رومولوگالئےگوس

رومولوگالئےگوس

صاحب کردار

    ترجمہ : رحیم

    شب کے بارہ بجنے کو تھے کہ مارٹن اپنے دوستوں سے رخصت ہوا۔ اس کی روز کی عادت بن گئی تھی کہ مے خانے میں اس وقت تک ضرور ٹھہرا رہتا تھا۔ شراب پیتا اور مصری سگرٹوں کے کش پہ کش اڑاتا اور اس دوران میں اپنے مختلف النوع اور کثیر التعداد معاشقانہ معرکوں کا تذکرہ چھیڑے رکھتا۔ وہ شیخی بگھارتے ہوئے بڑے فخر سے کہتا : عورتیں تو ایں جانب پر لوٹن کبوتر ہو رہی ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس ڈھب کی زندگی اس کا نصب العین بن چکی تھی۔

    دو کرائے کی موٹریں جنہیں کیراکس کی بولی ٹھولی میں ’الو‘ کے نام سے پکارتے تھے، گرجے کے سائے تلے کھڑی تھیں۔ ان کے ڈرائیوروں نے اسے اپنی خدمات پیش کیں۔

    ’’کیا خیال ہے مارٹی، گھر کو نہ چلیے گا؟‘‘

    ’’میں منتظر اور تیار ہوں، مارٹن!‘‘

    قصبے کے بے فکرے نے جواب دیا: ’’برخوردار! آج شب ہمارے لہو کی اک بوند بھی نچوڑ لو تو کمال ہو گا۔‘‘

    ’’ارے کیا بالکل ہی صاف ہو گئے ہو؟ تو پھر کیا ہوا!‘‘

    ’’ارے میاں! پھر دے دنیا ، تم جانو......‘‘

    ’’اجی نہیں رہنے دو تم! میں اپنے دو سلنڈروں پر رواں دواں ہوتا ہوں۔ یہ رہیں گے بھی بڑے پرلطف!‘‘

    دونوں ڈرائیور اس کی لطیف سی پھبتی پر ہنس پڑے جس میں اس نے ’’کیراکس‘‘ والوں کی شگفتگی بھر دی تھی۔ ایک نے پیچھے سے آواز دے کر کہا: ’’دیکھیو، کہیں راستہ نہ بھول جانا۔‘‘

    ’’برخوردار، راستہ نہ بھولا میں، اگر بھول بھی گیا تو یقین کرو، کھو نہیں جاتا میں۔ اپنے سائے سے بھی زیادہ آشنا ہوں راستے سے!‘‘

    وہ اپنی ہر دلعزیزی کے زعم میں راستے پر سڑک کو جاتے ہوئے بڑے اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا! یہی خیال دل میں سمایا ہوا تھا کہ اب کوئی نہ کوئی ڈرائیور دوسرے سے بول کر بولا: ’’بھئی یہ مارٹی! کیا بات ہے بھیا اس کے دل کی! کیا ٹھاٹ کا آدمی ہے واللہ! اپنے تن کا کپڑا بھی اتار کر دے ڈالے تمہیں۔‘‘

    احساسِ برتری کی اک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے مونچھوں سے بے نیاز لبوں پر کھیل رہی تھی۔ اس کی ایڑیوں کی نپی تلی کھٹ کھٹ بڑے شاہانہ طور پر پٹریوں پر سنائی دیتے ہوئے، آدھی رات کی خاموشی میں گونج رہی تھی۔ اگرچہ وہ کسی ذہنی دقیقہ سنجی کے قابل نہیں تھا مگر اسے سنسان راہوں پر اپنی رفتار کی گونج سننا بڑا پسند تھا۔ اس سے اس کے دل میں اک مبہم سا احساس بیدار ہو گیا تھا کہ وہ اپنے وطن مالوف کی روح پر اپنی شخصیت کا نقش ثبت کر رہا ہے۔ جس کے باسیوں کے مسرور و لطیف کردار، عناد و ظرافت سے بھرپور، اس کے اپنے کردار سے ہمنوا تھے!

