھیدہ (شبیہوں میں فرق)

    ہر جاندار اور بے جان شے کی ایک خصوصی شکل ہوتی ہے ۔ چرند۔ پرند۔ اور انسان میں یکساں اعضائے جسمانی کے باوجود ایک شکل دوسرے سے بالکل جدا گانہ ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک ہی والدین کی اولادوں میں بھائی اور بہنوں کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی خصلتیں اور شخصیت بھی مختلف ہوتی ہے ۔ اسی خیال کے تحت واتسائن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی تصویر کو بناتے وقت اشکال میں فرق اور ان کی انفرادیت پر خاص خیال رکھا جائے ۔

    ۲۔ پرمارانی (تناسب و تناظر )

    اسی طرح ہر شے کا   اپنا تناسب ہوتا ہے ایک بچے کا سائز اور اس کے اعضاء ایک آدمی سے قطعی مخلتف ہوتے ہیں بلکہ ایک ہی آدمی اپنی زندگی کے مختلف ایام میں مختلف ہیئت اور تناسب رکھتا ہے یعنی بچپن میں اس کا سائز دوسرا ہوتا ہے جوانی اور بڑھاپے میں کچھ اور ۔ اس کے علاوہ ایک ہی عمر اور ایک ہی سائز کے دولڑکے اگر دوڑتے ہوئے چلے آرہے ہوں تو پیچھے والی کی بہ نسبت آگے نظر آنے والا لڑکا زیادہ لمبا دکھا ئی دے گا۔ ایک ہی عمارت پاس سے بڑی اور زیادہ تفصیل سے دکھا ئی پڑتی ہے ۔ جب کہ وہ دور سے دھندلی اور چھوٹی دکھائی دیتی ہے ۔ یہ تبدیلی تناظر کے اثرات سے واقع ہوتی ہے لہٰذا مصوروں کو زبردست مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر مصور کو تناسب و تناظر کا علم نہیں ہے تو تصویر میں وہ صحیح خاکہ پیش کر نے سے قاصر رہے گا۔

    ۳۔ بھاؤ(جذبات)

    ہر انسان میں جذبات ہوتے ہیں اور وہ انہیں کسی نہ کسی طرح پیش کر نے کی کوشش کر تا ہے کسی چیز سے متاثر ہوکر ایک لمحے وہ ہنستا ہے تو دوسرے لمحے روتا ہے ۔ ان اوقات میں اس کی حرکات مختلف قسم کے جذبات کو پیش کر نے میں مدددیتے ہیں ۔ اگر کسی تصویر میں ایک سادھو آنکھ بند کیے ہوئے کسی جنگل میں دکھا یا گیا ہو تو فورَا ہم اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ سادھو عبادت میں مصروف ہے ۔ غرضیکہ کسی جذبے کے اظہار کے لیے مناسب حرکات کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ مصور کو لازم یہ ہے کہ وہ مفعول کے جذبات کی گہرائی تک پہنچے اور اپنے آپ سمود ے تبھی وہ جذبات کی صحیح عکاسی کر سکتا ہے اور دیکھنے والے اسی جذبہ سے معمور ہوسکتے ہیں ۔

    ۴۔ لاون (حسن)

    کسی بھی شے میں حسن کے بغیر دل کشی ناممکن ہے ۔ مصوری میں حسن کتنا استعمال کیا جائے اس کے متعلق بڑی اچھی مثال دی گئی ہے یعنی دال میں جتنا نمک ہوتا ہے اتنا ہی تصویر میں حسن ہونا چاہیے ۔ اگر دال میں نمک زیادہ کر دیا جائے تو وہ حلق سے نہیں اترتی اور اگر کم رہے تو پھیکی اور بد مزہ لگتی ہے ۔ اس لیے تصویرمیں حسن پیدا کر نے میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ اور اس کے لیے بلاشبہ بڑی ریاض کی ضرورت ہوتی ہے ۔

    ۵۔ سادر شیم (مشابہت)

    کسی شے یا شخصیت کی شبیہہ اس کے ظاہری نقش کی صحیح عکاسی سے ہی پہچانی جاسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک کارٹون میں کسی سیاسی شخصیت کو چاہے وہ کتنی مضحکہ خیز انداز میں پیش کی گئی ہوہم فورَا پہچان لیتے ہیں ۔ کیوں کہ مصور اس شخص کی روح نقوش اپنے خاکے میں سمودیتا ہے ۔ دوسری مثال سری کرشن اور سری رام کی شبیہہ سے دی جاسکتی ہے ۔ دونوں ہی کا رنگ سانولا دکھایا جاتا ہے ۔ دونوں ہی مکٹ پہنے ہوئے ہیں ۔ ان کا تناسب بھی غالبَا ایک ہی جیسا ہوتا ہے لیکن کچھ ایسی علامتیں ہیں جو دونوں شخصیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے ۔ یعنی سری کرشن کے سر پر مور کا پنکھ اور ہاتھ میں بانسری لازمی ہوتی ہوتی ہے جبکہ سری رام کےہاتھ میں کمان دکھائی جاتی ہے ۔

    ۶۔وارنکا بھنگ(رنگ آمیزش)

    رنگ کسی تصویر کا آخری جز مانا گیا ہے ۔ اس کے بھی روایتی اصول ہیں اور ان کی پابندی لازمی ہے ۔ مثلًا برہمن چوں کہ برہما کے سر سے پیدا ہوئے ہیں لہٰذا وہ بڑی ذات کے مانے جاتے ہیں اور انہیں سفید رنگ سے دکھایا جاتا ہے ۔ کھتری چوں کہ بھگوان کے بازوؤں سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا کام جنگ کر نا ہے لہٰذا انہیں لال رنگ سے پیش کیا جاتا ہے ویش بھگوان کے دھڑ سے پیدا ہوئے ہیں لہٰذا انہیں پیلا رنگ دیا گیا اور شودر برہماکے پیروں سے پیدا ہوئے لہٰذا انہیں کالا رنگ دیا گیا ۔ اسی طرح مختلف رنگوں سے مختلف جذبات کے اظہار کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ چرندوں ۔ پرندوں اور نباتات میں قدرتی رنگوں کے مطالعہ کی سفارش کی گئی ہے ۔

    لیکن دشنودھر موتو پر ان کے چتر سوترم کےمطابق ان مندرجہ بالا چھ ارکان کے باوجود اگر کسی تصویر میں رس کا اظہار نہیں ہے تو اسے تصویر نہیں کہا جاسکتا ۔ لہٰذا اس نظریہ کے مطابق فن میں سب سے بڑا جمالیاتی رکن رس ہے ۔ ایک فنی شاہکار جس میں رس ہے اسے رسونت کہتے ہیں جو اسے دیکھتا ہے اور اس سے محظوظ ہوتاہے اسے رسیکا اور جس طریقے سے حسن شناسی کی جاتی ہے اسے رساددانا کہتے ہیں۔

    رس کے مختلف معنی ہیں جو مختلف گرنتھوں میں ملتے ہیں رگ دید میں اسے پھل کے رس سے مراد لی گئی ہے کہیں کہیں پانی یا دودھ سے بھی مراد ہے ۔ اتھروید میں غلہ کے دانہ کے رس سے اور کہیں لذت کے معنی پہنائے گئے ہیں اُپنشید میں رس کی مراد جوہر یا نچوڑ سے ہے ۔ شاعری میں رس کا تجربہ سب سے پہلے بالمیکی نے کیا اس کے بعد یہ رکن ڈرامہ میں آیا پھر فن مصوری اور بت تراشی میں لازمی قرار دے دیا گیا ۔ ملک راج آنند نے کسی فنی شاہکار میں رس کے باوجود اور اس کی تشریح کر تے ہوئے ایک مثال دی ہے ۔ بالفرض ایک مصور نے ایک جوڑے کو بڑے رومانی انداز میں بغل گیر ہوتے ہوئے دیکھا جس سے وہ بہت متاثر ہوا اور اپنے جمالیاتی تجربے اس لذت کو اس طرح خارجی اشکال کی مدد سے پیش کیا کہ دیکھنے والے بھی اسی لذت کا احساس کرسکیں رس کا پیدا ہونا کہلائے گا۔

    چترلکشن میں مندرجہ ذیل 9رس بتائے گئے ہیں۔

    1۔ شرنگار۔   یہ حسن اور زیورات سے پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس میں گہرے رنگ لگائے جاتے ہیں ۔

    2۔مزاح۔ جس کے ظاہری اعضا سے مزاح کا پہلو نکلے ۔ اس کے لیے سفید رنگ متعین کیا جاتا ہے ۔

    3۔ ملال ۔ جس سے ہمدردی ۔ ممتا ۔ تکلیف اور ہجر کا پہلو دکھائی دے ۔ اسے بھورے رنگ سے دکھایا جاتا ہے ۔

    4۔ غصہ ۔ جس میں کر ختگی ۔ خفگی ۔ قتل اور ہتھیار سے لیس دکھا یا جائے ۔ اسے لال رنگ سے دکھایا جاتا ہے ۔

    5۔ ہمت۔ جس میں بہادری ، مستقل مزاجی اور عہد کے جذبات دکھائے گئے ہوں ۔ اس میں بھی لال رنگ استعمال ہوتاہے ۔

    6۔ خوف۔ جس میں فساد ۔ کمینگی اور بدمعاشی کی طرف رغبت ملتی ہو ۔ اس کے لیے کالا رنگ بتایا گیا ہے ۔

    7۔کراہت۔ جس میں قبرستان اور موت جیسی ہولناکی ٹپکتی ہو ۔ اس کےلیے بھی کالا رنگ ہوتا ہے ۔

    8۔ تعجب۔ جہاں تشویش۔ تعجب خیز اور نہ یقین آ نے والے مناظر پیش کیے گئے ہوں ۔ اس میں نیلا رنگ استعمال ہوتا ہے ۔

    9۔ سکون۔ جس میں دھیان ۔ ریاض اور عبادت کے لمحات دکھائے گئے ہوں اس میں عمومًا پیلے رنگ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

    دو چینی سیاح ہو آن سانگ اور فاحیان نے ساتویں صدی عیسوی میں ہندوستانی فن مصوری کا تذکرہ کر تے ہوئے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ ہو آن سانگ نے لکھ اکہ مہاراجہ کنشک کے عہد میں ہندوستانی بدھ عبادت گاہوں کو مزین کر نے کے لیے ایک بہت بڑے بدھ مرکز بکٹیریا سے مصور بلوائے گئے تھے اور ہندوستان میں اس وقت گندھار طرز مصوری کا عام چلن تھا ۔ بقول فاحیان ساتویں صدی میں ہندوستان ایک بہت بڑافنی اور ثقافتی مرکز تھا ۔ فن مصوری اور سنگ تراشی میں درس دینے کے تین بڑے ادارے تھے ۔ تکشلا یونیورسٹی نزد راولپنڈی ۔ نالندا یونیورسٹی بہار میں اور دریائے کرشنا کے کنارے سے شریدھانیا کٹک میں۔

