گمان
ترجمہ: خاقان ساجد
تمام لوگوں نے ملحقہ کمرے میں جا کر اس سے دریافت کیا کہ آیا وہ تابوت پر ڈھکنا جڑنے سے پیشتر اپنی اہلیہ کا آخری دیدار کرنا چاہے گا؟
وہ ایک بڑی کرسی پر سویا ہوا تھا۔
’’بہت تاریکی ہے۔ کیا وقت ہو گیا ہے؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
صبح نو بجے کا عمل تھا مگر بادلوں کی وجہ سے روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ جنازے کا وقت دس بجے مقرر کیا گیا تھا۔
سینور پادری سپاٹ نظروں سے سب کو گھورتا رہا۔ کوئی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ رات بھر اچھی نیند سویا رہا ہو گا۔ نیند اور گذشتہ چند روز کے صدمے نے اس کا ذہن ماؤف کر رکھا تھا۔ اس کا جی چاہا کہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر پڑوسیوں سے منہ چھپالے جو مدھم روشنی میں کرسی کے گرد کھڑے تھے۔ مگر دیر تک نیند کرنے سے اس کاسارا بدن سیسے کی طرح بھاری ہو رہا تھا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کے لیے جنبش پیدا ہوئی مگر فوراً ہی دم توڑ گئی۔ اس کے منہ سے اچانک اونچی آواز میں ایک لفظ نکلا:
’’ہمیشہ!‘‘
لب و لہجہ ایسا تھا جیسے کوئی کسمسا کر دوبارہ منہ پر چادر ڈالے اور سو جائے۔ سب سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔
’’ہمیشہ کیا؟‘‘
وہ کہنا چاہ رہا تھا کہ دن کے وقت بھی وہاں ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ مگر پھر یہ کہنا اسے بے معنی لگا۔ یہ اس کی اہلیہ کی موت کا اگلا دن تھا۔ تدفین کا دن۔ یہ ملگجی روشنی اور گہری نیند اسے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اس حقیقت سمیت کہ ملحقہ کمرے میں اس کی بیوی کی میت رکھی ہوئی تھی۔
کھڑکیاں ابھی تک بند تھیں۔ رات کو انہیں کھولا ہی نہیں گیا تھا۔ بڑی بڑی موم بتیوں سے شب بھر موم ٹپکتی رہی تھی۔ کمرے میں ابھی تک کچھ حرارت موجود تھی۔ میت کو پلنگ سمیت کمرے سے اٹھا کر باہر لے جایا گیا تھا۔ اب اکڑی ہوئی ، راکھ سی نعش، زردی مائل سفید کاٹن میں لپٹی ، گدے دار تابوت میں رکھی ہوئی تھی۔
’’نہیں بہت ہو چکا۔ میں ا س کا چہرہ دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے سوچا اور آنکھیں موند لیں۔ مسلسل رونے سے اس کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی۔ ’’بہت ہو چکا۔ اس نیند میں سب کچھ زائل ہو گیا۔ المناک خلا کا ایک احساس تو ہے مگر دکھ کی وہ چبھن نہیں رہی۔ بس اب لوگ تابوت کو بند ہی کر دیں اور اس میں رکھی متاع حیات کو لے چلیں۔‘‘
’’مگر وہ ابھی تک ملحقہ کمرے میں پڑی ہوئی ہے۔‘‘ یہ خیال کوندے کی طرح لپکا۔ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا تو انہوں نے اسے بازوؤں سے تھام لیا۔ اس کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ وہ اسے کھلے ہوئے تابوت کے پاس لے گئے۔ اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور نام لے کر ہولے سے آواز دی۔ صرف وہی اسے اس نام سے پکارتا تھا۔ ساتھ گزری ہوئی زندگی کے سبھی رنگ اس نام سے وابستہ تھے۔ اس نے رنجیدگی سے اردگرد کھڑے لوگوں کی طرف دیکھا جو اس کی مردہ بیوی کا دیدار کررہے تھے۔ انہیں اس عورت کے بارے میں کیا پتا تھا؟ وہ اندازہ ہی نہیں لگا سکتے تھے کہ اس سے کیا شے چھن گئی تھی۔ وہ چیخنا چاہتا تھا۔ اس کے تاثرات بھانپ کر اس کا بیٹا اسے تابوت سے ہٹانے کے لیے آگے بڑھا۔ بیٹے کا مقصد سمجھ کر اس کے سارے وجود میں سرد لہر دوڑ گئی۔ جیسے وہ ہجوم میں بے لباس ہو گیا ہو۔ اسے اپنے جذبا ت، یہاں تک کہ رات کی نیند پر بھی شرم ساری محسوس ہونے لگی۔ بس اب جلدی کرنی چاہیے تاکہ جو دوست جنازے کے ساتھ گرجا گھر تک جانا چاہتے ہیں انہیں زیادہ انتظار سے بچایا جا سکے۔
’’پاپا۔ جانے دو۔ ہوش کرو!‘‘
بیٹے کی آواز پر قابل رحم ، دکھ سے شکستہ انسان خفگی بھری نظروں سے دیکھتا اپنی کرسی کی طرف بڑھ گیا۔
’’ہاں ہوش بہتر ہے۔ اندر سے ابلتے دکھ پر چیخنا چلانا بے کار ہے۔‘‘
اس اذیت کو لفظوں کا جامہ پہنانا آسان نہیں تھا۔ اس خاوند کے دکھ کا، جس کی محبت زندہ ہو اور بیوی مر جائے، اس بیٹے کے دکھ سے کیا موازنہ، جس کے لیے عمر کے ایک خاص حصے میں والدین کی موت فطری بات ہے۔ بیٹے کے لیے یہ موت بہت بروقت تھی۔ اس کی شادی طے تھی۔ تین ماہ کے سوگ کے اختتام پر وہ رشتۂ ازدواج میں بندھ جائے گا۔ اب تو جواز بھی ہاتھ آگیا کہ باپ بیٹے کو گھر کے کام کاج کے لیے عورت کی ضرورت تھی!
’’پادری! پادری!‘‘ باہر والے کمرے سے کسی نے صدا دی۔
یہ احساس کرکے وہ اور بھی سرد پڑ گیا کہ اس کی بجائے اب اس کے بیٹے کو اس خاندانی نام سے پکارا جا رہا تھا۔ اب اس کا بیٹاہی اس کا زیادہ حق دار تھا۔ یہ یاد کرکے اسے ندامت سی محسوس ہونے لگی کہ اس نے سب کے سامنے اپنی بیوی کا پیار کا نام پکار کر اس کی بے حرمتی کی تھی۔ نادانو ں کی سی حرکت کی تھی۔ بالکل بے کار۔ رات بھر سویا رہنے سے اس کی عقل پر گویا پتھر پڑ گئے تھے!
