سنجیو بھٹا چاریہ

سنجیو بھٹا چاریہ

ایک نظم

    ترجمہ: مشتاق قمر

     

    ایک فٹ پاتھ پر

    پھٹے پرانے کپڑوں کے

    دو ایک ٹکڑے

    ٹوٹی ٹین کی تھالی

    اور ایک دودھ کا ڈبہ

    بھرا ہوا! نہیں ...خالی

    سردیوں کی ٹھٹھرتی سویر

    منہ سے نکلے بھاپ

    بھاری سی آواز جو آئی

    باؤ جی! ... بھیک

    معافی دو۔ دور ہٹو

    جھومتی گاتی

    اور مسکاتی

    حسینوں کی ٹولی

    ناک پہ رکھے ہینکر چیف

    شکنے ڈالے ماتھے پر

    پھر وہی آواز

    باؤ جی ... بھیک