    تبتی مؤرخ تارا ناتھ نے اپنی کتاب "تاریخ بدھ مت"کے آخری باب میں ہندوستانی مصوری کا تذکرہ کر تے ہوئے لکھا ہے کہ "پرانے دور میں اساتذہ وقت نے جنہیں انسانی روپ میں بھگوان کہنا چاہیے اپنی   زبردست فن کارانہ قوتوں سے نہایت ہی تعجب خیز فنی شاہکار پیدا کیے اور دیواروں پر جو تصاویر بنائی گئی ہیں انہیں دیکھ کر انسان کو اصل کا دھوکہ ہوتا ہے "بعد میں راجہ بدھ پکش کے عہد کے مصور بمپسار کی تصاویر اور بُت خصو صًا بہت لاجواب تھے اور پرانے اساتذہ کے شا ہکاروں سے کافی ملتے جلتے تھے ۔ یہ مگدھ میں پیدا ہواتھا اور اس کے بہت سے شاگر د تھے ۔ یہ اسکول "مدھیہ پردیش مصوری" کے نام سے مشہور تھا۔ راجہ شلا کے زمانے میں ایک نہایت باوصف مصور شرنگا دھرت ھا جو مارواڑ میں پیدا ہوا تھا ۔ اس نے مصوری کے بہت سے شاہکار بنائے ہیں۔ جن شاگردوں نے اس استاد کے طرز پر کام کیا ہے اسے بہ عرف عام قدیم مغربی طرز کہا جاتا ہے "۔مؤرخین کا خیال ہے کہ راجہ شلا غالبًا ہر ش دردھن شلادت (647-606)ہی ہیں جن کے زمانے کے واقعات ہوان سانگ نے قلم بند کیے ہیں اور اجنتا کی تصا ویر   اور مجسمے اسی قدیمی مغربی طرز سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کچھ ناقدین اس خیال سے متفق نہیں ہیں بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ مغربی طرز گجراتی طرز تھا ۔ جن میں چہروں میں آنکھیں باہر کی طرف نکلی ہوئی دکھائی جاتی تھیں۔

    تارا ناتھ آگے لکھتا ہے کہ "راجہ دیو پال اور شریمنت شرما پال کے زمانے میں دریندر ا (شمالی بنگال)نامی مقام پر دھیمان نامی مصور بہت مشہور تھا اور اس کا لڑکا بھیت پال دونوں ہی مصوری مجسمہ سازی اور دھات کے کام میں بہت ہوشیار تھے ۔ ان دونوں مصوروں نے جو طرز پیدا کیا اسے "مشرقی طرز"کہا جاتا ہے ۔ کشمیر میں ایک اسکول تھا جس کا اسلوب قدیم طرز سے ملتا جلتا ہے لیکن بعد میں ایک مصور ہسورائے نے ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی جسے کشمیر طرز کہتے ہیں "۔وہ آخر میں اس طرح اپنے خیال کا اظہار کر تا ہے کہ جہاں کہیں بدھ مذہب پھیلا وہاں بڑے مشاق فن کار پیدا ہوگئے جہاں ملچھوں (مسلمانوں)نے حکومت کی فن کار غائب ہوگئے جہاں پر تیر تھیا (کٹر ہندو پنتھ)وہاں غیر مشاق فن کار آگے آگئے ۔

    مقدس رامائن میں رادن کے محل کا تذکرہ کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں پر پکچر ہال تھے لیکن چھٹی صدی کے بھاؤ بھوتی نامی ایک ڈراما نگار نے اپنے "اتر راما چرت" میں ایک قسم کے کئی تذکرےکیے ہیں ۔مثلًا بن باس سے واپس آکر سری لچھمن بھگوان رام کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آکر تصاویر کو ذرا دیکھیں کہ ایک ہونہا رمصور نے رام چتر شال میں ان کی داستان کو کس طرح دیواروں پر مرقع کر دیا ہے ۔ ایک دوسرے منظر میں سری لچھمن ۔ سیتا جی اور بھگوان رام داخل ہوتے ہیں ۔ سری لچھمن ایک تصویر دکھاتے ہیں جسے دیکھ کر سیتا جی کہتی ہیں کہ تصوری میں کیسی بھیڑہے جو میرے رام کوگھیر ے ہوئے ہے ۔ سری لچھمن جواب دیتے ہیں کہ یہ وہ دیوتاؤں کا گروہ ہے جن کی قوت سے بھگوان رام نے اپنے تمام مخالفوں سے جنگ کی ہے ۔ ایک اور منظر میں بھگوان رام نے سیتا جی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے راجہ جنک کے دربار میں ایک مشہور وزنی کمان کو توڑ کر دو ٹکڑے کر دیئے تھے ۔ ان کے علاوہ کچھ اور تصاویر کا تذکرہ ہے جس میں بھگوان رام کی سیتا جی سے شادی اور سیتا جی کا بھگوان رام کے ساتھ اجودھیا واپس آنا دیکھایا گیا ہے ۔ کس طرح وہ جنگل میں گوداوری کے کنارے رہتے تھے ۔ راون نے کس طرح سیتا جی کا اغوا کیا ۔ کس طرح جٹاؤ کو راون نے قتل کیا اور آخر میں کس طرح بندروں کی فوج نے بھگوان رام کی مدد کی اور سیتا جی کو حراست سے چھڑایا سبھی موضوعات بڑے پر اثر طریقے سے پیش کیے گئےہیں۔

    اسی طرح کالی داس کے ڈراموں میں بھی تصاویر کا تذکرہ ملتا ہے ۔ مثلًا ایک ڈرامے میں "رانی دھارنی نے اپنی ایک رقاصہ خوبصورت نوکرانی ملاؤ کاکی شبیہہ راجہ اگنی مترا کے اسٹوڈیو میں بنوائی جس کی وجہ سے بعدمیں بڑے خطرناک نتائج نکلے "۔کالی داس کے مشہور شکنتلا نامی ڈرامے میں بھی ایسا تذکرہ ہے کہ متعلقہ آشرم میں شکنتلا کی آدھی درجن ایسی غیر مکمل تصاویر تھیں جنہیں بعد میں اس کے محبوب دشنیت نے پوری کیں۔

    ایک کلاسیکی بودھ ڈراما "نگا نند"میں جوگپت دور کے راجہ شلاوت ثانی کے عہد میں لکھا گیا ودھیادھرا کے شہزادہ جے موتر داہن کو ایک حسینہ ملیاوتی سے عشق ہوجاتاہے ۔ ملیاوتی نے بھی پیار کا اظہار کر نا شروع کر دیا۔ جے موترواہن مصور بھی تھا لہٰذا وہ ملیاوتی کی شبیہہ بنانا چاہتا تھا لیکن جے موتر واہن نے جب بھی اس سلسلے میں کوشش کی اسے کامیابی نصیب نہیں ہوئی کیوں کہ ملیاوتی کی مشابہت نہیں پیدا کر پاتا تھا ۔ ملیاوتی نے اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ جے موتر واہن کسی دوسری عورت سے پیار کر تاہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ اتنی بار کوشش کر نے کے باوجود مشابہت نہیں پیدا کر سکا ۔ روایت ہے کہ ملیاوتی اس غم و حسد سے بے ہوش ہوگئی ۔

    مہابھارت میں بھی ایک روایت کے مطابق ایک دیو ی اوشا نے ایک رات خواب میں ایک خوبصورت جوان شخص کو دیکھا اور اسے سے عشق کر نے لگی ۔ اوشا کی سہیلی چتر لیکھا کو جب واقعات کا علم ہوا تو اس نے بہت سے شہزادوں کی تصاویر بنائیں اور انہیں اوشا کو دکھا یا ۔ جیسے ہی اوشا نے سری کرشن کے پوتے انیرودھ کو دیکھا تو اس نے خواب میں دیکھے گئے محبوب کو فورًا پہچان لیا ۔

    عینی شہادتیں:

    غرضیکہ یہ روایتی ۔ ادبی اور تاریخی شہادتیں اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہیں کہ مصوری ہندوستانی تاریخ کے اولین دور میں بھی اپنے شباب پرپہنچ چکی تھی لیکن مندرجہ بالا موضوعات پر مشتمل 300قبل مسیح کے پہلے کی کوئی عینی شہادت ابھی تک نہیں مل سکی ہے ۔ بہر حال بلا شبہ ہمارے محکمہ آثار قدیمہ نے فن مصوری کی عینی شہادتوں کی کھوج میں بڑا زبردست کام کیا ہے ۔ قدیم زمانے کے ایسے فنی آثار غاروں کے اندر چٹانوں پر دیواری تصاویر کی شکل مدھیہ پردیش کے آدم گڑھ ،رائے گڑھ ،بہار کے چکر دھر پور، سنگھن پور ، ہوشنگ آباد اور مرزاپور کے لکھنیا کوہر اور بھلڈریا کے مقاموں سے منکشف کیے گئے ہیں ۔ یہ تصاویر 300سال قبل مسیح پرانی بتائی جاتی ہیں ۔ ان تصاویر میں عام طور سے جن موضوعات کو قلم بند کیا گیا ہے ان میں جنگلی جانوروں کا شکار کر تے ہوئے تیر کمان سے دوجماعتوں کا آپس میں جنگ کر تے ہوئے ۔ جنگل میں چرواہے اپنے پالتو جانوروں کو چراتے ہوئے اور شہد کے چھتے سے شہد نکالتے ہوئے وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ ان تصاویر میں جانوروں کی شکلیں اپنے پورے اعضاؤں کے ساتھ قریب قریب سہ جہتی انداز لیے پیش کی گئی ہیں۔۔ لیکن انسانی شکلوںمیں تفاصیل غائب ہیں ۔ انکو عمومًا خاکوں کے ذریعہ مختلف حرکات میں اشارتی طور سے دکھایا گیا ہے جس کے ان کی روز مرہ زندگی کی مشغولیت کا اندازہ ہوجاتا ہے ان تصاویر کو دیکھنے سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت جو معاشرہ تھا اسے پیش کر نے کی انسان میں فنکارانہ صلاحیتیں موجود تھیں ۔ آج ہمارے جدید مصور انہیں قدیم مثالوں سے فیضان حاصل کر رہے ہیں۔

    سندھ میں موہن جودارواور مغربی پنجاب کے ہڑپا مقاموں پر جوکھدائی ہوئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم ہندوستانی معاشرہ کا فی ترقی یافتہ تھا ۔ لوگوں کو خوبصورت ماحول میں قرینے سے بنے گھروں میں رہنے اور خوبصورت برتنوں کا   استعمال کا بڑا سلیقہ تھا ۔ خصوصا مٹی کے پکائے ہوئے برتنوں پر جو نقاشی ملتی ہے اس سے ان کے فنی شعور کا خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ان برتنوں پر خطوط کے ذریعہ مخلتف اقلیدسی ڈیزائن ،پھول ، پتیوں ، چرندوں اور پرندوں کو دکھایا گیا ہے ۔ اسی 1953میں سورت کے قریب پوتھل نامی مقام پر کھدائی کر کے موہن جوڈارو کی ہم عصر بستی کا پتہ لگایا گیا ہے ۔ جہاں موہن جوداڑو کی ہی قسم کی تمام اشیائی دستیاب ہوئی ہیں۔ ہڑپہ تہذیب کے نمونے پنجاب میں روپڑ،اہا ، سنگھول اور چنڈی گڑھ (سیکٹر17)میں پائے گئے ہیں۔ اس قسم کے دوسرے خصوصی مراکز مرزاپور،پٹنہ ،کاٹھیا وار ، اودے گری اور مہابلی پورم ہیں جہاں مختلف گپھاؤں کو کھوج کر قدیم زمانے کی تہذیب و تمدن پر تحقیق کاکام جاری ہے ۔