جینے میں اب دلچسپی کا کوئی عنصر تھا تو بس یہی کہ اب گھر کا نیا طور طریقہ کیا ہو گا۔ مثلاً وہ اسے سونے کے لیے کہاں جگہ دیں گے؟ بڑا ڈبل بیڈ تو پہلے ہی اس کے کمرے سے ہٹایا جا چکا تھا۔ جس کا واضح مطلب تھا کہ اب اسے چھوٹا پلنگ ملے گا۔ اس کے بیٹے والا پلنگ۔ ڈبل بیڈ پر اب بیٹے نے اپنی بیوی کے ساتھ سونا تھا۔ وہ خود چھوٹے پلنگ پر سوئے گا تو بجز سرد ہوا کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
مختلف باتیں اس کے بے حس ہوتے ذہن میں خلط ملط ہو رہی تھیں۔ اس کے اندر اور باہر خلا کا سا احساس تھا۔ دیر تک بیٹھنے سے جسم سن ہو گیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا تو خلا میں پرندے کے پر کی طرح ہلکا ہو جائے گا۔ اس کی زندگی بے حقیقت و بے معنی ہو چکی تھی۔ اس کی ذا ت اور کرسی میں شاید ہی کوئی فرق باقی بچا ہو بلکہ کرسی تو پھر بھی اپنی چاروں ٹانگوں پر قائم تھی جبکہ اسے کچھ پتا نہیں تھا کہ اس کی ٹانگیں اور پاؤں کہاں ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں کا کیا کرے؟ اب اسے اپنی زندگی کی پروا بھی کہاں تھی؟ بلکہ اسے تو دوسروں کی زندگی سے بھی کوئی خاص واسطہ نہ رہا تھا۔ مگر پھر بھی اسے جینا تو تھا۔ نئے سرے سے ایسی زندگی کی ابتدا جس کا کوئی مدھم سا خاکہ بھی اس کے ذہن میں نہیں تھا۔ اس نے کبھی ایسی زندگی کے بارے میں سوچنا تک پسند نہیں کیا تھا مگر اب اسے سوچنا تھا۔ کیونکہ اس کی دنیا بدل چکی تھی۔ عجیب بے بسی تھی۔ وہ بوڑھا تو نہیں تھا مگر جوان بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔
وہ بیٹے کے لیے بچہ بن گیا تھا۔ سبھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جوان بیٹوں کی نگاہ میں باپ بچے کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں جنہیں پالنا ہوتا ہے۔ امنگوں سے بھرے جوان بیٹے کامیابی سے زندگی میں آگے بڑھتے جاتے ہیں اور باپ فارغ بیٹھے اس خدمت کی وصولی کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی اولاد کے بچپن میں کی ہوتی ہے۔
مگر اکیلا بستر!
اور پھر انہوں نے اسے وہ چھوٹا کمرہ بھی نہیں دیا تھا جس میں کبھی بیٹا رہائش رکھتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی نسبت صحن کے ایک کونے میں پوشیدہ کمرہ بہتر رہے گا۔ وہاں اسے زیادہ آزادی میسر آئے گی۔ جو چاہے کرے۔ انہوں نے اس کمرے کو بہترین پرانے فرنیچر سے سجایا تاکہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ کبھی اس کمرے میں نوکر رہتا تھا۔
شادی کے بعد گھر میں سامنے والے سبھی کمرے نت نئے سامان اور فرنیچر سے سجا دیے گئے۔ قالین بھی ڈالے گئے۔ پرانے وقتوں کی ایک نشانی بھی یاد رکھنے کے لیے باقی نہ رہنے دی گئی۔
وہ نوجوان جوڑے کی زندگی سے الگ تھلگ چھوٹے سے تاریک کمرے میں رہتا تھا۔ پرانے فرنیچر سے سجے اس کوٹھڑی نما کمرے میں پھینک دیے جانے پر اسے حیرت انگیز طور پر کوئی بے عزتی یا خفگی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اسے بیٹے کی کامیابیاں سن کر خوشی ہوتی تھی۔ وہ گھر کے نئے انتظام سے مطمئن تھا۔
