پیوباروخا

پیوباروخا

خاک زرخیز

    ترجمہ : رحیم

    قصبے کے مضافات میں شاہراہ کے بائیں طرف ایک پرانا یک منزلہ مکان واقع تھا، جس کی سیلن زدہ تاریک دیواروں پر بڑے بڑے سیاہ حروف میں مندرجہ ذیل عبارت بڑی شان سے نظر آتی تھی :

    پلے سیڈو کی شراب کی دکان۔

    جس فنکار نے ان الفاظ کو لکھا تھا وہ ان کے دائروں کے نازک پیچ و خم سے مطمئن نہیں تھا، اورگوئے سبقت لے جانے کی کوشش میں اس نے فراخ دروازے کی اوپر کی چوکھٹ پر ایک لمبے لمبے اور گنجان پروں والے مرغے کی تصویر بنا دی تھی جس کے دونوں پنجے ایک خون آلودہ دل میں گڑے ہوئے تھے جس میں ایک بے رحم تیر پیوست تھا! یہ تصویری تحریر ایک راز تھا جس کا مطلب معلو م کرنے کے لیے ہم آج تک قاصر رہے ہیں۔

    گھر کی چوڑی ڈیوڑھی کے آمنے سامنے کی دیواروں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پیپوں کی قطار لگی ہوئی تھی، جس سے آنے جانے کا راستہ تنگ ہو گیا تھا۔ یہ راستہ دکان کو جاتا تھا جہاں شراب کے علاوہ چاکلیٹ، تمباکو، لکھنے پڑھنے کا سامان اور دوسری بے شمار چیزیں بکتی تھیں۔ مکان کے پچھواڑے انگور کی بیلوں کے سایوں تلے کئی میزیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہاں ہر اتوار کو بعد از دوپہر باخوس دیوتا کے پجاری جمع ہو کر شراب و شغب سے جی بہلاتے تھے اور وینس دیوی کے پرستار عشبہ سے جگر کی آگ بجھاتے تھے۔

    شراب کی دکان کی مالکہ جسٹا کی ہمت سے کام کاج خاصا نفع بخش ہو سکتا تھا مگر اس کا کیا کیجیے کہ اس کا خاوند کاہل، فضول خرچ اور نکما واقع ہوا تھا اور جو خالص و ناخالص شرابیں وہ کاؤنٹر پر بیچتی تھی ان کا رسیا ہونے کے علاوہ افزائش نسل کے پالتو سانڈ کی ساری صفتوں سے متصف تھا!

    اس کے دوست کہتے:

    ’’ارے یار پلے سیڈو! پھر وہی حال کر دیا تم نے بیوی کا! ارے کم بخت یہ کر کیسے ڈالتے ہو تم؟‘‘

    ’’لو بھئی! بھلا میرا اس میں کیا قصور؟ تم جانو بھیا ، یہ جو عورتیں ہیں نا، سورنیاں ہوتی ہیں سورنیاں! اور ہماری اپنی بیوی۔ سو بوذرا پہنچنی چاہیے اس تک، ابھی میں تیاری ہی کر رہا ہوتا ہوں کہ وہ رہی، امید سے! اچھی زمین، اچھے بیچ، اچھا موسم......!‘‘

    جب بیوی سنتی تو چلا اٹھتی ......

    ’’ارے نا ہنجار، سور! کام پر کیوں نہیں جاتا تو؟‘‘

    ’’کام، کام ......کام ...... ان عورتوں کو تو اور کوئی بات ہی نہیں سوجھتی۔‘‘

    جنوری کے مہینے کا ذکر ہے کہ ایک دن پلاسیڈو نشہ میں دھت، دریا میں گر پڑا۔ دوستوں نے اسے ڈوبتے ڈوبتے بچا لیا، مگر جب گھر پہنچا تو پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ اسے بستر پر لٹا دیا گیا کہ غریب کو ڈبل نمونیہ ہو گیا تھا۔ بیماری کی حالت میں جو بھی ’’زارت ذی کو‘‘ اسے یاد تھے، زور سے گا گا کر پڑھتا رہا! ایک روز صبح کے وقت گاؤں کا ڈھولچی دکان میں آنکلا۔ اسے پاس بلا کر کہنے لگا:

    ’’شویمن! ذرا بانسری اور ڈھول تو ادھر لائیو!‘‘

    ’’ابھی لایا۔‘‘

    اسے پلاسیڈو بھلا لگتا تھا۔ اس لیے ڈھول اور بانسری لا کر کہنے لگا:

    ’’ہاں بھیا! کون سی چیز پسند کرو گے؟‘‘

    ’’آرسس کو۔‘‘

    ڈھول والا اس کے نصف تک پہنچا ہو گا کہ پلاسیڈو مر کر بولا:

    ’’بس بھیا بس، اب اس کا آخری حصہ، کہ ہمارا وقت بھی آخر ہے!‘‘

    اور پلاسیڈو نے منہ دیوار کی طرف کر لیا اور دم دے دیا!

