میں کہنا چاہتی تھی
ترجمہ: احمد سلیم
(1)
ایک دوسرے کو ڈھونڈتی ہیں ہماری آنکھیں
رات ہے اور سردی ہے
ہم کچھ ساتھی امریکہ ہاؤس کے باہر جمع ہو کر،
نعرے لگا رہے ہیں
اداس، اور غصے میں بھرے ہوئے
(میرے وطن میں انہوں نے چاکون، الوریز کور دوبار، فرانکو اور تین دوسرے ساتھی، جن کے نام میں نہیں جانتی، ہلاک کر دیے ہیں)
میں کچھ کہنا چاہتی تھی
لیکن اپنی کمزور جرمن کے باعث، کچھ نہ کہہ سکی
میں کہنا چاہتی تھی:
ہماری جنگ جاری رہے گی
وہ ہمیں کبھی ختم نہیں کر سکتے
آخر میں ہماری نظریں ٹکرائیں
تیری نیلی آنکھیں
میرے اشکوں سے تر ...
انقلاب آگے بڑھ رہا ہے،
محبت آگے بڑھ رہی ہے
(2)
آخری لمحوں میں،
شاید تو مجھے یاد آئے گا
فرشتوں جیسا تیرا چہرہ،
ساگر جتنی گہری تیری آنکھیں
شاید تجھے وہ وقت یاد آئے گا
جب تو نے، مجھے اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھا تھا
بھید بھری نظروں کے سنگ
یا جب تو نے،
اس پیاری سی عورت کا ہاتھ دبایا تھا
جس کا نام میں نہیں جانتی
لگتا ہے مرنے سے پہلے
ایسی سوچیں گھیر لیتی ہیں من کو،
آخری سوچوں میں ......
(3)
اور کچھ نہیں، بس ایک خواب ہے یہ
میرے جنون کا،
میرے بیراگ کا،
اور میری تنہائی کا،
ہماری شکلیں دہشت پسندوں جیسی ہیں
لیکن میرے چہرے سے دہشت پسندی نہیں جھلکتی
سکون سے بھرے بول کشید کر رہی ہیں
تیری آنکھیں
میں تیرے ساتھ تنہا نہیں ہونا چاہتی
کہیں میرے منہ سے کوئی غلط بات نہ نکل جائے
یا شاید تیرے چہرے کی شانت وادی میں
کوئی بوسہ نہ دوں کہیں
اور کچھ نہیں، بس ایک خواب ہے یہ
لیکن کبھی کبھی لگتا ہے
کسی بھید بھری شکل کے پیچھے
پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے جیسے
خود اپنی حقیقت ڈھونڈ رہے ہوں ہم
یہ کیسا کھیل ہے
کیا ہم ساتھی ہیں
یا سنگی ساتھی
یا تنہائی کی ماری روحیں
جنہیں کوئی مشترکہ گیت مل گیا ہے
پرندے بیگانے آسمانوں میں محو پرواز ہیں
چاند جیسے اداسی کا مجسمہ
اور میرے پیچھے پیچھے
کوئی چہرہ مجھے پکارتا ہے
مسکراتا ہے اور اوجھل ہو جاتا ہے
اور کچھ نہیں، بس ایک خواب ہے یہ
تمباکو دھواں
گوریلا اخبارات کا گمشدہ کوئی بھلاوا
آ! ہم اپنے مکھوٹے اتاریں
اور وقت کی باگ تھام لیں