دو لڑاکا فاختائیں
ترجمہ : رحیم
’چوکی ساکا‘ میں ننھی بیوہ ’دانا کے تالی نادی شیوز‘ سب سے بڑھ کر اشتہا انگیز تھی۔ ٹیفی (باشندۂ ویلز) کے سے سنہری بال تھے اور شاہ دانے کا سا سرخ دہن اور آنکھوں سے بڑھ کر دو آنکھیں تھیں جو دو سپاہی تھے کہ وہیں آپ کو اپنی تحویل میں لے لیں گے۔ میں تو کہتا ہی چلا جاؤں گا مگر آپ بھی تو اپنے زورِ تخیل سے کچھ کام لیں۔ اپنی عمر کی 22 ویں بہار میں تھی اور مکانات اور زرخیز زمینیں اس کی دولت۔
جب بہی کھاتے کے جمع خانے میں ایسی ایسی کئی رقمیں موجود ہوں تو اب آپ ہی اندازہ لگائیے کہ یہ کام آپ پر ہی چھوڑتا ہوں کہ کتنا شمار ہو گا ایسے حساب دانوں کا جو مسیحی ارادے سے سرشار، ان رقوم کا میزان لگانے پر آمادہ ہوں گے اور آرزو مند ہوں گے کہ بیوہ بیوگی کا لباس چھوڑ کر عروسی جوڑا پہن لے۔
وہ کون سا آسمان ہو گا جس پر کوئی نہ کوئی بادل کاٹکڑا موجود نہ ہو۔ اسی طرح حسن بے داغ میں بھی ایک ہلکا سا داغ ہوا کرتا ہے یعنی اس کی ایک ٹانگ دوسری سے چھوٹی تھی۔ جب چلتی تھی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ نرم رو سمندر پر کشتی ہلکورے کھا رہی ہے۔
کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی شادی کے طلب گار جو اب تک مایوس نہیں ہوئے تھے کہتے تھے کہ یہ لنگ تو دلربا ہے اور اس کے حسن و جمال میں اضافے کا باعث۔ اس کی ذات میں ہزاروں دلربائیاں موجود تھیں جن کے جلووں کو وہ بآسانی بکھیرتی چلی جاتی تھی۔
نامراد عشاق کھٹے انگوروں والی لومڑی کی طرح جواباً کہتے :
جس لڑکی کے لنگ نہیں ہے
اگر اس سے کبھی کبھار لغزش ہو جائے
اور اس لغزش کو کبھی کبھار کی لغزش نہ کہا جائے
تو آپ خود ہی اس کی لغزشوں کا حساب لگا لیں۔
بہرحال ہماری محبوب ’دانا کے تالی نا‘ فیشن کی رانیوں میں سے ایک تھی۔ میں نے اسے فیشن کی واحد رانی اس لیے نہیں کہا کہ اسی شہر میں ’دانافرانسسکا مرمولی جو‘ رہتی تھی جو آرڈرسنتیاگو کے نائٹ ’وان پے دردوی اندرید‘ کے ساتھ بیاہی ہوئی تھی۔ اس کا خاوند لی موز کے نوابوں کے خاندان سے تھا۔
دانا فرانسسکا مختلف انداز کی عورت تھی۔ اس کی رنگت ہمارے نجات دہندہ مسیح کی سی سانولی تھی اور اگرچہ وہ ’داناکے تالی نا‘ جتنی نوعمر نہیں تھی ۔ مگر خوبصورتی اور لباس کے فیشن میں اس سے کسی طرح کم نہ تھی کہ ان دونوں کے لباس اور دوسرے ملبوساتی لوازمات پیرس میں نہیں لائما میں تیار ہوتے تھے جو ان دنوں فیشن کی دنیا میں حرفِ آخر کا درجہ رکھتا تھا۔
دانا فرانسسکا پوتوسی کے کان کن کی بیٹی تھی اور شادی کے وقت جہیز میں پچاس ہزار پیسو لائی تھی پھر بھی بعض اس کے باپ کو دوسروں کے مقابلے میں کنجوس کہتے تھے۔ اور وقائع نگار ’مارتی نیزویلا‘ کا کہنا ہے کہ جب یہی دوسرے اپنی لڑکیوں کو ایسے ہسپانوی شریف زادوں سے بیاہنا چاہتے تھے ، جن کے بدن پر چیتھڑا بھی نہ ہوتا تھا مگر ہوتے تھے عالی نسب تو ایک ایک لڑکی کو دو دو یا تین تین لاکھ دے ڈالتے تھے۔ کان کنوں کی بڑی آرزو یہی تھی کہ انہیں اپنی لڑکیوں کے لیے ایسے بر ہاتھ آئیں جو آسٹریاز اور گالسیا کے خطاب یافتہ ہوں اور جن کی شرافت ان کے انتہائی عالی نسب ہونے پر مبنی ہو۔
