جین جوزف رابیر اویلو

جین جوزف رابیر اویلو

تھوہر

    ترجمہ: افضل احسن رندھاوا

     

    ان گنت مٹی کے ہاتھ

    کھڑے ہیں پھول لیے جو نیلے آسمان کی سمت

    ہاتھ ان گنت، انگلیوں کے بغیر

    جو تیز ہوا سے بھی نہیں ہل سکتے

    کہتے ہیں کہ ان کی بے رنگ ہتھیلیوں سے

    اک چھپا ہوا سوما پھوٹتا ہے

    کہتے ہیں کہ یہ اندر والا سوما

    ہزاروں ڈھوروں کو دیتا ہے سدا زندگی

    اور ان ان گنت قبیلوں کو، خانہ بدوش قبیلوں کو بھی

    جنوب کی سرحدوں پر

     

    اک سومے سے نکلے ہوئے ہاتھ انگلیوں کے بغیر

    مٹی کے ان گنت ہاتھ، آسمان سجاتے ہیں

     

    یہاں، جب ابھی شہر کے اردگرد ہریالی اتنی تھی

    جتنی سبز بنگلوں میں جھانکتی چاند کی کرنیں

    جب ابھی آرائیو کی پہاڑیاں انہوں نے ننگی چھوڑی تھیں

    آگے کو چھلانگیں مارتے بیلوں کی مانند، چلتے ہوئے

    وہ، ان عمودی مشکل سی چٹانوں، بکریاں بھی جن پر

    چڑھ نہیں سکتیں

    کے اندر چھپ گئے، اپنے سوموں کو چھپانے کے لیے

    وہ کوڑھی پھول اگانے والے

    جو تم چاہتے ہو کہ ان کو لگی ہوئی بیماری کی ابتدا ڈھونڈو

    ان غاروں میں جاؤ، وہ جہاں سے آتے ہیں

    ابتدا جو شام سے زیادہ چھپی ہوئی ہے

    اور سویر سے زیادہ دور ہے

    پر تم مجھ سے زیادہ کبھی نہ جان سکو گے

    دھرتی کا لہو، پتھر کا پسینہ

    اور ہوا کا بیج

    جو اکٹھا بہتا ہے ان ہتھیلیوں میں

    اس نے ان کی انگلیوں کو پگھلا چھوڑا ہے

    اور انگلیوں کو سنہرے پھولوں سے بدل دیتا ہے