شادیٔ مرگ
ترجمہ: خاقان ساجد
کوپن ہیگن میں بندرگاہ کی اندرونی گودی کے قریب ایک سڑک ہے جس کا نام ’’ویسٹر وولڈ‘‘ ہے۔ یہ نسبتاً نئی اور کم آباد سڑک ہے جس کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت ایستادہ ہیں۔ سڑک پر زیادہ گھر تعمیر نہیں ہوئے۔ یہاں گیس لیمپ کے چند ایک کھمبے ہیں اور لوگ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ آج کل سردیوں کے اختتام میں بھی کم ہی کوئی آدمی ادھر چہل قدمی کرتا نظر آتا ہے۔
ہاں ! تو کل شام اس سڑک پر مجھے ایک حیران کن تجربہ ہوا۔ میں اس سڑک پر ہوا خوری کر رہا تھا۔ سڑک کے کنارے بنے ہوئے راستے پر میں نے ابھی دو چکر لگائے تھے کہ مخالف سمت سے مجھے ایک عورت اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ سڑک پر دور دور تک کوئی اور ذی روح نظر نہیں آرہا تھا۔ کھمبوں پر گیس کے لیمپ روشن ہو چکے تھے، مگر پھر بھی مجموعی طور پر سڑک پر اندھیرا ہی تھا۔ اتنا اندھیرا کہ میں عورت کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھ سکا۔ ’’ہو گی کوئی رات کو دھندا کرنے والی مخلوق۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور اس کے پاس سے گزر گیا۔
سڑک کے اختتام پر پہنچ کر میں پلٹا تو میں نے دیکھا کہ دوسری جانب سے وہ بھی پلٹ رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر سامنے تھی۔ ’’ہو سکتا ہے وہ کسی کا انتظار کر رہی ہو۔‘‘ میں نے سوچا اور مجھے کچھ کچھ تجسس بھی ہوا کہ دیکھوں وہ کس کی منتظر ہے۔ بہرکیف میں اس کے پاس سے گزر کر آگے نکل گیا۔
جب تیسری بار میرا اس سے سامنے ہوا تو میں نے اپنا ہیٹ اتارتے ہوئے سر خم کیا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا: ’’شام بخیر! کیا آپ کسی کی منتظر ہیں؟‘‘
وہ حیرت زدہ ہو گئی اور گڑبڑا کر بولی۔ ’’نہیں ...... میرا مطلب ہے ہاں ......میں کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘
اس کی گھبراہٹ سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، چنانچہ میں نے اس سے پوچھا کہ جب تک وہ شخص جس کا وہ انتظار کر رہی ہے ، نہیں آجاتا اسے میرے ساتھ چہل قدمی پر اعتراض تو نہ ہو گا۔ اس نے میری تجویز پر قطعاً کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ شکر گزاری کا اظہار کرنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس نے خود ہی اعتراف کیا کہ وہ کسی کا انتظار نہیں کر رہی تھی، صرف ہوا خوری کے لیے نکلی تھی۔
ہم دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے اور چھوٹے چھوٹے غیر اہم موضوعات پر بات چیت کرنے لگے۔ چلتے چلتے میں نے اسے اپنا بازو بطور سہارا پیش کرنا چاہا۔ ’’نہیں شکریہ۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ اس طرح فضول چہل قدمی کا کوئی فائدہ تو تھا نہیں! میں اسے اندھیرے میں دیکھ بھی نہیں سکتا تھا! چنانچہ میں نے وقت دیکھنے کے بہائے دیا سلائی سلگائی اور اس کے چہرے کے سامنے روشنی کرتے ہوئے اسے بھی دیکھ لیا۔
’’نو بج گئے ہیں۔‘‘ میں نے جیسے خود سے کہا۔
وہ ٹھنڈی ہوا سے ہولے سے کانپی تو مجھے موقع ہاتھ آگیا۔ میں نے بے تکلفی کا سہارا لے کر کہا: ’’تم ٹھنڈ محسوس کر رہی ہو؟‘ پھر میں نےپوچھا:’’کیوں نہ ہم کسی جگہ چل کر کچھ پئیں؟’’ٹی وولی‘‘ میں یا ’’نیشنوئل‘‘ میں؟‘‘