شیطان کہ جس کا کام ہر پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑانا ہے، سمجھ گیا تھا کہ یہ بات ’دانا فرانسسکا‘ کے کان میں پہنچ گئی ہے کہ اس کا خاوند لاتعداد مکھیوں میں شامل ہے جو بیوہ کے شہد کے برتن پر بھنبھناتی ہیں او رکتاب کے کیڑے کی طرح حسد کے کیڑے نے اس کا دل چاٹنا شروع کر دیا۔ چونکہ میں دیانت دار قصہ گو واقع ہوا ہوں اس لیے حقیقت کی خاطر یہ کہے دیتا ہوں کہ اس نے اندرید کے احتجاج پر ذرا کان نہ دھرا۔
شروع شروع میں تو ان کی رقابت ظاہر بینی تک محدود رہی کہ تعیش میں کون کس سے بڑھا ہوا ہے مگر شہر کی مسلسل افسانہ طرازیوں اور ریشہ دوانیوں نے آخر کار دشمنیوں کا بند پورے طور پر توڑ ڈالا۔ دانا فرانسسکا کے گول کمرے میں ’’کاتوجا‘‘ کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور اگر ’دانا کے تالی نا‘ کی نشست گاہ میں ’’پانچا‘‘ کا تذکرہ ہو رہا تھا تو ناشائستگی پر کوئی قدغن نہیں تھی۔
یہ تھی صورت حال 1616 کی خیراتی جمعرات کے دن۔
سان فرانسسکو کا گرجا بڑی شان سے سج رہا تھا اور وہاں عبادت گزاری کے لیے چوکی ساکا کا طبقۂ امرا جمع تھا۔ مصائب مسیح کی تمثیل کا جلوس تھا جس میں دو سین پیش کیے گئے تھے۔ ایک ’آخری کھانے‘ کے متعلق تھا اور دوسرے میں دکھایا گیا تھا کہ یہودی مسیح کو سولی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اس میں یہودی سرخ فام سروں کے ساتھ منہ میں لہسن کی پوتھیاں لیے تھے اور عدالت کے سانولے چہروں والے منظور نظر ساتھ ساتھ تھے اور قدرتی طور پر تمثیل میں انہی کا حصہ نمایاں تھا۔
ہماری دونوں ہیروئنیں جنگلے کے ساتھ جھکی ہوئی تھیں جو تابوت گاہ کے حفاظتی کٹہرے کا کام بھی دے رہا تھا۔ دن کے تین بجے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو سر سے پیر تک دیکھنا شروع کیا۔ نظریں کھنچے خنجر تھیں۔ پھر کھانسیوں اور تحقیر آمیز مسکراہٹوں کا پشتہ ٹوٹ پڑا۔ انہوں نے زور سے آگے بڑھنا شروع کر دیا اور بہانہ یہ تھا کہ اپنی محافظ عورتوں سے سرگوشیوں میں باتیں کرنی ہیں۔
آخر ’دانافرانسسکا‘ نے بھرپور حملہ کرنے کی ٹھان لی اور زور سے یوں بولی گویا اپنی محافظہ سے مخاطب ہے۔ ’’یہ جو سنہری بالوں والیاں ہیں انہیں اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ وہ یہودیوں کی نسل سے ہیں اور اسی لیے اس قدر فریب کار ہیں۔‘‘
