جارج پیش شور

جارج پیش شور

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

    پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا اس ماہرو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا ذرے کی طرح خاک میں پامال ہو گئے وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا