ایک صفحہ سوالوں کا
ترجمہ: شمیم حنفی
یہ سدا کا جانا پہچانا کلکتہ اس کی تمثیل تو نہیں؟
جب تھکا دینے والے دنوں اور بیمار راتوں میں
دھیان بھٹکتا پھرتا ہے دور آسمانوں اور ہواؤں اور سلسلہ در سلسلہ کھیتوں میں
تو کیا یہ دھیان ہوڑا ریلوے اسٹیشن کی بھیڑ کی دوڑ دھوپ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہجوم کو دھکیل کر
کبھی اس شہر میں اترتا بھی ہے، مسرور بھی ہوتا ہے
جیسا کہ ایک پریمی یا دوست کے ساتھ ہونا چاہیے؟
یا میں اپنی کمزوری کے کارن یہ موازنہ کرنے کی سوچتا ہوں
جیسا کہ بڑھاپا اپنی جوانی کے لالچ میں کرتا ہے
یا جب سیاست ڈوب جاتی ہے
اور بہت سارے لوگ سٹہ بازار میں اپنے دیوتا کھڑے کر دیتے ہیں
یا بس پیٹھ موڑ لیتے ہیں
انقلاب بلکہ جوابی عمل تک کی طرف سے؟
آپ اپنا محاسبہ زیادہ کیا جائے تو آدمی اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرنے لگتا ہے
ہم اور زیادہ تیقن کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مانس لوک
جس میں ہم زندہ ہیں، شہرزادوں کی اسی بھیڑ میں وہ پاکیزگی موجود ہے
جس نے ہمارا سارا سکون چھین لیا ہے
اس ہر لمحہ بے چین اور بے مثال روزوشب میں
ایک عظیم سکون کا سپنا۔ اس بے داغ، نکھرے ستھرے دھیان نے
ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے
مٹھی بھر لوگوں کے بیچ، جہاں ہماری اپنی مرضی سے
آنند لال ہے اور نیلگوں آسماں
متحرک لکھو کھا لہریں ہزار ہار چوٹیوں پر
اسے پتہ ہے کہ ہمارے روک دیے گئے پرندوں کے گیت کی گت پر
مسرور ہاتھوں کے ہزار جوڑوں کے ساتھ سنسار تالی بجاتا ہے
کیا اسی لیے میں دن رات اس کی کھوج میں ہوں؟
ہمیں مل کر پھر سے کلکتہ کو بنانا ہے
(بنگالی)