لیوپولڈ سیدار سینگور

لیوپولڈ سیدار سینگور

سیہ عورت

    ترجمہ: کشور ناہید

     

    برہنہ عورت، سیہ عورت

    تم اپنے رنگ میں ملبوس ہو

    یہی زندگی ہے

    تم اپنے جسم کے خطوط میں گم ہو

    یہی خوبصورتی ہے

    میں تمہارے سائے میں جوان ہوا ہوں

    تمہارے ہاتھوں کی نرمی، میری آنکھوں کو سکون بخشتی رہی ہے

    اور اب سورج کی تمازت میں نہائی ہوئی

    چوٹی کی بلندی پر

    گرمی کی انتہا!

    اور دوپہر کے عروج کے ساتھ

    اے مری ارض موعودہ

    میں تمہاے پاس آگیا ہوں

    تمہاری خوبصورتی میرے دل میں

    چیل کے جھپٹے کی طرح آ کر لگتی ہے

     

    برہنہ عورت، سیہ عورت

    پکے ہوئے گودے سے بھرے ہوئے پھل

    سیہ شراب کی خزینہ لذت

    ایسا دہن جو میرے دہن کو بھی تغزل بخشے

    افق تا افق پھیلے ہوئے سبزہ زار!

    سبزہ زار، جو مشرقی ہواؤں کی ناز برداری

    کے باعث جوان ہیں

    فاتحہ کی انگلیوں سے نقش و نگار بناتے ہوئے

    ٹام، ٹام۔ ٹاٹ۔ ٹام، ٹام، جیسے نعرے

    تمہاری نازک نسوانی آواز، محبوبہ کا روحانی گیت ہیں

     

    برہنہ عورت۔ سیہ عورت

    تیل جسے سانس منتشر نہیں کر سکتا

    پر سکون تیل، کھلاڑی کے اعضا پہ

    مالی کے شہزادوں کے اعضا پہ

    اے غزال! تمہارے اعضا جنت میں بنے ہوئے ہیں

    موتی، تمہاری رات نما جلد پر

    ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں

    ذہنوں کی خوشیاں

    تمہاری آبدار جلد سے رگڑ کر،

    سرخ سونے کا چمکنا

    تمہارے بالوں کے سائے میں،

    تمہاری آنکھوں کے سورجوں کی دوسراہٹ میں

    میری حفاظت کی ذمہ داری، ذرا آسان ہو جاتی ہے

     

    برہنہ عورت، سیہ عورت

    میں تمہاری اس خوبصورتی کے بارے میں نوحہ گر ہوں

    جو گزر رہی ہے

    میں تمہارے لیے وہ ابدی پیکر تخلیق کرتا ہوں

    جسے قسمت کے حاسد ہاتھ

    راکھ کی طرح، زندگی کے درخت کی جڑوں کو

    غذا دینے کے لیے بکھیر دیتے ہیں