    یہ خیال مارٹن کے افتخار کی انتہائی مسرت خیز تاسیس تھی۔ وہ سینہ تان کر کہتا تھا: ’’میں اصل اصیل باشندۂ کاراکس ہوں ۔ فکر و سنجیدگی کی قبولیت سے عاری، مستقل کھلنڈرا۔ عیش و عشرت اور بلند معیار زندگی کا دلدادہ۔ دونوں ہاتھوں سے زر و دولت کو لٹانے اور ہر ایک کے دل کو موہنے والا!‘‘ اس کا کافی وافی ثبوت اس کی وہ مقبولیت تھی جو اسے شوفروں ، کرائے کی موٹروں کے ڈرائیوروں اور مے خانوں کے مغبچوں میں نصیب تھی!

    وہ ان ناموں میں دو اور کا بھی اضافہ کر سکتا تھا۔ جواری اور دلال۔ اگرچہ اپنے وقار پر اک تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے وہ انہیں فراموش کر چکا تھا مگر دل میں ان کا خیال گزرا ضرور تھا، لیکن وہ خلافِ معمول کی حیاداری ...... وہ چنگاری جو وقتی طور پر انتہائی تاریک اور فسق و فجور سے معمور زندگیوں کو بھی تابناک کر دیتی ہے اور ان کے خون میں خوابیدہ شاید صدیوں کی روگی شرافت کا آنکھ جھپکنے میں غائب ہو جانے والا ادعا بیدار کر ڈالتی ہے بہرحال وہ خلافِ معمول کی حیاداری ہی تھی جس کے احساس کے ماتحت اسے تائید ذاتی کے طور پر کہنا ہی پڑا: ’’اعلیٰ طبقے میں بھی تو میرے مداح موجود ہیں۔ ’لوئی ساترے ساآولا‘ ۔ کاراکس کی جان محبوبی اس بات کی تصدیق کر سکتی ہیں۔ وہ مجھ پر جان چھڑکتی ہیں اور آلتاگرے شی آ آرگندی گوئی ۔ اور یہ اور وہ!‘‘

    حقیقت یہی ہے کہ وہ تھا بھی محبوب نظر، اس کے نفیس قطع کیے ہوئے کپڑے، صاف ستھرے خدوخال، منجھے ہوئے اوضاع و اطوار ان لڑکیوں کو موہ لینے کو کافی تھے جو ابھی بہارِ شباب کے دورِ اول میں قدم رکھ رہی تھیں۔ جب انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی مرد کی نظرِ التفات کا مرکز ہیں تو وہ بڑے رازدارانہ طور پر دل ہی دل میں محبت کے اولین جذبات سے حظ اندوز ہوجاتی تھیں۔ جس طرح ان کا شیریں پسند کام و دہن قند نبات کی میٹھی لطافت سے واقعی لطف اندوز ہوتا ہے اسی طرح انہیں یہ چیز بھی قطعی  طبعی نظر آتی تھی کہ مارٹن جیسا جامہ زیب اور شاہدباز ان کے جمالیاتی ذوق کا روپ دھارے ہوئے ہو! وہ مارٹن جو کپڑوں کے متعلق اس قدر محتاط تھا کہ کیا مجال ان میں کوئی شکن پڑے یا بھولے سے بھی داغ نظر آئے۔ جو مصری سگریٹ پیتا تھا اور گلاب کی طرح عطر بیز تھا۔

    بہرکیف اس رات مارٹن کاراکس کی شریف اور نوجوان و منفرد شخصیت کے برعکس جمعیت خاطر کو کھویا کھویا نظر آتا تھا کہ اس کے محبوب یارباش آرزاے تا نے، ملاقات کے وعدے کو نبھایا نہیں تھا۔ اس نے کہہ رکھا تھا کہ وہ کار میں نو اور دس کے درمیان اسے لینے کے لیے مے خانے پہنچے گا مگر آیا نہیں۔