’’مگر، تم خود سوچو، میں اس وقت کہیں نہیں جا سکتی۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ اس وقت میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس نے ایک لمبا سیاہ باریک نقاب پہن رکھا تھا۔ میں نے اس سے معذرت کی اور اپنی غلطی پر اندھیرے کو الزام دیا۔ اس نے جس انداز میں میری معذرت فوراً قبول کی، اس سے میرا دل قائل ہو گیا کہ وہ کوئی ایسی ویسی عورت نہیں ہوسکتی۔
’’کیا تم میرے بازو کاسہارا پسند کرو گی؟‘‘ میں نے ایک بار پھر تجویز دی۔ ’’اس طرح ٹھنڈک کا احساس کم ہو جائے گا۔‘‘
اس نے میری پیشکش قبول کر لی۔
ہم دونوں نے سڑک کے ایک دو چکر لگائے، پھر اس نے مجھ سے وقت پوچھا۔
’’دس بج رہے ہیں۔‘‘ میں نے جواباً کہا۔ ’’تم کہاں رہتی ہو؟‘‘
’’گیملے گانگی وی میں۔‘‘
میں رک گیا۔
’’کیا میں تمہیں تمہارے گھر کے دروازے تک چھوڑنے چلوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں، یہ ٹھیک نہیں ہو گا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’تمہیں تکلیف ہو گی...... تم تو بریڈگیڈ میں رہتے ہو، کیوں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟‘‘
’’تمہیں کیسے پتہ ہے؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’اوہ، مجھے معلوم ہے تم کون ہو۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
ایک سکوت چھا گیا۔ ہم دونوں بازوؤں میں بازو ڈالے روشن گلیوں میں آگئے۔ وہ تیز قدموں سے چل رہی تھی اور اس کا باریک نقاب پیچھے ہوا میں لہرا رہا تھا۔
’’ہمیں جلدی کرنی چاہیے۔ ‘‘ ا س نے کہا۔
ہم گیملے گانگی وی میں اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا جیسے اس کی بحفاظت تک معاونت پر میرا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہو۔ میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا ، وہ آہستگی سے اس میں داخل ہو گئی۔ میں نے کندھے سے دروازے کو تھوڑا دھکیلا اور اس کے پیچھے گھر میں داخل ہو گیا۔ اندر پہنچ کر اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے دیکھا احاطے میں ایک تین منزلہ عمارت تھی۔ ہم دونوں نے سیڑھیوں سے دو منازل طے کیں اور اس کے بعد تیسری منزل پر آ گئے۔ اس نے اپنے اپارٹمنٹ کا بیرونی دروزہ چابی سے کھولا، اس کے بعد ایک دوسرا دروازہ کھولا اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر لے گئی۔ یہ ڈرائنگ روم لگ رہا تھا جس کی دیوار پر لگے گھڑیال کی ’’ٹک ٹک ‘‘ واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔ گھر میں داخلے کے بعد اس عورت نے لمحہ بھرکا توقف کیا، اور پھر دفعتاً اپنے بازوؤں میں لے کر لرزتے ہوئے، پیار سے ، میرا بوسہ لے لیا۔
’’بیٹھ جاؤ نا!‘‘اس نے مٹھاس بھرے لہجے میں کہا۔ ’’صوفہ ادھر ہے۔ میں ذرا روشنی کر دوں۔‘‘
اس نے ایک لیمپ جلا دیا۔
میں نے حیرت اور تجسس سے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ میں ایک وسیع، بہت خوبصورتی سے سجے اور فرنیچر سے آراستہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا جس میں ایک طرف کئی کمروں کے ادھ کھلے دروازے دکھائی دے رہے تھے۔ مجھے کچھ اندازہ نہیں ہوا کہ میں جس عورت کی معیت میں اس گھر میں داخل ہوا ہوں، وہ کس قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔
’’واہ ! کیا خوبصورت کمرہ ہے!‘‘ میں تعریفی نظروں سے کمرے کا جائزہ لے کر بولا۔ ’’کیا یہ تمہارا گھر ہے؟‘‘
’’ہاں، میں یہاں رہتی ہوں۔ یہ میرا گھر ہے۔ ‘‘ اس نے جواباً کہا۔
’’تمہارا گھر؟ تم اپنے والدین کے ساتھ یہاں رہتی ہو؟‘‘
’’ارے نہیں۔‘‘ وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں اتنی جوان بھی نہیں۔ ابھی تم دیکھ ہی لو گے!‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا نقاب اتارا، پھر اپنے کپڑوں پر پہنا ہوا نفیس لبادہ کھول کر صوفے پر اچھال دیا۔
’’دیکھا! میں نے نہیں کہا تھا کہ میں اتنی جوان نہیں!‘‘ اس نے کہا اور ایک بار پھر شدت جذبات اور کسی بے قابو اور بے لگام خواہش سے مغلوب ہو کر مجھے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔
وہ بائیس تیئس برس سے زیادہ عمر کی نہیں تھی۔ اس نے ہاتھ کی ایک انگلی میں انگوٹھی پہن رکھی تھی جس سے کچھ کچھ اندازہ یہی ہوتا تھا کہ شادی شدہ ہے۔ خوبصورت؟ نہیں، اس کے چہرے پر چھائیاں تھیں اور بھنویں برائے نام تھیں مگر اس کا بدن زندگی سے بھرپور تھا، یوں امڈتا ہوا جیسے سوڈے کی بوتل آواز بھری جھاگ کے ساتھ کھل جائے۔ چہرے کے نقوش بہت دلکش تھے۔ تین چار سال پہلے وہ یقیناً ایک خوبرو دوشیزہ رہی ہو گی۔
میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے، اس کا خاوند، اگر کوئی ہے تو، کدھر ہے اور جس گھر میں، میں بیٹھا ہوں یہ کس کا ہے؟ مگر ہر بار میری یہ کوشش اس کی وحشت کی نظر ہو جاتی۔ وہ مجھ پر گر گر پڑتی تھی۔
’’میرا نام ایلن ہے۔‘‘ اس نے خود ہی بتایا۔ ’’کیا تم کچھ پینا پسند کرو گے؟ اگر میں بیل بجاؤں گی تو کوئی نہیں جاگے گا، بس نوکرانی آئے گی۔ تم اس سے پہلے اس بیڈ روم میں چلے جانا۔‘‘ اس نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
میں اس کمرے میں داخل ہو گیا۔ ڈرائنگ روم سے آنے والی روشنی نے کسی حد تک اس کمرے کو بھی روشن کر دیا تھا۔ میں نے اس کمرے میں ساتھ جڑے ہوئے دو بیڈ دیکھے۔ ایلن نے گھنٹی بجائی اور کچھ دیر بعد مجھے ایک نوکرانی کی آواز آئی جو شراب رکھ کر چلی گئی تھی۔ چند لمحوں بعد ایلن بھی بیڈ روم میں آگئی، مگر دروازے کے پاس رک گئی۔ میں نے اٹھ کر ایک قدم اس کی طرف بڑھایا ہو گا کہ وہ ایک سسکاری بھر کر دوڑ کر مجھ سے لپٹ گئی ...... پھر......
یہ ہے وہ کل شام کا حیران کن قصہ!
اس کے بعد کیا ہوا؟ صبر صبر! ابھی تو بہت کچھ بتانا باقی ہے! یہ رنگین سنگین رات گزر گئی۔ سحر نمودار ہونے کا وقت آیا تھا کہ میری آنکھ کھلی۔ دن کی روشنی کھڑکی کے پردوں سے آہستہ آہستہ اندر داخل ہو رہی تھی۔ ایلن بھی بیدار ہو گئی تھی اور تھکی تھکی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے سپید مخملیں بازو اور سینے کا ابھار بہت دلفریب لگ رہا تھا۔ میں نے سرگوشی میں اس سے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے اپنے ہونٹوں سے میرا منہ نرمی سے بند کر دیا۔
دن کی روشنی پھیلتی چلی گئی۔
