بابی سینڈز

بابی سینڈز

سنا ہے

    ترجمہ: احمد سلیم

     

    سنا ہے، ہم

    1979 ءکے تہذیب یافتہ برس میں

    عہد جدید کے باسی

    مگر دیکھتا ہوں میں

    تاحد نگاہ، نئی اذیتیں، درد اور فریب کا موسم

     

    اس جدید دور میں، مر جاتے ہیں ننھے منے بچے

    کون آواز اٹھانے کی جرأت کرے گا

    فاقوں سے مر جانے والے ان بچوں کی خاطر؟

    اور نیپام سے جھلسی ہوئی برہنہ تن بچیاں

    دوڑتی ہوئی چلا رہی ہیں، جلتی رات میں ...

     

    جب کرسی پر جم کر بیٹھتے ہیں خونی آمر

    تب چھوٹے بچے دفن کرتے ہیں، اپنے ماں باپ کی ہڈیاں

    اور خفیہ والے،

    شب مرگ میں

    برہنہ عورتوں کو برقی کرسی میں کس کر

    نچوڑ لیتے ہیں زندگی

     

    بدرو میں پڑا سیاہ فام، زندگی سے محروم

    اور بہتا ہے جہاں سیاہ ترین تیل

    گلیاں سرخ تر ہیں وہاں

    اور یہ ہے وہ، جو پیدا ہوا جینے کے لیے، سونے کے لیے

    لیکن آزادی کے بغیر، جیا اور مر گیا

     

    اور آج رات،

    جب حکمران، دانشور، جیوتشی اور مملکتوں کے سربراہ اپنے چہروں پر چپکا رہے ہیں

    اپنی خوشی بھری غلیظ اور بدبودار مسکراہٹیں،

    تو اکیلے قیدی کی للکار گونجے گی قبروں کے گنبد میں

    اور رحم مادر سے باہر روشن ہو گی، چار سو،

    ایک حسین صبح ......