ہنرخ بوئل

ہنرخ بوئل

خلاف ضابطہ

    ترجمہ: خاقان ساجد

    میں بندرگاہ کے کنارے کھڑا ان سمندری پرندوں کو دیکھ رہا تھا جو بار بار پانی میں غوطہ لگاتے اور بھیگتے ہوئے جسموں سے پانی جھاڑنے کے لیے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے تھے۔ ان کے پروں سے پانی پھولوں پر شبنم کی طرح ٹپک رہا تھا۔ میں محویت سے ان کا یہ کھیل دیکھ رہا تھا۔ میری آنکھیں شاید اس منظر کے سوا کچھ اور دیکھنا ہی نہ چاہتی تھیں۔ سمندر کی سطح پر پھیلے ہوئے تیل نے سطح کو مزید چمک دار اور گہرا بنا دیا تھا۔ اردگرد کوئی جہاز نہیں تھا۔بندرگاہ پر کھڑی زنگ آلود کرینیں خاموش اور متروک دکھائی دیتی تھیں۔ ساحلی عمارتوں پر سنسان ہونے کا گمان ہوتا تھا۔ ویرانی کا یہ عالم کہ چوہے بھی اندر داخل ہوتے ہوئے گھبرائیں۔ لگتا تھا اس ساحل پر غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت پر قدغن ہے۔

    یکایک ایک پرندہ ڈبکی لگا کر پھڑپھڑاتا ہوا اڑا اور فضا میں بلند ہوکر دوبارہ سمندر میں غوطہ زن ہوا۔ لمحہ بھر بعد اس نے پھر گردن تک غوطہ لگایا اور پر پھڑپھڑا کر، اپنا بدن ہولے ہولے تولتے ہوئے پرواز کی تیاری کرنے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ اسے پانی سے چھیڑ چھاڑ میں مزہ آرہا ہے۔ ہوا میں ادھر ادھر اڑتے دیکھ کر مجھے گمان ہوا کہ وہ اپنے محبوب کو ڈھونڈ رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ محبوب سے زیادہ اس وقت اسے خوراک کی طلب ہو رہی تھی۔ تبھی تو وہ سمندر کی شوریدہ سر لہروں سے بے پروا ہو کر اپنا وجود پانی کے سپرد کرتا اور شکار کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ جب تک سانس اس کا ساتھ دیتا، وہ پانی میں گردن ڈالے رکھتا لیکن اس کی چونچ شکار سے محروم رہتی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہمت نہ ہارتا۔ میں دل میں سوچنے لگا کہ کاش میرے پاس اس وقت ڈبل روٹی کا ٹکڑا ہوتا تو میں اسے یوں تھکنے، بھٹکنے اور تڑپنے نہ دیتا۔ میں اسے ڈبل روٹی کے ٹکڑے ڈالتا جاتا اور پانی کی سطح پر اس کے ساتھ اس کھیل میں شریک ہو جاتا۔

    لیکن اس سمے میرے پاس ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہیں تھا، میں بذات خود بھوک سے بے تاب اور اس پرندے کی طرح بے بس تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ خالی جیبوں میں ڈال لیے اور اپنی خواہش دل میں دبا لی۔

     دفعتاً کسی نے میرے کندھے پر زور سے اپنا ہاتھ رکھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ ایک پولیس والا تھا۔مجھے اس کی یہ دخل اندازی بری لگی۔ جی چاہا اس کا ہاتھ جھٹک دوں اور دوبارہ معصوم پرندے کا نظارہ کرنے لگوں۔ اس وقت تک، جب تک اس پرندے کی چونچ میں خوراک کا کوئی ٹکڑا نہ آ جائے۔ لیکن اب تو میں خود اس سپاہی کے شکنجے میں شکار کی طرح پھنسا ہوا تھا۔

    ” کامریڈ!“ اس نے میرے کندھے پر دباؤ ڈال کر کہا۔

    ” جی جناب!‘‘ میں نے عاجزی سے جواب دیا۔

    ” جناب؟ جناب کوئی لفظ نہیں، یہاں سب لوگ کامریڈ ہیں۔“ اس کی آواز میں واضح طنز تھا۔

    ’’تو پھر!......پھرآپ نے مجھے کیوں پکڑ رکھا ہے؟ کیا مجھ سے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہے؟ “

    وہ مسکرایا۔”جرم! تم مغموم نظر آتے ہو۔“

    اس کی بات سن کر میں کھلکھلا کر ہنسا۔

    ” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟“ اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہوگیا۔

    میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس وقت بیزاریت کا شکار ہے اس لیے غصہ دکھا رہا ہے۔ آج شاید ساحل پر اسے کوئی شکار نہیں ملا۔ نہ کوئی کسبی، نہ نشے میں دھت مہ نوش اور نہ کوئی جیب تراش۔ لیکن چند لمحوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ واقعی غصے میں ہے اور مجھے شکار بنانا چاہتا ہے۔اب اس نے دوسرا ہاتھ بھی بڑھایا اور مجھے قابو کر لیا۔ اس وقت میری حالت اس پرندے سے مشابہ تھی جو جال میں پھنس گیا ہو اور اس سے نکلنے کے لیے پھڑپھڑا رہا ہو۔ اس کی گرفت میں پھنسے ہوئے میں نے صاف شفاف فضا کا جائزہ لیا، سمندر کو اپنی نظروں میں سمویا اور اپنے صیاد کے پہلو میں چلنے لگا۔ مجھے علم تھا کہ پولیس کی گرفت میں آنے کا مطلب یہی ہے کہ اب لمبے عرصے کے لیے تاریکی میں دھکیل دیا جائے۔ یہ سمندر میں دھکیل دیے جانے سے زیادہ اذیت ناک تھا۔ جیل کا خیال آتے ہی میں اپنے خیالات کی دنیا سے باہر آگیا اور ہکلاتے ہوئے کہا:

    ” کامریڈ۔ میر اقصور تو بتائیے؟ “

    ” قصور......! اس ملک کا قانون یہ ہے کہ ہر شخص ہر وقت خوش نظر آئے۔ “

    ” لیکن میں تو بے حد مسرور ہوں۔“ میں نے پورے جوش و جذبے سے جواب دیا۔

    ” بالکل غلط ۔ “

    ” لیکن میں تو ملک میں رائج اس قانون سے ناواقف ہوں۔ “

    ” کیوں؟ اس قانون کا اعلان چھتیس گھنٹے پہلے ہوا ہے۔ تم نے کیوں نہیں سنا؟ چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد ہر اعلان قانون میں بدل جاتا ہے۔ “

    ’’لیکن ...... لیکن، میں تو اس اعلان کے بارے میں اب سن رہا ہوں۔‘‘

    ’’یہ اعلان تمام اخباروں میں چھپ چکا ہے۔ علاوہ ازیں جگہ جگہ لاؤڈ سپیکر نصب کرکے اس کا اعلان کیا گیا۔ ان چھتیس گھنٹوں میں تم کہاں تھے؟‘‘

    وہ اب بھی مجھے اپنے ساتھ گھسیٹے لیے جارہا تھا۔ شدید سردی کے سبب میں بری طرح کانپ رہا تھا۔ بھوک نے الگ ستا رکھا تھا۔ میرا لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ شیو بڑھی ہوئی تھی جبکہ اعلان کے مطابق ہر آدمی پر لازم تھا کہ وہ ہشاش بشاش نظر آئے۔

    تو یہ تھا میرا جرم۔تھانے کی طرف جاتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ہر راہ گیر نے خوشی کا ماسک منہ پر چڑھا رکھا ہے۔ ہمیں دیکھ کر راہ گیر رک جاتے۔ سپاہی ہر رکنے والے کے کان میں کچھ کہتا تو اس کا چہرہ مسرت سے چمکنے لگتا۔ حالانکہ مجھے لگ رہا تھا کہ ہر کوئی بولایا بولایا پھر رہا ہے۔ہر شخص دن بھر کی مشقت کے بعد جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا ہے۔ ہمارے راستے میں آنے والا ہر آدمی ہم سے بچ جانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ غالباً اس لیے کہ سپاہی کی تیز نگاہیں اس کا اصل چہرہ نہ بھانپ لیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ ہر کوئی پولیس والے کی نظروں سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

    ایک چوراہے پر ہماری ایک بوڑھے سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ وہ حلیے سے کوئی سکول ماسٹر لگ رہا تھا۔ ہم اس کے اتنا قریب پہنچ چکے تھے کہ وہ بچ نکلنے سے قاصر تھا۔قاعدے کے مطابق اس نے بڑے احترام سے سپاہی کو سلام کیا اور میرے منہ پر تین بار تھوک کر کہا:

    ” غدار کہیں کا!‘‘

     اس کی اس حرکت سے قانون کے تقاضے تو پورے ہو گئے مگر مجھے صاف محسوس ہوا کہ اس فرض کی ادائیگی سے اس کا گلا خشک ہوگیا ہے۔میں نے آستین سے تھوک صاف کرنے کی جسارت کی تو میری کمر پر زوردار مکا پڑا۔سپاہی نے غرا کر کہا:

    ’’آگے بڑھو۔‘‘

     میں نے اپنی سزا کی طرف قدم بڑھا دیا۔سکول ماسٹر تیز قدموں سے چلتا ہوا کہیں غائب ہوگیا۔ اب راستہ بالکل صاف تھا کیونکہ تمام راہ گیر ہم سے پہلو بچا کر دور سے گزر رہے تھے۔ آخر ہم تفتیش گاہ پہنچ گئے۔ یکایک بگل بجنے کی آواز آئی۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ سب مزدور اپنے اپنے کام چھوڑ دیں اور نہا دھو کر، صاف لباس پہن کر خوش و خرم نظر آئیں۔قانون کے مطابق فیکٹری سے باہر نکلنے والا ہر مزدور خوش نظر آرہا تھا لیکن اتنا بھی نہیں کہ اس خوشی سے یہ تاثر ملے کہ وہ کام سے چھٹکارا پاکر بغلیں بجا رہا ہے۔

    میری خوش بختی کہ بگل دس منٹ پہلے بجا دیا گیا۔ شکر ہے یہ دس منٹ مزدوروں نے ہاتھ منہ دھونے میں صرف کیے ورنہ قاعدے کے مطابق میں جس مزدور کے سامنے سے گزرتا، وہ تین مرتبہ میرے منہ پر تھوکتا۔

    مجھے جس عمارت میں لے جایا گیا تھا وہ سرخ پتھروں کی بنی ہوئی تھی۔ دو سپاہی دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ انہوں نے بھی ضابطے کے مطابق میری پیٹھ پر اپنی بندوقوں کے بٹ رسید کیے۔اندر ایک بڑی سی میز تھی جس کے پاس دو کرسیاں پڑی تھیں اور میز پر ٹیلی فون پڑا تھا۔ مجھے کمرے کے وسط میں کھڑا کر دیا گیا۔میز کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ ایک اور شخص خاموشی سے اندر آیا اور اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ وہ سادہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ جبکہ دوسرا فوجی وردی میں ملبوس تھا۔ اب مجھ سے تفتیش شروع ہوئی۔

    ” تم کیا کرتے ہو؟ “

    ” ایک عام کامریڈ ہوں۔ “

    ” تاریخ پیدائش؟ “

    یکم جنوری، 1901 ء “

    ” یہاں کیا کررہے ہو؟ “

    ” جی، میں ایک جیل میں قید تھا۔“

    میرا جواب سن کر دونوں ایک دوسرے کو گھورنے لگے۔

    ” کس جیل میں؟ “

    ” جیل نمبر 12 ، کوٹھری نمبر 13 ۔ میں نے کل ہی رہائی پائی ہے۔ “

    ” رہائی کا پروانہ کہاں ہے؟“

    میں نے رہائی کے کاغذات نکال کر ان کے سامنے رکھ دیے۔

    ” تمہارا جرم کیا تھا؟ “

    ” جی میں ان دنوں خوش خوش دکھائی دے رہا تھا۔“

    وہ دونوں پھر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

    ” کھل کر بات کرو...... “

    ” اس روز ایک بہت بڑا سرکاری افسر انتقال کر گیا تھا ...... حکومت کی جانب سے اعلان ہوا کہ سب لوگ سوگ میں شامل ہوں گے۔

    مجھے اس افسر سے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لیے الگ تھلگ رہا۔ ایک پولیس مین نے مجھے گرفتار کر لیا اور یہ بیان دے کر اندر کروا دیا کہ میں سوگ میں ڈوبے ہوئے عوام سے الگ تھلگ خوشیاں منا رہا تھا۔ “

    ” تمہیں کتنی سزا ہوئی؟ “

    ” پانچ سال قید‘‘

    پوچھ گچھ ختم ہوئی تو اچانک دو پولیس والے اندر آئے اور میری پٹائی شروع کر دی۔ جلد ہی میرا فیصلہ سنا دیا گیا۔

    مجھے اس بار  دس سال قید کی سزا ہوئی تھی۔......جی ہاں! خوشی سے کھلا ہوا چہرہ میرے لیے پانچ سال قید کا موجب بنا اور اب میرے مغموم چہرے نے مجھے دس سال کی سزا دلائی تھی۔میں سوچنے لگا کہ جب مجھے رہائی نصیب ہوگی تو شاید میرا کوئی چہرہ ہی نہ ہو۔نہ خوش و خرم، نہ مغموم اور اداس ۔