    اک خیال سے نجات حاصل کرنے کی بدترین سے بدترین صورت یہی ہو سکتی ہے کہ اسے دل میں آنے نہ دیا جائے۔ مارٹن کی بھی آرزو تھی کہ وہ اک ناخوشگوار خیال کو دل میں جگہ نہ دے مگر خیال تھا کہ اس کے ذہن کے آس پاس کاوے کاٹ رہا تھا، تنگ کر رہا تھا اور بالآخر ہوا یوں کہ وہ چوری چھپے اس کے نفسِ شعور کی روشنی میں پوری طرح آ گھسا! آرزالے تانے اس کی ملاقات سے اعراض اس لیے کیا کہ وہ ریتا کے عشق و معاشقے میں مصروف تھا جو اس کے گھر کی لڑکیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔

    مارٹن اس بات کو حق الیقین سمجھے ہوئے تھے۔اک روز یہی بات دل میں بسی ہوئی تھی کہ اس سے آرزالے تا کو آلیا، جو اس کے مکان کے دریچے تلے اس کی بہن سے مصروفِ گفتگو تھا۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے!

    اس سے مہذب انسان کے لیے ظالم بھائی کا کردار ادا کرنا انتہائی مضحکہ انگیز شے تھی مگر قدیم الایام کی دوستی کو نبھائے جانا بھی اس سے کچھ کم بے طرح نہیں تھا۔

    ’’اف خدایا! آخر یہ سارا کام میرا ہی تو نہیں ہے۔ بڑے میاں بھی تو ہیں۔ وہ لڑکیوں کے نگران ہیں، اور وہ ذمہ دار......‘‘

    ذمہ دار؟ اس اصطلاح کو وہ استعمال میں لایا ہی کیوں؟ اتفاقیہ ہی سہی مگر تھی بھی کوئی شے جو ذمہ داری کی تقاضا دار تھی؟ ’آرزالے تا‘ اک شریف ......ہومنھرم۔ آرز لے تا۔

    اک ناقابل بیان ذہنی تذبذب کے بعد، سگریٹ کا دھواں اندر کھینچتے اور کندھے جھٹکتے ہوئے گویا اس سخت کوفت سے نجات کی آرزو ہے جو کاراکن روح کردار کے قطعی منافی ہے۔ وہ آرام سے اک نتیجہ پر پہنچ گیا۔ ’’میں عرض کر رہا ہوں کہ بڑے میاں جو ہیں، مجھے کیا پڑی ہے کہ اس درد سر کو مول لوں۔ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ......‘‘

    ایک اچھے وین زولی کی طرح اس نے فرائض کے تصور کو حقوق کے صور میں خلط ملط کر دیا۔ یا یوں کہہ لیجیے تو بہتر رہے گا کہ اس کے لیے حقوق ہی حقوق تھے فرائض نہیں تھے۔

    ( ٢ )

    جب گھرپہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنی رات گئے، سامنے کا دروازہ ابھی تک چوپٹ ہے! اک فوری اور قطعی نیم شعوری خوف نے پٹری پر ہی اس کے قدم پکڑ لیے۔ وہ انتہائی غور سے اندر سے آنے والی آوازوں کو سن رہا تھا۔ آواز تھی کہاں؟ روشن ڈرائنگ روم سے آوازوں کی بھنبھناہٹ تک نہ آ رہی تھی۔ وہاں کوئی ملاقاتی موجود نہیں تھا۔ اس کا دل ڈوب گیا جس کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ اس نے سوچنے کی کوشش کی کہ خیالوں کی عدم موجودگی شدید خلش اضطراب کا باعث تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ سوچنے سے ڈر رہا ہے! آخر ایک خیال آ ہی گیا۔ ’’کہیں بڑے میاں کو پھر تو غشی کا دورہ نہیں پڑ گیا۔‘‘

    اس امکانی بات میں کسی قسم کی تسکین نہیں تھی۔ مگر اس خیال کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہی اسے تسکین سی ہو گئی۔ بالآخر اس نے گھر کے اندر جانے کی ٹھان لی۔

    اس کی دو بڑی بہنیں ڈیوڑھی میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے سر جھکے ہوئے تھے۔ گالوں کو ہاتھوں کا سہارا دیے تھیں اور خالی خالی نظریں فرش پر جمی ہوئی تھیں۔ فضا میں نحوست چھائی تھی۔ کوئی چیز جس نے انہیں گھیر رکھا تھا ان جھکے ہوئے سروں کو جھکا رہی تھی۔ ان کے سروں پر زندگی کے غیر مرئی پر کسی حادثے کے منحوس دائروں میں چکر کاٹ رہے تھے!