دو گھنٹے بعد میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ایلن بھی اٹھ چکی تھی اور لباس تبدیل کرنے کے بعد تیار ہو رہی تھی۔ اس نے اپنے جوتے پہنے اور بال ٹھیک کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے ایسی چیز دیکھی جو مجھے اب بھی ایک بھیانک خواب کی طرح لگ رہی ہے۔ میں بیسن پر منہ دھو رہا تھا۔ ایلن کو ساتھ والے کمرے سے کوئی چیز لینا تھی جس کے لیے اس نے درمیان والا دروازہ کھولا۔ اس لمحے میں اچانک مڑا تو میری کمرے میں نظر پڑی۔ میں نے ایک عجیب سرد کر دینے والا منظر دیکھا۔کمرے کے وسط میں مجھے ایک بڑے میز پر ایک لاش رکھی نظر آئی۔ یہ کفن میں لپٹی ہوئی ایک ادھیڑ عمر آدمی کی لاش تھی جس کی سفید داڑھی تھی۔ کفن کے اندر سے اس کا ایک سوکھا ہوا کمزور سا گھٹنا نظر آرہا تھا اور چادر سے باہر اس کے کمزور بازو اور بھنچی ہوئی مٹھی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا زرد اور بیمار چہرہ بہت بھیانک دکھائی دے رہا تھا۔ اچھی خاصی روشنی تھی اس لیے سب کچھ واضح نظر آرہا تھا۔ میں نے اپنا رخ پھیر لیا اور منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا۔
کچھ دیر بعد ایلن واپس آئی تو میں تیار ہو چکا تھا اور باہر نکلنے کا منتظر تھا۔ وہ اب بھی مجھ سے لپٹ رہی تھی مگر میں اس کی بے تابیوں کا ساتھ دینے کے لیے اپنی طبیعت آمادہ نہیں پا رہا تھا اور میرے جوابی اقدام نیم دلانہ تھے۔ اس نے اپنےچست لباس پر ایک اضافی لبادہ پہنا اور باریک سیاہ نقاب لگایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بھی میرے ساتھ باہر جا رہی ہے۔
ہم دونوں باہر نکلے۔ وہ عمارت کے احاطے سے باہر گلی کے کونے تک مجھے چھوڑنے آئی۔ میں اس کے ساتھ بالکل خاموش چلتا رہا، اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ گلی کے آخر پر دیور کی اوٹ میں وہ اس طرح کھڑی ہو گئی کہ کسی کی نظر نہ پڑے۔
’’اچھا خدا حافظ‘‘۔ اس نے سرگوشی کی۔
’’کل شام تک کے لیے ......؟‘‘ میں نے جان بوجھ کر اٹکتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں، کل شام نہیں۔‘‘
’’کل کیوں نہیں؟‘‘
’’میری جان زیادہ سوال نہیں کرتے۔ مجھے کل ایک جنازے پر جانا ہے۔ میرا ایک رشتہ دار انتقال کر گیا ہے۔ ادھر گھر پر ہی ...... تم نے دیکھا ہو گا؟‘‘
’’پھر پرسوں؟‘‘
’’ہاں، پرسوں ٹھیک ہے، میں دس بجے دروازے پر منتظر ہوں گی۔ اچھا خداحافظ!‘‘
میں چلا آیا۔
وہ کون تھی؟ وہ لاش کس کی تھی؟ وہ بھنچی ہوئی مٹھیوں اور بیمار چہرے والا بوڑھا کون تھا ...... اور کس قسم کا بھیانک ڈراما تھا، میں یہ جاننا چاہتا تھا۔پرسوں وہ پھر میری منتظر ہو گی۔ کیا مجھے جانا چاہیے۔
میں وہاں سے سیدھا برنینا کیفے میں گیا اور ویٹر سے ٹیلی فون ڈائریکٹری طلب کی۔ نمبر دیکھتے ہوئے میں ’’گیملے گانگی وی‘‘ کی فہرست پر پہنچا ۔اور...... سامنے لکھا ہوا نام دیکھ کر رک گیا۔ تھوڑی دیر بعد صبح کے اخبارات آگئے۔ کافی پیتے ہوئے میں نے ایک اخبار کے اعلانات والے صفحے پر نظر دوڑانی شروع کی تو ’’اعلانات مرگ‘‘ کے نیچے مجھے ایلن کی طرف سے دیا ہوا اعلان سرفہرست لکھا نظر آیا۔ نیچے ڈائریکٹری والا پتہ درج تھا۔ اعلان تھا:
’’میرا خاوند، مسٹر بیمسن بجورنس ، عمر53 سال، آج صبح طویل بیماری کے بعد انتقال کر گیا ہے۔‘‘
اعلان پر پرسوں کی تاریخ تھی۔
میں دیر تک وہاں بیٹھا سوچتا رہا۔ ایک مرد شادی کرتا ہے۔ ا س کی بیوی اس سے تیس برس چھوٹی ہے۔ ایک دن وہ مر جاتا ہے اور اس کی بیوہ اسے منزل تک پہنچانے سے پہلے خود اپنی منزل حاصل کر لیتی ہے ...... یعنی ایک تپتا ہوا دن اختتام کو پہنچتا ہے اور تشنگی کی رات ڈھل جاتی ہے۔