    دوسرے روز گورکن پاشی نے اپنے دوست کے لیے ایک نفیس، آرام دہ اور تین فٹ گہری قبر تیار کی۔ دکاندار جسٹا امید سے تھی اور اپنے سات بچوں اور دکان کی خاطر جدوجہد کیے چلی جا رہی تھی۔ اس کے خاوند کے دوست نصیحتوں سے اس کی امداد کر رہے تھے۔

    پاشی ذارا یا پاشی شیطان ان سب سے بڑھ کر وفادار ثابت ہوا۔ پاشی اگر موٹا نہ ہوتا تو خاصا لمبا تھا۔ اگر پشت پر نگاہ کرو تو چوڑا چکلا تھا اور جو سامنے کی طرف دیکھو تو پھولی ہوئی توند کی وجہ سے گول مٹول نظر آتا تھا۔ اس کے ملائم حجامت شدہ چہرے کا رنگ سرخی مائل بنفشی تھا اور اس کی چمکیلی چھوٹی چھوٹی آنکھیں چہرے کے موٹاپے میں ڈوبی سی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ناک یونانیوں کی سی نہیں تھی پر جو یہ اتنی بڑی اور چوڑی اور سرخ نہ ہوتی تو اس کے خوبصورت ہونے میں کلام نہیں تھا گو اس کے منہ میں دانت نہیں تھے۔ مگر اس کے دشمنوں کو بھی اس بات کا اعتراف تھا کہ اس کے لب بے پناہ مسکراہٹ کے موجب تھے۔ اس کی پلیٹ جتنی بڑی ٹوپی بہترین خوش مذاقی کا مظہر تھی اور کسی حالت میں بھی اس کے سر سے جدا ہونے کو گوارا نہیں کرتی تھی۔

    بے فکروں نے اس کی ذات کے متعلق کئی گپیں اڑا رکھی تھیں۔ کوئی کہتا تھا وہ اپنے زمانہ شباب میں انتہائی دہشت پسند تھا اور جب شمالی ریلوے کی پٹڑی بچھائی جا رہی تھی تو وہ لارائے اوجا کے مقام پر اک عام قسم کی بندوق کے زور سے راہگیروں کو لوٹا کرتا تھا۔ کسی کا کہنا تھا کہ وہ ڈاکوؤں کے بحری جہاز کے عملے میں شامل ہو کر لوٹ مار کیا کرتا تھا اور یونہی بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے کہ اس نے گورکن کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا اور مردہ بچوں کی چربی جمع کیا کرتا تھا۔ مگر ہم حقیقت کے احترام کے سلسلے میں نہایت عجلت سے عرض  کیے دیتے ہیں کہ یہ سب مفروضے سچائی سے کوسوں دور تھے۔

    جب پاشی امریکہ میں کافی عرصہ ٹھہرنے کے بعد اپنے گاؤں کو لوٹا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا وہ قطعۂ زمین جو پہاڑی کے دامن میں واقع تھا،اک قبرستان بن گیا ہے ...... گاؤں میں یہی مشہور ہو چکا تھا کہ پاشی مر گیا ہے۔ پاشی نے گاؤں کی منتظمہ سے اپنی زمین کے ٹکڑے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ منتطمہ نے اسے زمین کی قیمت دینے پر رضامندی کا اظہار  کیا۔ مگر پاشی نے کہا کہ میں اپنی زمین مفت نذر کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ گورکن کا کام میرے سپرد کر دیا جائے اور اک قبرستان کے کونے میں دیوار کے قریب معمولی جھونپڑی کی تعمیر کی اجازت مل جائے جہاں میں اپنی ٹوپی اور پائپ کے ساتھ سکون سے زندگی گزاروں۔

    اجازت ملنے پر اس نے جھونپڑی تعمیر کر دی اور اسی میں اٹھ آیا اور قبرستان کی دیکھ بھال کا کام شروع کر دیا۔ مردوں کو پاشی  سے کوئی شکایت نہ ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی قبروں کو خوشبودار پھولوں اور بیلوں سے ڈھانپے رکھتا تھا۔

    اتنا اچھا کام کرنے کے باوجود گاؤں کے لوگ اسے ٹیڑھی نظر سے دیکھتے تھے۔ بات یہ تھی کہ وہ اکثر اوقات عشائے  ربانی کی نماز میں شریک ہونے سے گریز کیا کرتا تھا اور جب پادری کی تعریف سنتا تو آنکھ مار کر بسکانی زبان میں کہتا: ’’تمہیں خوب جانتا ہوں استاد!‘‘ لوگ معاندانہ طور پر اس کے اس فقرے سے یہ سمجھتے تھے کہ وہ اک ایسی افواہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ پادری کسی نزدیک کے گاؤں میں دو تین بچوں کا کنوارا باپ بن چکا ہے اور سچ پوچھئے تو اس افواہ میں کچھ نہ کچھ شائبہ حقیقت بھی ضرور تھا۔