    مارٹن دہلیز پر متذبذب تھا۔ اسے حوصلہ نہیں پڑتا تھا کہ اسے پار کر جائے۔ اک خوف کی لہر اس کے سارے جسم میں دوڑ گئی۔ اک موت کی سی خنکی تھی جس نے اس کا بند بند ہلا ڈالا تھا۔ اور کسی پنجے کی طرح گلے کو گرفت میں لے رکھا تھا۔

    اک بہن اسے یوں ملنے آئی، جیسے کچھ بات کہنے کو ہے لیکن اس نے مارٹن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اک ناقابل بیان جذبے کے ساتھ حیوانوں کی طرح تکنا شروع کر دیا۔ مارٹن نے بھرپور کوشش کرنے کے بعد پوچھا: ’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘

    بہن نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا گویا قبر سے بول رہی ہو: ’’کلاریتا رات کے کھانے کے بعد باہر کو جاتے ہوئے کہہ گئی تھی کہ میں بازار کے اس پار ’اورزکو‘ کے گھر جا رہی ہوں۔ یہ وقت ہونے کو آیا مگر وہ لوٹی نہیں۔‘‘

    ’’لیکن اسے  بلا کیوں نہ بھیجا تم نے، اب تو آدھی سے بھی زیادہ رات جا چکی۔‘‘

    مارٹن نے جواب تو دے دیا مگر اسے کچھ خبر نہ تھی کہ اس نے کہا کیا ہے۔ اس نے فقط اس لیے کہا تھا کہ اس کے دل میں خفیہ طور پر اک خیال اس بات کا آرزو مند تھا کہ خدا کرے کہ اس کی بہن اورزکو کے یہاں ہی موجود ہو اور واقعہ یہ ہے کہ وہ دیکھ بھی چکا تھا کہ ان کے سامنے کا مکان بند پڑا تھا۔

    اس کی بہن ہچکیاں لیتے ہوئے بولی: ’’کلاریتا بھاگ گئی ہے مارٹن۔‘‘

    مارٹن منجمد کھڑا تھا۔ اس کا منہ نیم وا تھا۔ گویا وہ ناکارہ الفاظ جنہیں وہ کہنے کو تھا اس کے لبوں پر جم گئے ہیں۔ اپنے آپ کو تسکین دہ الفاظ سے فریب دینے کا کچھ فائدہ نہیں تھا۔ حقیقت آشکارا ہو چکی تھی۔ جو پیش اندیشگی گھر میں آنے سے پہلے اس پر حملہ زن ہوئی تھی ۔اب اک واقعہ بنی ہوئی تھی۔ اسے اک احمقانہ سا خیال آیا کہ پوچھے: اسے کون بھگا کر لے گیا ہے ! مگر اسے بیان کرنے سے پہلے ہی وہ منفعل تھا۔ اس سے بڑھ کر بھلا اور کون جان سکتا تھا کہ اسے کون بھگا کر لے گیا ہے۔ وہی بدمعاش ’ارزالےتا‘!

    وہ دروازے پر کھڑے کھڑے ذرا کی ذرا گھبرایا سا اور پھر کٹھ پتلی کی طرح اپنے کمرے کو چل پڑا۔ اسے اپنے والدین کے سامنے آتے ہوئے ڈر سا لگتا تھا۔ جو کچھ ان سبھوں پر آٹوٹا تھا اس سے متعلقہ الزام کے سلسلہ میں اسے اپنے حصے کی ایک مبہم سی آگاہی تھی۔

    کچھ دیر کے بعد اس کے باپ نے کہا: ’’تو خیر ......باہر کے دروازے میں تالا ڈال دو۔‘‘

    برادرانہ شفقت سے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے! اس کے دل میں کوندے کی لپک کی تیزی اور قوت کے ساتھ باپ کے یہ الفاظ کہ باہر کے دروازے میں تالا ڈال دو اپنی پوری ہولناک اہمیت سمیت گزر گئے! ان الفاظ کا مطلب یہ تھا کہ ’’اب کوئی امید باقی نہیں رہی، ہماری ناقابل تلافی بے عزتی کی جو انتہا ہونی تھی، ہو چکی!‘‘

    اسے ایک فوری خیال آیا کہ اپنے والدین کے پاس جا کر ان کی گود میں گر پڑے اور اپنی مشترکہ بدنصیبی پر ان کے ساتھ آنسو بہائے لیکن کسی مبہم اور پختہ تر خیال نے اسے روک لیا۔ اگرچہ اسے اپنے حصے کی خطاکاری کا پورا پورا احساس ہو چکا تھا مگر ا س نے یہ سوچنا گوارا نہ کیا کہ وہ کیوں کر مہتم ہے۔

    وہ چارپائی کے سرے پر بیٹھ گیا۔ ابھی تک سر سے ٹوپی بھی نہ اتاری تھی۔ یکے بعد دیگرے کئی سگریٹ جلائے اور پھونک ڈالے! اس کا دماغ ایک چکر تھا جو کسی دیوانہ وار قوت سے گھوم رہا تھا۔ کبھی دیوانگی کے بگولوں کو حرکت میں لا کر سخت غیض و غضب کے ساتھ گھومنے لگتا اور کبھی معاً کھڑا ہو جاتا اور یوں معلوم ہوتا کہ اس کی ساری زندگی پوری پوری زبوں حالی و پستی اور قطعی بے اعتنائی کے تحت الثریٰ میں ڈوب گئی ہے۔ ازالہ حیثیت عرفی کی تلافی ہو کر رہے گی، اور بدنامی کا دھبہ خون سے دھل کر رہے گا۔ چاہے وہ خون دغاباز ’آرزالےتا‘ ہی کا کیوں نہ ہو! وہی ’آرزالے تا‘ جو یاران بزم عشرت کی متعدد صحبتوں میں اس کا یار باش رہا ہے!

    ایک دفعہ جب دونوں دھت ہو رہے تھے تو بدمعاش نے اپنا نقطہ نظر واضح الفاظ میں بیان کر دیا تھا:

    ’’نہ بھیا! چاہے کوئی گولی سے کیوں نہ اڑا دے۔ شادی نہیں کروں گا۔ زندگی عیش و عشرت کے لیے بنی ہے اور عورتیں زندگی کا ایک حصہ ہیں!‘‘

    ’’کیا سبھی ، آرزالےتا!‘‘

    ’’ہاں سبھی سبھی، ایک ایک، اگر میں انہیں ’کچھ‘ کہوں او روہ ’ہاں‘ کہہ دیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بھی ’اسی‘ کی آرزومند ہیں اور جو وہ نہ قبول کریں تو پھر بھی وہ اتنا ہی اپنے آپ کو میری ممنون محسوس کریں گی!‘‘

    حد ہے بے حیائی کی۔ بے غیرتی کی! اسی وقت اس کی ایسی کی تیسی نہ کر دی میں نے! کہ ہم دونوں کو خوب معلوم تھا کہ کس کی بابت پوچھا جا رہا ہے۔ اور جب اس نے جواب دیا تھا۔’’ہاں ہاں! سبھی سبھی،ایک ایک ‘‘ تو کس کی ذات محل نظر تھی! بہن کی اور بیک وقت بھائی کی بے عزتی پر اسی وقت سے مہر ثبت ہو چکی تھی۔ معاملہ قطعاً عیاں تھا۔ یہ بات نہیں تھی کہ یہ معاملہ اس پر اب واضح ہو رہا تھا، بلکہ اسے تو پوری قوتِ یقین کے ساتھ کبھی کا پتہ تھا۔ مگر اتنا ترددہی نہ کیا کہ حفظ ما تقدم کے تقاضوں کو پورا کرتے! کس قدر بدبخت تھا وہ!

    جس طرح تاریک کنویں سے صاف ستھرا پانی برآمد ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پہلی بار مارٹن نے اپنی حقیر او رپست روح کے لیے روحانی طہارت کی آرزو کو شدت سے محسوس کیا!

