نجیب محفوظ

نجیب محفوظ

اے مسافر

    ترجمہ: سیدنصیر شاہ

     

    اے مسافر!

    تیری راہیں ناہموار ہیں

    تیری مسافتیں طویل ہیں

    تیزی منزل کوئی نہیں

    پڑاؤ بھی نہیں

    اے مسافر

     

    اے مسافر!

    میری آنکھوں کے بھیگتے کنارے نہ دیکھ

    کوئی ریت کا ریزہ پڑ گیا ہو گا

    یاد کی کوئی کرچی خراش کر گئی ہو گی

    بے خیالی میں چبھ گئی ہو گی

    یہ نظارے نہ دیکھ

    اے مسافر!

     

    اے مسافر!

    تاروں کی چھاؤں میں نکل جا

    رات ٹھنڈی سانسیں لے رہی ہے

    اندھیروں کے پاگل کتے سو رہے ہیں

    جلاد کوڑے رکھ کر پڑ گئے ہیں

    جسم خستہ ہیں اور ہاتھ شل

    زندانیوں کی پیٹھوں پر لہو جم گیا ہے

    درد تھم گیا ہے

    اے مسافر