ہرمن ہیسے

ہرمن ہیسے

مسمی زگلر

    ترجمہ: عبدالوحید

    بہت دنوں کی بات ہے براگاس کے شہر میں زگلر نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ ان بے پرواہ قسم کے لڑکوں میں سے تھا جن کو ہم ہر شام سڑکوں پر بے فکری سے آوارہ خرام دیکھتے ہیں اور جن کے چہرے ہمیں کبھی یاد نہیں رہتے، اس لیے کہ وہ سب ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اجتماعی چہرے!

    زگلر جیسا کہ اس طرح کے اکثر لوگ ہوتے ہیں ایک خوش فہم انسان تھا اور اپنے بارے میں ان تمام مغالطوں کا شکار تھا جو اس قسم کے لوگوں کی فطرت ہوتی ہے۔

    وہ احمق ہرگز نہیں تھا ، لیکن اسے کوئی با صلاحیت انسان بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اسے دولت سے محبت تھی، عیش و آرام کی تمنا تھی اور ہر خوبرو نوجوان کی طرح خوش لباسی کا زعم تھا۔ ہر محتاط انسان جیسا کہ ہوتا ہے ، وہ کسی حد تک بزدل بھی تھا۔

    اس کی زندگی کے معمولات خواہشات کی تکمیل کے لیے جدوجہد سے زیادہ سزا اور جزا کے خوف سے زیر سایہ لب ہوتے تھے۔ زگلر میں عام بشری کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بہت سی خوبیاں بھی تھیں۔ وہ ایسا مطمئن نوجوان تھا جس کے لیے اس کی اپنی شخصیت سب سے بڑھ کر اہم ہوتی ہے۔ وہ خود کو معاشرے کا ایک منفرد انسان خیال کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس حقیقت سے ہمیشہ لاعلم ہی رہا کہ اس کی حیثیت انسانوں کے اس بپھرے ہوئے ہجوم میں ایک پرکاہ سے بڑھ کر نہیں......بہرحال اپنی نظر میں وہ کائنات کی اہم ترین ہستی تھا اور دنیا کے بیشتر مسائل پر اپنی ایک الگ اور اٹل رائے رکھتا تھا۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے کہ حقائق ہماری خوش فہم دنیا میں آ کر خوبصورت خیالات کو تہ و بالا کر دیتے ہیں۔

    زگلر روشن خیال انسان تھا اس لیے اس کے دل میں دولت کی بے پناہ اہمیت تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جدید دنیا کی دوسری بڑی قوت سائنس کا بھی زبردست مداح تھا۔ سائنس کی تصحیح تعریف سے تو وہ شاید خود بھی واقف نہ تھا لیکن اسے ریاست کی ترقی کے لیے اس کی اہمیت کا اچھی طرح اندازہ تھا اور وہ جانتا تھا کہ سائنس کی ترویج کے لیے حکومت کس قدر رقم خرچ کر رہی ہے۔

    زگلر کا باپ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر مرا تھا۔ اس وجہ سے اسے ان تمام تحقیقات سے خاص دلچسپی تھی جن کا مقصد کینسر کا علاج دریافت کرنا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ دن دور نہیں جب ایسا ہو سکے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے اس خطرناک بیماری کے خوف سے آزاد ہو جائے گا۔

    زگلر خوش لباس تھا اور اکثر یہ خوش لباسی اس کے وسائل سے بڑھ کر اپنا اظہار کرتی۔ وہ سال کے جدید ترین فیشن کے کپڑے زیب تن کرتا۔ وہ فرد کی آزادی کا شدت سے قائل تھا اور کردار اور افعال پر کسی قسم کی بندش گوارا کرنے کو تیار نہ تھا۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار بے باکی سے کرتا، لیکن اس بات کا اہتمام ضرور کرتا کہ اس کے نظریات کا علم حکومت یا اس کے افسران کو نہ ہونے پائے۔ میرے خیال میں زگلر کے بارے میں کچھ زیادہ ہی تفصیلی باتیں ہو گئی ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک دلکش انسان تھا اور اس کے ساتھ ہونے والے سانحے کا ہم سب سے گہرا تعلق ہے کیونکہ وہ بے چارہ حیران   کن اور افسوس ناک انجام سے دوچار ہوا۔

