سیلف پورٹریٹ
ترجمہ: احمد سلیم
کتنا بھی جتن کروں، میں وہی رہوں گی، جو ہوں
میرے ہونٹوں کے نصیب میں گولائیاں نہیں
نہ آنکھیں بادام جیسی ہوں گی، نہ ناک نے کچھ بدلنا ہے
اور سر کی بناوٹ کو بھی، میں بدل نہیں سکتی
یہی تکون چہرہ، میرے نصیبوں میں لکھا ہے
کبھی ایک میٹھی روٹی جیسا، کبھی ڈاکو... جہاز کے ملاح جیسا
اور یہی دھواں لگے میرے بال رہیں گے
دن رات...... غصے میں پھرنا میرے حصے میں آیا ہے
میرا بے تکا سایہ جب دیوار پر پڑتا ہے
تو اردگرد کی آنکھ...... پتلی زخمی ہو جاتی ہے
میرا کسی سے کوئی رشتہ ہے؟
ماں باپ اور ان کے ماں باپ نے مجھے اپنایا نہیں
نسل ...... کالی بھی ہوتی ہے، یا لال، پیلی اور بادامی رنگ کی
لیکن مجھ میں سے، کسی کو بھی، کسی کی پہچان نہ ہو......
صرف جب گھائل ہو جاؤں، روؤں یا خنکی میری ہڈیوں میں اتر
اور کوئی حادثہ میرے بدن کو چھیل جائے
تو وہ کہتے ہیں ...... پیاری لڑکی
لیکن اس وقت میں بس اتنا ہی کہوں ...... نہیں، انسان ہوں ......