    پاشی نے گاؤں میں اتنی دہشت پھیلا رکھی تھی کہ جب بچے ماؤں کے کہنے میں نہ آتے تو وہ کہتیں: ’’اگر چپکے نہ بیٹھو گے تو پاشی شیطان آ کر تمہیں اٹھا لے جائے گا۔‘‘

    پاشی گاؤں کے امیروں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور دوا ساز جو اپنے آپ کو بذلہ سنج  سمجھے ہوئے تھا اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔

    پاشی اور نوجوان ڈاکٹر ایک دوسرے کے دوست بن گئے تھے۔ جب مردے کی چیر پھاڑ کرنی ہوتی تھی تو گورکن ڈاکٹر کا ہاتھ بٹاتا تھا اور اگر کبھی کوئی راہ گیر اس ’’تماشے‘‘ کو قریب سے دیکھنے کے لیے میز کے پاس آ کر کراہیت یا خوف کے مارے الٹے پاؤں چلا جاتا تو پاشی ڈاکٹر کو آنکھ مار دیتا، گویا کہہ رہا ہو۔ ’’دیکھا نا ڈر گیا کہ رازدرونِ پردہ سے آشنا نہیں ہے۔ ہا ہا! ‘‘

    لوگ پاشی کو برا بھلا کہتے تھے مگر وہ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ پاشی جسٹا کے مے خانے کی محفل کا گہنا تھا اور یہی بات اسے دل سے پسند تھی۔ اس کے سامعین بھی ملاحظہ کر لیجیے۔ سڑک مرمت کرنے والا۔ ایک آزاد خیال مخبر۔ چھوٹا مجسٹریٹ، جو مجسٹریٹ بننے سے قبل چپلیں بنایا کرتا تھا۔ ڈان رامون جو کسی زمانے میں سکول ماسٹر تھا اور اب اپنے کھانے اور شراب کی بوتل کے ساتھ ہر شام کو مے خانہ میں پہنچ جاتا تھا۔ ڈھول والا۔ فارم کے دفتر کا ملازم او بہتیرے دوسرے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاشی کی مزے دار باتوں کی کشش ان سب کو کھینچ لانے کا باعث تھی۔ جب چھلاوے کا ذکر اذکار چل نکلتا تو کہتا:’’بھلا اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔ یہ تو ہے ہی بجلی کا کرشمہ۔‘‘ یہ سن کر سامعین ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھتے گویا پوچھ رہے ہیں:’’کیوں بھئی اس کی وزنی بات کی اہمیت سمجھ میں آگئی!‘‘

    پاشی جملے گھڑا کرتا تھا اور یہ وہ چیز تھی جو بڑے بڑے آدمیوں کو بھی شاذ شاذ ہی نصیب ہوتی ہے! اور بعض دفعہ ایسے ایسے نظریے پیش کرتا جو لا دینوں کو زیادہ زیب دیتے ہیں۔ اس کی ساری فلاسفی کا لب لباب ان الفاظ سے عیاں ہے جو وہ اکثر کہتا تھا: ’’آدمی پودوں کی مانند ہیں، چونکہ انہیں پیدا ہونا پڑا ہے اس لیے وہ پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض پودوں میں سرخ پھول لگتے ہیں اور بعض میں زرد۔ اسی طرح بعض لوگ اچھے ہیں اور بعض برے! لیکن آدمی پیدا وہی ہوا ہے جو شرابی ہو!‘‘

    وہ گھونٹ بھر پانی پیتا اور یوں منہ بناتا گویا کوئی تلخ چیز حلق سے اتری ہے اور اس کی تلخی کو زائل کرنے کے لیے غٹ غٹ کرکے برانڈی کا بڑا سا  گلاس پی جاتا۔ وہ برانڈی کے بہت بڑے گلاس کے ساتھ ساتھ پانی کے چھوٹے سے گلاس کا آرڈر دیاکرتا تھا۔ مذاقاً!

