خواب و خیال
ترجمہ: علی دیپک قزلباش
’’کیاکر رہے ہو بیٹا؟‘‘
’’خیالوں میں ماں!‘‘
خواب دیکھ رہا ہوں
گیت گا رہا ہوں
اور تم پوچھتی ہو،
’’کیا کر رہے ہو بیٹا!‘‘
گیت گا رہا ہوں
ان وقتوں کا
جب میرا گھر تھا،
اور اب نہیں ہے
گیت گا رہا ہوں، ماں!
اس وقت کا
جب میری زبان تھی
اور صدا بھی ماں!
اور اب نہ صدا ہے
نہ زباں،
اس صدا سے جو نہیں ہے
اس زباں سے جو نہیں ہے
اس گھر کا جو نہیں ہے
گیت گا رہا ہوں ماں!