    جوگی مارا قبل مسیح:

    ہندوستان کی مصوری کی عینی شہادتوں میں سب سے پہلا نام جوگی مارا غار کا لیا جاتا ہے ۔ یہ غار مدھیہ پردیش کی سر گجا ریاست کی رام گڑھ پہاڑیوں میں سطح سمندر سے 3000فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ رام گڑھ پہاڑیاں پنڈرہ روڈ ریلوے اسٹیشن سے تقریبًا سو میل دور ہیں ۔ ان ہی پہاڑیوں کی چوٹی پر رام کڑھ مندر ہے ۔ روایت یہ ہے کہ بھگوان رام ، سری لچھمن اور سیتا جی بن باس کے دوران یہیں آکر ٹھہرے تھے ۔ اس مندر سے اتر کر جوگی مارا غار تک جانے کے لیے تاریک سا ایک کافی چوڑا 108فٹ لمبا راستہ ہے جسے ہاتھی پول کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس راستے کے خاتمے پر دو غاریں "جوگی مارا"اور "سیتا مینگرا "ملتی ہیں۔ (مقامی زبان میں مینگرا کے معنی بنگلہ کے ہیں )ان دونوں غاروں کو بڑی احتیاط کے ساتھ تراش کر کے رہنے کے قابل بنایا گیا تھا لیکن ان کی چھت کی اونچا ئی فقط 6 فٹ کے قریب ہوں گی ۔ ان پہاڑیوں کے دوسری اسی طرح کچھ اور چھوٹی چھوٹی غاریں ہیں جنہیں لچھمن بینگرا کہتے ہیں ۔ یہ تقریبًا 300برس قبل مسیح کی مانی جاتی ہیں ۔

    جوگی مارا کی غار کی لمبائی چوڑائی 6بائی 10 فٹ ہے مگر تصاویر صرف چھت پر بنائی گئی ہیں ۔ یہ چھت اتنی نیچی ہے کہ ہم تصویروں کو ہاتھ سے چھو سکتے ہیں ۔ ان تصاویر کو مختلف رقبے میں سرخ رنگ سے منقسم کر دیا گیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ غار کی اندرونی دیواری سطح پر مٹی ۔ گوبر اور پتھر کے پاؤڈر کو ملا کر لگا یا گیا ہے ۔ چھت والے حصے میں چاول کی بھوسی اور چونے کا پلاسٹر کا بھی استعمال کیا گیا ہے ۔

    یہ تصاویر بنگال کی "پٹوا عوامی مصوری "سے بہت ملتی جلتی ہیں لیکن جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اوپری تہہ کے نیچے قدرے بہتر تصاویر ہیں ۔ لہٰذا مؤرخیں کا خیال ہے کہ موجودہ تصاویر بعد میں بنائی گئی ہیں   لیکن بہتر قسم کی تصاویر پہلے کب بنائی گئیں یہ معلوم کر نا دشوار ہے کیوں کہ سفید رنگ کی ایک موٹی تہہ ان پر پھیر دی گئی ہے ۔ عام طور سے سفید،لال ، پیلا اور کالا رنگ تمام تصاویر میں استعمال کیا گیا ہے ۔

    داہنی جانب کے پہلے حصے میں جو تصاویر ہیں ان میں کچھ انسانی شکلیں ، ایک ہاتھی کی شکل اور ایک بڑی مچھلی دریا میں تیر تی ہوئی دکھائی گئی ہے ۔ دوسرے حصے میں کئی شکلیں ایک پیڑ کے نیچے بیٹھی دکھا ئی گئی ہیں پیڑ کو فقط ایک تنے مع کچھ شاخوں کے جن میں فقط دو یا تین پتیوں کے ساتھ دکھا یا گیا ہے ۔ لال رنگ سے مصور کیا گیا ہے ۔ دوسری تصویر ایک باغ کی ہے جس میں کچھ پھول کالے رنگ کے خطوط سے سفید پس منظر پر دکھائے گئے ہیں ۔ تیسری تصویر ناچتے ہوئے ایک جوڑے کی ہے لیکن اس میں ناک اور آنکھیں مٹ چکی ہیں ۔ چوتھی تصویر میں گڑیوں جیسی چھوٹی چھوٹی انسانی شکلیں ہیں یہ کالے رنگ سے بنائی گئی ہیں ۔ یہ شکلیں بڑی دلچسپ ہیں۔ ایک آدمی کی شکل کے اوپر ایک چڑیا کی چونچ باقی رہ گئی ہے بقیہ حصہ مٹ چکا ہے ۔ پانچویں حصے میں ایک عورت زمین پر اپنی ایڑیوں پر بیٹھی دکھائی گئی ہے جبکہ کچھ موسیقار رقص میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ اس تصویر کے خطوط اجنتا کے آخری دور کی تصاویر سے ملتی جلتی ہیں ۔ چھٹے اور ساتویں حصے میں تصاویر زیادہ صاف نظر آتی ہیں۔ بہر حال زیادہ غور کر نے سے پرانے ہندوستانی رتھ کا شائبہ ضرور ملتا ہے ۔

    جوگی مارا اور سیتا بینگر ا غاروں کی دیواروں پر گہرے کتبہ نمانقوش کھدے ہوئے ہیں ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک سنگ تراش اور ایک رقاصہ کے عشق کی داستان ہے

    اجنتا کے غار (200قبل مسیح سے 700تک ):

    تاریخی اعتبار سے جوگی مارا کی کافی اہمیت ہے لیکن فنی اعتبار سے نہ صرف ہندوستانی مصوری میں ہی بلکہ بین الاقوامی تاریخ مصوری میں اجنتا کے غاروں کی دیواری تصاویر کا اعلیٰ مقام ہے ۔ اجنتا کے غار مہاراشٹر صوبے کے ضلع اورنگ آباد میں شہر اورنگ آباد سے 106کلومیٹر شمالی میں جلگاؤں جاتی ہوئی سڑک پر فرد پور کے قریب چھ سو میٹر کی لمبائی میں گولائی لیے وگھورہ چشمہ کے ساتھ ساتھ واقع ہیں ۔ اس شمالی مغربی دکنی پلیٹو کے علاقے میں پہلی صدی عیسوی تک ستو اہنوں کی حکومت تھی لیکن تیسری صدی عیسوی میں اس شاہی نسب کا زوال ہوگیا اور یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم ہوگیا ۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ ستواہنوں کے دور حکومت میں اجنتا غاروں کی بنیاد پڑی اور انہیں تکمیل کو پہنچایا گیا ۔ یہ مقام در اصل بدھ مذہب کا سب سے بڑا مرکز تھا اور یہیں سے بدھ مذہب کی تبلیغ کی غرض سے بھیجی جاتی تھیں ۔ ان جماعتوں میں مصور بھی شامل ہوتے تھے اجنتا میں 29غار ہیں ۔ جو دوقسم کی ہیں جنہیں چیتا اور دہار کہا جاتاہے ۔ اول الذکر عبادت گاہ کی صورت میں استعمال کی جاتی تھی اور موخر الذکر بھکشوؤں کی رہائش اور آرام گاہ تھیں ۔ بارش وغیرہ کے دنوں میں دور دراز کا سفر کر نا دقت طلب ہوتا تھا لہٰذا اس دوران بھکشو آرام کیا کر تے تھے اورغالبًا تخلیقی کام میں مصروف رہتے تھے ۔

    اجنتا کی کھوج :

    صدیوں گمنامی کی حالت میں رہنے کے بعد 1819میں مدارس فوج کے کچھ افسروں (لیفٹیننٹ ڈینجر فیلڈ اور جنرل رولینڈ کا اس سلسلے میں نام لیا جاتا ہے )نے اجنتا گاؤں سے   5 کلومیٹر کی دوری پر اسے اتفاقًا دریافت کیا پروفیسر والٹر ایم اسپنک نے دسویں غار میں ایک برٹش افسر کا نام اور تاریخ 1819کھدا ہوا دیکھا (غالبًا یہ نام ڈینجر فیلڈ کا تھا )اس کے بعد 1828میں ڈاکٹر برڈ اس کے کھدے ہوئے کتبوں اور تحریروں کو نقل کر نے کے لیے اجنتا پہونچے ۔ جے پر نسب نے اپنے مضمون "ہندوستانی کتبوں کی صحیح نقل "جرنل آف دی ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کی پانچویں صفحات 561-554 میں 1836میں رائل ایشیا ٹک سوسائٹی آف گریٹ برٹین اینڈ آئر لینڈ کو پیش کی ۔ اس کے بعد رائل ایشیا ٹک سوسائٹی کی ایما پر اجنتا کی تصویروں کے نقل کر نے کا کام مدارس فوج کے ایک افسر آر ۔ گل کو سونپا گیا جنہوں نے 1849سے 1855کے وقفے میں روغنی رنگوں میں 30تصاویر تیار کیں ۔ بد قسمتی سے 1866میں انڈین کورٹ آف دی کرسٹل پیلس ۔ سیڈن ہام میں جہاں تصویریں رکھی تھیں آگ لگ جانے کی وجہ سے یہ کافی برباد ہوگئیں ۔ فقط 5 تصویریں جو اس جگہ نہیں لگائی گئی تھیں بچ گئیں جنہیں انڈین میوزیم ۔ ساؤتھ کینسنگٹن بھیج دیا گیا ۔ جان گری فتھ جو جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی کے پرنسپل تھے ۔ جیمس فرگوسن کے مشورے سے اپنے طلباکے ساتھ اجنتا کی تصاویر کی رنگین کاپیاں کر نا شروع کیں ۔ یہ کام 1885تک چلتا رہا اور اس پر پچاس ہزارروپے خرچ کیے گئے ۔ لیکن 1885میں بد قسمتی سے دوبارہ پھر انڈین میوزیم ۔ ساؤتھ کینسنگٹن میں آگ لگ گئی اور بہت سی کاپیاں جل کر برباد ہوگئیں جو باقی رہ گئیں وہ 1896میں "دی پینٹنگس ان دی بدھسٹ کیوٹمپلس آف اجنتا۔ خاندیش ۔ انڈیا "کے نام سے دو جلدوں میں شائع کی گئیں ۔ 11-1909کے وقفہ میں لیڈی ہرینگھم نے کچھ ہندوستانی طلبا کی مدد سے جن میں حیدر آباد کے سید احمد اور محمد فضل الدین کلکتہ کے نند لال بوس ،اسیت کمار ہلدار اور سمریندر ناتھ شامل تھے   کاپیاں کیں ۔ ان میں سے 55تصاویر کو 1915میں انڈیا سوسائٹی نے شائع کیا ۔ 1915میں سید احمد کو حیدر آباد اسٹیٹ کے شعبہ آثار قدیمہ کی جانب سے دوبارہ کاپیاں کر نے کا کام سونپا گیا ۔ 22-1920کے دوران اجنتا کی تصاویر کے تحفظ کے لیے اٹلی کے دو ماہرین بلائے گئے تاکہ ان کو مزید خراب ہونے سے بچایا جاسکے ۔ 1930میں ڈاکٹر غلام یزدانی نے چار جلدوں پر مشتمل اجنتا پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا جو ابھی تک تما م مقالوں میں مستند شمار کیا جاتا ہے ۔ 1949میں حید ر آباد گورنمنٹ نے ڈاکٹر غلام یزدانی کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی جو اجنتا اور ایلورا غاروں کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کے لیے اپنی سفارشات پیش کر سکے ۔ 1951میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے اجنتا کے غاروں کو قومی ورثہ قرار دے دیا ۔ لہٰذا انہیں محکمہ آثار قدیمہ ہند کے حوالے کر دیا گیا اس کے بعد سے اجنتا پر کافی مقالے لکھے جاچکے ہیں   اور بہت سے فوٹو گرافک ریکارڈ شائع ہوچکے ہیں۔

