سانکھا گوش

سانکھا گوش

آبائی مکان

    ترجمہ: شمیم حنفی

     

    آج انسان

    جنگلوں کے بجائے...

    کلکتے میں بس گیا ہے

    میری بیٹی

    جس نے پنکھڑیوں کا لباس پہن رکھا تھا

    اسے وہ اٹھا لے گئے ...

    میں کسے الزام دوں؟

    مجھے اس نوجوان کی دھندلی سی یاد آتی   ہے

    جو، ہر شام، گلیوں کے اندھے موڑ پر

    آج بھی اس کی راہ دیکھتا ہے

     

    آج کلکتے میں ہر بات ہو جاتی ہے ...

    کس کو الزام دوں؟

    (بنگالی)