غزل درخت
ترجمہ: معین نظامی
بارش،
صبح بہار کی تیز بارش ہے
گلی کی خاموش اور سرد فضا میں
بارش
’’خداحافظ!‘‘ کی بھیگی ہوئی آواز کی طرح آزاد ہے
ایک کرخت ہاتھ نے کھڑکی بند کر دی
اکیلا درخت
اپنے سادہ ہاتھوں کی چھتری کے نیچے
گلی میں کھڑا ہے
پر سکون
صبح بہار کو دیکھ رہا ہے
کاش
میں بھی
درخت کی طرح
زمین سے پیوستہ ہوتا
کہ اپنے سادہ ہاتھوں کی پناہ میں
ہمیشہ برقرار رہ سکتا
کسی سے
کوئی خوف و اندیشہ رکھے بغیر