    اس نادر فنی خزانے کی بربادی کے کئی اسباب ہیں ۔ اول یہ کہ اجنتا کے غار کافی قدیم ہیں اور اس لمبے عرصے میں بغیر دیکھ بھال کیے جو کچھ تصاویر بچیں یہی بہت بڑی بات ہے لیکن اجنتا کی کھوج کے بعد جب سیاحوں نے جانا شروع کیا تو انہوں نے ان تصاویر پر اپنے نام اور پتے کھودنا شروع کر دیئے جس کی وجہ سے یہ تصاویر بہت بر باد ہوگئیں ۔ 1900میں یہ بھی انکشاف ہواکہ نواب نظام حید ر آباد کے ایک درباری اجنتا کے مجسموں کے سروں اور مختلف حصوں کو توڑ کر فرنگیوں کو تحفہ کے طور پر دے دیتا تھا ۔ یہی حرکت بمبئی میوزیم کے مسٹر بر ڈوڈ نے 2-1901کے دوران کی ۔ وہ خصوصًا اجنتا کے مجسموں کو توڑ توڑ کر میوزیم میں لاتے رہے ۔ لیکن 1908میں نظام حیدر آباد نے ان غاروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک کیوریٹر (مہتمم عجائب خانہ )مقرر کیا تب سے ان کی خاطر خواہ حفاظت کا انتظام ہوسکا۔

    موضوعات اور اجنتا کی تصاویر :

    مؤرخیں کا خیال ہے کہ غار نمبر 1 سب سے نیاہے جو تقریبًا پانچویں صدی عیسوی میں بنایا گیا ۔ یہ "دہار "ہے ۔ اس میں مختلف موضوعات پر تصاویر ملتی ہیں اور نہایت خوبصورت ڈیزائن بنائے گئے ہیں ۔ کچھ عجیب قسم کے بونے ایرانی صافے باندھے ہوئے جن میں کچھ ناچتے ہوئے ۔ کچھ کھیلتے ہوئے اور کچھ بات چیت میں مصروف دکھائے گئے ہیں ۔ جانوروں میں ہاتھی ۔ بیل اور بندروں کو مصور کیا گیا ہے ۔ چڑیوں میں طوطے ،ہنس اور بطخوں کو انفرادی طور سے اور جوڑوں کے ساتھ دکھا یا گیا ہے ۔ کنول کے پھول مختلف قسم کے پھلوں جن میں آم اور سیب قابل ذکر ہیں۔ مصوروں کے محبوب ترین اور امتیازی موضوع رہےہیں ۔ سقف کو بھی کئی حصوں میں منقسم کر کے مسجع کیا گیا ہے ۔ ایک بریکٹ میں دوبیلوں کو لڑتے ہوئے دکھا یا گیا ہے ۔ تو دوسری جگہ پیار کر تے ہوئے ایک جوڑے کو دکھایا گیا ہے ۔ غار نمبر1میں "مہاجانکا جاتک "پر مشتمل تصاویر بنائی گئی ہیں ۔ ان تصاویر میں وہ حصے جس میں ایک رومانی جوڑا ، شہزادے اور شہزادی کا تبادلہ خیا لات کر نا ، شہزادے کا محل چھوڑ کر جانا، شہزادے کا مختلف واقعات سے گوش گزار کر انا، ایک محل کا منظر ، ایک شہزادے کا غسل کر نا وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ وہ حصے ہیں جو کسی حد تک اچھی حالت میں ہیں اور ان سے اجنتا کی عظمت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ان کے علاوہ ایرانی حلیہ میں ملبوس ایک جماعت ہےجسے ایرانی سفارتی عملہ سے موسوم کیا گیا ہے کیوں کہ اس وقت ہندوستان کے نزدیکی ملکوں سے تجارتی تعلقات تھے اور سفیروں کی آمدو رفت لگی رہتی تھی ۔ فرگوسن کے مطابق یہ تصویر اسلامی روایات پر ترتیب دی گئی ہے ۔ لیکن اسمتھ اس سے متفق نہیں ہیں ۔ اسی طرز کی دوسری تصویر میں خسرو اور شیریں اپنے درباری دوشیزاؤں کے ساتھ دکھائے گئے ہیں لیکن ان کی شبیہہ کی صحت کے متعلق وثوق سے نہیں کہا جاسکتا ۔

    غار نمبر2 بھی غالبًا پانچویں صدی عیسوی میں اختراع کیا گیا ۔ یہ بھی "دہار"ہے ۔ اس کے سقف میں مختلف قسم کی تصاویر ملتی ہیں مثلًا سجدہ کر تی ہوئی عورت ، بھوتوں کی شبیہہ ، سانپوں کےپھن والے ناگا ، جھولا جھولتے ہوئی عورت ، ایک کھڑی ہوئی عورت جس کا بایاں پیر مڑا ہوا دکھایا گیا ہے قابل ذکر ہیں ۔ دیواروں پر جو تصاویر ہیں ان میں بھکشوؤں کی ایک جماعت ہے یہ سبھی قد آدم اور تقریبًا برہنہ ہیں۔ سفید بطخوں اور کنول کے علاوہ کچھ اور آدمیوں کے نقش ہیں ۔ ان میں سفید ، گہرا جینی ، بھورا ، گہرا ہرا اور لال رنگ کا استعمال کیا گیا ہے ۔

    غار نمبر 3بھی پانچویں صدی عیسوی میں بنائی گئی جو "دہار"ہے لیکن اس میں کوئی تصویر نہیں ہے ۔

    غار نمبر4 بھی غالبًا پانچویں صدی عیسوی میں تیار کی گئی اور "دہار"ہے ۔ ڈاکٹر برگس کے بقول اس غار میں تصاویر تھیں لیکن 1879کے معائنہ کے دوران یہ دکھائی نہیں پڑتی تھیں۔

    غار نمبر5کی بھی یہی تاریخ بتائی جاتی ہے اور اس میں کوئی تصویر نہیں ملی ۔

    غار نمبر6اور 7 کا دور اختراع 550-450متعین کیا گیا ہے ۔ یہ دونوں "دہار "ہیں ۔ یہاں چند نشانات ایسے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں تصاویر تھیں لیکن 1879کے جائزہ میں یہ مڑتی نہیں تھیں۔

    غار نمبر8 سب سے پرانی غاروں میں سے ایک ہے یہ 200-150قبل مسیح پرانی تصور کی جاتی ہے اس میں کوئی تصاویر نہیں تھیں ۔

    غار نمبر9سب سے پرانی غار ہے جو 200قبل مسیح بنائی گئی اور" چیتیا "ہے اس غار میں کچھ تصاویر ہیں جو سانچی اور برھت کے مجسموں سے بہت مشا بہ ہیں ۔ لمبی پگڑیاں ، بالوں کے گر د لپٹی ہوئی ، سڈول جسم والی عورتیں تقریبًا برہنہ ، سہ جہتی انداز لیے انکی چند خصوصیات میں شامل ہیں ۔ گری فتھ نے عہد متاخر کی ایک برباد شدہ تصویر کو علیحدہ کر کے اندرونی تہہ میں ایک تصویر "بیٹھی ہوئی عورت"کی نکالی جس کا اندازِ اسلوب ہم عصر بُت سازی سے ملتا جلتا ہے ۔

    غار10بھی پرانی غاروں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ 150/200 قبل مسیح قدیم اور "چتیا" ہے۔ اس غار کے دائیں ہاتھ کی دیوار پر جلی خطوط سے ہاتھیوں کو مصور کیا گیا ہے اور بائیں ہاتھ کی دیوار پر آدمیوں کا ایک جلوس دکھایا گیا ہے جس میں کچھ پیدال اور کچھ مسلح گھوڑ سوار ہیں۔ اور ان کے پیچھے عورتوں کی ایک جماعت ہے لیکن یہ تصویر کافی خراب ہو چکی ہے۔ دوسری تصویر میں ایک راجہ آٹھ عورتوں کے ساتھ مصروفِ گفتگو دکھایا گیا ہے۔ یہ تنظیم بہت خوبصورت ہے لیکن اس غار کے کھمبوں پر جو تصاویر ہیں وہ بعد کی معلوم ہوتی ہیں ان کو پوشاکیں مسیحی فنی نمونوں سے کافی ملتی جلتی ہیں۔

    غار11۔200۔150 قبل مسیح پرانی "وہار" ہے۔ اس میں تصاویر تھیں لیکن اب باقی نہیں رہیں۔

    غار نمبر12بھی200۔150قبل مسیح پرانی "وہار" ہے۔ اس میں کوئی تصویر نہیں ہے۔

    غار 13۔200 قبل مسیح پُرانی "وہار" ہے اس میں کوئی تصویر نہیں ہے۔

    غار نمبر15اور15دونوں "وہار" ہیں جن میں تصاویر تو تھیں لیکن اب باقی نہیں ہیں۔ یہ 508پرانی ہے۔

    غار نمبر16بھی "وہار" ہے اور 500 پرانی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصاویر سے پُر تھی لیکن یہ زیادہ تر خراب ہو چکی ہیں۔ اس غار میں ایک شہزادی کے فوت کا منظر ہے۔ گرینتھ کا خیال ہے کہ "جہاں تک پُر درد جذبات کے اظہار کا تعلق ہے۔ اس تصویر کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ فلورنس کے مصور ہو سکتا ہے کہ بہتر ڈرائنگ کر سکتے ہوں اور دنیشین بہتر رنگ بھر سکتے ہوں لیکن یہ اسلوب بیان اُن کے بس کی بات نہیں۔" اس کے علاوہ بُدھ کی ایک تین مورتی، ایک سوتی ہوئی عورت اور غار نمبر1کی طرح ایک سفارتی عملہ کا منظر بھی دکھایا گیا ہے۔

