نجیب محفوظ

نجیب محفوظ

پاگل

    ترجمہ، رفعت حجازی

    دیوانگی کیا ہے؟ جنون کسے کہتے ہیں؟

    بظاہر پاگل پن زندگی اور موت کی طرح ایک پراسرار حالت ہے۔ پاگل انسان کی خارجی حرکات و سکنات تو سب پر عیاں رہتی ہے لیکن اس کے اندر کا انسان اور اس کا باطن ایک سربستہ راز ہے اور وہ پاگل شخص ...... اسے تو صرف اتنا یاد تھا کہ وہ ایک بار خانقاہ میں مہمان بن کر آیا تھا۔ اسے اپنی زندگی کے اوراق پارینہ بھی اسی طرح یاد تھے جس طرح سارے ہوش والوں کو یاد ہوتے ہیں۔ وہ پاگل شخص ماضی کی طرح اپنے حال کو بھی جانتا تھا البتہ وہ عرصہ ...... وہ تو ایک مختصر زمانہ تھا ...... خدا کا شکر کہ وہ زمانہ مختصر ہی تھا ...... اس زمانے  کے بارے میں اس کی یادداشت بالکل کام نہیں کرتی تھی۔ وہ حیران تھا کہ اس زمانے کے بارے میں اسے کچھ بھی تو یاد نہیں ہے۔ وہ مختصر زمانہ گویا ایک سفر تھا۔ ایک روحانی غیر مادی سفر۔ جس میں دھند تھی اور اندھیرا تھا پھر بھی اسے اس دھند میں یادداشت کے پردے پر کچھ چہرے نظر آتے تھے جو پورے طور پر واضح نہیں تھے۔ یادداشت کی تیز روشنی ڈال کر وہ اس اندھیرے کو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن یہ اندھیرا ختم نہیں ہوتا تھا اور یہ زمانہ پیچھے کی طرف ہی ہٹتا تھا یہاں تک کہ تاریکی اسے پھر نگل جاتی تھی۔ اس زمانے کی کچھ آوازیں اسے اپنے کانوں میں محسوس ہوئی تھیں، لیکن یہ آوازیں بھی بھنبھناہٹ سے زیادہ نہ تھیں۔ وہ اپنی قوت سامعہ سے الفاظ کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتا تو الفاظ دور بھاگ جاتے اور صرف سناٹا باقی رہ جاتا اس طرح وہ سحر آگیں زمانہ اپنی لذت و الم کے ساتھ گزر گیا تھا یہاں تک کہ جن لوگوں نے اس کے عجیب و غریب زمانے کو دیکھا تھا تو انہوں نے بھی خاموشی اور تغافل کا ایک موٹا پردہ اس پر گرا دیا تھا جس کی وجہ چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اس زمانے میں اس شخص پہ جو گزری اور جو حرکتیں اس سے سرزد ہوئیں اب اس کا کوئی ریکارڈ رکھنے والا بھی نہ تھا۔ کون جانے وہ زمانہ کیسے آیا اور کب آیا اور کیسے لوگوں کو اس با ت کا احساس ہوا کہ ایک اچھا خاصا عقلمند انسان غیر عقلمند بن گیا اور پھر اس سے وہ حرکتیں سرزد ہونے لگیں جس کی وجہ سے لوگ اس سے دور بھاگنے لگے جیسے کہ وہ ایک انسان نہ ہو، بلکہ ایک شکاری جانور ہو۔

    وہ شخص حد سے زیادہ پر سکون اور خاموش تھا۔ کوئی سرگرمی نہیں، کوئی دوڑ دھوپ نہیں ۔ بے ہمہ، جامد راکھ، تقریباً بے حس و حرکت۔ یہ اس کا مزاج تھا شاید اسی وجہ سے  اس نے اپنی تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی تھی۔ اس نے کوئی ملازمت بھی نہیں کی تھی اس کے لیے سب سے زیادہ خوشی اور لذت کی بات یہ تھی کہ وہ کافی ہاؤس کے ایک کونے میں اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنے پہ رکھے ہوئے کئی کئی گھنٹے بیٹھا رہے۔ آنے جانے والوں کو اونگھتی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہے۔ یہی اس کی زندگی تھی اور یہی اس کی لذت و آسائش لیکن اس ظاہری سکون جمود کے پس پردہ اس کے اندرون میں حرکت و حرارت تھی۔ بظاہر اس کا سکون اس کے ظاہر و باطن ، جسم و ذہن پر محیط تھا۔ وہ گوشت  پوست کا بنا ہوا ایک مجسمہ تھا جو لوگوں کو بس دیکھے جا رہا تھا اور خود زندگی سے دور ...... بہت دور ...... جیسے کوئی ساحل پر بیٹھا ہوا موجوں کو دیکھ رہا ہو۔

