نظم
ترجمہ: پرتو روہیلہ
دھیرے دھیرے سہج سہج کر شفق پھول رہی ہے
جبکہ افسردہ آسمان روہانسا ہو رہا ہے
رات اپنا غمگین ریشم، کھولتی ہے
کہ دھرتی کو نیند سے ڈھانپ کر سلا دے
نسیم سحر جنگلوں میں نرم سرگوشیاں کرتی ہے
غمزدہ انداز میں دور افتادہ و شیریں نغمے بنتی ہے
یہاں تک کہ مسحور و مغموم ہو کر بادل
ہلکی پھوار کی شکل میں رونے لگتے ہیں
آج چاند بادلوں پر کس طرح فدا تھا!
لیکن شفاف آسمان پھر بھی یکہ و تنہا ہی ہے
کہکشاں روشن و درخشاں
رات کی سحر انگیز آنکھوں کی طرح چمک رہی ہے