’’دانا کے تالی نا‘ اس حملے کا جواب دیے بغیر کیوں خموش رہتی۔’’اور ان دوغلوں کو بھی اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ وہ یہودیوں کی اس جماعت کی نسل سے ہیں جو مسیح کو سولی کی طرف لے گئی تھی اور اسی لیے ان کا منہ بھی ان کی روح کی طرح سیاہ ہے۔‘‘
’’بہتر یہی ہے کہ یہ ہونق پھوہڑ لنگڑی اپنی زبان کو قابو میں رکھے کہ کوئی بھی خاتون اس سے بات کرنے کی خاطر اپنے آپ کو پست کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘
توبہ میرے معبود! کیا کہا آپ نے، لنگڑی! اولیاؤں کی پناہ! بیوہ نے سکارف گرا دیا۔ ناخن بے نیام کر دیے اور اپنے مدمقابل پر پل پڑی۔ حریف نے سکون سے حملے کو برداشت کیا اور ’داناکے تالی نا‘ کے گرد بازو حمائل کر دیے۔ وہ متوازن نہ رہ سکی اور اوندھے منہ گر پڑی۔ پھر اس نے آناً فاناً اپنا ننھا سلیپر اتارا اپنے مغلوب حریف کے سایا کو اوپر اٹھایا اور غربی سطح مرتفع کے دیدارِ عام کی دعوت دیتے ہوئے چٹاخ پٹاخ سلیپر جڑ دیے!
’’یہ لے سورنی اور یہ اور یہ۔ اب سبق تو مل گیا اپنے سے برتر کے ساتھ گستاخی کرنے کا۔‘‘
یہ سب کچھ آنکھ جھپکتے میں ہوا اور عبادت گزاروں کے مجمع میں اک شور اک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ عورتیں اردگرد جمع ہو گئیں اور وہ کڑکڑاک تھی کہ مرغیوں کا ڈربہ بھی پناہ مانگے۔ آخر کار دونوں مقابلہ زن حریفوں کے دوستوں نے بڑی مشکل کے ساتھ ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا اور ’دانا کے تالی نا‘ کو ایک طرف لے گئے۔
’’کوئی رویا چلایا نہیں۔ کسی کو غش نہیں آیا، لیکن بے عزتیاں تھیں کہ بس ہونے میں نہ آتی تھیں، اس سے تو مجھے یہی ثابت ہوتا ہے کہ چوکی ساکا کی عورتیں بڑی جگردار واقع ہوئی ہیں۔
اس اثنا میں مردوں کو وقوعہ کا علم ہو گیا اور گرجے کے بابِ داخلہ پر وہ اپنی اپنی ہمددردیوں کے لحاظ سے دو گروہوں میں بٹ گئے۔ سنہری بال والیوں کو ترجیح دینے والوں کی قطعی اکثریت تھی۔
دانا فرانسسکا کو ان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا ڈر تھا۔ رات کے آٹھ بجے تک اسے باہر نکلنے کی جرأت نہ ہوئی۔ آخر کار اس کا خاوند چند افسروں کی معیت میں ، آرڈرآو مالٹا کے نائیٹ صدر بلدیہ’وان رافے ایل اور تردی سو تو میر‘کو لیے آیا کہ بیوی کو ان کی محافظت میں گھر لے جائے۔
ابھی وہ پلازا میٹر کے قریب پہنچے ہوں گے کہ دونوں کے ہوا خواہوں میں تلواروں کی جھنکار اور لڑائی کے شور نے صدر کو مجبور کر دیا کہ وہ خاتون کو وہیں چھوڑ کر اپنے سپاہیوں کے ساتھ قیام امن کی خاطر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو جائے۔
ہر ایک چوک کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ دانا فرانسسکا اپنے خاوند کے بازو پر جھکی ہوئی تھی اور سخت مشکل سے چل رہی تھی۔