    غار نمبر17"وہار" ہے یہ 500 پرانی ہے اور سب سے بڑی ہے اس تقریباً61تصاویر ہیں جن میں دو بہت بڑی ہیں، اور بڑی بھیڑ بھاڑ دکھائی گئی ہے اس کے بائیں برآمدہ میں "بُدھ کی زندگی کا چکر" نامہ تصویر ہے"، سیلون کے راجا وجے" نامہ تصویر جسے" سنہالا اور دھانا" بھی کہتے ہیں بہت بڑی تصویر ہے۔ دوسری تصاویر "سِبی راجا" جس نے اپنی آنکھیں ایک بھکاری کو دے دی تھیں۔ اور "ماں اور بچہ" بہت مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ شیر۔ ہرن اور ہاتھی کے شکار اور ہاتھی کو راجا کے دربار میں سلام کرتے ہوئے جیسے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ کچھ رومانی اور عشقیہ مناظر بھی ہیں۔ محل کے مناظر، شاہی جلوس۔ سنگار کرتے ہوئے رانی۔ وعظ و سامعین اور فرشی ڈیزائن جن میں گھوڑے، ہاتھی اور انسانی شکلوں کا استعمال کیا گیا ہے بہت خوبصورت اور دلفریب ہیں۔

    غار نمبر18بھی500پرانی "وہار" ہے لیکن اس میں کوئی تصویر نہیں ہے۔

    غار نمبر19"چیتیا" ہے اور500 پرانی ہے۔ اس میں کچھ مہاتما بدھ کی تصاویر ہیں۔ کچھ فرشی ڈیزائن اور "کپلو ستو کو واپسی" نامی تصویرہے۔ غار نمبر22 کو چھوڑ کو جو "چینیا" ہے بقیہ تمام غاریں "وہار" ہیں جو 500 کے لگ بھگ کی خیال کی جاتی ہیں۔ لیکن کسی میں بھی تصاویر نہیں ہیں۔

    ان تصاویر کی تیکنیک کے بارے مین ماہرین فن کے مختلف خیالات ہیں۔ مثلاً گری فتھ کا کہنا ہے کہ یہ اٹلی کے فرسکو کی طرح" بھیگے فرسکو" ہیں لیکن ہیول کا خیال ہے اس میں کچھ" کشک فرسکو" بھی ہیں۔ بھیگے فرسکو میں پلاستر کی سطح جب تھوڑی عمیلی رہتی ہے تبھی رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے اس طرح رنگ اچھی طرح سے پلاسٹر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اس تیکنیک میں تصویر کی عمر میں کئی گُنے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اجنتا کی دیواروں پر مٹی، گوبر، پسی ہوئی دکنی پتھریلی مٹی اور چونے کو ملا کر خصوصی قسم کے پلاسٹر کی سطح تیار کی گئی تھی۔ پھر بقول لیڈی ہرینگھم کے لال، بھورے اور کالے رنگوں کو کاکے کے لیے استعمال کیا گیا اس کے بعد بقیہ سطح پر ہموار طریقے سے رنگ بھر دئیے گئے۔ نیلے اور پیلے رنگوں کا بھی کافی استعمال ملتا ہے۔ رنگوں کو پتھر کے پوڈر اور گُڑ میں کوب اچھی طرح ملا کر پائداری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    تنقیدی جائزہ

    سرجارج واٹ دلی کی مشہور آل انڈیا نمائش 1902-3 کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کے خیال میں "اجنتا کی تصاویر کو فنون لطیفہ کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا" اسمتھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اجنتا میں فرشی ڈیزائن کے علاوہ تمام موضوعات کو مرقع کیا گیا ہے۔ اجنتا کی تصاویر میں خطوط کے استعمال کی بڑی اہمیت ہے۔ اُن میں بڑی روانی، اور تیکھا پن ہے۔ تنظیم اور ترتیب میں بڑا ربط ہے۔ تصویریں بہت بڑے پیمانے پر بنائی گئی ہیں کچھ تو بیس فٹ سے بھی زیادہ لمبی چوڑی ہیں اور ان کو فقط فاصلے سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر کا کتاب کے صفحات میں چھپے کسی پرنٹ سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کا موضوع زیادہ تر مہاتما بدھ کی زندگی کے واقعات سے وابستہ ہے لہٰذا ان تصاویر کو اُسی مذہبی جذبات کے تحت دیکھنا چاہیے"۔

    اجنتا میں انسانوں،چرند اور پرند سبھی کو آسان سے لے کر مشکل ترین انداز میں انہیں مصور کیا گیا ہے۔ حسن ترتیب میں انفرادیت ہے ان تصاویر میں قدرتی پن کے ساتھ ساتھ بھرپور جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ گری نتھ کا خیال ہے کہ "اجنتا کی تصاویر قرونِ اولیٰ کی فن مصوری کی سب سے بہترین مثال مانی جا سکتی ہیں خطوط کی روانی اور رنگوں کی مطابقت ان تصاویر کے خصوصی پہلو ہیں۔ ان میں بغیر سلے ہوئے کپڑوں کا استعمال بڑے فنی انداز سے کیا گیا ہے۔ انسانی چہرے جذبات سے پُر ہیں۔ اعضاء سڈول اور ان کی موضوع کے اعتبار سے بدش میں بڑی پختگی ہے ۔ کِھلے ہوئے پھول،چڑیوں اور ہنسوں اور دیگر مخلوقات کو کتاب ِقدرت سے اخذ کیا گیا ہے"۔ لارنس بنیان کے مطابق" اجنتا کی کچھ تصاویر میں انسانوں کے جم غفیر کے باوجود ان میں بڑی انفرادیت،قوت اور زندگی ملتی ہے۔" ہیول کا خیال ہے کہ "اجنتا کی تصاویر بے مثال ہیں اور کچھ تو ایسی ہیں جو دنیا کی بہترین تصاویر میں سے شمار کی جا سکتی ہیں کچھ یورپین کا خیال ہے کہ اجنتا کی تصاویر فقط رنگین ڈرائنگ نہیں لیکن یہ خیال قطعی غلط ہے۔"

    بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی تاریخ کے ایک سنہرے دور کےتہذیب و تمدن کو اجنتا کی دیواروں پر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ان کی خوبصورتی اور رنگوں کی سحر نگاری نے ان غاروں کو ایک بے مثال قومی نگار خانے کا رُتبہ عطا کیا ہے۔

    مؤرخیں کا خیال ہے کہ اجنتا غاروں کی طرح اور بھی مرقع غاریں بنائی گئی ہوں گی جو زمانے کے نشیب و فراز سے خُرد بُرد ہو گئیں لیکن مندرجہ ذیل چار غاروں میں اجنتا کی روایت اب بھی محفوظ ہے۔

     

     

    باگھہ

    باگھہ گپھائیں تقریباً پانچویں یا چھٹی صدی عیسوی میں اختراع کی گئیں۔ یہ گوالیار کے نزدیک باگھہ پہاڑیوں پر واقع ہیں چوں کہ موضوع باگھہ اس کے پاس ہی ہے لہٰذا مئورخین نے ان غاروں کو باگھ کے نام سے موسوم کر دیا۔ پرانے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ صوبہ گجرات اور صوبہ مالوہ کو ملاتی ہوئی سڑک پر قرون وسطیٰ کے ایک مشہور دارالخلافہ پوپوناروا سے۲۰میل مغرب میں یہ غار بنائے گئے۔ باگھہ کی دوسری غار میں1929میں تانبے پر لکھا ہوا ایک کتبہ ملا تھا جس سے یہ پتہ چلا کہ یہ غاریں مہاراج سُبندھو 416-485   کے دور میں بنائی گئیں۔ یہ گپت خاندان   کا ا ٓخری دور تھا۔

    ان غاروں کو اجنتا کی طرح پہاڑیوں کو کاٹ کربُدھ بھکشوئوں کے آرام کے لیے تیار کیا گیا۔ ان کی کُل تعداد۹ ہے جنہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کسی وقت یہ ساری گپھائیں تصاویر سے پُر تھیں۔ جو کچھ ابھی تک بچی ہیں اُن کا طرز اجنتا کے آخری دور کے طرز سے مشابہ ہے۔ ان تصاویر کے برباد ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان غارون کی چٹانیں قدرے نرم اور خستہ ہیں لہٰذا تصاویر کی سطح جلدی خراب ہو گئی۔ ان کے علاوہ چڑیوں،چمگادڑوں کے گھونسلوں،فقیروں اور سادھوئوں کے قیام گاہ سےا ٓگ اور دھواں کا پیدا ہونا، سیاحوں کا دیواروں پر اپنے نام اور پتے کھودنا ایسے مزید اسباب ہیں جن سے ان تصاویر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    ’’پہلی غار کو ـ گِرہ گُپھا‘‘(رہنے کی جگہ) کہتے ہیں جو کم و بیش برباد ہوچکی ہے۔

    دوسری غار پانڈووں کی گپھا کے نام سےمشہور ہے۔ تیسری غار کو "ہاتھی خانہ" کہا جاتا ہے۔ یہ غالباً خصوصی مہمانوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس میں کچھ تصاویر ہیں لیکن بڑی خراب حالت میں ہیں۔

    چوتھی غار کو "رنگ محل" کہتے ہیں۔ اس کی ایک دیوار اور چھت پر کچھ تصاویر بچی ہوئی ہیں۔ اس غار کی سب سے مشہور تصویر "ہلی ساکا" (گر بھارقص) ہے جس میں ایک مرد کے ساتھ کئی عورتوں کو گاتے، ناچتے اور ساز بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ عورتوں کے سروں کے جوڑے کے ڈیزائن ، شفاف اور چُست پیراہن سبھی اجنتا طرز سے ملتے جلتےہیں۔ کپڑوں پر کالے سفید اور بھورے رنگوں کے ڈیزائن ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ نیلے، لال اور پیلے رنگوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ گھوڑ سواروں کے جلوس، ہاتھیوں اور روتی ہوئی عورتوں کے بھی چند مناظر ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ پرندوں، پیڑپودوں،پھول پتیوں کی بھی آرائشی طرز میں بہترین عکاسی ملتی ہے۔ ان غاروں کی تصاویر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے موضوعات غیر مذہبی ہیں جبکہ اجنتا کے بُدھ مذہبی ہیں۔

    پانچویں اور چھٹی غار کو غالباً وعظ وغیرہ کے لیے بنایا گیا۔ بقیہ تین غاریں ختم ہو چکی ہیں۔

     

    سِتنا وسل

    سِتنا وسل غاروں کی کھوج1920میں کی گئی جس کا سہرا پروفیسر جے ڈبریل کی تحقیقات کے سر ہے۔ پروفیسر ڈبریل کے مطابق یہ گپھائیں پلوا سلطنت کے راجہ مہیندرورمن اول (تقریباً25۔600) کے عہد میں تنجور کے نزدیک پہاڑیوں کو کات کر بنائی گئیں۔ تکنیکی اعتبار سے یہ گپھائیں اجنتا کے آخری دور کی ہم عصر مانی جاتی ہیں۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ کبھی یہ غار تصاویر سے پُر تھے لیکن ان کے فقط کچھ نشانات بوسیدہ حالت میں اب باقی رہ گئے ہیں۔