    پھر کیا ہوا؟

    پھر پانی کی پر سکون سطح اچانک موج مضطر بن گئی جیسے کسی نے تالاب کے پر سکون پانی میں پتھر پھینک دیا ہو۔

    کیسے؟

    ایک دن اس نے دیکھا جب وہ خاموش اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ مزدور اور نوکر چاکر سڑک پر خوبصورت زرد رنگ کی ریت ڈال رہے ہیں جیسے کسی کا استقبال کرنا ہو اچانک اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ یہ لوگ سڑک پر کیوں ریت بچھا رہے ہیں اور فضا کو غبار آلود کرنے اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے میں انہیں کیا مزہ ملتا ہے بعد میں وہ خود اس ریت کو صاف کریں گے۔ ایسا ہے تو پھر ریت ڈال ہی کیوں رہے ہیں۔ یہ بات کچھ زیادہ حیرت اور تعجب کی نہ تھی لیکن یہی بات اس کے ذہن کے لیے ایک پرابلم، ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ اسے ایسا لگا کہ وہ اس کائنات کی اہم گتھی سلجھا رہا ہو۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس ریت کے ڈالنے میں نفع زیادہ ہے یا ضرر۔ پھر اندر سے اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے گدگدا رہا ہے اور اسے ہنسی آ رہی ہے اس کے ساتھ ہی وہ ہنسنے لگا اور ہنستا رہا ...... لگاتار۔ مسلسل ...... یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس کی یہ ہنسی بھی ایک سادہ اور غیر اہم بات نہ تھی بلکہ یہ ایک بڑے انقلاب اور کسی زبردست اندرونی تبدیلی کی علامت تھی پہلے تو وہ چپ چاپ اور خاموش رہتا تھا گھنٹوں اور اب اس پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ اس کا سارا دن ایسے ہی گزرا۔ کبھی حیرت اور کبھی ہنسی۔ حیرت اسے اس بات پہ تھی کہ جب لوگ ڈالی ہوئی ریت کو ہٹائیں گے تو پھر اسے سڑک پر ڈال ہی کیوں رہے ہیں وہ سڑک پر ریت ڈال رہے ہیں محض لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے اور پھر ریت کو صاف کرتے ہیں۔ ہا،ہا،ہا......!

    جب نئے دن کا آفتاب طلوع ہوا تو وہ سر تا پا حیرت بن گیا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا اور اپنی آرائش میں مگن تھا۔ اس کی نگاہ گردن میں لٹکتی ہوئی ٹائی پر گئی اور پھر اسے بے حد تعجب ہوا۔ لوگ ٹائی کیوں باندھتے ہیں؟ ٹائی کا فائدہ کیا ہے؟ کیوں لوگ ٹائی کے کپڑے اور اس کے رنگ کے انتخاب میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ پھر اسے لوگوں کی بے وقوفی پر ہنسی آئی اور جوآئی تو آتی چلی گئی۔ وہ کبھی اپنی گردن سے بندھی ٹائی کو دیکھتا تو کبھی اپنی ٹائی کو الٹتا پلٹتا اور پھر اسے اپنے سارے ہی لباس پر تعجب ہونے لگا کہ زندہ لوگ اپنے کو کفناتے کیوں ہیں۔ جیتے جی کفن پہن لینے کا کیا فائدہ۔ اللہ نے جیسا ہمیں بنایا ہے ہم ویسے ہی کیوں نہیں رہتے لیکن اس نے نہ جانے کس مصلحت کے تحت اپنے بدن پر کپڑے رہنے دیے اور گھر سے معمول کے مطابق چل پڑا۔

