بارش کا روپ
ترجمہ: امجد اقبال
بیمار آسماں ٹھنڈی بارش برساتا ہے
بارش گلابوں کی ڈالیاں توڑ ڈالتی ہے
اور میرے دل میں
خوبصورت دھنک چھوڑ کر گزر جاتی ہے
میرا لڑکپن کہاں رہ گیا
اپنی اداسی کے بوجھ کے ساتھ
آج کی رات
بارش کھڑکی کے شیشے پیٹتی ہے
جیسے میرے لڑکپن کے تابوت میں
ہتھوڑے کے ساتھ کھیل ٹھونک رہی ہو
میرے دل، آپ اپنی موت پر ماتم کرو
اپنے سونے راستے پر
سمندر کے کنارے اپنی اکیلی قبر کی جانب
چلتے جاؤ