    ایک دالان کے سقف کے ایک حصے میں کنول کے پھولوں سے بھرا تالاب دکھای گیا ہے جس میں مچھلیاں ، بطخیں، بھینسوں اور ہاتھیوں کے علاوہ تین انسانی یا دیوتاؤں کی شکلیں ہیں جو اپنے ہاتھ میں کمل کے پھولوں اور پتیوں کو لیے ہوئے ہیں۔ دوسرے حصے میں بھی اسی طرح کا کنول سے بھر تالاب ہے۔ ان کے دو کھمبوں پر دو تصاویر ہیں جس میں دیواسیوں کو رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ تصاویر جین موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔

    بادامی

    تقریباً543میں چالکیہ خاندان کے راجہ پُلاکیسن اول نے بادامی پہلاڑیوں کو جو لمبی کے قریب ہی واقع ہے ایک قلعہ کی صورت میں تبدیل کر کے اپنا دارالخلافہ بنایا۔ اس کا لڑکا کیرتی ورمن 598 ۔568 نے قرب و جوار کے اور بھی علاقوں کو فتح کر کے اپنی ریاست میں شامل کر لیا۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد اس کا لڑکا پلاکیسن ثانی جونا بالغ تھا اپنےچچا منگلیا کی سر پرستی میں تخت پر بیٹھا۔ اسی منگلیا نے بادامی غاروں کو تیار کروایا تھا جیسا کہ اس کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے۔ ان غاروں میں تصاویر کے جو کچھ نشانات باقی بچے ہیں اُن سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں بھی اجنتا کی روایات کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے فقط فرق یہ ہے کہ برہمنی موضوعات پر مشتمل ہیں لیکن ایک تصویر میں عورتوں کی ایک جماعت ہے جو ایک کھمبے کے ساتھ کھڑی دکھائی گئی ہے گیر مزہبی موضوع کی حامل ہے۔ ان کے چہروں کے تیکھے نقوش، حُسن اور نسوانی ادائیں بڑی دلفریب ہیں۔ خطوط کی روانی اور رنگوں کی ہم آہنگی میں ایک خصوصی وصف ہے جو ان تصاویر کی انفرادیت بخشتی ہیں۔

    ایلورا

    مؤرخیں کا خیال ہے کہ راشٹر کوٹہ خاندان کے راجہ کرشن اول نے جو تقریباً756میں تخت نشین ہوا ایلورا کے مندروں کا کام شروع کروایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مندر ایک بہت بڑی چٹان کو تراش کر کے تیار کیے گئے۔ یہ مندر اجنتا سے 60 میل کی دوری پر جنوب میں واقع ہیں۔ ناقدین نے ان غاروں کو تین حصوں میں منقسم کیا ہے۔ کیوں کہ ان مندروں میں تین مختلف اثرات ملتے ہیں یعنی بُدھ۔ ہندو اور جین۔ بُدھ مذہبی بارہ غاریں ہیں جو کسی وقت تصاویر سے پُر تھیں لیکن اب سب ختم ہو گئی ہیں۔ براہمنی غاروں میں کچھ تصاویر اب بھی موجود ہیں، جہاں بادامی مصوری کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ تیسرے گروپ میں جین گپھائیں ہیں جو 9 ویں صدی میں تیار کی گئیں۔ خصوصاً غار نمبر32 میں جو "اندر سبھا" کے نام سے مشہور ہے۔ تصاویر اب بھی کافی اچھی حالت میں ہیں۔ خصوصاً چھتوں پر جن تصاویر میں بادلوں کے درمیان اڑتے ہوئے جو مرد ار عورتیں دکھائی گئی ہیں بڑی خوبصورت ہیں لیکن طرز میں انحطاط کی جھلک ملتی ہے۔ اشکال میں لمبوترا پن پیدا ہو گیا ہے۔ چہروں میں وہ دلکشی نہیں ہے جو اجنتا کی تصاویر میں ملتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے بعد میں اسے دوبارہ رنگنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ جنگ کے مناظر ایلورا کے کیلاش ناتھ کے مندر میں موجود ہیں۔ یہ تصاویر جین نسخوں کی تصاویر سے کافی ملتی جلتی ہیں۔ ڈاکٹر موتی چندر نے انہیں دیواری تصاویر کو جین مصوری کا پیش رو تصور کیا ہے۔

    ان کے علاوہ تالا گری سورا مندر، پنا ملائی میں جسے نارا سمہا ورمن ثانی(722۔695) نے بتوایا تھا جو غالباً دیواری تصاویر سے پُر تھیں۔ اُس کی ایک دیوار پر ایک تصویر کے کچھ نشانات باقی بچے ہیں جس میں ایک عورت اپنا ایک گُھٹنا موڑے کھڑی ہے۔ یہاں رنگوں کے استعمال میں خصوصی انفرادیت ملتی ہے کیوں کہ اس تصویر میں ہلکے گلابی، ہلکے ہرے اور ہلکے نیلے رنگوں کا بڑا حسین امتزاج ملتا ہے جو دیواری تصاویر کی روائیت سے بالکل جداگانہ ہے۔

    گیارہویں صدی کے شروع میں راج راجا نامی حکمران کے عہد میں تنجور میں راج راجیشورمندر بنایا گیا۔ جس میں کچھ دیواری تصاویر کسی حد تک محفوظ ہیں۔ ان کے موضوعات شیودھرم پر ہیں۔ خصوصا سُندرا مورتی نامی سادھو شاعر کی زندگی کے واقعات مرقع کیے گئے ہیں۔ یہ اُن اہم شخصیتوں میں سے ایک ہے جس نے جنوبی ہندوستان میں شیو مزہب کے ارتقا کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ان تصاویر میں خطوط کافی موٹے ہیں اور اُن میں لچکیلا پن نہیں ہے۔ چہرے چپٹے ہیں اور بدن کی بناوٹ پستہ قد ہے۔

    جنوبی ہند میں دیواری تصاویر کی روائیت سولہویں صدی کے ابتدائی دور تک ملتی ہے۔ راجہ اچیوتدپوراما 42۔1530 نے کُسپا کچھی، مندر بنوایا تھا جس میں اب بھی کافی تعداد میں تصاویر موجود ہیں۔ ان کے موضوعات بھی شیو مذہبی ہیں لیکن اسلوب بینی ہے۔

    پال طرز مصوری

    آٹھویں صدی عیسوی میں بہار اور بنگال صوبوں میں پال راجاؤں کی سلطنت وجود میں آئی جو 1126ء تک قائم رہی۔ مشہور حکمرانوں میں دھرم پال(810۔770) و دیوپال (850۔710) و مہی پال(1040۔6992) اور بام پال1126۔1084 کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے بعد دکن کے سینا حکمرانوں کا دور شروع ہوا جو کٹر ہندو تھے۔ یہ 1206تک حکمران رہے۔ ان میں سب سے مشہور حکمران لچھمن سینا تھا جسے1206میں مسلمانوں نے شکست دے دی۔

    اس دور میں عوام دیویوں کی پوجا کرتے تھے خصوصاً کالی دیوی کی عبادت عام تھی۔ سماج میں حکومتِ مادری کا رواج تھا لیکن برہمنوں نے عوام کو عموماً پس ماندہ یا نچلی ذات سے منسوب کر رکھا تھا اور انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے لہٰذا اعوام میں برہمنوں کے خلاف نفرت کا شدید جذبہ اُبھرآیا اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے نے بدھ مزہب اختیار کر لیا۔ اس دور کی مشہور مذہبی کتاب "گوہیا سماج منترا" تھی۔ اس طرح پال بدھ مت کا دور شروع ہوا۔ اس دور میں بھی پہلے کی طرح بھکشوؤں کی جماعتیں نیپال، تبت، برما، سیلون اور جاوا بھیجی گئیں۔ اس طرح وہ اپنے ساتھ پال مصوری کو بھی وہاں لے گئے۔ ان کا بنیادی مقصد بُدھ مذہبی اصولوں کی عوام میں تبلیغ کرنا تھا لہٰذا انہیں چھوٹے چھوٹے گرنتھوں کی صورت میں لکھا جانے لگا اور مرقع کیا جانے لگا۔ چوں کہ آٹھویں صدی میں کاغذ دستیاب نہیں تھا لہٰذا تاڑ کے پتوں پر کام شروع کیا گیا۔ عموماً ان کا سائز22 انچ لمبا اور 1 انچ چوڑا ہوتا تھا جس میں تصویر کا سائز3 انچ 12 1/4 انچ ہوتا تھا حالاں کہ کاغذ کی بہ نسبت تاڑ کے پتے زیادہ پائیدار ہوتے تھے لیکن انہیں سلائی کے ذریعے جوڑا نہیں جا سکتا تھا لہٰذا ان کو دھاگے میں پروکر لکڑی کے سرپوش میں رکھا جاتا تھا۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ کاغذ نیپال میں پہلے ہی سے دستیاب تھا کیوں کہ وہاں پر کاغذ پر بنائے گئے نسخے ہندوستانی تاڑ کے پتوں کے نسخوں کے ہم عصر ہیں۔ ایک تبتی مورخ نے لکھا ہے کہ دیمان اور بیت   پال پال مصوری کے موجد تھے۔

    اس اسلوب میں مرقع کیے گئے قلمی نسخوں میں سب سے مشہور کتاب "پراجنا پارمتا" (تکمیلِ شعور) ہے اس کی سب سے بہترین کاپی باولین لائبریری،آکسفورد میں محفوظ ہے جو تقریباً گیارہویں صدی عیسوی کی مانی جاتی ہے اور راجہ رام پال کے پندرھویں سنہ جلوس میں نالندا کے خانقاہ میں تیار کی گئی۔ اس میں جو تصاویر بنائی گئیں اُن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہم عصر ہندوستانی مجسموں سے فیجان حاصل کیا گیا اور ایسا لگتا ہے جیسے دیواروں سے کاٹ کر بت کاغذ پر چپکا دئیے گئے ہیں لیکن عام طور سے ان کا طرز بُدھ غاروں کی تصاویر سے ملتا جلتا ہے۔ ان کی سادگی،خطوط کی روانی، روائتی مناظر،نباتات، تعمیری نمونے، شبیہہ اور ان کی تنظیمی کیفیت اجنتا کی تصاویر سے مشابہ ہیں۔ کہیں کہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اجنتا کی تصاویر کو منے چر سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے فرق یہ ہے کہ پال مصوری کا انداز بدرجہ اتم آرائشی ہے۔ زیادہ تر پیلے اور نیلے سپاٹ رنگوں سے اشکال کو بھر کر گہرے خطوط سے محیط کر دیا گیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں کے حملے شروع ہوئے تو یہ پال مصور بہار اور بنگال سے بھاگ کر نیپال ہجرت کر گئے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ نیپال میں پال مصوری وہاں کے راجاؤں کی سر پرستی میں صدیوں پھلی پھولی اور اپنے معراج کو پہنچی اور یہ روایت

    نیپالی خانقاہوں میں اب بھی کہیں کہیں ملتی ہے۔

     