    آج اس پر سکون و اطمینان کی وہ کیفیت نہیں تھی جس کا وہ ایک زمانے سے عادی ہو چکا تھا۔ اب اسے اطمینان کیوں کر ہوتا۔ بے ضرورت بھاری کپڑے اس کے جسم پر تھے۔ جب وہ یہ سوچنے لگا تو اسے غصہ آنے لگا۔ اس نے سوچا کہ اگر ایک کام غلط ہے تو میں محض دوسروں کے لیے اسے کیوں کروں؟کیا وہ آزاد انسان نہیں ہے؟ کیا وہ اپنی مرضی کا مالک نہیں ہے؟ کیا وہ خودمختار نہیں ہے؟ اس نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا۔ ہاں! میں آزاد ہوں۔ کسی کی مرضی کا پابند نہیں۔ پھر یہ آزادی کا تصور اس کے دماغ پر اس طرح مسلط ہو گیا جیسے وہ آسمان سے نازل ہونے والی وحی ہو۔ آزادی کے نور سے اس کا اندرون جگمگا اٹھا۔ پھر اس پر خوشی کی وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔ اب اسے اپنی آزادی خودمختاری پر ایمان بلکہ ایمان راسخ کا درجہ حاصل ہو گیا۔ وہ آزاد ہے اسے حق ہے کہ جو چاہے جیسے چاہے اور جب چاہے کرے۔ اپنے اختیار اور مرضی سے کرے۔ وہ کسی قوت ، کسی طاقت کے آگے جواب دہ نہیں۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ ارادہ و اختیار کا بلند ترین مقام اسے مل چکا ہے اور اس معاملے میں وہ دوسروں سے بلند تر اور برتر ہے۔ اس نے حقارت سے لوگوں پر نظر ڈالی جو سڑک پر چل رہے تھے۔ جیسے کوئی انہیں کھینچ کر لے جا رہا ہے اور وہ بے اختیار ہوں۔ جب وہ چل رہے ہوں تو وہ اپنی مرضی سے رک نہیں سکتے اور جب کھڑے ہوئے ہوں تو اپنی مرضی سے چل نہیں سکتے اس کے برعکس وہ خود اپنے ارادہ و اختیار کی دنیا کا بادشاہ ہے جب مرضی ہو گی وہ چلے گا اور جب مرضی ہو گی رک کر کھڑا ہو جائے گا۔ اس نے ہر قانون، طاقت، عادت اور جبلت کو حقیر سمجھا۔ پھر اندر سے اس کے با اختیار ہونے کا شعور اسے کہنے لگا کہ اپنی معجز نما قوت کا تجربہ کرکے دیکھے اور اس آزادی کو آزمائے جو وحی بن کر اس پر نازل ہوئی ہے پھر وہ چلتے چلتے اچانک رک گیا اور خود سے مخاطب ہوا۔ ’’دیکھو! میں بلاوجہ کھڑا ہو گیا‘‘ اور اپنے گردوپیش پر نظر ڈالی اسے محسوس ہوا کہ سچ مچ وہ آزاد اور خودمختار ہے۔ اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔ کیا میں اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ سکتا ہوں خود ہی اس نے جواب دیا۔ ’’کیوں نہیں۔ یہی تو آزادی ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ دیا۔ اس نے بالکل پرواہ نہ کی کہ کون دیکھ رہا ہے اور آنے جانے والے لوگ کیا کہیں گے پھر خود ہی سوچا کہ وہ اپنی آزادی کا مظاہرہ کرے گا۔ اپنی ایک ٹانگ پر کھڑا ہو جائے گا۔ مرغے کی ایک ٹانگ ...... آخر کون ہے وہ جو میرے ارادے کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے۔ اس نے اپنی بائیں ٹانگ اوپر اٹھائی اور یوگا کے انداز میں سڑک پر ایک ٹانگ پر کھڑا رہا۔ اسے لوگوں کی نظروں کی ذرا بھی پرواہ نہ تھی وہ مطمئن تھا کہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے آزاد اور خودمختار۔ اسے افسوس صرف یہ تھا کہ اس آزادی کا اس نے پہلے تجربہ کیوں نہ کیا تھا پھر اس نے چلنا شروع کر دیا جیسے وہ نئے سرے سے زندگی کا استقبال کر رہا ہو۔