    جواب دینے میں وہ لا جواب تھا ۔ ایک روز کوئی زردار کان کن ادھر آنکلا اور شاید اپنے آپ کو یوسف ثانی سمجھتا تھا کہ لگا اپنی فتوحاتِ عشق کی بڑ ہانکنے!’’ایک بچہ اولازابالی چھوڑ آیا ہوں، ایک زوبی ارّے میں اور ایک گزتی لو میں۔‘‘

    پاشی سے رہا نہ گیا، سنجیدگی سے کہنے لگا: ’’ارے میاں! یقین بھی ہے تمہیں کہ تمہاری بیوی کے بچے ، تمہارے ہی تھے کیا؟‘‘

    جب پاشی اپنے امریکی قیام کے قصے سناتا تھا تو پائپ کا دھواں اس کی سرخ ناک کو گرما دیتا تھا اور لفظ لفظ پر تحسین کی تالیاں بجتیں اور قہقہے بلند ہوتے تھے! اس کے امریکی قیام والے تجربے بڑے بڑے دل کش تھے۔ وہ وہاں جواری بھی رہا تھا۔ دکاندار بھی ، کھیت کا کارندہ اور فوجی بھی اور نہ جانئے اور کیا کیا کچھ!

    ایک دفعہ اسے فوجی کی حیثیت سے چند قدیم امریکیوں کو زندہ جلانا پڑ گیا تھا۔ لیکن پاشی نے جو محبتیں کالوں ، بھوروں اور زردوں سے کی تھیں جب ان کے افسانے بیان کرتا تو سننے والے مبہوت ہو کر رہ جاتے تھے۔ مبالغہ آرائی کے خوف کے بغیر اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ عورتوں کے معاملے میں اس کی طبع بڑی رنگین رہی ہے۔

    مے خانے کی مالکہ ان عورتوں سے تھی جو  کام کاج کے بغیر ایک منٹ بھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتیں۔ اپنا آٹھواں بچہ جننے کے دو روز بعد ہی وہ یوں اپنے فرائض انجام دے رہی تھی گویا کچھ ہوا ہی نہیں! مگر اسی رات اسے بخار آگیا اور بخار بھی ایسا جس نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور غریب کو قبر میں پہنچا کر دم لیا۔

    چونکہ کافی مقروض تھی اس لیے مے خانہ بیچ دیا گیا اور بیچارے بچے سڑک پر آرہے!

    میئر نے کہا: ’’ان بچوں کے لیے تو کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے!‘‘

    ’’لازماً ان بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔‘‘ پادری نے بڑے شیریں لہجے میں کہا اور آسمان کو تکنے لگا۔

    دواساز نے بڑے عزم سے کہا: ’’اب باتوں کو چھوڑیے اور ان بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کیجیے!‘‘

    قصبے کے کلرک نے کہا؛ ’’بچے ...... خیرات!‘‘

    اور دن اور ہفتے گزرتے گئے! سب سے بڑی لڑکی ڈاکیے کے گھر کا کام کاج کرنے لگی اور وہاں وہ مطمئن بھی تھی اور نومولود بچی کو لوہار کی بیوی نے عین اپنی مرضی کے خلاف چھاتی سے لگا لیا!

    اور باقی کے چھ شومین، شنتی، مارتی، جوشے، ماری اور گاسپر سڑک پر ننگے پاؤں دوڑ دوڑ کر بھیک مانگتے پھرتے تھے!

    ایک روز صبح کے وقت گورکن گاؤں میں اپنا چھکڑا لے کر آیا اور ان چھئوں ننھے منوں کو اس میں لاد دیا اور نومولود ننھی کو گود میں اٹھا لیا اور راہ میں دواساز کی دکان سے دودھ پلانے والی بوتل خرید کر سیدھا اپنی جھونپڑی میں سارے سازسامان کے ساتھ پہنچ گیا۔

    میئرنے کہا : ’’دکھاوا!‘‘

    دواساز بڑبڑایا: ’’احمق!‘‘

    پادری اتنی بڑی کلفت و فلاکت کو دیکھ نہ سکا اور آسمان کو تکنے لگا۔

    قصبے کے کلرک نے پیشین گوئی کی: ’’وہ اک نہ اک دن ان کا ساتھ چھوڑ کر رہے گا!‘‘

    پاشی نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ ان کی پرورش میں مصروف ہے! چونکہ کھانے والے بہت ہیں۔ اس لیے اس نے شراب چھوڑ دی ہے اور قبرستان میں بھونڈے طریقے سے سبزیاں بوتا ہے۔ اب گاؤں میں باقاعدہ منڈی کھل گئی ہے اور جس دوست کے کھیت قبرستان کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے ہیں وہ وہاں اپنا مال فروخت کرنے کے لیے لے جایا کرتا ہے۔پاشی نے اسی دوست کے ساتھ معاملہ طے کر لیا ہے کہ وہ اس کے کرم کلے اور ہاتھی چوک بھی وہیں بیچ آیا کرے۔

    پاشی کے دوست کے کرم کلے جو درحقیقت قبرستان کی پیداوار ہیں۔ گاؤں کی منڈی میں اپنی خوبی اور لذت کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، لیکن خریداروں کو کیا معلوم کہ جن کرم کلوں کو وہ مزے لے لے کر کھاتے ہیں انہیں انہی کے آباواجداد کے گوشت پوست کے رس نے رس بخشا ہے!