    مگر یہ آرزو بھی وقتی ثابت ہوئی۔ بالآخر اس نے کپڑے بدلے اور سونے کے لیے بستر پر دراز ہو گیا!

    ( ٣)

    وہ دوسرے روز دیر سے اٹھا۔تمام رات بڑے بھیانک خواب آتے رہے اور بہت سے خوابوں کو گزشتہ رات کے واقعہ کے تاثرات کی حدت و شدت نے جنم دیا تھا۔ اس نے منہ ہاتھ دھویا اور اپنے سر کو کولون سے تر بہ تر کرکے اک پر نشاط اثر محسوس کرنے لگا جس سے پراگندگی ٔ خیال سے نجات سی ہو گئی۔ اس نے شیو کرنا شروع کر دیا۔ پھر یک قلم اپنی صورت حال کا خیال آگیا۔ جب وہ باہر نہیں جا سکا تھا تو پھر شیو کیوں؟

    یہی تھا وہ وقت جب حقیقی مارٹن، روزمرہ کے مارٹن نے اس بدقسمتی کی وسعت کو پہچانا جس نے اسے اور  اس کے باقی کے اہل خاندان کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا! اب وہ باہر نہیں نکل سکے گا! وہ اتوار والی ذاتی نمائش سے محروم رہے گا ۔قبل از دوپہر، پلازا بولیور میں جلوہ آرائی نہ کر سکے گا۔ بعد از دوپہر لے راڈآئی زبوں ورڈ میں موٹر کی سیر نہ ہو گی، سینما نہ ہو گا۔ راتوں کو جلسے نہ ہوں گے۔ خدا ہی جانے کب تک دوستوں کی صحبت سے احتراز ہو گا۔ کب تک اپنے آپ کو زندہ درگور کرنا ہو گا۔ کب تک نسیاً منسیا کا عالم رہے گا۔ شاید مدتِ دوام تک! آہ! یہ حادثہ عظیم!

    وہ اپنےآپ سے باتیں کیے جا رہا تھا کہ اس کی ماں آگئی اور سلسلۂ خیال منقطع ہو گیا۔ بے چاری بدقسمتی کی چکی میں پس رہی تھی۔ بے خوابی اور رونے سے آنکھیں سوج رہی تھیں۔ اس نے اپنے آپ کو اس کے بازوؤں کے حوالے کر دیا۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ پڑی!

    یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کی ماں کے سینے کی مقدس گرمی نے اس کے افسردہ دل میں جذبۂ غیرت کو بیدار کر دیا ہے۔ وہ چلا اٹھا: ’’میں اس بدمعاش کو مار ڈالوں گا۔‘‘

    ’’نہ بیٹے! خدا کے لیے اس بات کا دل میں وہم بھی نہ لاؤ! خدا نہ کرے کہ تم ایسی حرکت کر بیٹھو!‘‘

    ’’لیکن ماں! یہ بے عزتی! تمہارا کیا خیال ہے میں اسے برداشت کر سکتا ہوں؟‘‘

    ’’آہ بیٹے! یوں تو تم ہماری مصیبتوں میں اور بھی اضافے کرو گے! یوں تو تم مجھے مار ہی ڈالو گے۔ مجھے مار کر ہی چین لو گے ؟...... نا! نا! ایسی بات کو سوچو بھی نہ تم!‘‘

    ’’اف خدایا...... ایسی بات کو سوچوبھی نہ تم! اور لوگ پڑے ہنسیں ہم پر! نہ ماں، یہ نہ ہو گا مجھ سے۔ ناممکن ہے جو تم کہہ رہی ہو! یہ میری مردانگی پر ایک حرف ہے ! ایک لعنت!‘‘

    ان الفاظ کو بار بار دہرانے سے اسے ان کے مبنی بر صداقت ہونے کا یقین ہو گیا۔ اپنے تھوڑے بہت مطالعہ پر انحصار کرتے ہوئے، اس نے خطیبانہ انداز اختیار کرکے کہنا شروع کر دیا: ’’میری زندگی تباہ ہو گئی ہے۔ برباد ہو گئی ہے۔‘‘ اور ساتھ ہی فرش پر ایک ایکٹر کی طرح ٹہل رہا تھا جو پس پردہ کے لقموں کا منتظر ہو۔ نسل انسانی کوئی یکساں رنگ ٹکڑا نہیں ہے۔ اس میں برے لوگ بھی ہیں اور بھلےبھی، اسے اک مستحسن خیال سوجھا کہ اپنے آپ کو ہی کیوں نہ گولی سے اڑا دوں!