ہر طرف شور برپا تھا۔ ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ اتنے میں ایک قدیم امریکی پوری رفتار کے ساتھ دوڑتا ہوا آیا اور جب خاتون کے پاس سے گزرا تو اپنے اس ہاتھ کو بلند کیا جس میں استرا پکڑرکھا تھا اور شپاشپ اس کے چہرے پر Z کا نشان بنا کر گال اور ناک اور ٹھوڑی کو زخم زخم کر دیا۔ رات کی تاریکی، جم غفیر اور افراتفری سے فائدہ اٹھا کر ملعون حملہ آور خوف بھری فضا میں غائب ہو گیا۔
(٢)
حسب توقع قانون نے مجرموں کو گرفت میں لینے کی کوشش کی مگر یہ توریت کے تودے میں کوڑی کی تلاش کے مترادف تھا۔ چونکہ خیال یہی تھا کہ ’داناکے تالی نا‘ اس جرم کے اشتعال کا باعث ہوئی ہے، عیدالفصح کی سوموار کو سرکاری وکیل اس کے گھر میں وارد ہو گیا۔ وہ ادھر ادھر کی بہت سی باتوں کے بعد اور اپنے مقصد کی معذرت خواہی کے ساتھ جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے آنا پڑا تھا کہ یہ منجملۂ فرائض تھا۔ پوچھنے لگا۔ ’’کیا آپ کو معلوم ہے خیراتی جمعرات کی شب کو ’دانافرانسسکا‘مرمولی جو کے گھاؤ لگانے والا کون تھا؟‘‘
وہ بلا تامل بولی: ’’جی سرکار جانتی ہوں اور آپ بھی تو جانتے ہیں۔‘‘
’’میں بھی جانتا ہوں، کیا معنی؟‘‘ سرکاری وکیل ’وان والین تن تروسی اوز‘ تاؤ کھا کر مداخلت کرتے ہوئے بولا: ’’آیا آپ اشارۃً یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میں بھی اس جرم میں شریک ہوں۔‘‘
’داناکے تالی نا‘ نے مسکرا کر کہا: ’’اجی نہیں۔ میں کوئی یہ تھوڑا ہی کہتی ہوں۔‘‘
’’چلیے جی ختم کریں یہ قصہ، خاتون کو زخمی کس نے کیا ؟‘‘
’’ایک استرے نے۔ جسے کسی شخص کے ہاتھ نے چلایا تھا۔‘‘
’’یہ تو مجھے معلوم ہی ہے۔‘‘
’’تو صاحب! مجھے بھی اتنا کچھ ہی معلوم ہے۔‘‘
قانون کی پہنچ یہیں تک تھی۔ اگرچہ ’دانا کے تالی نا‘ کی شخصیت مشکوک تھی مگر ثبوت کے بغیر اسے مجرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا تھا۔
بہرکیف حریفوں نے تا عمر اس معاملے کو زندہ رکھا اور مجھے تو یقین ہے کہ انہوں نے اسے اپنے پوتوں پڑپوتوں تک منتقل کر ڈالا تھا۔
لائما کی ’کون کوردیا‘رجمنٹ کا کپتان ’دان جو آکین میریا نے در‘ جو بعدہ،’ایس پارتے رو‘ کی قائم مقامی کے دوران سپین کا وزیرامور خارجہ بھی تھا۔ اپنی دلچسپ کتاب مطبوعہ 1821 ء میں اس روایت کی سچائی کی تصدیق تو کرتا ہے مگر واقعہ کہیں بیان نہیں کرتا۔ میرا مبنی بر حقیقت خیال یہ ہے کہ بعض لوگ زیر نظر مفاد کی نسبت زیادہ اصول کی خاطر قانون کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
’دانا کے تالی نا‘ اپنے دوستوں اور آس پاس کے گپی ساتھیوں کے سامنے بڑی شیخی سے کہا کرتی تھی: ’’اگر کافوری پولٹس نے ابھی تک ان ضربوں کے نشانوں کو صاف نہیں کر دیا، تو پھر کیا ہوا۔ میرا سایا انہیں ڈھانپ دے گا مگر ’دانافرانسسکا‘ اس بدنما داغ کو کہاں چھپاتی پھرے گی جس نے اس کے چہرے کے حلیے کو بگاڑ کر رکھ دیاہے۔‘‘
اس سارے قصےسے صاف ظاہر ہے کہ چوکی ساکاکی یہ دو خواتین دو لڑاکا فاختائیں تھیں۔