اپنے رستے گزرتے ہوئے دن
ترجمہ: صادق
اپنے رستے گزرتے ہوئے دن
کبھی کبھار کوئی شام کے وقت پوچھتا ہے
وہ مول سروں سے ملتا ہے
دنوں کے ساتھ، رستے کے ساتھ، پوچھنے کے ساتھ اس سر کے ساتھ
یہ سب ایک جملے میں کہہ سکتا ہے تو کہہ
ہمارا باپ کھیتی بیچے گا، مکان بیچے گا، پیسہ بیچے گا
خریدار ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت کچھ ہے مجھ سمیت
جو بچ جائے گا
باپ کے بغیر ماں نہیں، ماں کے بغیر ہم نہیں
ہمارے بغیر کچھ نہیں۔ ’’ہے‘‘ کے بغیر ’’نہیں‘‘ نہیں