اس کے قلبی اطمینان کی ایک گہری مگر غیر واضح توجیہہ یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ زندگی سے وابستہ روشنی اور امید نے گزرے دنوں کی یادوں کو دھندلا نا شروع کر دیا تھا۔ لاشعوری طور پر اسے محسوس ہوتا کہ اب اس کی پشت پر ایک روشن دروازہ ہو گیا ہے جسے وہ جب چاہے وا کر دے۔ اب جبکہ کسی کو اس کی پروا نہیں تھی اور اسے چھوٹے سے کمرے میں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا تو اسے یہ بہت آسان لگتا تھا ۔ وہ خود کو ہوا سے بھی ہلکا پھلکا محسوس کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں کی چمک ہر چیز کو روشنی بخشتی اس کے لیے حیرت کے دروازے کھولتی جا رہی تھی۔ گویا وہ ایک بار پھر سچ مچ بچہ بن گیا تھا۔ بچوں کی مانند زندگی سے بھرپور کھلی آنکھوں سے وہ ایسی دنیا کا مشاہدہ کر رہا تھا جو اس کے لیے یکسر نئی تھی۔
تجربے کے بار گراں سے نجات پا کر اسے بڑوں کی دنیا کے آداب بھول گئے تھے۔ وہ حتی الامکان ان کی صحبت سے دور رہتا۔ نوجوان لڑکے اسے بہت بوڑھا سمجھتے تھے اس لیے وہ بچوں کے پارک کا رک کرتا۔ وہ وہاں گھاس پر کھیلتے بچوں کے درمیان جا کر بیٹھ جاتا۔ گھاس کی خوشبو میں عجیب سحر تھا۔ درختوں کے عقب میں بہتے جھرنے کی آواز میں پتوں کی سرسراہٹ گم ہو جاتی۔ ایک روز بچوں نے اپنا کھیل بھلا کر جوتے اور جرابیں اتار ڈالیں۔ انہیں تازہ اور نرم گھاس میں ننگے پاؤں چلنا اچھا لگ رہا تھا۔ دبیز گھاس میں ان کے پاؤں دھنس رہے تھے۔ اس نے ان کی تقلید میں ایک جوتا اتار دیا۔ ابھی دوسرا جوتا اتار رہا تھا کہ یکایک ایک نوجوان لڑکی اس کے سامنے آئی اور تمتماتے ہوئے چہرے اور شعلہ بار آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے چلائی:
’’سور!‘‘
لڑکی کے لباس کا سامنے والا حصہ جھاڑی میں اس طرح الجھا ہوا تھا کہ وہ نیم عریاں ہو گئی تھی۔ اس نے دامن کھینچ کر ٹانگوں کے برابر کیا، اس کی دانست میں زمین پر بیٹھا ہوا بوڑھا اسے گھور رہا تھا۔ اس کی بدگمانی محسوس کرکے وہ سن ہو گیا۔ اس نے کیا سوچا تھا؟ وہ تو محض بچوں کے معصوم کھیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ قدرے جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ کھردرے ننگے پیروں پر رکھ لیے۔ نہ جانے اس لڑکی نے کیا غلط بات دیکھی تھی؟ کیا بڑھاپے میں انسان کو بچوں جیسی خوشی حاصل کرنے کا حق نہیں رہتا؟ کیا بڑھاپے میں انسان صرف برائی کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو ایک لمحے میں بچہ بننا ترک کرکے مرد کا روپ دھار لیتا۔ جو ان جذبے اب بھی اس کے وجود میں زندہ تھے۔ کم ظرف لڑکی نے کیسے اس کی توہین کر ڈالی تھی۔ مایوسی اور رنجیدگی کے عالم میں وہ گھاس پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔ اس کے منہ کا ذائقہ تلخ ہو گیا۔ اگر وہ ایسا چاہتا تو ...... اس کے بیٹے نے اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ اس کی بھی کچھ ’’خواہشات‘‘ ہو سکتی تھیں ...... ایسی ضروریات کے لیے اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی۔
غصے سے کپکپاتے ہوئے وہ اٹھا اور شرم سار ہو کر جوتے پہنے۔ اس کے سر میں مرکوز خون میں حرارت اور تیزی آگئی۔ ’’ہاں مجھے معلوم ہے ایسے کاموں کے لیے کہاں جاتے ہیں۔ میں خوب جانتا ہوں۔‘‘
گھر پہنچ کر وہ کمرے میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے سامان کے بیچ راستہ بناتا ہوا پلنگ پرگر سا گیا اور دیوار کی طرف منہ کر لیا۔