بوگونینی

بوگونینی

زمین اور آسمان

    ترجمہ: شہزاد احمد

     

    یہ آسمان و زمیں بیکراں و لامحدود

    کہاں دعائیں مری قسمت آزمائی کریں

     

    چھپا لیا کبھی دو پتھروں کے بیچ میں سر

    مگر اماں کی طلب سعئ رائیگاں نکلی

     

    میں بھاگتا پھرا ویران سرزمینوں میں

    ہزار گاؤں مرے راستے میں آئے، گئے

     

    مرے لیے کہاں ممکن تھا، سانس لینا بھی

    کہ توڑ سکتا تھا ہر سانس منظروں کا طلسم

     

    شب سیاہ نے چرکے لگائے ہیں مجھ کو

    سیاہ شب تو ہے آوارہ اور بے پروا

     

    میں ایک کیڑا ہوں جس کے نہ پر نہ پاؤں ہیں

    میں اک غذا ہوں سبھی نفرتوں کے سانپوں کی

     

    کڑکتی دھوپ مرے سر پہ چھت بنائی گئی

    سکڑ گیا ہے مرے فن کا تابدار ثمر

     

    پڑی ہے پاؤں میں مسلی ہوئی وفا میری

    میں اب دکھوں کی ردا کو اتار پھینکوں گا

     

    مرا لباس بس اب سے ہے سرخوشی کا لباس

    مگر یہ میری خوشی تو نئی ہے میرے لیے

     

    بس اب کٹیں گے مرے دن تری رفاقت میں

    مرا بدن تری باہوں کی قید میں ہوگا

     

    مجھے ہوا کی طرح بے شعور کر دینا

    جو سر پٹکتی ہے اور پائمال کرتی ہے

     

    عطا نہ کرنا کبھی نفرتیں میرے دل کو

    محبتیں مجھے دینا جو دائمی ہو جائیں