نسرائی پیٹر

نسرائی پیٹر

وہ ریشم میں ملبوس آئی

    ترجمہ: شہزاد احمد

     

    وہ ریشم میں ملبوس آئی

    پرچھاتیاں اس کی ننگی تھیں

    چہرہ اس کا چھپا ہوا تھا

    وہ شاہیں کے نشیمن پر بیٹھی تھی

    دونوں ہاتھ سے تلواریں لہراتی ہوئی

    وہ اک ممنوعہ سی شے تھی

    جو خوابوں میں کچھ بدصورت لگتی ہے

     

    اس نے مرے ہاتھوں میں لفظ دیے

    جو اون اور روئی میں لپٹے تھے

    ختم نہ ہونے والی ایک پہیلی سے وہ بندھے ہوئے تھے

    ان میں پیار تھا

    اور اک ایسی نفرت تھی، جس میں پیار نہیں ہوتا

    زہر بھرا تھا ان میں کالے سانپوں کا

    دیکھنے میں بے حد سندر لگتے تھے

    جیسے فلک پر زحل کا جادو

     

    وہ ہلکے پروں والی تتلی تھی

    دن بھر اس کی صدائیں بے آواز رہا کرتی تھیں

    لیکن شب کو

    وہ مفلوج انسانوں پر حملہ کرتی تھی

    اس جیسا سفاک جہاں میں کوئی نہیں تھا

    رات کو وہ ان گہرے غاروں میں جاتی تھی

    جہاں فقط زخمی چیتے خوابیدہ ہیں

    ہرے رنگ کی روشنی میں خاموشی سے

     

    کہر آلود فضاؤں میں اس کے پاؤں کی آہٹ تھی

    ان کھنڈرات میں جو صدیوں پہلے تعمیر ہوئے تھے

    جن کے اندر برف کی قلمیں ہر جانب آویزاں تھیں

    تھکی تھکی لیکن چلتی لہروں سے آلودہ فضا میں

    وہ اپنے چہرے کی جھری جھری کو سہلاتی تھی

    اور یوں ایک نئی آفت برپا کرنے کی تیاری کرتی تھی

     

    لفظ محبت گھسا پٹا ہے

    اس کو ہزاروں بار غلط معنی پہنائے گئے ہیں

    اکثر اس کو خون میں بھی نہلایا گیا ہے

    آؤ میں تم کو دھو کر پاک کروں

    جیسے سونے کو دھو کر چمکایا جاتا ہے

     

    میرا بازو تھام لو

    میں تم کو اس بڑے ہجوم سے باہر لے جاؤں

    اس تنی ہوئی چوٹی کے اوپر

    شیشے جیسی چمکتی فصل گل کی جانب

    جہاں پہ میں نے ڈھونڈ لیا ہے

    اسے ...... جسے زندہ رہنا آتا ہے