    جین طرز مصوری

    جین ادب میں فن مصوری کے جو حوالے ملتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ فن مصوری کی ابتدا رِشا بھدیوا نے کی جو کہ پہلا جین تیر تھنکر خیال کیا جاتا ہے لہٰذا جین راہبوں کو بدھ بھکشوؤں کی طرح ایسی جگہوں میں رہنے سے منع کیاگیا جہاں کی دیواریں تصویروں سے مزین ہوں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان تصاویر کے شہوانی انداز سے ان کے نفسانی جذبات کے بھڑکا نے کا اندیشہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اور ان کے مراقبہ میں خلل پڑ سکتا تھا۔ لہٰذا "اُترا دھیانا سُوتر" میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کسی جین راہب کو کسی خوبصورت گھر میں جہاں تصویریں، خوشبو، پھولوں اور پودوں وغیرہ سے سجایا گیا ہو نہ رہنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اسے کسی عورت کی طرف چاہے وہ اصلی ہو یا تصویر کی صورت میں ہو نہیں دیکھنا چاہیے۔ لیکن "بُرہت کلپ سوتر" میں مردراہب پر تو اسی طرح ممانعت رکھی گئی ہے لیکن عورت راہب پر اس قسم کی غالباً کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی لہٰذا انہیں فن مصوری میں مصروف پایا جاتا ہے۔

    جین ادب کی ایک دوسری کتاب "بَھیہ" میں جو کہ بہت بعد میں لکھی گئی ہے مصوری کے حوالے ملتے ہیں۔ اس میں موضوعات مصوری کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔

    1۔       "نردوساچتر کرما" (حقیقی مصوری) اس میں پیڑپودے،پہاڑ، دریا، سمندر اور عمارتوں وغیرہ کی مصوری شامل ہے۔

    2۔       "سدو ساچترا" (غیر حقیقی مصوری) ان میں اڑتی ہوئی انسانی شکلیں، دیویاں اور عورتوں وغیرہ کی عکاسی شامل ہے۔

    مردراہبوں کو ان دونوں اقسام کی تصویریں بنانا منع تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی سختی اور ممانعت دورِ وسطیٰ میں دھیرے دھیرے دھیلی پڑتی گئی کیوں کہ جین لائبریریوں اور بھنڈاروں میں مرقع ادبی نسخے کافی تعداد میں پائے جانے لگے۔ ان قلمی نسخوں میں فن مصوری کے متعلق بہت سے   حوالے ملتے ہیں اور یہ برے دلچسپ بیانات ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو۔

    "جنتا دھرم گتھا" میں درج ہے کہ مَلا دینا نے جو کہ میتھی لا کا ولی عہد شہزادہ تھا ایک پکچر گیلری بنانے کا حکم دیا۔ اُس نے گیلری کو مصور کرنے کا کام مصوروں کی ایک انجمن کو دیا اور یہ خصوصی تنبیہہ تھی کہ تصاویر جذباتی ہونی چاہئیں۔ لہٰذا مصوروں نے اپنے بُرش اور رنگلیے اور متعلقہ گیلری کی عمارت میں پہنچ گئے۔ انہوں نے پہلے دیواری سطح کو تقسیم کر کے تصویر کے لیے بنیادی سطح تیار کی۔ ان مصوروں میں ایک ایسا استاد تھا جو کسی آدمی یا جانور کا اگر کوئی جزوی حصہ دیکھ لے تووہ اسے پورا کر دیتا تھا۔ لیکن اس مصور کی یہ لاثانی اور خداداد صلاحیت اس کے لیے بڑی منحوس ثابت ہوئی۔ ایک مرتبہ شہزادی مَلی کا پیر کا انگوٹھا پردے کے پیچھے سے اس مصور کو دکھائی دے گیا۔ دیکھتے دیکھتے اس نے شہزادی کی پوری ہو بہو شبیہہ تیار کر دی۔ ولی عہد شہزادہ نے جب یہ دیکھا تو اس نے اپنی بہن کی پاکدامنی پر شبہ کرتے ہوئے اس مصور کو اپنی سلطنت سے دربدر کر دیا۔

    دوسرا حوالہ "برہت کلپ سوتربھا" میں ایک طوائف کے نگارخانے کا ہے۔ یہ طوائف نفسیات میں کافی دخل رکھتی تھی، اور وہ روایاتی64 فنون میں کامل تھی۔ اس نے اپنی گیلری میں ہر طبقے کے آدمیوں کی شبیہہ۔ اُن کے متعلہ پیشے اور ان کی ذات وغیرہ کے لحاظ سے تصاویر بنا رکھی تھیں۔ جب کوئی آدمی اس کے پاس اس کی خدمات حاصل کرنے آتا تھا تو وہ سب سے پہلے اس شخص کو اپنی گیلری میں لے جاتی تھی تا کہ وہ اس آدمی کی ذات، دل چسپی اور پسندیدہ فنون کے متعلق معلومات حاصل کر سکے اور خاطر خواہ اس کا دل بہلا سکے۔

    "اوا سپا کاتکا" مین تزکرہ ہے کہ ایک مصور نے مور کے پنکھ کی ایک تصویر بنائی جس راجہ نے اس مصور کی کدمات اپنے نگارخانے کے لیے حاصل کی تھیں اس نے اس پنکھ کی تصویر کو ہاتھ سے اس دھوکے میں چھو لیا کہ وہ پنکھ سچ مچ کا اس میں لگا دیا گیا ہو گا۔ جو کچھ بھی ہوا ان حوالوں سے یہ صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فن مصوری اس وقت عوام اور خواص دونوں کا محبوب مشغلہ تھا اور جین مصوری کی روایات اتنی ہی پرانی ہیں جتنی کہ بُدھ مصوری کی۔

    بمین قلمی نسخوں میں مصوری ک ایک خصوصی اسلوب رہا ہےجسے ناقدین نے بارہا بحث کا موضوع بنایا ہے۔ بنیادی طور سے اس طرز کے نام میں بھی اختلاف رائے پائی جاتی ہے۔ ابھی تک چار نام مختلف مورخوں نے تجویز کر رکھے ہیں۔

    سب سے پہلا نام جین نے چر مصوری ڈاکٹر آنند کمار سوامی نے تجویز کیا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں سب سے پہلے اس قسم کی تصاویر جین قلمی نسخوں میں دیکھی گئیں۔ لیکن بعد میں این سی مہتا کے دلائل کے مدِ نظر کمار اسوامی نے اس طرز کوگجراتی طرز کہنا منظور کر لیا۔ کیوں کہ این ۔سی۔مہتا نے "بسنت و لاس" نامی ایک اسکرول احمد آباد میں تلاش کر لیا تھا جو جین مذہب سے قطعاً تعلق نہیں رکھتا۔ یہ اسکرول کپڑے پر1451میں احمد آباد میں بنایا گیا۔ یہ دراصل ایک گجراتی نظم بسنت دلاس   کا مرقع ہے ان تصاویر کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں دنیاوی اور مادی دلچسپی کی چیزوں۔ زندگی کی خوشیوں اور بہار کے رنگا رنگ لمحات کو مصور کیا گیا ہے۔ چشمے، چہچہاتی چڑیاں، اُچکتے پھالنگتے جانور سبھی میں بھرپور زندگی بخش دی گئی ہے۔ اسی پس منظر کے ساتھ عشقیہ مناظر کو دکھایا گیا ہے۔ رائے کرشن داس کا خیال ہے کہ اس نسخے کے اسلوب سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پندرہویں صدی کے وسط میں ہندوستانی مصوری ایک ایسی ارتقائی کیفیت سے گزر رہی تھی جو بعد کی راجستھانی مصوری کی موجد کہی جا سکتی ہے۔

    ڈاکٹر نارمن براؤن نے مندرجہ بالا ناموں کی یہ نسبت اسے سوتیا مبر جین طرز کہنا زیادہ مناسب سمجھا کیوں کہ ان کی تحقیق کے مطابق اس طرز کی تصاویر فقط سویتا مبر جین مذہبی کتابوں میں ملتی ہیں اور کسی بھی دگامبرجین کتابوں میں نہیں دیکھی گئیں۔ اس کے علاوہ اس طرز کو گجراتی طرز کہنا بھی زیادہ موزوں نہیں ہے کیوں کہ اسلوب کے اعتبار سے "بسنت دلاس" اور سوتیا مبر منے چر تصاویر میں نمایاں فرق ہے اور اس طرز کی جغرافیائی حدود صرف گجرات ہی تک نہیں بلکہ راجپوتانہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ طرز سویتامبر جین قلمی نسخوں ہی سے شروع ہوا۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس طرز کی جغرافیائی حدود کے مد نظر اسے مغربی ہندوستانی طرز مصوری کہا جا سکتا ہے۔ سارا بھائی نواب نے اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے اور زیادہ وضاحت کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ اس طرز کو "گجراتی طرز جو جین مذہب کی سرپرستی میں پروان چڑھا" کہا جائے تو بہتر ہے کیوں کہ یہ گجرات کا ہی علاقہ تھا جہاں نہ صرف یہ طرز مصوری اس سے پہلے وجود میں آئی اور محفوظ کی گئی بلکہ یہ تمام مصور بھی گجراتی تھے۔ لیکن چوں کہ ان تصاویر کا زیادہ تر موضوع جین ہے لہٰذا "جین " لفظ اس طرز کے نام کے ساتھ جوڑا جانا ضروری ہے۔

    رائے کرشن داس نے دوبارہ اس بحث کو چھیڑتے ہوئے کچھ دلائل پیش کیے مثلاً یہ کہ "قرونِ وسطیٰ میں اس طرز کی تصاویر کا جین بھنڈاروں میں پایا جانا فقط اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ جین سماج بلاشبہ ایک خوشحال طبقہ تھا جو اپنی مذہبی کتابوں کو مرقع قلمی نسخوں کی صورت میں تیار کروا سکتا تھا اور خوش قسمتی سے یہ کاپیاں کافی تعداد میں اب بھی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ قلمی نسخے فقط جین مصوروں نے ہی بنائے ہوں۔ گجراتی طرز کہنا اس لیے موزوں نہیں کہ گجراتی حدود سے باہر بھی یہ طرز نیپال اور کشمیر تک پھیل چکا تھا۔ جس کی شہادت ہم عصر سیاح تارا ناتھ کی تحریروں سے ملتی ہے۔ وسط ہندوستان میں راجپوتانہ مالوہ اور جونپور بھی اس طرز کے خصوصی مراکز تھے۔" لہٰذا ان تمام دلائل کے پیش نظر تمام تجویز شدہ ناموں کو رائے کرشن داس نے منسوخ کرتے ہوئے اسے   "اپھبرمس" طرز کہنا تجویز کیا۔ جس کے لغوی معنی بگڑے ہوئے طرز یا اسلوب کے ہیں۔ کیوں کہ یہ دور ایسا تھا جبکہ فن کے ہر دائے میں بے راہ روی اور بے سرو سامانی پھیلی ہوئی تھی خصوصاً ادب اور زبان میں یہ نوعیت زیادہ گہرا رنگ لا چکی تھی۔ لہٰذا ادب اور مصوری کا یہ بگڑتا اور بہروپیہ رنگ دیکھ کر ہم عصر شاعر راجسیکھر نے اپنی "کاویہ میمانسا" میں ہم عصر مصوروں کو اپھبر مس زبان کے شاعروں کے درجہ میں لارکھا ہے۔