    قہوہ خانے کے راستے میں ایک ریستوران تھا جہاں کبھی کبھی وہ رات کا کھانا بھی کھاتا تھا۔ وہ اس ریستوران میں داخل ہو گیا۔ ایک میز انواع و اقسام کے کھانوں سے چنی ہوئی تھی۔ میز کے آمنے سامنے ایک مرد اورایک عورت لذتِ کام و دہن میں مصروف ہوئی تھی۔ اس میز سے کچھ فاصلے پر غریب بچے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے بیٹھے تھے۔ رنگت کالی ، بدن پر دھول مٹی اور منتظر تھے کہ شاید انھیں بھی کچھ پس خوردہ اور جھوٹا کھانے کو مل جائے اور وہ اپنی بھوک اس سے مٹائیں۔ اس آزاد اور خودمختار شخص کو اقتصادیات کا یہ تفاوت نہایت گراں گزرا۔ ایک طرف دولت کی فراوانی اور دوسری طرف نان شبینہ کی محتاجی۔ اس کے اندر کے شعور نے اسے اکسایا کہ اس تفاوت کو مٹانے کے لیے اسے کچھ ضرور کرنا چاہیے اور اس منظر سے یوں ہی نہیں گزرنا چاہیے اس کے ارادے نے اس کے اندر یقین کی کیفیت اور غیر معمولی شجاع پیدا کر دی اور اس نے فیصلہ کیا کہ اس مرغ و ماہی میں سے ان غریب بچوں کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ یہ جوڑا کھانے کے کسی بھی حصے سے دست بردار ہونے کے لیے قطعی تیار نہیں۔ اس نے شاہانہ عزم کے ساتھ ایک ہاتھ چلایا اور پھر میز کی ساری پلیٹ ان بچوں کی طرف پھینک دی۔ ریستوران میں ایک شور مچا۔ گالیاں ، صلوٰتیں اس پر برسنے لگیں لیکن اسے کوئی پرواہ نہ تھی بالکل  لاتعلق پھر اس پر ہنسی کا دورہ پڑا۔ اس نے ہنسنا شروع کیا اتنا کہ ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے پھر اسے اطمینان سا ہوا اور یقین بھی کہ آج ’’کارے کردم‘‘۔اور اس کے ساتھ وہ ریستوران سے باہر نکل گیا۔

    وہ پھر اسی قہوہ خانے تک پہنچا  جہاں اکثر اس کی صبح و شام گزرتی تھی۔ اسے وہیں جگہ ملی جہاں وہ کئی کئی گھنٹے خاموش بیٹھا کرتا تھا وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ شاہانہ۔ اس کی خودمختاری کی سلطنت وہاں تک پھیلی تھی جہاں تک اس کی آمدورفت تھی۔ وہ اپنی جگہ خود کو غیرمعمولی ارادے کا مالک سمجھتا تھا جیسے وہ سارے عالم پہ ہو چھایا ہوا ...... اور مستند ہو اس کا فرمایا ہوا۔

    ابھی وہ اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر اس موٹے شخص پر پڑی جو اکثر اس کافی ہاؤس میں آتا جاتا تھا۔ اس کی چال میں ایک طرح کی نخوت تھی اور وہ ہر چیز پر اس طرح نظر ڈالتا جیسے وہ حقیر ہو۔ اس کے سر پر ایک بال بھی نہ تھا۔بالکل ٹکلا تھا اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ اس موٹے اور متکبر انسان کو وہ دیکھے اور اسے سزا کا مستحق نہ سمجھے۔ اس نے دل ہی دل میں اس موٹے کی کبر و نخوت پر سزا دینے کا فرمان جاری کیا۔ سزا دینا ایک شاہانہ کام ہی تو ہے اور وہی سزا دے سکتا ہے جو اپنے ارادے میں خودمختار ہو اور کسی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کا حق دار نہ سمجھتا ہو۔ اسے اس موٹے کی نقل و حرکت پر ہنسی آئی وہی پراسرار ہنسی جو پچھلے چند دنوں سے اس پر طاری تھی وہ اٹھ کر اس موٹے کے قریب آیا اور پھر اچانک ایک زوردار چپت کی آواز کافی ہاؤس میں گونج اٹھی۔ اس نے اپنی پوری طاقت سے اس کی چندیا پر ہاتھ مارا تھا۔ آخر وہ اس موٹے کو سزا دیے بغیر کیسے چھوڑ دیتا معاذ اللہ اسے تو اپنی آزادی کی آواز پر لبیک کہنا تھا اور اپنے کو خودمختار ثابت کرنا تھا۔ اس نے طے کر رکھا تھا کہ جو کچھ بھی کرنے کا تقاضا اس کے اندرون سے ابھرے گا وہ اسے کرکے ہی چھوڑے گا۔ کوئی نہیں جو اس کی آزادی پر قدغن لگائے۔

    لیکن ریستوران کی طرح یہ تجربہ اس کے لیے سلامتی کے ساتھ نہیں گزرا۔ لاتوں اور گھونسوں سے بادشاہ سلامت کی کیا کیا پذیرائی نہ کی گئی اب اس کا خدا ہی حافظ ہے۔