    جب اس نے اس خیال کا اظہار ماں کے سامنے کیا تو وہ چونک اٹھی اور اسے گلے سے لگا کر منت سماجت سے کہنے لگی: ’’مارٹن! خدا کا واسطہ ہے تمہیں، دکھوں کے ماروں کو اور دکھی نہ کرو! جو بیت گئی ہے، اسی نے کمر توڑ رکھی ہے اور مووں کو کیوں مار رہے ہو! ذرا اپنے  غریب بیمار باپ کا تو خیال کرو! وہ تو سنتے ہی ڈھیر ہو جائے گا۔‘‘

    ’’ماں! اس کے سوا اور کوئی راہِ فرار بھی نہیں۔ خیال تو کرو آئندہ جینا کس قدر دوبھر ہو جائے گا میرے لیے۔ میں کسی سے آنکھ تک نہیں ملا سکتا! یہاں اب رہا نہیں جائے گا!‘‘

    ’’کہیں باہر چلے جاؤ مارٹن ......کاراکس چھوڑ ہی دو!‘‘

    ’’کدھر جاؤں؟ تمہارا مطلب ہے کسی فضول سے گاؤں میں دب کے مر جاؤں؟ اس سے یہ بہتر نہیں ہو گا کہ گولی کا نشانہ بن جاؤں۔‘‘

    ’’کسی دوسرے ملک کو چلے جاؤ۔ یورپ ہو آؤ۔ کل رات تمہارا باپ اور میں یہی باتیں کر رہے تھے۔ تمہارا یہاں رہنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ وہ تمہاری خاطر قربانی پر آمادہ ہے۔ وہ تمہارے سفر کے اخراجات برداشت کرلے گا۔ ہم ہر تنگی ترشی کو سہ لیں گے۔ میں تمہیں جانتی ہوں اور جانتی ہوں کہ اگر اس نامراد سے تمہاری مڈبھیڑ ہو گئی تو نہ جانے تم کیا کر بیٹھو۔اب ’نہ‘ نہ کہو۔ جو کچھ کر رہے ہیں ہم تمہاری بہتری ہی کے لیے کر رہے ہیں۔ میں تمہیں بمنت کہوں گی کہ انکار نہ کرنا۔‘‘

    سیر اور پھر یورپ کی! اس کا سنہرا خواب پورا ہو رہا تھا۔

    جب کبھی کاراکس کی زندگی دیوارِ زنداں کی طرح اک بوجھ ، اک وبال ثابت ہوتی تھی تو وہ بے اختیار یورپ کے لیے آہیں بھرا کرتا تھا!

    کل رات ہی کی تو بات ہے کہ وہ مے خانے میں یارانِ عشرت سے اسی بات کا ذکر چھیڑے ہوئے تھے اور کون جان سکتا تھا کہ چند گھنٹے بعد، انگلی تک ہلائے بغیر یورپ کی سیر اک حقیقت بن جائے گی۔

    اس نے سر نہوڑا لیا اور بے بس سا ہو کر بولا۔ ’’ماں!‘‘

    لفظ یوں منہ سے نکلا جیسے اک محزوں، شکست خوردہ کی فریاد ہو۔

    ’’ہاں بیٹے! تمہارے باپ نے کافی سوچ بچار کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلہ کیا تھا پاک مریم کی طرف سے القا تھا۔‘‘

    مارٹن نے جیسے اس معاملے کو اچھی طرح سے جانچ تول لیا ہو۔ بالآخر کہنے لگا: ’’بہت بہتر ماں! میں چلا جاؤں گا......‘‘

    اور پھر شیو کرنی شروع کر دی!