    موتی چندر نے رائے کرشن داس کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لفظ "اپھبرمس" تکنیکی اور جمالیاتی نقطہ نظر سے اس دور کی ہندوستانی مصوری کے زوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جہاں تک "اپھبرمس"فن اور ادب کے ارتقاء کا سوال ہے اس میں بھی کوئی تال میل نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ ہم عصر اپھبرمس ادب کسی بھی صورت میں زوال پذیر یا ادب عامیانہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اُس وقت کی بے جان سنسکرت شاعری سے بدر جہا بہتر ہم عصر "اپھبرمس" شاعری مانی جا سکتی ہے۔ ہاں ہم عصر ادب کی یہ نسبت مصوری میں ضرور گراوٹ نظر آتی ہے۔ لہٰذا ہماری انتخاب اصطلاح "اپھبرمس" اور "مغربی ہندوستانی طرز" پر آ کر رُک جاتی ہے۔ اول الذکر میں طرز کی گراوٹ پر زیادہ زورِ احساس ملتا ہے جبکہ آخر الذکر میں جغرافیائی حد بندی ملتی ہے" موتی چندر نے آخر الذکر کو ترجیح دینا زیادہ مناسب سمجھا ہے۔

    کا رل کھنڈ الوالا نے اس موضوع پر زیادہ بحث نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اس طرز کی اہمیت پر زیادہ زور دیا ہے لیکن میرے خیال میں اس مسئلے کو سرے سے اس طرح غیر اہم بنا کر ختم کر دینا تحقیق کے دائرے کو محدود کر دینا ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلے پر ابھی کافی بحث کی گنجائش ہے کیوں کہ اگر رائے کرشن داس کے نظریہ کو صحیح مانا جائے تو دور حاضرہ کا جدید فن اپھبرمس طرز سے بھی گیا گذرا ہوا ہے حالاں کہ یہ اب ہندوستان کے ہر گوشہ میں کم و بیش پھیل چکا ہے لیکن کیا اسے "اپھبرمس" کہا جا سکتا ہے؟ بلکہ دور حاضرہ کے کئی جدید ہندوستانی مصوروں نے نام نہاد "اپھبرمس" طرز سے فیضان حاصل   کیا ہے۔ میرایقین ہے کہ وقت اور ماحول کے مطابق ہر دور کا ایک انفرادی اسلوب فن رہاہے لہٰذا جین نسخوں میں پایا جانے والا فنی اسلوب بھی اپس دور کا ایک نمائندہ اسلوب ہے جو عوام میں کافی مروج تھا اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی گوشہ داری، دُرشتی اور چہرے میں یکجانب بیرون چشمی ہونا ہے لہٰذا میری تجویز یہ ہے کہ اسے کیوں نہ دورِ وسطیٰ کا طرز بیرون چشی" کہا جائے؟

    طرز "بیرون چشی"کے ارتقاء کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں۔ پہلی وجہ غالباً یہ ہے کہ چودھویں صدی میں تاڑ کے پتوں کے بجائے کاغذ کا استعمال شروع ہو گیا جو ہندوستان میں کافی تعداد میں بنایا جانے لگا۔ لہٰذا مصوروں کو بھی اپنے کام میں کافی آسانی پیدا ہ گئی۔ دوسری وجہ گرے کے مطابق یہ ہو سکتی ہے کہ جین طبقے کے جو خوشحال لوگ تھے انہوں نے زیادہ ترمندروں اور عوامی کتب خانے بنانے میں مدد دی لیکن جو چھوٹے طبقے کے لوگ تھے وہ چندے کی بڑی رقم تو نہیں دے سکتے تھے لیکن چھوٹے چھوٹے کانسے کے بتوں اور قلمی نسخوں کو بنوانے اور انہیں کتب خانوں میں محفوظ کروانے میں مدد دیتے تھے۔ تیرھویں صدی میں جب گجرات کا سارا علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا تو جینی عوامی ادارے تو بننا بند ہو گئے لیکن جین قلمی نسخوں کا بننا اور ان کا مرقع کرنا جاری رہا۔ ایک وجہ اور بھی ہو سکتی ہے جو غالباً سیاسی ہے۔ اکبری عہد سے پہلے مسلم مقامی حکمرانوں نے ایک قانون کے تحت غیر مسلم عوام اور حکمرانوں کو تمام ذاتی اختیارات دے رکھے تھے بشرطیکہ وہ ایک ٹیکس جسے جزیہ کہتے ہیں، دنیا قبول کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سلطنت دور کے مسلم حکمرانوں نے اسی جزیے کے عوض جین سوداگروں کی مذہبی آزادی کو برقرار رکھا لہٰذا انہیں آزادنہ طور پر اپنے مذہبی عقائد اور مذہبی نسخوں کی تصنیفات کو جاری رکھنے میں غالباً کوئی دشواری نہیں ہوئی ہو گی۔ گرے نے صوبجاتی مسلم حکمرانوں کی فنی سر پرستی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فیاض دلی سے جینی فن   و ادب کے ارتقاء میں بڑی مدد ملی۔ اس دور میں غیر مسلم عوام میں وشنو نظریہ فکر کو بھی کافی تقویت ملی۔ حالاں کہ اس دور کی کوئی قلمی مرقع شہادت نہیں دستیاب ہوئی ہے لیکن قیاس یہ ہے کہ لوگوں کے بڑھتے ہوئے وشنو رجحانات کے مد نظر جنہوں نے زیادہ سے زیادہ جینی نسخے بنوا کر عوام میں بٹوائے ہوں گے تا کہ انہیں جینی عقیدے سے زیادہ لگاؤ پیدا ہو سکے۔ ایسی حالت میں اگر مُرقعوں کے فنی اسلوب میں کسی قسم کی تنزلی محسوس بھی کی گی تو ایسا لگتا ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہ سلسلہ پندرھویں صدی کے پہلے چوتھائی دور تک چلتا رہا۔

    عموماً جین طبقے میں دو کتابیں بڑی مقبول عام تھیں۔ پہلی "کلپ سوتر" جس میں بھگوان مہاویر کی زندگی کو مرقع کیا گیا ہے اور دوسری "کالکا چاریہ کتھا" جس میں کالکاجین بھکشو کی زندگی کے واقعات مرقع ہیں۔ ان کتابوں کی ایک ایک کاپیاں جو تقریباً1400ء کی مانی جاتی ہیں پرنس آف ویلز میوزیم بمبئی کے ذخیرہ میں موجود ہیں۔ ان کی تصاویر میں ہندوستانی روایات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی اثرات کافی حد تک ملتے ہیں۔ بیرٹ اور گرے کے خیال میں یہ اثرات سیر ی اور مصرکی مملوک مصوری سے آئے ہیں کیوں کہ تجارت کے نقطہ نظر سے یہ علاقے گجرات سے قریب ترین ہیں۔ ان کے علاوہ دیواسانو پدو بھنڈار کے کلپ سوتر" کے آرائشی سرورق پر جو غالباً1475ء کے لگ بھگ بنایا گیا تیموری مصوری کے اثرات نظر آتے ہیں۔

    اب تک جو اس طرز کے نسخے دستیاب ہوئے ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں۔

    1۔       "کلپ سوتراور کالکا چاریہ کتھا"۔ تقریبا80۔1370۔ ذخیرہ۔ پرنس آف ویلز میوزیم۔ بمبئی

    2۔       "کالکا چار کتھا"۔1414ء تاریخ شدہ۔ ذخیرہ۔ پی۔سی۔جین۔ بمبئی

    3۔       "کلپ سوتر"1439 تاریخ شدہ بمقام منڈو۔ ذخیرہ: نیشنل میوزیم۔ نئی دہلی۔

    4۔       "کلپ سوتر اور کالکا چاریہ کتھا"۔ تقریباً1475۔ ذخیرہ: دیوا سانوپدو بھنڈار۔ احمد آباد۔

    5۔       "کالکا چاریہ کتھا"۔ تقریباً40۔1430غالباً منڈو میں مرقع کیا گیا۔ ذخیرہ: مُنی پونے وجے جی۔ احمد آباد۔

    6۔       "کلپ سوتر"۔ 1465تاریخ شدہ بمقام جونپور۔ ذخیرہ: نرسم جنیا پولنا جنن۔ بڑودہ۔

    7۔       "بال گوپال استوتی"۔ تقریباً1500ذخیرہ: میوزیم آف فائن آرٹس۔ بوسٹن۔

    8۔       "سکندر نامہ" تقریباً1500بمقام دہلی یایوپی۔ ذخیرہ: این۔سی۔ مہتہ۔ بمبئی۔

    مندرجہ بالا نسخوں کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خصوصی طرز مصوری کے خاص مراکز احمد آباد۔ مانڈو جونپور اور دہلی تھے۔ حالاں کہ اس دور میں گجرات سے لے کر دہلی تک مسلم حکمرانوں کی حکومتیں قائم تھیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کو ان غیر مسلم مذہبی مرقع نسخوں سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی حالاں کہ یہ نسخے عموماً مسلم حکمرانوں کے دارالخلافہ یا اُس کے نوح میں بنائے گئے لیکن ان نسخوں میں کم و بیش ان مسلم درباروں کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا۔ کچھ مؤرخیں کا خیال ہے کہ جینی راہبوں پیشواؤں یا سوداگروں سے جذبہ لے کر انہیں مذہبی آزادی دے دی گئی تھی لہٰذا ان نسخوں کی تالیف و مرقع میں کوئی درباری مداخلت نظر نہیں آتی۔ دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ نسخے شہر کے نواحی علاقوں میں بنائے گئے جہاں انہیں جینی خاندانوں میں نسلاً نسلاً رازدارانہ طور سے محفوظ رکھا گیا۔ بعد میں ہو سکتا ہے کہ اکبر کی صلح کل پالیسی سے مطمئن ہو کر یہ سرعام لائے گئے ہوں اور انہیں جین بھنڈاروں میں محفوظ کر دیا گیا ہو گا۔ بہرحال جو بھی ہو یہ طرز مصوری تقریباً سو سال سے کچھ اوپر تک ہندوستان میں زندہ رہا۔

    ان تصاویر میں جیسا کہ پہلے تزکرہ کیا جا چکا ہے ہندوستانی شکلوں میں خصوصا وہ چہرے جو سہ رُخی ہیں ایک آنکھ باہر کی طرف نکلی دکھائی گئی ہے۔ لیکن بعض تصاویر ایسی بھی ہیں جن میں ایرانی وضع کی شکلیں ہیں ان میں یہ خصوصیت نہیں ملتی۔ اشکال عموماً پستہ قد اور اعضاء نو کیلے ہیں، انداز مصوری آرائشی ہے، عورتیں گھا گرہ، چولی اور اوڑھنی پہنے ہوئے ہوتی ہیں۔ رنگوں میں قدرے احتیاط برتی گئی ہے۔ نیز لال رنگ،پیلا، ہرا اور کہیں کہیں نیلا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ زیورات سفید اور سونے کے رنگ سے دکھائے گئے ہیں۔ کہیں کہیں تحریر لال سطح پر سونے کے رنگ سے کی گئی ہے۔ خطوط میں کافی تیزی اور روانی ملتی ہے۔