جارجی ری بیلو

جارجی ری بیلو

نظم

    ترجمہ:  افضل احسن رندھاوا

     

    آ، بھائی! اور مجھ کو اپنے جیون بارے بتلا

    آ، دکھا مجھے بغاوت کے نشان

    دشمن نے جو جسم تمہارے پر چھوڑے

     

    آؤ، مجھے کہو، یہ میرے ہاتھ

    کچل دیے گئے تھے، کہ انھوں نے

    اپنی دھرتی کا دفاع کیا تھا

     

    میرے جسم کو بہت اذیتیں دی گئیں

    کیوں کہ دھاڑویوں کے آگے

    جھکنے سے منکر تھا

     

    دیکھو، میرا منہ زخمی ہے

    کیوں کہ اس نے لوگوں کی آزادی

    کو گانے کی جرأت دی تھی

     

    آ، بھائی! اور مجھ کو اپنے جیون بارے بتلاؤ

    آ، اور مجھے بغاوت والے خواب سنا

    جو تم نے، تمہارے اجداد اور ان کے بڑوں نے

    دیکھے

    خاموشی میں

    ان بے سایہ راتوں میں، جو یار کے لیے نہیں تھیں

    آ، مجھ کو بتلا، یہ خواب

    جنگ بن گئے

    نائیک پیدا ہوئے

    پھر سے زمینیں فتح کی گئیں

    مائیں جو تھیں بہت دلیر

    جنہوں نے اپنے بچوں کو لڑنے کے واسطے بھیجا

     

    آ، مجھ کو یہ سب کچھ بتلا، میرے بھائی!

    بعد میں، میں پھر سے سیدھے سادھے لفظ گھڑوں گا

    جو بچے، بھی سمجھ سکیں

    لفظ جو ہر اک گھر میں داخل ہوویں گے، ہوا کی مانند

    اور ضمیر پہ اپنے لوگوں کے

    انگارے بن بن کے برسیں گے

     

    ہمارے ملک میں

    پھول لگ رہے ہیں گولیوں کو