    اتوار کی ایک خوشگوار صبح وہ خاص تفریح کے ارادے سے ہمارے شہر میں وارد ہوا۔ وہ یہاں بالکل اجنبی تھا۔ اس نے ابھی تک نئی دوستیاں کرنے یا کسی کلب کی ممبر سازی کی بابت کچھ نہیں سوچا تھا۔ ممکن ہے یہ اس کی غلطی ہو۔ انسان کا تنہا ہونا کوئی اچھی بات بھی تو نہیں ہوتی۔ ہم سب کو اس کا علم ہے۔

    خاصی سوچ بچار کے بعد اس نے شہر کے عجائب خانے اور چڑیا گھر کی سیر کا پروگرام بنایا۔ عجائب خانے میں صبح کے وقت داخلہ مفت تھا اور چڑیا گھر کے   لیے شام کے اوقات میں خاص رعایتی ٹکٹ کا انتظام تھا۔

    چنانچہ اپنا بہترین سوٹ زیب تن کیے جس پر کپڑے کے بہترین بٹن لگے تھے ، وہ تاریخی عجائب گھر کو روانہ ہوا۔ اس کے ہاتھ میں بید کی خوبصورت چھڑی تھی جس نے اس کی شخصیت کو باوقار اور شاندار بنا دیا تھا۔ بدقسمتی سے اسے یہ چھڑی عجاب گھر کے دروازے پر ہی چھوڑنی پڑی۔ خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے!

    عمارت کے عظیم الشان ہال میں شیشے کے بڑے بڑے شو کیسوں میں تاریخی نوادرات رکھے تھے اور خوبصورت کتبوں پر سائنس کے ان عظیم شاہکاروں کے بارے میں تفصیلی معلومات درج تھیں۔ وہ بغور شو کیسوں میں رکھی زنگ آلود چابیوں اور سال خوردہ جواہرات کے بارے میں پڑھتا آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کا دل سانس کے کارناموں اور احترام اور تشکر کے جذبات سے لبریز تھا۔ ’’واقعی سائنس عظیم ہے، بہت جلد، ہاں، بڑی جلدی، یہ کینسر کا علاج دریافت کرے گی۔ بہت ممکن ہے ہم مستقبل قریب میں موت کی لعنت سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا لیں۔‘‘

    دوسرے کمرے میں دیوار گیر شیشہ نصب تھا۔ زگلر نے چند ثانیے کے لیے رک کر اپنے سراپے کا جائزہ لیا۔ کوٹ، پتلون، قمیص، ٹائی کی گرہ، سب کچھ شاندار تھا۔ وہ آگے بڑھ گیا۔

    یہاں اس کی دلچسپی کے مرکز لکڑی پر نقاشی کے وہ نمونے تھے جن کی آب و تاب صدیاں گزر جانے کے باوجود قائم تھی۔

    ’’بے شک، افسوس ناک حد تک کم علم ہونے کے باوجود ان فنکاروں کا رہنر قابل ستائش ہے۔‘‘ اس نے توصیفی انداز سے شوکیسوں کی طرف دیکھا۔ وہ لمحے بھر کو ہاتھی کے حروف والے گھڑیال کے قریب بھی رکا جس میں رقص کرتے ہوئے ہیرے، ہر گھنٹے کے بعد وقت کا اعلان کرتے تھے۔ ’’واقعی یہ ذہانت کا اعلیٰ شاہکار ہے۔‘‘

    وہ خاموشی سے انسانی ذہن کی شعبدہ کاریوں کو سراہتا آگے بڑھتا رہا۔ وقت کافی گزر چکا تھا، وہ اب بور ہونے لگا تھا۔ عجائب گھر کے نوادرا ت میں بھی کچھ یکسانی محسوس ہو رہی تھی۔

    اس نے قدرے اکتاہٹ کے عالم میں اپنی خوبصورت گھڑی کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں مغرور روشنی نمودار ہوئی۔ خالص سونے کی گھڑی، یہ اسے باپ کے ترکے میں ملی تھی۔

    ابھی دوپہر کے کھانے میں کافی وقت تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک نسبتاً خاموش کمرے میں داخل ہو گیا۔