    وہ ہانپتا کانپتا قہوہ خانے سے باہر نکلا۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے اپنے کیے پر کوئی پشیمانی نہ تھی نہ لوگوں کی مار پیٹ سے کوئی غم و غصہ بلکہ اس کے حواس عجیب و غریب لذت سے سرشار تھے۔ ایسی لذت جس کا پہلے اسے تجربہ نہیں ہوا تھا۔ پھر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ ایک سرخوشی اور سرور و مستی کی کیفیت اس پر طاری ہو گئی۔ اسے اپنی آزادی کے سوا اور کسی چیز کی پرواہ نہ تھی۔ آزادی جو اس کے لیے ہر دوسری چیز سے عزیز تر تھی جس کے لیے وہ ہر مہم جوئی کے لیے تیار ہو جاتا تھا۔ پھر اس نے نہ جانے کتنے سروں پر چپت ماری، نہ جانے کتنے روشن اور چمکدار چہروں پر تھوکا اور کتنوں کے پیٹ اور پیٹھ پر لات ماری اور خود بھی ان سب کے جواب میں مار کھاتا رہا یہاں تک کہ اس کا چشمہ ٹوٹا۔اس کے دانت ٹوٹے۔ قمیص پھٹی لیکن وہ بالکل نہ گھبرایا نہ شرمایا۔ہر بار خطرے میں کودنے کے لیے آمادہ ہوا کبھی اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ ختم نہ ہوئی اور نہ آزادی کا نشہ ماند پڑا یہ نشہ اتنا سر چڑھ چکا تھا کہ اگر موت بھی سامنے آتی تو وہ بے جھجک اسے گلے لگا لیتا۔ اور جب شام ڈھلنے لگی اور سورج نے اپنے جانے کا اعلان کر دیا تو اس کی نگاہیں ایک خوبرو اور خوش پوشاک گوشت پوست کے گلاب سے چار ہوئیں۔ تروتازہ اور شاداب گلاب، وہ حسینہ عالم کسی شخص کی بانہوں میں بانہیں ڈالے آرہی تھی وہ باریک اور صاف و شفاف کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس کے دامن رنگین سے شعلہ سا لپکتا تھا۔ اس کے ریشمی لباس سے اس کے سینہ کا ابھار نظروں کو ملتفت کر رہا تھا۔ اس پاگل کی نظر بھی وہاں پڑی اور اسے یہ منظر بہت بھایا۔ اس نے سوچا کہ وہ خود دنیا میں سب سے زیادہ با اختیار شخص ہے اس لیے وہ اس حسن و جمال کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ اگر کسی کے ہاتھ اس سیب تک پہنچ سکتے ہیں تو وہ خود ہی کیوں نہ وہ خوش قسمت انسان ہو، اور جوں ہی وہ حسینہ قریب آئی چشم زدن میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دست جنوں ممنوعہ پھل تک دراز ہو گیا ۔ پہاڑ کی چوٹی فتح ہو گی اور وہ عورت چیخی۔ پاگل کے ناخن گوشت کے ابھار میں پیوست ہوگئے تھے۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی ۔ چپلیں ، لاتیں، مکے، گھونسے ، تھپڑ اور پتھر اور وہ بے چارہ اکیلا انسان۔ پھر اس کے حلق سے ہنسی کی بھیانک آواز نکلی اور وہ ہنستا چلا گیا۔ لوگ بھی ڈر گئے اور اسے چھوڑ کر اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے۔

    لیکن ابھی اس کا ارادہ باقی تھا اور جب تک وہ اپنے ارادے کا مالک تھا اسے مہم جوئی اور خطرپسندی سے کون روک سکتا تھا۔ اس نے ایک نظر اپنے لباس پر ڈالی جو لوگوں کی مار پیٹ سے جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا اس نے سوچا کہ وہ کپڑے کی غلامی کیوں کرے وہ تو ایک بااختیار شخص ہےپھر وہ اپنے لباس کی ایک ایک دھجی نوچ نوچ کر پھینکنے لگا یہاں تک کہ لباس کا ایک تار بھی اس کے بدن پر باقی نہ رہا پھر اس نے اپنا ایک ہاتھ ہوا میں لہرایا جیسے کہ وہ سب کو کہہ رہا ہو۔ میں ہوں اپنی مرضی کا مالک پھر اس کے منہ سے ایک قہقہہ بلند ہوا۔ وہ آگے بڑھا، ہوا ٹھنڈی تھی۔ ایک موج ہوا پیچاں اس کے بدن کو چھوتی ہوئی گزر گئی شاید کہ بہار آئی تھی۔