محمد ابراہیم ابو سینّہ

محمد ابراہیم ابو سینّہ

ایک گیت پیار کا

    ترجمہ: شوکت کاظمی

     

    مجھے تھامو

    مجھے سینے سے لپٹا لو

    مرے بیتے دنوں کی سل کو پگھلاؤ

    مجھے اپنے کنوارے ان چھوئے ہونٹوں سے چومو

    میں اس ظالم زمانے کی دہکتی آگ سے بچ کر

    تمہاری آنچ کی جانب رواں ہوں

    مجھے اس دشت ہستی میں

    گھنی پلکوں کا سایہ دو

    ذرا سا مسکرا ؤ

    میں صدیوں سے، کئی نسلوں سے

    دنیا میں اداسی کا ہیولہ ہوں

    سلگتے دشت زاروں میں ازل سے آبلہ پا ہوں

    مجھے لگتا ہے میرے ابرؤں میں فصل کانٹوں کی اگی ہے

    تمہاری انکھڑیوں میں جنگلوں جیسا اندھیرا ہے

    مجھے اس میں چھپا لو

    سیہ زلفوں کی اس تاریک شب میں ڈھانپ لو

    مجھے اس مرمریں سینے کی جھلمل کہکشاں پر

    گیت لکھنے دو

    مجھے شاداب رخساروں کے ان چکھے ثمر چکھنے دو

    کہ تم سے پیشتر یہ زندگی کچھ بھی نہیں تھی

    بہت سے نا پسندیدہ ہجوموں میں گھری تھی

    مجھے تھامو

    مجھے سینے سے لپٹا لو

    مرے بیتے دنوں کی سل کو پگھلاؤ

    مجھے اپنے کنوارے ان چھوئے ہونٹوں سے چومو