    اس کا تجسس پھر سے جاگنے لگا۔ یہاں قرون وسطیٰ کے توہمات سے متعلق اشیاء جمع کی گئی تھیں۔ سامنے جادو، تعویذ، گنڈوں اور چڑیلوں کو تسخیر کرنے کے علم کی کتابیں رکھی تھیں۔ ایک کونے میں کیمیا گری کا مکمل سامان رکھا ہوا تھا، لوہا پگھلانے کی بھٹی، کونڈیں، چوڑے پیٹوں والی صراحیاں، سور کی خشک کی ہوئی اوجڑی غرض سب کچھ موجود تھا۔ کمرے کے آخری سرے پر مہمانوں کے لیے ہدایت درج تھی کہ یہاں رکھی ہوئی اشیاء کو چھونا خطرناک ہے، لیکن آپ کو تو پتا ہی ہے اس قسم کی تحریروں پر کون دھیان دیتا ہے اور پھر اس وقت زگلر کے سوا کمرے میں اور کوئی بھی نہ تھا۔

    اس نے متجسس نگاہوں سے یہاں موجود پراسرار نوادرات کی طرف دیکھا اور چپکے سے چند ایک کو چھوا بھی۔ اس نے پرانے زمانے کے توہمات کی بابت بہت کچھ سن رکھا تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ سب نامعقول باتیں ہیں۔ اس زمانے کے لوگوں کو چاہیے تھا کہ جادو وغیرہ جیسی بکواس چیزوں پر پابندی عائد کر دیتے۔ ہاں البتہ کیمیا گری قابل معافی ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے بطن سے جدید کیمیا کی سائنس نے جنم لیا ہے۔

    میرے خدایا! یہ سونا بنانے والے احمق اور یہ جادوگر، چکر باز کہیں کے! میرے خیال میں یہ بھی ضروری تھے، ورنہ آج ہمیں گیس بموں کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی، وہ تاسف اور نگرانی کے ملے جلے جذبات سے بڑبڑایا۔

    بے دھیانی میں زگلر کا ہاتھ ایک نرم سی چیز سے جا ٹکرایا۔ یہ روئی کے مانند ملائم کوئی قدیم جڑی بوٹی تھی۔ اس نے خشک اور بے وزن بوٹی کو انگلیوں میں دبا کر اس کی گولی سی بنا ڈالی۔ شاید یہ کوئی پرانے نسخے سے تیارکردہ مرکب تھا۔ اس بلا ارادہ شغل کے بعد وہ گولی کو واپس اپنی جگہ رکھنے کی بابت سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے پر قدموں کی چاپ ابھری۔ کوئی آرہا تھا۔ زگلر نے مڑ کر دیکھا تو ایک شخص اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گھبراہٹ اور سراسیمگی کے عالم میں وہ تیزی سے چل پڑا۔ گولی ابھی تک اس کی مٹھی میں تھی۔ وہ پڑھ چکا تھا کہ نوادرات اور جڑی بوٹیوں کو چھونا سخت منع ہے، اس لیے ایک معزز اور قابل احترام انسان کی حیثیت سے اس کے لیے یہ بڑی توہین کی بات ہوتی کہ کوئی اسے قواعد کی خلاف ورزی کرتے دیکھ لیتا، چنانچہ وہ افراتفری میں عجائب گھر سے باہر نکلا اور تیزی سے قریبی گلی میں داخل ہو گیا۔ دور دور تک خاموشی تھی اور قریب کوئی نہ تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ جیب سے نکالا۔ گولی ابھی تک اس کی مٹھی میں تھی۔ وہ اسے نالی میں پھینکنے ہی والا تھا کہ اسے کچھ خیال آیا۔ اس نے مٹھی   کھول کر اس نرم اور قدیم کیمیاوی مرکب کی طرف دیکھا اور ناک کے قریب لا کر اس کی مہک کا اندازہ کرنے کی کوشش کی۔ ’’ہوں! فرحت بخش ۔ بھئی کمال ہے۔‘‘ گولی میں سے عجیب سی مسحور کن خوشبو آرہی تھی۔ زگلر نے ہاتھ واپس جیب میں رکھ لیا اور قریبی ریستوران میں داخل ہو گیا۔

    چڑیا گھر کا وقت شروع ہونے میں ابھی کئی گھنٹے باقی تھے اور بھوک بھی شدید ہو چکی تھی۔ زگلر نے اپنے پسندیدہ کھانوں کا آرڈر دیا اور دوبارہ گولی جیب سے نکالی اور دھیرے دھیرے خوش ذائقہ مشروب کی چسکیاں لینے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ گولی جیب سے نکالی۔ اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ لیکن خدا جانے کیوں! زگلر کو خود بھی اس کا علم نہیں تھا۔ اس نے گولی منہ میں رکھ لی۔ وہ بے ذائقہ تھی۔ وہ چند لمحے اسے چوستا رہا پھر مشروب کے ایک بڑے گھونٹ سے اسے حلق میں اتار لیا۔ یہ ایک معصوم اور قدرے بچگانہ حرکت تھی، بہرحال گولی کا قصہ تمام ہوا، کھانا خوش ذائقہ تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھایا۔

    دو بجے وہ چڑیا گھر کے دروازے پر تھا۔ اس نے اتوار کا خصوصی رعایتی ٹکٹ خریدا اور بڑے گیٹ سے اندر داخل ہو گیا۔

    مسرور اور مسکراتا ہوا، زگلر   چڑیا گھر کے اس حصے کی جانب بڑھا جہاں چوپائیوں کے پنجرے تھے۔ وہ افریقی لنگوروں کے پنجرے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ لنگور نے خوش مزاجی سے اس کا استقبال کیا پھر آنکھیں چمچماتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا:

    ’’کہو بھیا کیسے مزاج ہیں۔‘‘

    زگلر حیرت کے بے پناہ سمندر میں ڈوبنے لگا۔ پھر خوف کی ایک سرد لہر اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ وہ جلدی سے آگے بڑھ گیا۔

    بندر کی ناراضی اور نفرت سے بھری ہوئی آواز اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ ’’آخر یہ کس بات پر اتراتاپھرتا ہے، احمق ذلیل کہیں کا۔‘‘

    اگلے پنجرے میں لمبی دم والے بندر خوشی کے عالم میں رقص کر رہے تھے۔

    ’’ہمارے لیے مٹھائی لاؤ! تم تو ہمارے یار ہو۔‘‘

    مگر اس کے پاس مٹھائی کہاں تھی۔ بندر غصے سے اس کی نقلیں اتارنے لگے۔ انہوں نے زگلر کو نکما ، آوارہ اور نہ جانے کیا کچھ کہا۔ وہ دانت نکال کر اس کا منہ چڑا رہے تھے۔ یہ سخت ذلت آمیز رویہ تھا۔ ایسی حالت میں کوئی بھی معقول آدمی وہاں کیسے ٹھہر سکتا تھا۔

    زگلر کو یقین تھا کہ ہرن اپنی روایتی شائستگی کا مظاہرہ کرے گا اور اس کا سلوک ان گھٹیا جانوروں سے یقینا مختلف ہو گا۔

    جالیوں کے قریب ایک لمبا سا بارہ سنگھا کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک زگلر دہشت سے کانپ اٹھا۔ ’’اف میرے خدایا۔‘‘

    صورت حال واضح ہوتی جا رہی تھی۔ گولی کھانے کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر جانوروں کی زبان سمجھنے لگا تھا۔

    بارہ سنگھے نے اپنی بڑی بڑی بھوری آنکھیں اوپر اٹھا ئیں۔  اس کی اداس آنکھوں میں وقار اور حسن تھا، مگر زگلر کو وہاں حقارت کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا۔ ان پر شکوہ آنکھوں میں نفرت اور غصے کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

    زگلر اپنے شاندار سوٹ، طلائی گھڑی، طنطنے دار شخصیت اور بارعب چہرے کے باوجود پنجرے میں قید اس بے بس جانور کے سامنے کسی حقیر کیڑے کی طرح سہما ہوا تھا۔ قابل نفرت اور مکروہ انسان!

    بارہ سنگھے سے وہ بار ی باری پہاڑی بکرے، نیل گائے جنگلی سور ، ریچھ اور دوسرے جانوروں کے قریب گیا لیکن سب کا رویہ ناقابل فہم تھا، غیر ہمدردانہ او رمایوس کن۔ زگلر نے ان کی باتیں سننے کی کوشش کی تاکہ ان بظاہر بے زبان چوپاؤں کی انسان کے بارے میں رائے سے آگاہ ہو سکے۔ یہاں اسے اس اذیت ناک حقیقت کا علم ہوا کہ انسان تکلیف دہ حد تک بے توقیر مخلوق ہے۔ پنجروں میں قید چوپائے حیران تھے کہ یہ غلیظ ، بے وقار اور متعفن دوپایہ جس کا نام انسان ہے اور جو اپنی کل زندگی میں فقط بہروپیا اور مسخرہ ہے ، آزاد کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